تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (67

 

ضیا شاہد

کیا کسی جگہ اس کا افسر جوانوں کو آرڈر کر سکتا ہے کہ (Stand easy and Now Rape) بوڑھا فوجی جرنیل کیسا تھا اور کیسا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہو ںکہ مجھے یہ واقعہ سناتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ کہہ رہاتھ کہ ضیا شاہد پڑھ اس ہندوبنگالی نے کیا لکھا ہے، کیا کسی بھی ملک کی باقاعدہ آرمی کا کوئی باقاعدہ افسر یہ حکم دے سکتا ہے کہ ( be ready to Rape) میں عمر میں ریٹائرڈ جنرل نیازی سے بہت چھوٹا تھا، تاہم میں نے کتاب اسکے ہاتھ سے لی ، یہ نئی دہلی میں چھپی تھی، اور ڈائننگ روم پر بڑے ڈبے میں سے ٹشو پیپر لیکر اس کے آنسو پونچھتا رہا۔ہاں ! ”ضیاشاہد! ہم سے بہت غلطیاں ہوئیں، مگر جتنا جھوٹ یہ لکھا ہے اس کا تو ایک فیصد بھی صحیح نہیں ہوسکتاہے“ یہ انٹرویو نا مکمل رہا، کیونکہ جب آپ ایک بوڑھے فوجی جرنیل کو آنسوو¿ں سے روتا ہوا دیکھیں تو دماغ اگلا سوال فریم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، کاش میرا دوست مجھ سے اس قدر دور نہ جاچکا ہوتااور میں کسی بھی کمرے میں اندر سے چٹخنی لگاکر اپنا دل کھول کر اسے دکھا سکتا کہ اگر کسی جرنیل نے کوئی سیاسی غلطی کی ہے تو اس کی سزا اسے ملنی چاہئے ، لیکن خدارا ! شیخ مجیب کو محب وطن قراردینے کا الہام آپ پر کب اور کیسے نازل ہوا؟ نوازشریف کی تو شاید زندگی میں کبھی شیخ مجیب الرحمن سے ملاقت بھی نہ ہوئی ہو، لیکن میں نے اپنی کتاب ”باتیں سیاستدانوں کی “ میں ایوب خان سے انٹرویو کے بعد دوسرے ہی باب میں شیخ مجیب الرحمن سے شادمان کالونی میں بنگلہ بدھو سے آخری انٹرویو کی روداد لکھی ہے، نوازشریف سے تو میں ایک بار نہیں کم از کم تین بار ملاہوں، آخری ملاقات ساڑھے تین گھنٹے سے زیادہ طویل تھی، نوازشریف نے اپنے طویل انٹرویو میں جو عزیزم ! سہیل وڑائچ کو جدہ اور لندن میں دیا گیا، خود لکھا ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود اسے پولیٹیکل سائنس پڑھاتا رہا، اسی صفدر محمود کا یہ مضمون ایک نظر پھر حاضر ہے اور قارئین اسے پڑھ سکتے ہیں، یہی نہیں بلکہ سیفما لاہور کے دفتر میں نوازشریف کی یہ تقریر کہ پاکستان اور بھارت میں ایک جیسے لوگ رہتے ہیں ، کھانا ایک ، زبان ایک، لباس ایک، بس درمیان میں ایک لکیر ہے ، نہیں ! نوازشریف صاحب یہ صرف ایک لکیر نہیں 1940ءکے سال 23مارچ کے دن قائداعظم ؒ محمد علی جناح کا اعلان بھی ہے ، جس میں قائد نے دو قومی نظریہ پیش کیاتھا۔نوازشریف تم نے تو خود سہیل وڑائچ کو اپنے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ تمہارے والد محترم میاں محمد شریف نے 23مارچ 1940کے جلسے میں قائداعطم کی تقریر خود سنی تھی، پہلے اصل خبر پڑھیں جس میں نوازشریف نے بالواسطہ طور پر پاکستان اور ہندوستان کو ایک ہی ملک قرار دیا۔ قارئین! آخر میں بحث کے خلاصے کے طور پر کچھ تحریریں ملاخطہ ہوں، سب سے پہلے پڑھیں، میرے دوست نوازشریف کی اس تقریر کے بارے میں روزنامہ نوائے وقت سے ایک اقتباس، یہ خبر دوسرے اخبارات میں بھی موجود ہے اور اتفاق سے یہ خبر روزنامہ جنگ اور خبریں میں بھی ، مگر زیر نظر خبر سب سے تفصیلی ہے، تقریب سیفما کے زیر اہتمام ہوئی، اس کے شرکاءاور خلاصہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں، لیکن نوائے وقت کی اصل خبر پیش خدمت ہے :۔زبان، کلچر ایک ہے، صرف سرحد درمیان میں آ گئی، جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں:نوازشریف لاہور (سپیشل رپورٹر/خبر نگار خصوصی/وقت نیوز) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا ہے بھارت کے ساتھ میں ایک کہانی لکھنے کو تیار تھا لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ مشرف ایک اور کہانی لکھ رہے ہیں، واجپائی نے کہا کہ میری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا، واجپائی ٹھیک کہتے ہیں، چھرا کس نے مارا سب جانتے ہیں بھارت نے تو کارگل کی انکوائری کمشن بنا دیا لیکن یہاں کیا کہیں کہ کون آج تک کارگل کی انکوائری نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ بھارت کو شاباش دینی چاہئے کہ اس نے کارگل پر کمیشن بنایا ہم کسے شاباش دیں یہاں تو لوگ انکوائری میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں اسی رب کو ہم بھی پوجتے ہیں۔ واجپائی نے 1999ءکو مسئلہ کشمیر کے حل کا سال قرار دینے کو کہا تھا دونوں ملکو ںکو مسئلہ کشمیر پر اپنے 60 سالہ موقف سے باہر نکل جانا چاہئے اس ساٹھ سالہ پوزیشن پر قائم رہنے والے آج بھی یہاں ہیں لیکن ہم ان مسائل کومل بیٹھ کر حل کرنا پڑے گا۔ یہ باتیں انہوں نے لکھیں نئی کہانی کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہیں جس میں بھارتی شہر امرتسر کے ایک وفد نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان اور بھارت میں دوستی کی فضاءہو گی تو مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا سیاست دان دریاﺅں کے بغیر بھی پل بناتے ہیں وہ پل امن اور بھائی چارے کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم اتنے قریب آ چکے تھے ان میں انڈر سٹینڈنگ پیدا ہو گئی تھی، واجپائی جرا¿ت مند انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل ڈھونڈیں اور مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں جس وقت واجپائی یہاں آئے وہ ایک تاریخی دن تھا یہاں آ کر انہوں نے خلوص سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میری متعدد وزرائے اعظم سے فیس ٹو فیس ملاقاتیں ہوئیں، میری بھارت کے وزیراعظم نرسیما راﺅ سے ملاقات ہوئی تھی، نرسیما راﺅ نے مجھ سے کہا کہ آپ کا اکنامک ریفارمز آرڈر بہت مقبول ہے، ہمارے اُوپر بھارت میں پریشر ہے اس لئے ہمیں اپنے اکنامک پروگرام کی سٹڈی کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا اسلحہ کی دوڑ نہیں چاہتے ہیں ہم دونوں اسلحے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں۔ اگر بھارتMig مگ 27 کے پیچھے بھاگا ہم ایف 16 کے پیچھے بھاگتے رہے۔ اس اسلحے کی دوڑ کی وجہ سے تعلیم، سوشل سیکٹر، صحت اور ترقی میں پیچھے رہ گئے۔ ہم ٹٹ فار ٹیٹ کی پالیسی پر عمل کرتے رہے۔ ہم ساٹھ سال سے اس بات پر لگے ہیں کہ وہاں کچھ ہو تو کہتے ہیں کہ پاکستان نے کیا ہے یہاں کچھ ہو تو کہتے ہیں بھارت نے کیا ہے اس لئے ہم ترقی کے ٹارگٹ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تاشقند سے گوادر تک موٹر وے بنانا چاہتا تھا لیکن مجھے جدہ بھیج دیا گیا، میں جدہ نہ جاتا تو موٹر وے ضرور بن جاتی، بھارت اسے کلکتہ تک بناتا، بھارت سے ٹریڈ کرتے اپنے مسائل کو حل کرتے اور جموں و کشمیر کے مسئلہ کو بھی حل کرتے۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی نے کہا کہ واقعی جموں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان میں دباﺅ ہے اس لئے اس کا حل نکالنا چاہتے ہیں مجھے ان کے رویہ اور جذبہ پر خوشی ہوئی کیونکہ ہمارا دین بھی درس دیتا ہے کہ ہمسائے سے تعلقات اچھے رکھیں اس کا خیال رکھیں اور میرے ملک کے ساتھ دوسرے ملک کی سرحدیں بھی لگتی ہیں وہ بھی میرا ہمسایہ ہے اور یہ ایک ہی معاشرہ کے لوگ تھے میرے والدین بھی امرتسر سے تھے آج بھی لوگ اپنے ناموں کے ساتھ جالندھری، امرتسری لکھتے ہیں جبکہ بھارت میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے اگر بھارت میں لاہور سویٹ مارٹ ہے تو یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ یہ سب کیا ہے ہم ایک ہی سوسائٹی کے ممبران ہیں آپ لوگ بھی آلو گوشت پسند کرتے ہیں میں بھی آلو گوشت پسند کرتا ہوں ویسے لوگوں نے میرے بارے میں الزام لگایا کہ سری پائے پسند ہیں وہ تو میں نے کبھی کھائے بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ بھی گھیا کھاتے ہیں ہم بھی وہ کھانے میں پسند کرتے ہیں اگر سب کچھ سانجا ہے تو ہم مسائل کو بیٹھ کر کیوں حل نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹریڈ انفراسٹرکچر اور بزنس میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے اور پانی اور مسئلہ کشمیر کا حل بھی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان کا مشکور ہوں کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں پاکستان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو شاباش ملنی چاہئے کہ انہوں نے کارگل کی انکوائری کروا لی لیکن یہاں آج تک کارگل پر انکوائری کمشن بنانے میں کون رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن آئے گا کہ انکوائری کمشن ضرور بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک مسائل حل کریں ترقی کے راستے کھولیں اس سے قربت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعلقات بنائیں کہ آپ خوشحال ہوں تو ہم اپنے آپ کو خوشحال سمجھیں اور اگر ہم خوشحال ہوں تو آپ یہی بات سمجھیں اور جس رب کو آپ پوجتے ہیں ہم بھی رب کو ہی پوجتے ہیں۔(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved