تازہ تر ین

نکے تھانیدار کے بیٹے نے طالبعلم قتل کر دیا ، پولیس سرپرست بن گئی

کھرڑیانوالہ (صابر گھمن سے) نکے تھانیدار کے اتھرے بیٹے نے کزنوں سے مل کر سیکنڈ ایئر کے طالب علم کو بے دردی سے قتل کرکے نعش کھیتوںمیں پھینک دی ، بھائی کی شہ رگ کٹی نعش دےکھ کر بہن ذہنی توازن کھو بیٹھی ۔ تھانہ بلوچنی پولیس نے انچارج انوسٹی گیشن کی پشت پناہی پر گرفتار ملزمان کو سرکاری مہمان بنا لیا۔ کھابوں سے تواضع رات کو حوالات سے نکال کر چارپائیاں دی جانے لگی۔ پولیس پیٹی بند ھ بھائی کے ملزم بیٹے کو بے گناہ کرنے پر تل گئی ۔ مدعی کو گاﺅں بدر کرنے کی دھمکیاں ۔متاثرہ خاندان کی چیف جسٹس آف پاکستان ، آئی جی پنجاب ، آر پی او ، سی پی او فیصل آباد سے نوٹس لے کر انصاف و تحفظ کی درد مندانہ اپیل ۔ متاثرہ خاندان مدد کے لیے خبریں آفس پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق کھرڑیانوالہ کے نواحی علاقہ تھانہ بلوچنی کی حدود میں واقع 67ر۔ب کے رہائشی غریب محنت کش شفیق خان کا جواں بیٹا زبیر جو کہ سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا 9مئی 2018ءکو نماز عشاءکی ادائیگی کے لیے گھر سے مسجد گیا مگر واپس نہ آیا تو زبیر کے والدین نے تلاش شروع کر دی 10مئی کو زرعی رقبہ سے زبیر کی شہ رگ کٹی نعش برآمد ہوئی جسے دیکھ کر ورثاءنے تھانہ بلوچنی پولیس کو اطلاع دی جس پر تھانہ بلوچنی پولیس نے مقتول زبیر کے بھائی رمیض شہزاد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 167/18بجرم 302ت پ درج کر لیا مگر ایک ماہ بعد مدعی کی درخواست پر تھانہ بلوچنی پولیس نے ملزمان شہباز ، اسلم ، عبدالرزاق پسران بشیر احمد، زبیر ولد شیر علی سکنان 67ر۔ب ، حبیب الرحمن ولد صابر ساکن 266ر۔ب کو نامزد کرکے 3ملزمان شہباز، اسلم ، عبدالرزاق کو حراست میں لیا تو دوران تفتیش ملزمان نے اپنے ساتھیوں سے ساز باز ہو کر مقتول زبیر کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ۔ مقتول کے والد شفیق خاں ، بھائی رمیز شہزاد نے خبریں کو بتایا کہ مقدمہ میں نامزد ملزم حبیب الرحمن کا والد رانا صابر اے ایس آئی تعینات ہے جس کے ایماءپر انچارج انوسٹی گیشن تھانہ بلوچنی رانا اعجاز ملزمان کی سرپرستی کرنے لگا ہے اور اپنے پیٹی بندھ بھائی کے بیٹے کو بے گناہ کرنے پر اصرار کر رہا ہے ۔ انچارج انویسٹی گیشن نے گرفتار ایک ملزم شہباز کا چالان کرکے جیل بھیج دیا مگر ایک ماہ سے زیر حراست ملزمان اسلم اور عبدالرزاق کی گرفتار ی نہ ڈال رہا ہے جبکہ پیٹی بندھ بھائی کے بیٹے حبیب الرحمن اور دوسرے ملزم زبیر کو عبوری ضمانت کروانے کا موقع فراہم کیا ۔ مقتول کے والدین نے بتایا کہ ملزما ن نے میرے بیٹے کو نا حق قتل کر کے ظلم و زیا دتی کی ہے چند روز قبل تھانہ کھرڑیانوالہ نے پولیس نے دونوں پارٹیوں کو طلب کیا تو شیر جوانوں کی موجودگی میں ملزم پارٹی کے افراد نے انہیں مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مقدمہ درج کروانے پر قتل جیسی سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیںوقوعہ کی بابت بارے ایس پی ٹاﺅن جڑانوالہ کو اندراج مقدمہ کی درخواست گزاری مگر پولیس کارروائی سے گریزاں ہے ۔ملزمان انتہائی اثرو رسوخ والے ہیں اور مقدمہ میں نامزد ملزمان حبیب الرحمن کا والد رانا صابر جو پولیس میں حاضر سروس اے ایس آئی ہے مقدمہ کی تفتیش پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ انچارج انوسٹی گیشن رانا اعجاز ملزمان کی مبینہ پشت پناہی کر رہا ہے ۔3ماہ گزرنے کے باوجود تاحال فرنزک لیب سے رپورٹ بھی جاری نہ کی جار ہی ہے ۔متاثرہ خاندان نے بتایا کہ مقتول زبیر کی لاش دیکھ کر اس کی بہن اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور پولیس تفتیش کو ناقص قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ، آئی جی پنجاب، آر پی او فیصل آباد اور سی پی او فیصل آباد سے در مندا نہ اپیل کی ہے کہ از خود نوٹس لے کر انصاف و تحفظ فراہم کریں اہل دیہہ اور اما م مسجد نے بتایا کہ مقتول زبیر اچھے کر دا ر کا نو جوا ن تھا اور پا نچ وقت کی نما ز با جما عت ادا کر تا تھا اس حوالہ سے مقدمہ تفتیشی تھا نہ بلو چنی رضوان سلمان نے بتایا کہ مقدمہ قتل میں نامزد ایک ملزم شہباز کا چالان کر دیا گیا ہے جبکہ 2ملزمان حبیب الرحمن اور زبیر نے عبوری ضمانتیں کروا رکھی ہیں ۔ 2ملزمان اسلم اور عبدالرزاق سے میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور قانونی تقاضوںکو مد نظر رکھتے ہوئے مدعی کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved