تازہ تر ین

چودھری سرور بطور گورنر پنجاب بہترین سلیکشن ، اب کوئی فریش نوجوان وزیراعلیٰ لازمی : ضیا شاہد ، جنوبی پنجاب صوبہ کے وعدے پر قائم ، منشور کا حصہ 100 دن کے ایجنڈے میں شامل : شاہ محمود قریشی ، پیپلز پارٹی فضل الرحمن کے بیان سے متفق نہیں ، ہم سے مشورہ کرتے تو انہیں قائل کر لیتے : لطیف کھوسہ کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہےکہ عمران خان کے حوالے سے چیزیں آہستہ آہستہ سیٹل ہوتی جا رہی ہیں ہماری خواہش تھی کہ الیکشن کے بعد نیا سیٹ اپ اقتدار میں آئے اور جو لوگوں، ملک سے اپنے آپ سے ان کو پوری کریں۔ جتنے دن بھی بظاہر خلفشار نظر آتا تھا میں نے ہمیشہ کہا کہ چیزیں آہستہ آہستہ شارٹ آﺅٹ ہو جائیں گی۔ ظاہر ہے کہ وزارت مانگنے والے 200 ہوں اور وزارتیں 22 ہوں تو سفارشیں بھی ہوتی ہیں گلے شکوے بھی ہوتے ہیں۔ کبھی اس پر حیرت کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ 14 کے بعد15 کو اس سے نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگوں نے بہت اعتراض کیا تھا کہ اس دن بھارت کا یوم آزادی ہے۔ کیونکہ انڈیا کی آزادی 15 اگست کو ہوئی تھی وہ 15 اگست کو مناتے ہیں۔ ایک آدھ دن بعد میں ہو گیا تو کوئی حرج نہیں ہے مجھے امید ہے کہ 18 اگست کو جب تقریب ہو جائے تو اگلے دنوں میں جب وزارتیں وغیرہ مکمل ہو جائیں گی تو اسی ماہ کے آخر تک کام شروع ہو جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب چودھری سرور برطانیہ سے واپس آئے تو گورنر بننے سے پہلے یہ پاس آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کوئی اچھا فیصلہ نہیں کیا۔ کہنے لگے میرے ذہن میں کچھ تجاویز ہیں۔ انہوں نے دو چیزوں کے بارے میں کہا ایک انہوں نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کی برآمدات کی حالت بہت بری ہے میں پہلے سے یقین دہانی لے کر آیا ہوں کہ میں نے برطانوی حکومت کو مجبور کیا ہے وہاں کے چیئرز کو مجبور کیا ہے کہ وہ ہمارا کوٹہ سسٹم ہے اس کو بجائے محدود کرنے کے اوپن کر دے جتنا جی چاہے ہمارا ہم بھیج سکیں اور ان کا کہنا تھا کہ صرف یہی قدم جو ہے۔ چوہدری سرور سے میری پرانی دوستی ہے یہاں تک برسوں پہلے میں 3،3½ مہینے لندن ہسپتال میں داخل رہا تھا تو اس وقت بھی یہ مجھے ملنے آتے رہے حالانکہ یہ گلاسکو میں کافی فاصلے پر تھے۔ وہاں سے یہ ممبر اسمبلی بھی تھے میں یہ سمجھتا ہوں انہوں نے اپنے دونوں دعوے پورے کئے ایک تو یہ کہ پابندیاں ختم کر دی گئیں پاکستان میں۔ یہ الگ بات ہے انہوں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پاکستان میں چیزیں بنانے کی جو صلاحیت ہے وہ مشروط ہے بجلی سے۔ بجلی ہے نہیں لہٰذا وہاں سے برآمدات اوپن ہو گئی ہیں لیکن فیصل آباد آدھا بند پڑا ہے بجلی نہ ہونے کی وجہ اور یہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات ہم تیار کیسے کریں دوسرا پانی پر انہوں نے بہت زور دیا تھا کہ بڑے بڑے خود انہوں نے سپانسر تلاش کئے تھے جو مختلف اداروں میں بڑے پیمانے پر بڑے سائز کے واٹر فلٹرز لائیں دوسرا انہوں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ایجوکیشن کے لئے بہت سارے فنڈز برطانیہ سے اہتمام کیا تھا۔ زیادہ دیر ان کا سلسلہ نہیں چل سکا۔ میں ان کو جتنا جانتا ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب چودھری سرور کو کوئی پیسے بنانے کا لالچ ہو۔ اس کا مزاج بھی ایسا نہیں۔ اور سازشی آدمی نہیں ہے۔ اب مجھے صاف طور پر نظر آ رہا ہے کوئی فریش آدمی آ رہا ہے جس طرح عمران خان بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اوپر سرور کو بٹھانا۔ سینئر، تجربہ کار، جہاندیدہ ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر رہے اور رابطے بھی بہت ہیں اب لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب بالکل کوئی فریش آنے والا ہے۔ اسلم اقبال کے چانسز ہیں۔ ایک تو وہ لاہور کے دوسرا یہ کہ وہ ہر الیکشن جیت کر آتے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ شاہ محمود صاحب آپ کو بہت مبارک ہو۔ بہرحال ہمارے صوبے کے گورنر بھی چودھری سرور صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، نفیس آدمی ہیں شریف اور ایماندار آدمی ہیں اور بہت ساری خوبیاں ہیں۔ آدھے پنجاب سے تو ان کی دوستیاں ہیں۔ اس لحاظ سے بہت زبردست سلیکشن ہے البتہ میری اس وقت بھی یہ خواہش تھی اور جب یہ گورنر بننے کے لئے آئے آپ یقین جانیں گورنر بننے سے دو دن پہلے میرے دفتر میں آئے، میں نے ان سے کہا کہ میرے ذہن میں تو آپ کے لئے بہت اچھی تجویز یہ ہے کہ یا تو آپ کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جائے ان کے کانٹیکٹس بہت ہیں پوری دنیا میں پارلیمنٹوں میں۔ ان کے دوست یار، رشتے دار ساتھی بہت زیادہ ہیں یا میری خواہش تھی کہ آپ وزیرخارجہ بہت اچھے بن سکتے ہیں۔ بہرحال آپ لوگوں نے جو فیصلہ کیا انہیں پارٹی کے معاملات کے حساب سے صحیح دیا ہو گا لیکن کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی روشنی میں نظر آ رہا ہے کہ پنجاب اور وزیر اس کی اب واقعی کوئی فریش نوجوان مجھے نظر آتا ہے کہ آپ نے ایک بابا جی اوپر لا کر بٹھا دیئے ہیں۔ ہمارے صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لئے کوئی بہت ہی فریش نوجوان آ رہا ہے۔ پہلے تو آپ کا نام بھی آیا تھا۔ اب اچانک ہی غائب ہو گیا ہے۔ تو ٓاپ روشنی ڈالیں یہ ہمارا صوبہ اس وقت ہمارا صوبہ۔ آپ وعدہ بھی کر کے آئے ہوئے ہیں کہ تمہارے ہاں تو اشتہار بھی چھپنا شروع ہو گئے ہیں کہ خوش آمدید کہ جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ بننے کے وہ کام بھی آپ نے 100 دن کے اندر اندر کرنا ہے اس کا وعدہ کیا ہوا ہے آپ نے۔ لیکن وی الحال تو ایک کمبائنڈ صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے وزیراعلیٰ کے لئے آپ کب فیصلہ کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ہے جس کا سب سے زیادہ انتظار کیا جا رہا ہے۔ اور یہی فیصلہ آپ سب سے دیر سے کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور عمران خان کے ذہن میں نام ہیں اس کا مناسب وقت پر اعلان کریں گے انہوں نے طویل مشاورت کی ہے کہ انہوں نے پارٹی لیڈر شپ سے، ممبران صوبائی اسمبلی سے تبادلہ خیال کیا ہے پچھلے دنوں انہوں نے پنجاب اسمبلی کے جتنے منتخب ممبران ہیں انہیں اسلام آباد دعوت دی تھی اور انہوں نے ان سے بات بھی کی تھی مگر ابھی فیصلہ نہیں ہوا جہاں تک گورنر کا تعلق ہے۔ چودھری سرور صاحب ایک سینئر، منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان ہیں گورنر رہ چکے ہیں اور بڑے عزت وقار سے اپنا نام بھی کمایا اور کام بھی سلجھے ہوئے طریقے سے کیا۔ ہمیں ایک سنجیدہ، سینئر، تجربہ کار جو کہ پنجاب کو سمجھتے ہوں پنجاب کے مزاج سے واقف ہوں، پنجاب کی جمہوری کلچر، پنجاب کے سیاسی گھرانوں سے واقف ہوں۔ ان کی جان پہچان اور قربت ہو، پارلیمانی بورڈ کے ممبر رہے اس میں جتنی ٹکٹوں کی تقسیم تھی اس میں ان کا رزلٹ بہت اچھا رہا کہ جو منتخب ممبر ہوئے ہیں ان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ ان کے وسیع رابطے بھی ہیں دوستیاں اور تعلقات بھی ہیں۔ پارٹی اور عمران خان کی رائے یہی تھی کہ وہ موزوں ترین شخصیت ہیں اور انہوں نے پارٹی کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کیا اور ہمیں امید ہے کہ ہم ان کے تجربے سے انشاءاللہ فائدہ اٹھائیں گے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آپ لوگوں نے 100 دن کے اندر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا تو کچھ اس سلسلے میں آپ میں سے کسی نے بات تک نہیں کی آپ 100 دن کا وعدہ کر کے آئے ہوئے ہیں جناب!
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ یہ ہمارا عوام سے وعدہ یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے اور آپ نے درست فرمایا کہ ہمارا وہ 100 دن کے پروگرام میں شامل ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ ہم 100 دن میں اس سارے پروسیس کو ایک کانسٹی ٹیونشنل پولیٹیکل پراسس ہے ہم اس کو انشی ایٹ کریں گے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ یہ سو دن میں مکمل ہو۔ اس کے دو تین ٹیمیں ہیں۔ نمبر-1 آپ کو پنجاب اسمبلی کی قرار داد لانی ہے۔ ایک بائیفیرکشن کے لئے جنوبی پنجاب صوبے کے لئے آپ کو آئینی ترمیم درکار ہے قومی اسمبلی میں ہمارے پاس دو تہائی اکثریت تو نہیں ہے ہمارے پاس تو سادہ اکثریت ہے اس کے لئے آپ کو دیگر جماعتوں سے کو ہم پلہ بنانا ہو گا ان کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ کیونکہ دو تہائی اکثریت سے اس آئینی ترمیم کو پاس کروانا ہو گا چنانچہ ایک پولیٹیکل پراسیس ہو گا، مشاورت ہو گی اور اس کے کچھ پارلیمنٹیرین جو کمٹڈ ہیں۔ مثال کے طور پر پیپلزپارٹی یہ کہتی آئی ہےکہ ہم جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کو سپورٹ کریں گے اب دیکھیں گے بالکل ہم ان کو موقع دیں گے کہ وہ ہم سے بات چیت کریں اور ہماری اس تحریک میں ہمارا ساتھ دیں دیکھنا ہے کہ اور بہت چھوٹے صوبے جو ہیں خیبرپختونخوا، بلوچستان کے لوگوں سے تبادلہ خیال ہتا رہا ہے۔ اور ہو رہا ہے کہ ہم چاہیں گے کہ سیاسی اتفاق رائے ایسا بن جائے کہ دو تہائی اکثریت ملے پھر اس کو فائنل کریں، ہم وعدے پر قائم ہیں اور قائم رہیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ 11، 12 کا کروڑ کے صوبہ کو گورن کرنا ، مینج کرنا ممکن نہیں ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آج کے دور میں خارجہ معاملات اتنے اہم ہو گئے ہیں کہ اس وقت تو اور زیادہ ضرورت ہے حقیقت کے اعتبار سے کشمیر کے ایشو کے بارے میں بھی، انڈیا جو اس علاقے کے بارے اپنی مرضی چاہتا ہے اس کے بارے میں بھی اور آپ پہلے بھی وزیرخارجہ رہے ہیں ظاہر ہے آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ جو بھی اچھے فیصلے ہو رہے ہیں ہم نے ان کو سراہا ہے۔ آپ نے مکمل طور پر انکار تو نہیں کر دیا ہوا کہ میرے خیال میں تو وزیر اعظم کے بعد وفاقی سطح پر آپ سے بڑا عہدہ وزیرخارجہ کا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیرخارجہ کا قلمدان بہت اہم ہے لیکن اس وقت جو ہمارے خطے کی صورت حال ہے اور جو پاکستان تقریباً 4، 5 سال وزیرخارجہ سے محروم رہا اور بھارت نے ہمیں تنہائی کی طرف دھکیلنے کی بے پناہ کوشش کی ہے۔ عمران خان جو ذمہ داری دیں گے اسے خوش دلی سے قبول کروں گا۔ میں نے سب کچھ ان پر چھوڑ رکھا ہے، کپتان جائزہ لے رہے ہیں وہی فیصلہ کریں گے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل ہی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ اب نیئربخاری اس عہدے پر ہیں۔ وکالت میں بھی مصروف رہتا ہوں اس لئے انتخابات میں زیادہ وقت نہیں دے سکتا تھا جس کی وجہ سے عہدہ چھوڑ دیا ویسے بھی میری مدت ختم ہو گئی تھی، 4 سال پارٹی کا سیکرٹری جنرل رہا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے یوم آزادی کے بیان پر پیپلزپارٹی متفق نہیں، یہ ان کا اپنا خیال ہے ہم سے مشاورت کرتے تو شاید ہم ان کو قائل کر لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن انتخابی زیادتیوں کے باعث ہی متحد ہوئی ہے، بہتر ہے کہ ایک کمیشن بنا دیا جائے جو ان چیزوں کا احاطہ کرے اور حل نکالے۔ 2013ءکے الیکشن پر بھی ہم نے کہا کہ آر او کے الیکشن ہیں، عمران خان نے کہا دھاندلی وئی ہے اس وقت بھی کمیشن بنا تھا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ شیریں مزاری ایک اچھی پختہ و مضبوط سوچ کی حامل خاتون ہیں، جو بھی ذمہ داری ملے گی احسن طریقے سے انجام دیں گی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تھا سپیکر سندھ سے ہو گا، ابھی تک کسی بڑے عہدے کیلئے سندھ سے کوئی شخصیت نظر نہیں آ رہی، جب تک سندھ و بلوچستان سے اہم لوگ وفاق میں شامل نہیں کئے جائیں گے حکومت کا وزن بیلنس نہیں ہو گا، یہ دونوں صوبے ابھی تک نظر انداز ہیں۔ وزیرداخلہ کے لئے پرویز خٹک اچھے امیدوار ثابت ہو سکتے ہیں، 5 سال وزیراعلیٰ رہنے کی وجہ سے داخلی امور کو بہتر طریقے سے دیکھ سکیں گے۔ الیکشن کمیشن سے عمران خان کو معافی ملنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے، کسی بھی سینئر سیاستدان کی پوزیشن مشکوک نہیں ہونی چاہئے۔ امریکی حکومت بار بار پاکستان کو احساس دلا رہی ہے کہ میں ناراض ہوں مجھے مناﺅ، اتنے برسوں سے ملک کا کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں ہے، شاہد خاقان عباسی نقلی وزیراعظم تھے، وہ الزام لگا دیتے تھے کہ سب کچھ سٹیبلشمنٹ کروا رہی ہے، باہر سے کہا جاتا تھا کہ خلائی مخلوق مداخلت کر رہی ہے۔ اب نئی حکومت بن رہی ہے یقین ہے کہ معاملات بہتری کی طرف آئیں گے، شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ بنانے کا اس لئے کہتا ہوں کیونکہ ان کو تجربہ حامل ہے۔ وزارت خارجہ و داخلہ دونوں بہت اہم ہوتی ہیں۔ وزیرخزانہ کیلئے اسد عمر اچھی آپشن ہے۔ شیڈو کیبنٹ میں بھی ان کے پاس ہمیشہ فنانس کا شعبہ رہا۔ جمہوری ریاستوں میں ہمیشہ ایک شیڈو کیبنٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے سیاستدانوں کی اچھی پرورش ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے عدلیہ و فوج مخالف نہ جانے کا بیان دے کر پیپلزپارٹی کی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کسی ڈیل کا نتیجہ ہے یا نہیں؟ زرداری پر کیس دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے پر حیرت ہوئی اور افسوس ہوا کہ اتنا بڑا کیس جس کے سارے ثبوت بھی ہوں یہ کہہ کر بند کر دیا جائے کہ اب وقت گزر گیا ہے درست نہیں۔ آصف زرداری خوش قسمت آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو چاہئے جس گھر سے وہ 13 سال بعد نکلے ہیں، اسے کرائے پر لینے کے لئے درخواست دے دیں۔ نئے وزیراعظم اگر پنجاب ہاﺅس میں نہیں رہنا چاہتے تو منسٹر انکلیو میں رہ سکتے ہیں، اچھے گھر بنے ہوئے ہیں سکیورٹی بھی خاطر خواہ ہے۔ اسد ولی خان سے ایم این اے ہوسٹل میں گھر خالی کروانے پر انہوں نے کہا کہ شاید ان کا خیال ہو کہ 10، 15 دنوں میں دوبارہ الیکشن ہو جائیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے اب مولانا فضل الرحمن نے جو 14 اگست نہ منانے کا بیان دیا اس سے بہت دکھ ہوا، احتجاج جتنا مرضی کریں لیکن قوم کو یوم آزادی کی خوشیاں منانے سے کون روک سکتا ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved