تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (69

 

ضیا شاہد
جناب میاں صاحب! میں جانتا ہوں کہ آپ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں اسی لیے مجھے آج آپ کا یہ بیان پڑھ کر حیرت بھی ہوئی اور صدمہ بھی کہ شیخ مجیب الرحمان محبّ وطن تھا اسے باغی بنا دیا گیا۔ اسی بیان میں آپ نے مجیب کا ذکر کر کے ملفوف دھمکی بھی دے دی ہے” کہ اتنے زخم نہ لگاﺅ کہ جذبات قابو میں نہ رہیں“ میاں صاحب یہ الفاظ آپ کو زیب نہیں دیتے مجیب کا مسئلہ اقتدار سے محرومی تھا جبکہ آپ کو اقتدار کی فراوانی نصیب رہی ہے جس مجیب کو آپ محب وطن قرار دے رہے ہیں اس نے 16 جنوری 1972ءکو معروف صحافی ڈیوڈ فراسٹ کو انٹرویو دیتے تسلیم کیا تھا کہ میں 1948ءسے بنگلہ دیش کے قیام کیلئے کام کرتا رہا ہوں۔ اسی لیے تو اس کے سیاسی گرو سہروردی نے کہا تھا کہ میں نے مجیب کو قابو کر رکھا ہے۔ میری وفات کے بعد یہ باغی ہو جائے گا۔ چند برس قبل مجیب کی صاحبزادی وزیر اعظم حسینہ واجد نے اپنے یوم آزادی پر انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ جب وہ لندن میں اپنے باپ کے ساتھ ایک فلیٹ میں مقیم تھی تو وہاں ہندوستانی ”را“کے افسران آتے اور آزادی کے منصوبے بنتے تھے۔ اب تو ہندوستانی ”را“ کے ان افسران کی یادداشتیں بھی چھپ چکیں جو مجیب سے ملتے اور پیسے دیتے رہے۔ اگر تلہ کیس بالکل صحیح تھا لیکن سیاسی طوفان کی نذر ہو گیا۔ چھ نکات بھی علیحدگی کا فارمولہ تھا۔ اگر مجیب برسراقتدار آ کر چھ نکات (جنہیں وہ بنگالی عوام کی مقدس امانت کہتا تھا) کو عملی شکل دے دیتا تو ملک ویسے ہی ٹوٹ جاتا۔ ہندوستان سے مل کر قائد اعظم کے پاکستان کو توڑنے والے مجیب الرحمان کا اس انداز میں ذکر آپ جیسے قومی لیڈرکیلئے مناسب نہیں۔ اگر مجیب کی بغاوت کی ذمہ داری عدلیہ اور فوج پر ڈال کر ان اداروں کو مطعون کرنا مقصد تھا تو یہ بھی آپ کیلئے مناسب نہیں۔
آپ جیسے بہادر محبّ وطن اور پاکستانیوں کی آرزوﺅں کے امین لیڈر کو اقتدار سے محرومی اور جھٹکے کے ردعمل کے طو پر مجیب الرحمان کا علامتی ذکر ہر گز زیب نہیں دیتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کے مشیروں کے شر سے محفوظ رکھیں اور استحکام پاکستان کی راہ پر چلائیں یہ آپ کے بہی خواہWell Wisher اور اس سابق استاد کی پرخلوص دعا ہے جسے مشرف نے اس جرم کی پاداش میں چار سال او ایس ڈی بنا کر ریٹائر کر دیا۔ الحمداللہ مجھے کوئی شکایت نہیں کیونکہ میں سزا وجزا کو من جانب اللہ سمجھتا ہوں آپ بھی یقین رکھیں کہ آزمائش اور عروج سب کچھ اللہ کی جانب سے ہوتا ہے اور صبر دنیا کی سب سے بڑی بہادری ہے یاد رکھیں کہ صبر سے آزمائش کا عرصہ گھٹتا ہے اور بے صبری سے بڑھتا ہے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)
ڈاکٹر صفدر محمود کے علاوہ روزنامہ جنگ ہی نے معروف کالم نگار ارشاد احمد عارف کا کالم شائع کیا جو اسی موضوع پر ہے۔ یہ کتاب لکھتے وقت ارشاد عارف لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ 92 کے ایڈیٹر ہیں ملاحظہ کیجئے۔
بیاں میں نکتہ ِ توحید آتو سکتا ہے …طلوع…ارشاد احمد عارف
سنیٹر پرویز رشید نے اچھا کیا بروقت وضاحت جاری کردی، ورنہ 13اگست کی شام میاں نوازشریف نے سیفما کی تقریب میں یہ کہہ کر کہ ” جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں ، ہم بھی اسکی پوجا کرتے ہیں “ مسلم لیگ کے ان قائدین ، کارکنوں اور ووٹروں کو پریشان کردیاتھا جو خود یا انکے بزرگ ہجرت کی صعوبتیں برداشت کرکے پاکستان پہنچے اور آج تک یہی سمجھتے رہے کہ مسلمان ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں، جبکہ بھارتی ہندو سینکڑوں بھگوانوں ، دیویوں ، دیوتاو¿ں اور انکے اوتاروں کی پوجا کرتے ہیں، دونوں قوموں کا رب مشترکہ ہوتا تو اسکی پوجا متحدہ ہندوستان کے ہر مندر اور گھر میں بآسانی ہوسکتی تھی، اس کیلئے مسلمانوں کو مسجدیں بنانے اور واجپائی کی جماعت کے رہنماو¿ں کو بابری مسجد ڈھانے کی ضرورت نہیں تھی، جواباً میاں صاحب کے پہلے دور اقتدار میں پاکستان اور لاہور میں مندر بھی نہ ڈھائے جاتے۔
مگر میاں صاحب نے یہی ایک بات نہیں کہی ، انگریزی اور اردو اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ” میاں نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی زبان، ثقافت اور ثقافتی ورثہ ایک ہے، کھانا پینا ایک جیسا ہے، ہم ایک ہی معاشرے کے لوگ ہیں، صرف درمیان میں سرحد آگئی ہے“ میاں صاحب اس قوم کے محبوب لیڈر ہیں قائد کی مسلم لیگ کے سربراہ اور اپنے کارکنوں کی نظر میں قائداعظم ِ ثانی ، لیکن سیفما کی تقریب میں قائداعظم ِ ثانی نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے جو نئی کہانی لکھنے کی کوشش کی اس کا حرف آغاز غلط، نفس مضمون بے سروپا اور مجموعی تاثر گمراہ کن ہے، قائد اعظم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے موہن چند ، کرم داس، گاندھی کو مکر کی آندھی سمجھا اور کامیاب رہے جبکہ قائد اعظم ِ ثانی گاندھی بھگت واجپائی کے سحر میں گرفتار ہوئے اور اقتدار گنوا بیٹھے۔
جنرل پرویز مشرف نے میاں صاحب کو اقتدار سے محروم کیا، زیادتی کی، واجپائی کی کمر میں چھرا گھونپا، میاں صاحب اس پر ناراض ہیں، موٹروے کو لکتہ تک لیجانے کی خواہش پوری نہ ہونے دی برا کیا مگر یہ ذاتی صدمہ ان تقاریر کا جواز نہیں جو ان دنوں میاں صاحب کی نوک زباں پر ہیں اور جس سے متحدہ قومیت کے تصور کی صداقت ثابت کی جارہی ہے ، اٹل بہاری واجپائی نے لاہور کی ملاقاتوں میں کیا کہا میاں صاحب نے کیا سمجھا اور مسئلہ کشمیر کیلئے مسلم لیگ کے سربراہ اور بابری مسجد شہید کرنے والی ہندو توا کی علمبردار جماعت کے رہنما کے مابین کیا روڈ میپ طے ہوا یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا کوئی غیر جانبداراور ثقہ راوی موجود نہیں، دعویٰ تو جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیر خارجہ خورشید محمود بھی کرتے ہیں اعتبار کسی کو نہیں کیونکہ جواہر لال نہرو سے واجپائی تک مسئلہ کشمیر پر سب کے دعوو¿ں اور عمل میں ہمیشہ تضاد رہا اور میاں صاحؓ کے دعوو¿ں اور واجپائی کے اخلاص سے یہ مفہوم اخذ کرنا سادگی ہے کہ پورا ہندوستان مسئلہ کشمیر حل کرنے پر آمادہ تھا، جنرل پرویز مشرف گھسڈت نہ ڈالتے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد دونوں ممالک کے عوام آرام سے بیٹھے آلو گوشت اور گھیا کدو کھارہے ہوتے، ویسے آپس کی بات ہے بھارت میں صرف آلو گوشت اور گھیا کدو نہیں کھایاجاتا اور بھی بہت کچھ شکم پری کے کام آتا ہے جس کی اجازت میاں عباس شریف جاتی امرا میں کبھی نہ دیں۔
میاں صاحب نے اپنی تقریر میں پاکستانی ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ بھی واجپائی کو دیکر اپنے مخالفین کے اس دعوے پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ وہ ذاتی طور پر ایٹمی تجربات کے حق میں نہ تھے عوامی دباو¿ پر یہ فیصلہ ہوا۔
ناوک نے ترے صیدنہ چھوڑا ہے زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
میاں صاحب کے یمین ویسار وہ لوگ جمع ہیں جنہیں بھارت کی مدح سرائی سے فرصت نہیں اور پاکستان کی ہر بات ، ہر قدم، ہر فیصلہ غلط نظر آتا ہے ، ایسے میں بابائے قوم قائداعظم کی ایک تاریخی تقریر کا یہ اقتباس میاں صاحب کے گوش گزار کرنے کی مجال کسی مصاحب اور ملازم کو تو ہو نہیں سکتی ، دریامیں رہ کر مگرمچھوں سے بیر کون پالے، اگر میاں شہباز شریف یہ مہربانی کریں تو شاید مسلم لیگ کے سربراہ ہندو، مسلم تہذیب و ثقافت ، زبان ، تاریخی ورثہ ، رہن سہن اور خورد و نوش میں جوہری اور بنیادی فرق محسوس کر سکیں۔
23 مارچ کو لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا !”اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں بلکہ درحقیقت وہ دو مختلف معاشرتی نظام ہیں، چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال میں کہنا چاہئے کہ ہندو اور مسلم مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کرسکتے ہیں، میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، بلکہ اکثر متصادم ہوتے رہتے ہیں، یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ مسلمان اور ہندو اپنی اپنی ترقی کی تمناو¿ں کیلئے مختلف تاریخوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے تاریخی وسائل اور ماخذ مختلف ہیں ، ان کی رزمیہ نظمیں ، انکے سربرآوردہ بزرگ اور تاریخی کارنامے سب مختلف اور الگ الگ ہیں، ایک قوم کا ہیرو اور رہنما دوسری قوم کی بزرگ اور برتر ہستیوں کا دشمن ثابت ہوتا ہے اور ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے۔“
قائد اعظم نے جن حقائق کی طرف اشارہ کیا آج 70سال بعد کیا تبدیل ہوگئے ہیں؟ بھارتیوں کے ہیرو ہمارے ہیرو اور ہمارے ولن ان کے ولن بن گئے ہیں؟ میاں صاحب کو فرصت ملے تو غور ضرور فرمائیں، 13اگست کی تقریر سے انکے مداحوں کی خوب دل آزاری ہوئی مگر میاں صاحب کو شاید علم نہیں صرف علم کیا ، پروا بھی نہیں۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved