تازہ تر ین

لسانیت پرستوں کو شکست؟

ذیشان نون شجاع آبادیاظہار خیال
15 اگست 2018ءخبریں کی اشاعت میں انور قریشی نے ایک بار پھر سرائیکی کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف یہی ایک آدمی اپنے ہی وسیب کے خلاف لکھ رہا ہے جو اسی دھرتی پر رہتا ہے اور اس کا سود و زیاں بھی اس دھرتی سے وابستہ ہے، مزید یہ کہ وہ کہہ رہا ہے کہ لسانیت پرستوں کو شکست ہو گئی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب لوگ کافر ہو گئے یا مذہب نعوذ باللہ ناکام ہو گیا، جہاں تک الیکشن کی بات ہے تو اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ کرسی و اقتدار کی سیاست الگ ہے اور حقوق اور وطن کی سیاست الگ، جیسا کہ 1906ءمیں مسلم لیگ وجود میں آئی تو اُسے بھی کبھی کامیابی حاصل نہ ہوئی اور اُس وقت بھی انگریز سامراج کے پروردہ اُن کو طعنے دیتے تھے کہ کونسلر بن نہیں سکتے، الگ ملک لینے کی بات کرتے ہیں، کشمیر میں لوگ جانیں دیتے ہیں ووٹ نہیں دیتے، دوسرے لفظوں میں دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ سرائیکی خطے میں پیپلز پارٹی نے صوبے کا نعرہ لگایا اُسے بھرپور کامیابی ہوئی، پیپلز پارٹی نے صوبہ نہ بنایا، اُس کے بعد ن لیگ نے دو صوبوں کا نعرہ لگایا، لوگوں نے اُسے ووٹ دیئے، (ن) لیگ نے بھی وعدہ پورا نہ کیا تو لوگوں نے پیپلز پارٹی کی طرح اس مرتبہ (ن) لیگ کو بھی شکست دے دی اور صوبے کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف کو کامیاب کیا، گویا صوبے والے کامیاب ہوئے، شرم آنی چاہئے اُن لوگوں کو جو اس خطے میںرہتے ہیں، اس خطے کا رزق کھاتے ہیں اور پھر بہانے بہانے سے سانپ کی طرح اس خطے کو ڈسنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یہ ان کی پرانی عادت ہے۔
دراصل یہ خود لسانیت پرست ہیں،انور قریشی جیسے خاموش لسانیت پرستوں کو پہلی شکست مشرقی پاکستان میں اس وقت ہوئی جب انہوں نے پاکستانی زبانوں کو نظر انداز کرکے ہندوستان میں بننے والی مصنوعی زبان ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی، موجودہ پاکستان میں کوئی اور نہیں، لسانیات کے مرض کے مریض یہی اردو والے اردو کو ختم کرائیں گے جبکہ خاموش قوم پرستی کرنے والے پنجابیوں نے بھی اردو کا چولا پہن رکھا ہے۔ انور قریشی بذات خود کچھ نہیں اس کے پیچھے ایک اور قوت ہے جس نے سلیم اختر قریشی کے بیٹے کو لاہور میں سرکاری نوکری بھی دے رکھی ہے جو بہت جلد بے نقاب ہوجائے گی، میں مانتا ہوں ملک اللہ نواز وینس ہار گئے ،اور میرے مرشد خواجہ فرید کوریجہ بھی ہار گئے ہیں مگر انہون نے شناخت کے سوال کو بڑھا دیا ہے اللہ نواز وینس نے تو الیکشن سے پہلے ایک آرٹیکل میں لکھ دیا تھا کہ ہم ووٹ مانگنے صرف سرائیکیوں کے پاس نہیں جارہے بلکہ پنجابی ،مہاجر سب کے پاس جاتے ہیں،انہوں نے کمپین کے لیے جس بندے سے چالیس کے قریب گاڑیاں کرائے پر لیں تھیں وہ بھی نان سرائیکی تھا ،اس لیے ایسے دھرتی پرست کو انتہا پسند کہنا انور قریشی کی جہالت ہے اور کچھ بھی نہیں
عجب بات ہے کہ سرائیکی خطے کے لوگ سرائیکی صوبے کی بات کریں تو یہ لسانیت پرستی ہے ، میں پوچھتا ہوں کہ چاروں صوبوں ، سعودی عرب اور عرب لیگ کے خلاف فتویٰ کیوں نہیں دیا جاتا ۔ میں پوچھتا ہوں کہ اردو بازار ، اردو یونیورسٹی اور اردو اکیڈمی وغیرہ لسانی نہیں تو کیا ہیں؟ اب میں ایک تاریخی بات کا حوالہ دے رہا ہوں ، فتویٰ دینا ہے تو ان کے خلاف دیں ، حوالہ یہ ہے کہ تحریک آزادی میںریشمی رومال تحریک والے مولانا عبیداللہ سندھی کا بہت بڑا نام ہے ، انہوں نے آزادی کے بعد ہندوستان کو ثقافتی اور لسانی سٹیٹس میں تقسیم کرنے کا فارمولا دیا تھا، ان کا فارمولا کتابوں میں موجود تاریخ کا حصہ ہے، 25 سالہ جلا وطنی کے بعد مولانا عبید اللہ سندھیؒ 1939 ءمیں کراچی پہنچے ، اس موقع پر اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا:۔ ” میں چراغ سحری ہوں ، بجھا چاہتا ہوں مگر مرنے سے پہلے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ انگریز بھاگ رہا ہے، مگر وہ بہت مکار ہے، ہندوستان چھوڑنے سے پہلے وہ آپ کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا، خبردار !، ہندوستان کی خودمختار ریاستوں ( صوبوں ) کی تشکیل مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ثقافت کی بنیاد پر کرنا ہے “۔
آیا لسانیت پرست کون ہے ؟ پہلی بات تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سرائیکی وسیب میں جو مہاجر آ رہے تھے وہ سرائیکی بولنے والے نہ تھے ‘ پھر سرائیکیوں نے ان کو اپنے سینے سے کیوں لگایا؟ یہی ایک بات ہی کافی ہے کہ سرائیکی لسانیت پرست نہ تھے ۔ جو لوگ یہاں سے جا رہے تھے وہ سرائیکی بولنے والے تھے ، سرائیکیوں نے زبان کے رشتے کی بجائے مذہب کے رشتے کو مقدم جانا ۔ یہ بھی بتا دوں کہ سرائیکی وسیب کے لوگ لسانیت کے نام سے بھی واقف نہ تھے اور اس خطے کے لوگوں نے کبھی اس بارے سوچا بھی نہ تھا ‘یہ سب کچھ انور قریشی جیسے لسانی مرض کے مریض اپنے ساتھ لائے اور لسانیت جیسی وبائی اور موذی مرض کو ہمارے مقدس خطے میں پھیلایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی تک قوم پرست سیاست کو ریاست پاکستان نے قبول نہیں کیا ،سیاست اس وقت ہوتی ہے جب تھانہ، پٹواری آپ کے ساتھ ہوں ،جب سرکاری افسران آپ کے ساتھ ہوں تب جاکر لوگ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں اور ووٹ بھی دیتے ہیں کیونکہ سرائیکی تحریک پنجاب کے خلاف ہے اس لیے پنجاب کے سرکاری ملازم سرائیکی قوم پرستوں جنہیں ہم دھرتی پرست بھی کہتے ہیں سے نفرت کرتے چلے آرہے ہیں یہ تو کچھ سال قبل سے وسیب کے سرکاری ملازم سرائیکی صوبے والوں سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں جس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب کے بار الیکشن میں قوم پرستوں کو چار ہزار سے زائد ووٹ بھی ملے ہیں ورنہ پہلے انہیں پانچ سو سے زیادہ ووٹ نہیں ملتے تھے ،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم پرست انتخابی سیاست آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہیں ،دوسرا وسیب میں تمام جماعتوں خاص طور پر پی ٹی آئی اور پی پی نے الگ صوبے کے نام پر ووٹ مانگے ہیں اس لیے وہ جیت گئے ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ ابھی تک لفظ سرائیکستان کے نام پر ووٹ نہیں ملے،جمشید دستی بھی شاید اس کی بھینٹ چڑھ گئے مگر ووٹ صوبے کے نام پر ضرور ملے ہیں اس لیے ریاست کو چاہیئے کہ ملکی مفاد میں الگ صوبہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرے ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ملک کا بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوگا پھر صوبہ مخالفین بھی پچھتائیں گے۔یہان ایک اور بات بھی ہے کہ صوبہ کاجو نام بھی ہوقابل قبول ہے کیونکہ قوم پرستون کے گھر میں کوئی اسلحہ نہیں اور نہ ہی ہتھیار ہیں اس لیے وہ کیا مزاحمت کریں گے صرف ڈھول بجائیں گے بس،کسی کے گھر سے شاعری کی کتابیں ملیں گی تو کسی کے گھر سے اجرک اور جھمر کا لٹریچر اس لیے ہم ایسے پر امن لوگوں پر الزام لگانے والے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ وہ دنیا کی پرامن ترین قوم پر الزام لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ میں ”خبریں“کے توسط سے آرمی چیف سے مطالبہ کرتا ہوںکہ وہ پرامن صوبہ تحریک کے پرامن لوگوں پر غلط الزامات لگانے والوں کی باتوں کانوٹس لیں اور انہیں سزائیں بھی دیں اور ملکی استحکام کے لیے خود صوبے کا علان بھی کریں کیونکہ اس سے ملک متوازن اور مضبوط ہوگا ،رہی بات ایم کیوایم کے صوبہ کراچی کی تو یہ ہمارے صوبے کو روکنے کا ایک حربہ ہے صوبہ مانگیں تو گھوٹکی والے ،ڈھرکی والے مانگیںجو دارالخلافہ سے بہت دور ہیں جن کے شہر میں ہی دارالخلافہ ہے وہ جب صوبے کی بات کرتے ہیں تو دال میں کچھ کالا ہی نہیں پوری دال ہی کالی لگتی ہے جسے انور قریشی ایسے لوگ بھی پکانا چاہتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔
( کالم نگار سرائیکستان صوبہ تحریک کے رہنماءہیں )
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved