تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (74

 

ضیا شاہد

میں صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ غلطی اس میں نہیں تجھ میں ہے او بندہ خدا!! ہمیں بڑوں نے ٹھیک بتایا تھا کہ وہ بزنس مین فیملی سے ہے۔ ایک ہاتھ سے کچھ دیتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے جو لے سکتا ہے، لے، منت کر، سماجت کر، گھٹنے پکڑ‘ وہ تجھ سے اپنا الو سیدھا کرتا ہے تو اپنا کر۔ معاف کرنا مجھے تو ریٹائرڈ ہوئے بھی برسوں بیت چکے ہیں مگر وہ اچھا بیوپاری ہے کیا تو نہیں جانتا کہ ایک بڑا بولڈ مقرر ہر جلسے میں تقریر کرنے کے عوض ایک پلاٹ کی فرمائش کرتا تھا تو شاید خود مانتا ہے کہ اس نے کئی بار اشاروں میں تجھے بھی پوچھا۔ وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا۔ سوائے اس کے جس پر اس نے ڈھیر سارا تگڑا سارا احسان نہ کیا ہو۔تیرے گھر پر بیٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، غلطی تجھ میں تھی۔ وہ رحمت کا دریا اور سخاوت کا سمندر ہے۔ آج ان لوگوںکو دیکھو جو برسوں سے اس سے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ کیا تھے وہ لوگ اور کہاں پہنچ گئے۔ اللہ کے بندے خود تیرے اندر ہمت نہ تھی۔ اس پر تہمتیں لگاتا ہے۔ وہ اس لئے تجھ پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔ کہ سچ سننا ہے تو سُن لے۔ او، بھائی تو اس کا ”کانا“ نہیں تھا۔ بالآخر اس نے ہر وقت چوں چاں کرنے والے کو اپنی ”اردرل“ سے نکال دیا۔ کسی کا نام لیتا ہے تو اس کی ہسٹری بتا دوں۔ ایک پی آئی اے پر اس کے ٹکٹ پر بورڈنگ کارڈ نکال کر انتظار میں کھڑا ہوتا تھا۔ آج وہ کہاں ہے؟ یہ اسمبلی کی ممبریاں اور سنیٹروں کی رکنیتیں، کیا وہ کبھی سوچ بھی سکتے تھے کہ اس اَپر ہاﺅس میں انہیں کوئی داخل بھی ہونے دے گا۔بس تجھ سے بھول ہوئی۔ تو جتنا جتنا کسی پر الزام لگاتا رہا کہ وہ اپنا کام کرتا رہا۔”اگر اس نے اشارتاً یہ مشورہ دے دیا کہ بڑا گھر خرید لو۔ تجھے مرچیں لگ گئیں۔اس بیٹھک میں تیرا دم نہیں گھٹتا….؟میں نے مہمان کی بات کاٹ کر کہا معاف کیجئے گا۔ میں نے آپ کی بات سمجھ لی، اس کے علاوہ کچھ اور….!آپ نے پڑھا ہو گا، انہی قسطوں میں میں نے تفصیل بیان کی ہے کہ میری سوچ اس کی سوچ سے متفق نہیں تھی۔ رہی یہ بات کہ کون سچ پر تھا اور کون جھوٹ پر، اس کا فیصلہ اللہ کی عدالت ہی کرے گی اور کوئی بات کہنی ہے تو فرمائیں۔میں خود انہیں سہارا دے کر باہر گیٹ تک لے گیا۔ حالانکہ مجھے خود ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کی وجہ سے چلنے میں چھڑی پکڑنا پڑتی ہے۔آخر میں ہاتھ ملاتے وقت اُس نے ایک بار پھر کہا، تو آدھے پنجاب کا مالک ہو سکتا تھا۔ اگر ایمان داری کا بھوت تیرے سر سے اُتر جاتا۔ دنیا میں ایسے رہتے ہیں جیسے دنیا والے رہتے ہیں۔ دکھا تو سہی، تیری کندھوں کے اُوپر فرشتوں والے پر کہاں ہیں؟ میں نے بڑے میاں کے بیٹے سے کہا پلیز! یہ تو عمر میں میرے بھی بزرگ ہیں۔ آپ انہیں لے جائیں۔پیارے پڑھنے والے! یہ بحثیں میں آج سے نہیں، کالج اور یونیورسٹی کے زمانے سے سن رہا ہوں اللہ جانتا ہے کہ میں فرشتہ نہیں بہت گناہگار انسان ہوں۔ کیا ہر قدم اٹھانے پر ہاتھ پھیلانا اچھی بات ہے؟میرے اللہ! میں نے کب دعویٰ کیا فرشتہ ہونے کا، مجھ میں تو ہزار خامیاں ہیں۔ پَر کیا بکاﺅ مال بننا ضروری ہے؟پیارے پڑھنے والے! یہ فیصلہ، آپ خود کریں۔٭٭٭ضمیمہ ( 1 ) پنجاب کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی کے حوالے سے میں نے جس واقعہ کا ذکر کیاہے ظاہرہے کہ اس سے پہلے بھی نوازشریف نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہوگی ۔بعدازاں سفر و حضر میں سینکڑوں بار نوازشریف نے اپنی زندگی کے کسی واقعہ کا تذکرہ کیا ہوگا، یوں تو بہت سے لوگوں نے اس کی تعریف میں بہت سی کتابیں لکھیں، ایک صاحب نے تو قائد اعظم کی مناسبت سے اسے قائد اعظم ثانی کا خطاب بھی دیدیا لیکن میں صرف ایک کتاب کو مصدقہ سمجھتا ہوں اور وہ ہے ”غدار کون؟“ یعنی نوازشریف کی کہانی خود اس کی زبانی، اسے روزنامہ ” جنگ “ کے معروف صحافی اور سینئر ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے ترتیب دیاہے اور یہ نوازشریف کے جدہ میں قیام کے دوران ایک مہینہ اور لندن میں قیام کے دوران ڈیڑھ مہینے طویل انٹرویو پر مبنی ہے ، یعنی ساری کتاب سوالاً جواباً ہے، اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ نوازشریف نے اپنے متعلق جوکہا اس کی تردید نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ان کے اپنے الفاظ ہیں، خرابی یہ ہوئی کہ انٹرویو لینے والا کبھی کسی کمزوری یا خامی کی نشاندہی نہیں کرے گا اور ہمیشہ واقعات کو اپنے مفادات میں اس طرح توڑ مروڑ کر بیان کرے گاجس سے اسے حقیقت سمجھنا بہت مشکل ہوگا، میں نے مختلف وقتوں میں جو کچھ نوازشریف کی زبانی سنا اسے ”غدار کون؟“ یعنی نوازشریف کی کہانی خود زبانی سے ملاکر دیکھا ہے، کم از کم کسی بھی واقعہ کا پس منظر صحیح طور پر سامنے آجاتا ہے ، البتہ یہ ظاہر ہے کہ اس کتاب کا بیانیہ خودستائشی پر مبنی ہے ، بہر حال اس کی زندگی کے مختلف حصوں پر ایسی روشنی پڑتی ہے جسے وہ خود تسلیم کرتا ہے۔نوازشریف کے ساتھ لاہور ہی میں نہیں پورے پاکستان میں میں نے بائی روڈ بہت سفر کیا، اور ظاہر ہے کہ انسان منہ پر ٹیپ لگاکر گاڑی میں نہیں بیٹھتا ، جہاں سے گذرتا ہے اس جگہ کے بارے میں کوئی نہ کوئی پرانی بات ضرور کرتا ہے ، اس لئے میری ملاقات اگرچہ جنرل غلام جیلانی کے زمانے میں ہوئی لیکن اس سے پہلے کے تمام واقعات یا جو میں نے زبانی سنے یا کبھی کبھارکسی کتاب میں پڑھے، نوازشریف کا خاندان 1937ءمیں مشرقی پنجاب میں امرتسر سے قیام پاکستان سے قبل ہی لاہور منتقل ہوگیاتھا، میاں محمد شریف اس کے والد کا نام ہے ، اس کی اولاد میں ان کے تین بیٹے نواز، شہباز اور عباس تھے اور ایک بیٹی ، یہ ان کی کل کائنات تھی ، تاہم ان کے سگے بھائی ان کے ساتھ کام کرتے تھے، میاں شریف سب میں پڑھے لکھے تھے ( کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں انہوں نے میڑک پاس کررکھا تھا ، باقی بھائی شاید تعلیم حاصل نہ کرسکے یا کم از کم میٹرک تک نہ پہنچ سکے ) اس خاندان کا قیام چوک دالگراں کے پاس ریلوے روڈ پر بنے ہوئے حویلی نما مکان میں تھا، یہ وہی ریلوے روڈ ہے جس پر آگے چل کر دائیں ہاتھ اسلامیہ کالج کا معروف تعلیمی ادار ہ ہے جو قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگی سوچ کا حامل سمجھا جاتا رہا،کالج کے بائیں جانب تاج کمپنی کا دفتر اور شو روم ہے جس نے سب سے پہلے عکسی قرآن پاک کی اشاعت کا کام شروع کیا۔ خود راقم الحروف کے والد چوہدری جان محمد نے 1937ءہی میں یعنی جب میاں محمد شریف لاہور میں آئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بی اے کیا اور بعد میں سندھ میں گڑھی یاسین ضلع شکار پور میں تحصیلدار کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا، ان کے کلاس فیلو چوہدری محمد علی بھی تھے جو قیام پاکستان کے وقت سیکرٹری جنرل بنے اور بعد میں وزیر خزانہ اور وزیراعظم بھی مقرر ہوئے، میرے والد چوہدری جان محمد نے چوہدری محمد علی کیساتھ میٹرک میں اچھے نمبروں کی بدولت ڈسٹرکٹ بورڈ جالندھر سے تعلیمی وظیفہ حاصل کیا اور اسی وظیفے سے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔میاں محمد شریف نے لوہے کی ڈھلائی کا کام شروع کیا اور بعد میں چھوٹی موٹی مشینری بنانے کی طرف آئے ، لاہور میں مشہور تھا کہ یہ خاندان آپس میں بہت اتفاق سے رہتا ہے ، اسی لئے انڈسٹری کا نام بھی اتفاق انڈسٹری رکھا گیا ، نوازشریف نے دو انگریزی میڈیم سکولوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا، اپنی یادداشتوں میں نوازشریف نے اپنے دور کے معروف افراد میں قانون دان اور معروف کمپیئر نعیم بخاری کے علاوہ حمید نظامی مرحوم کے بیٹے عارف نظامی کا نام بھی لکھوایا ہے، اساتذہ میں وہ جس درویش مزاج پرنسپل کا تذکرہ کرتے ہیں وہ ڈاکٹر نذیر احمد تھے اور جن اساتذہ سے پڑھنا اس نے تسلیم کیا ان میں پولیٹیکل سائنس ڈاکٹر صفدر محمود سے اور اُردو میں سید مشکور حسین یادانہیں اب تک یاد ہے، سپورٹس میں کرکٹ ان کا پسندیدہ کھیل تھا، تاہم وہ باسکٹ بال اور تن سازی کے شوقین بھی تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں آمد کے وقت نوازشریف تعلیم سے فارغ ہوچکا تھا اور بھٹو دور میں چونکہ اسکی انڈسٹری اتفاق کو قومیا لیا گیاتھا اور بنک اکاو¿نٹ بھی منجمد کرلئے گئے ، لہٰذا قدرتی طور پر ان دنوں بھٹو کے سب سے بڑے سیاسی مخالف ایئر مارشل (ر) اصغر خان اس کے ہیرو تھے، اتفاق لمیٹڈ بھٹو شاہی میں کافی ترقی کرچکا تھا اور وہ ویٹ تھریشر کے ساتھ ساتھ روڈ رولر بھی تیار کررہاتھا۔ (جاری ہے)نوازشریف نے اپنی یادداشتیں لکھواتے وقت کہا کہ اگر 1972ءمیں ڈاکٹر مبشر حسن ان کی صنعت پر حکومتی قبضہ نہ کرلیتا تو اس کے والد تیزی کیساتھ کاریں بنانے کی پلاننگ کررہے تھے ، بہرحال بقول نوازشریف جب اسے 1981ءمیں وزارت خزانہ کی آفر ہوئی تو اس نے ایئرمارشل (ر) اصغرخان سے جاکر اجازت لی ، نوازشریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جنرل جیلانی کونہیں جانتا تھا البتہ اس کے تعلقات بریگیڈیئر (ر) قیوم سے تھے جو اب فوت ہوچکے ہیں ، بریگیڈیئر قیوم ہی نے نوازشریف کو جنرل جیلانی سے ملوایا، پہلے وزیر خزانہ ، پھر نگران وزیر اعلیٰ اور آخر میں منتخب وزیراعظم کے طور پر اس نے اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھا۔  پہلی بار 1990ءمیں وزیراعظم بننے سے پہلے نوازشریف ہمیشہ غلام اسحاق خان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ غلام مصطفی جتوئی کو جو نگران وزیراعظم تھے منتخب وزیراعظم کے طور پر لانا چاہتے تھے لیکن الیکشن کے نتائج نے مجھے اس مقام کیلئے موزوں قرار دیا ، جس کی بنا پر مجھے پہلی بار وزیراعظم بنایا گیا، فوج کے لوگوں کے ساتھ نوازشریف کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے سوائے ضیاءالحق کے ، ضیا کے بعد غلام اسحاق خان نے صدارت سنبھالی تو فوج کا سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کو بنایاگیا، نوازشریف سہیل وڑائچ کو دیئے گئے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ آصف نواز جنجوعہ کو براہ راست غلام اسحاق خان نے مقرر کیا تھا اور وہ ہمیشہ وزیراعظم کا (یعنی میرا) مذاق اڑاتے رہے ، بعد ازاں وہ اچانک دل کی دھڑکن بند ہونے کی وجہ سے فوت ہوگئے تو بھی اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ایک مقدمہ دائر کیا گیا کہ جنجوعہ صاحب کو قتل کیا گیا ہے ، اس مقصد کیلئے باہر سے ماہرین بھی بلوائے گئے اور قبر کشائی کرکے میت بھی نکالی گئی اور ٹیسٹ ہوئے مگر الزام ثابت نہ ہوسکا۔ جنرل وحید کاکڑ کو بھی بقول نوازشریف غلام اسحاق لائے تھے اور وہ بھی سپریم کورٹ کی طرف سے بطور وزیراعظم میری بحالی کے باوجود غلام اسحاق اور مجھ پر دباو¿ ڈالنے لگے کہ ہم دونوں مستعفیٰ ہوجائیں ، نتیجہ یہ نکلا کہ ہم دونوں نے استعفیٰ دیدیا لیکن یہ کسی خوف کی وجہ سے نہیں تھا ، بقول نوازشریف میں جانتا تھا کہ عوام دوبارہ مجھے مینڈیٹ دینگے ، نوازشریف نے سہیل وڑائچ کو اپنے انٹرویو میں تفصیل بتائی کہ جہانگیر کرامت سے انکے اختلافات ہوئے تاہم جہانگر کرامت نے جلد سرنڈر کردیا اور استعفیٰ دیکر چلے گئے ، گویا جنرل ضیاءالحق کے سوا کسی جرنیل سے نوازشریف کی نہیں بنی، یہاں تک کہ پرویز مشرف کی کتاب ” سب سے پہلے پاکستان “ میں تفصیل درج ہے کہ نوازشریف سے ان کے تعلقات کیسے خراب رہے بعد میں نوازشریف نے الزام لگایا کہ کارگل کی جنگ پرویز مشرف نے بتائے بغیر اور وزیراعظم کی منظوری کے برعکس شروع کی تھی اور اگر نوازشریف واشنگٹن جاکر صلح نہ کروادیتے تو پاکستان کو بہت نقصان پہنچتا ، یہی وجہ ہے کہ کارگل کے موقع پر نوازشریف کا فوج کے سپہ سالار پرویز مشرف سے سخت تنازعہ شروع ہوگیا اور اسی وجہ سے اس نے پرویز مشرف کو ہٹا کر اس کی جگہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیاءالدین بٹ کو افواج پاکستان کا سربراہ بنانے کی کوشش کی ، اس وقت پرویز مشرف سری لنکا کے دورے پر تھے، واپسی پر انکا جہاز ہائی جیک ہوا اور جنرل عزیز نے انکی پاکستان میں موجودگی کے بغیر وزیر اعظم ہاو¿س کا گھیراو¿ کرکے پرویز مشرف کو بحفاظت اسلام آباد اتار لیا اور نوازشریف پر طیارہ ہائی جیک کے الزام میں مقدمہ چلایا اور اٹک جیل بھیج دیا، بعد ازاں ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیج دیا جہاں سے بینظیر بھٹو سے این آر او کے بعد نوازشریف جدہ سے لندن جاچکا تھا، این آر او کے بعد وہ پاکستان آگیا اور اخلاقی طور پر پرویز مشرف کیلئے اسے روکنا ممکن نہ تھا۔ سہیل وڑائچ کی کتاب ”غدار کون“ میں نوازشریف نے اپنے والد محترم میاں محمد شریف کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ وہ لکھواتا ہے کہ میرے والد مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ بچپن میں وہ اپنی مٹھی میں کچھ سکے بند کر کے میرے سامنے لاتے اور میں ان کی مٹھی کھول کر سکے لینے کی کوشش کرتا، میرے والد جب دیکھتے کہ میں ان کی مٹھی نہیں کھلوا سکتا تو کچھ دیر بعد وہ اپنی گرفت تھوڑی ہلکی کر دیتے اس لئے میں ان کی انگلیاں اٹھا کر سّکّوں تک پہنچ جاتا۔ بظاہر سہیل وڑائچ کی کتاب میں لکھوایا جانے والا یہ واقعہ معمولی نظر آتا ہے اور میری نفسیات کا علم بھی نصابی کتاب تک محدود ہے پھر بھی میں اتنا ضرور سمجھ سکا ہوں کہ ہر قیمت پر سکوں تک پہنچنے کی خواہش میرے دوست میں شروع ہی سے موجود رہی ہے اور عمران خان جو بات ازراہ مذاق کہتا ہے کہ نوازشریف کرکٹ میچ میں بھی جانبدار ایمپائر کو ضروری خیال کرتا تھا تا کہ کوئی اسے آﺅٹ قرار نہ دے۔ اسی طرح وہ صرف مٹھی میں بند سکوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ مٹھی بند کرنا اپنی گرفت ڈھیلی کر دے۔ اللہ پاک معاف فرمائیں زندگی بھر وہ اس کوشش میں رہا اور یوں لگتا ہے کہ بچپن کا یہ واقعہ اس کے ذہن پر کچھ ایسا نقش ہوا کہ وہ ہر بند مٹھی کو کھولتے وقت خواہش کرتا ہے کہ ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے تا کہ آسانی سے میرا دوست مطلب تک پہنچ سکے۔ بہت سارے نوٹ بہت سارے اثاثے بہت ساری کمپنیاں، بہت سارے آف شور ادارے بہت ساری پراپرٹیاں یوں لگتا ہے بڑے میاں صاحب قدرتی پیار اور محبت میں اپنے بڑے بیٹے کو جو درس دے گئے میرا دوست کبھی اسے فراموش نہیں کر سکا۔ ووٹ ہو یا نوٹ دونوں کے لئے میرٹ سے زیادہ کھلی مٹھی اور کمزور گرفت کا خواہشمند ہے۔ بقول عمران خان ہر لڑائی میں ہر جنگ میں ہر میچ میں اسے نیوٹرل ایمپائر برداشت نہیں۔ صاحب وہ ایمپائر ہی کیا جو اندر سے آپ کے ساتھ نہ ملا ہوا ہو، وہ جج کیا جو ٹیلی فون پر آپ کی ہدایات کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔ نوازشریف آج تک یہی کچھ کر رہا ہے۔ ماہرین نفسیات ٹھیک کہتے ہیں کہ ٹین ایجز میں بچے کی جو نفسیات بن جاتی ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔` اپنی بات ختم کرنے سے پہلے میں سہیل وڑائچ کی کتاب کی فہرست مضامین قارئین کے سامنے رکھتا ہوں ملاحظہ کیجئے صرف عنوانات ہی آپ کے سامنے نواز شریف کی زندگی کے اسرا رو رموز عیاں کر دیں گے مختلف ابواب کے نام ملاحظہ کیجئے۔ جس باب یا جس موضوع پر تفصیل معلوم کرنا ضروری سمجھیں تو سہیل صاحب کی کتاب کا مطالعہ کریں۔ کاروبار، سیاست میں آمد، وزیراعلیٰ کے چیلنج، ضیاءالحق جونیجو اور میں، بینظیر بھٹو سے مفاہمت، الزامات اور الزامات، وزارت عظمیٰ کا کارزار، پہلی وزارت عظمیٰ، پہلے دور کے منصوبے، فوجی سربراہوں سے اختلافات، پہلے دور کا خاتمہ، پہلے دور کی غلطیاں، اپوزیشن کا دور، سیاسی اتار چڑھاﺅ، 1997ءکے انتخابات، اہم فیصلے، عدلیہ سے محاذ آرائی، ایٹمی دھماکہ فوج اور بھارت کرامت سے مشرف تک، سیاسی مسائل، کارگل، واشنگٹن میں جنگ بندی، آخری معرکے، جنرل مشرف سے اختلافات، فیصلہ کن لمحات، فوج کا کردار، خفیہ ایجنسیاں، متفرقات، جدہ اور لندن کے حالات، جدہ میں جلاوطنی، لندن کے لیل و نہار، شہباز شریف سے مکالمہ، پاکستان میں کیوں نہ اتر سکا، اصل کہانی کیا تھی ڈیل کیا ہے، بڑے بڑے مسائل، عدلیہ کی اصلاح، سپریم کورٹ پر حملہ، امیر غریب کا فرق، میں سوشلسٹ ہوں، بچپن کی لڑائیاں، نوازشریف کی شفقت، والد کا احترام، جنرل مشرف سے رابطہ، میں لاعلم تھا، تعلیم کا مسئلہ، فوج سے مصالحت، ذاتی خیالات، بیگم کلثوم نواز کے خیالات، گھر سے سیاست، حسین نوازشریف کی کہانی، رائیونڈ سے اسلام آباد تک، وزیراعظم ہاﺅس کی کہانی، قید کے ابتدائی دن، گورنر ہاﺅس میں قید، سیف ہاﺅس سے سعودی عرب، بیوفائی کے سوداگر، حسن نوازشریف، ٹیک اوور کا اندازہ نہیں تھا۔ پہلا رابطہ، لبنانی وزیراعظم کی واپسی، کراﺅن پرنس عبداللہ کی ناراضی، صدر تارڑ نے کیا کیا، میری بیماری، کیا سیاست کریں گے، غلطیاں، ملٹری سیکرٹری کے انکشافات، جاوید ملک پر کیا گزری، فوج کے معاملات، فوج سے اختلافات، آخری دن، ذاتی تاثرات، کیپٹن صفدر کی باتیں، بچوں جیسا سلوک نواسوں سے پیار، کیا محبت کی شادی تھی، نوازشریف گھر کے اندر، ضمیمہ جات، ضمیمہ نمبر1، ضمیمہ نمبر2، ضمیمہ نمبر3، مشترکہ ڈیکلریشن، اشاریہ قارئین! یہ مختلف ابواب کے عنوانات ہیں۔ نواز شریف کی زندگی کو سمجھنے کے لئے یکطرفہ آئینہ کے طور پر اچھی کتاب سے اور اس کے صفحہ نمبر سات پر انتساب کبھی نہ بھولنے والا ہے لکھا ہے: ”آئین پاکستان کے نام جس کی حرمت بار بار پامال ہوتی رہی اس کے باوجود آج بھی آئین ،واحد امرت تھارا ہے جس پر سب صوبے سب پارٹیاں اور سب حلف اٹھانے والے متفق ہو سکتے ہیں۔ اور انتساب کی آخری سطر سے ملاحظہ کیجئے۔ کاش آئین کی حرمت کا لفظ مقدس روافیت بن جائے قارئین محترم نوازشریف نے ٹھیک کہا آئین واقعی امرت دھارا ہے بس شرط یہ ہے کہ دو تہائی اکثریت آپ جمع کر سکیں مشورہ میثاق جمہوریت پر ہی کیوں نہ ہو جو ”تریاق جمہوریت“ بھی ہے۔ نوازشریف کے سیاسی گرو ضیاءالحق نے ٹھیک کہا تھا آئین تو کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے میں جب چاہوں پھاڑ سکتا ہوں اور سیاستدان تو کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے میرے پیچھے چلتے ہیں۔ قارئین کرام! نوازشریف کو ایسا ہی آئین چاہئے ایسی ہی اپوزیشن اور ردی کے کاغذ کے مانند آئین جسے جب چاہے وہ تبدیل کر سکے۔ آخری تبدیلی وہ پانچ ججوں کے جاری کردہ سارے فیصلوں کی واپسی بارے کرنا چاہتا ہے اور جیل میں بیٹھ کر بھی اسی بہار کی آمد کا منتظر ہے۔ کتاب غدار کون؟ نوازشریف کی کہانی ان کی زبانی مصنف سہیل وڑائچ ملنے کا پتا ضیاءالقرآن پبلی کیشنز داتا دربار روڈ لاہور فیکس نمبر 042-7238010 الکریم مارکیٹ اُردو بازار 7220479-7247350 -14 انفال سنٹر اُردو بازار کراچی فون: 021-2210212, 2630411 فیکس 021-2210212 Email. [email protected] Web: www.zia-ul-quran.com


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved