تازہ تر ین

عمران خان اور شی جن پنگ ‘نیا ایشیائی دور

ڈاکٹر حمیرا اویس….مہمان کالم
عمران خان کی الیکشن میں کامیابی کے بعد تقریر نے لاکھوں ٹی وی ناظرین کے دلوں میں ایک بلند نصب العین کی جانب عظیم سفر بارے یقین محکم کو راسخ کر دیا۔ اس تقریر کا ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا۔ تقریر میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا وہ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ تقریر میں ”طرزحکمرانی“ میں احتیاط اور عوامی خدمت کے جذبہ کے نظریہ کو اجاگر کیا گیا۔ طرز حکمرانی بارے طویل عرصہ قبل اہم اصول وضع کیے جا چکے ہیں۔ ان اصولوں میں زور دیا گیا ہے کہ طرز حکمرانی بعض خوبیوں سے عبارت ہونی چاہئے۔ ان اہم ترین اصولوں کو ہم فراموش کر چکے ہیں۔ طرز حکمرانی یا گورننس کا نظریہ ہمدردی، فیاضی اور سخاوت کی اہم خوبیوں کے سانچے میں ڈھلا ہونا چاہئے۔
متذکرہ بالا خوبیاں حضور اکرم کی تعلیمات اور احادیث میں بیان کیے گئے اصولوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ان تمام امور کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے سامنے مدنی دور کا نقشہ آ جاتا ہے اس نوع کے اصولوں کی کنفیوشس کی تعلیمات میں بھی گونج ملتی ہے۔ کنفیوشس کا قول ہے کہ اصولوں سے مزّین خوبیوں کو سیاسی اور اقتصادی نظاموں میں سرایت کر جانا چاہئے۔ کنفیوشس کی سوچ اور فکر کا مرکزی خیال ”اچھائی اور نیکی و خوبی کا تصور ہے“ جسے عرف عام میں ”رین“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رین، ایک پیچیدہ نظریہ ہے اور اصول عمل ہے اس کی مثال ”رحما“ سے دی جا سکتی ہے۔ مغربی اصطلاح میں اس انداز فکر کو عظیم فلسفی ہیگر اپنی زبان میں ”سورگ“ کہتے ہیں جسے عام مفہوم میں ”مستند یا تسلیم شدہ احتیاط“ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کے عالمی منظر نامہ پر ابھرنے کے بعد حکمرانی کا نیا آئیڈیل بھی سامنے آیا ہے جسے چینی رہنما کی زبان میں چین کی خصوصیات کا حامل سوشلزم قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوشلزم کی اس نئی قسم میں کنفیوشس کے اصول بھی شامل ہیں۔ اہل مغرب کے دانشوروں نے ہیگر کے نظریے اور اصول عمل کو سمجھنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ وہ چین کے صدر کے سوشلزم کے انقلابی نئے نظریہ کو بھی سمجھنے میں ناکام رہیں گے، لیکن ہمیں اس کے مفہوم کو تسلیم کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہ نیا نظریہ عالمی سیاست اور ملکوں کی اندرونی پالیسیوں میں تجدید کی نمائندگی کرتا ہے۔ چین کی قیادت کے فلسفہ اور انداز فکر میں دلیل کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ ادھر مغرب نے خوبی کو دلیل یا عقل کے مترادف قرار دیا ہے۔ وہ اسے ہمدردی کے اصول عمل کے تحت نہیں لانا چاہتا۔ اہل مغرب کی دلیل ہے کہ حقیقی ایکشن عظیم ترین اچھائی کی جانب رہنمائی کرتا ہے جبکہ مغرب والوں کو اس امر کا احساس ہو گیا ہے کہ دلیل اور وجہ درحقیقت غیراخلاقی پن ہے۔ انہوں نے تاریخ کو ازسرنو مرتب کیا اور اخلاقیات کو نئے مفہوم کا جامہ پہنادیا۔ یہ کام بڑی عجلت میں کیا گیا ان کے نئے فلسفہ اور نظریہ میں نفع، اخلاقی برتری کی اہم علامت کی حیثیت اختیار کر گیا۔
25سو سال قبل کنفیوشس نے لکھا تھا کہ ایک قوم کا نفع یہ نہیں کہ وہ نفع حاصل کرے بلکہ کسی قوم کا نفع توازن (انصاف پسندی) کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنی قوم کو یاد دلایا تھا کہ کوئی قوم اسی صورت میں خوشحالی کی منازل حاصل کر سکتی ہے جب پوری قوم انصاف کے اعلیٰ اصولوں پر گامزن ہو چنانچہ اس فلسفہ اور فکر کا واضح مطلب یہ ہے کہ کمیونٹی اور فرد کی قدروقیمت کو تسلیم کیا جائے اور دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ فرد اور کمیونٹی ایک دوسرے کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اوپر کی سطور میں جس توازن یا بیلنس یا اس کے فقدان کا ذکر کیا گیا ہے اسی کی بنیاد پر مشرق اور مغرب کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اٹھارویں صدی کے آخر میں بنگال کی فتح سے پہلے چار ہزار سال کے عرصہ کے دوران چین اور ہندوستان کی معیشت دنیا کی جی ڈی پی کے پچاس فیصد سے زیادہ تھی۔ اس وقت صرف بنگال کی معیشت دنیا کی جی ڈی پی کا 12 فیصد تھی۔ جبکہ برطانیہ کی معیشت محض 2 فیصد کے لگ بھگ تھی۔
مدنی دور کی تاریخ سنہری مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمیں اسلامی خوبیوں پر استوار طرزحکمرانی یا گورننس کو اختیار کرنا ہوگا۔ غریبوں کی نگہداشت کا مطلب محض دکھاوے کے منصوبے نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو دنیا کو قابل عمل حل کی جانب لے جائے۔ مدنی نظام سے مراد یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے کو عوام کی خدمت اور فلاح کے کاموں پر لگایا جائے۔ لوگوں کو حکومتی مشینری کی خدمت پر مامور کرنا حقیقی نظام کے فیوض و برکات سے محرومی کا ذریعہ بنے گا۔
مدینہ کی معیشت دراصل ایک ایسا عملی نمونہ اور ماڈل ہے جس کی عملی تاریخ رسول پاک کے دور سے ملتی ہے۔ یہ ماڈل لین دین یا ٹریڈنگ سے متعلق ایک مثالی نمونہ پیش کرتا ہے اس سلسلہ میں سٹرکچر میں سرمایہ مزدور اور محنت کش کے لیے ذیلی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے اور دولت پر سود کی قطعی طور پر ممانعت ہے۔ معیشت کی اہم بنیاد مارکیٹ، کھلی منڈی کی طرز پر ہونی چاہئے۔ مارکیٹ مساجد کی طرح وقف ہوتی ہیں۔ اسلام میں کھلی منڈی، لین دین یا تجارت کرنے کے لیے تمام لوگوں کو آزادانہ رسائی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اوپن مارکیٹ کے بغیر لین دین یا تجارت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔ اگر منڈی میں سب کو رسائی حاصل نہ ہو تو پھر تقسیم کا اصول کارفرما ہو جاتا ہے۔ یہی ایک واضح فرق ہے۔
رسول پاک قافلوں اور کارواں کے ذریعے تجارت کرتے تھے۔ مسلم دنیا میں کارواں تاجروں کی انجمن کی مانند ہوتا ہے۔ تاجروں کی انجمنیں پیداوار کے اہم ذریعہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تمام تاجروں کو پیداوار کے ذرائع وسائل میں برابر کا حصہ حاصل ہوتا ہے۔ اس نظام میں ہر تاجر دوسرے کے لیے ضمانت کا سبب بنتا ہے۔ اس طرز تجارت میں کریڈٹ کا عنصر نہیں ہوتا بلکہ تاجر اپنی شہرت، ساکھ اور رویہ کی بنیاد پر لین دین کرتے ہیں۔ سرمایہ کی کفالت کا اس میں ذکر نہیں ہوتا۔ کارواں کا نظام آج کل مضاربہ کی شکل میں موجود ہے۔ مدینہ منورہ میں تجارت کو جس طرح توسیع حاصل ہوتی رہی وہ اسلامی تاریخ کا ایک زرّیں باب ہے۔
پاکستان اور چین، مدنی ماڈل اور کنفیوشس آئیڈیلز کے درمیان سی پیک مدینہ کی تجارتی معیشت کی بحالی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ہمیں مغرب کی جانب دیکھنے کے بجائے چین کی جانب دیکھنا چاہئے۔ نیا سلک روٹ ہمارے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہے جس سے دنیا بھر میں خوشحالی کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہوگا اور اسلامی خصوصیات کی حامل تجارت سے معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ یہ کنفیوشس کے فلسفہ ”رین“ کے تحت ٹریڈنگ کی جانب بھی رہنمائی کرے گا۔
منصفانہ تجارت میں تمام لوگ شریک ہو سکتے ہیں۔ رسول پاک کا فرمان ہے کہ رزق کے دس میں سے 9 حصے تجارت میں ہیں۔ ہماری قوم کی خوشحالی اور بھلائی تجارت میں مضمر ہے۔ اس سے سی پیک اور بی آر ون کے ذریعے ترقی ممکن ہو سکے گی۔ آخری نکتہ یہاں کچھ اس طرح سے ہے کہ مدینہ کی فلاحی ریاست کا تصور عملی شکل میں کیسے سامنے لایا جائے۔ مدینہ نے تاریخ عالم میں بہترین فلاحی نظام پیش کیا جو زکوٰة کا اعلیٰ نظام ہے۔
زکوٰة مغرب کے سوشل سکیورٹی نظام پانیزئی سے کہیں زیادہ برتر ہے۔ مغرب کا پانیزئی نظام آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ یہ سکیم مستقبل کے ٹیکسوں کی بنیاد پر استوار ہے۔ زکوٰة میں حقیقی پن ہے اس کا نظام جامع اور اعلیٰ ہے۔ زکوٰة چیریٹی نہیں یہ دی نہیں جاتی بلکہ لی جاتی ہے۔ یہ رضاکارانہ نہیں بلکہ لازمی ہے۔ زکوٰة ہماری تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔ زکوٰة لوگوں، کاروبار اور مائنز پر لازمی طور پر لاگو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آئل اینڈ گیس کے ذخائر پر بھی زکوٰة کا نفاذ ہے۔ خلیجی ممالک کے ہمارے بھائیوں نے اسے فراموش کر دیا ہے۔ قوم کے رہنما کی یہ ذاتی ذمہ داری اور اختیار ہے کہ وہ زکوٰة کی تقسیم کا نظام فوری طور پر نافذ کرے۔ یہ نظام ریاستی بیوروکریسی سے آزاد ہونا چاہئے۔ زکوٰة حقیقی ضرورت مندوں کو ملنی چاہئے جیسا کہ ہماری روایات رہی ہیں۔ زکوٰة ہسپتالوں یا مدارس کو نہیں دی جانی چاہئے۔
اسلامی روایات کے مطابق دیگر وسائل سے متذکرہ بالا ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ زکوٰة صرف لوگوں کے لیے ہے۔ زکوٰة حقیقی رقم میں ادا کی جانی چاہئے۔ سونے کے دینار ، چاندی کے درھم کے ذریعے زکوٰة ادا ہونی چاہئے۔ ایسا نظام زکوٰة مدنی ماڈل کے مطابق ہوگا۔
ہم نے عمران خان کی تقریر کو پسند کیا، لیکن ہمیں تشویش ہے کہ کہیں ریاستی مشینری کے نظام تلے عمران کی دلی خواہشات دب کر نہ رہ جائیں۔ ہم انہیں درد مندانہ اپیل کرتے ہیں کہ جناب عمران خان صاحب آپ قوم کی خدمت اور ان پر حکمرانی اپنے دل کی گہرائیوں سے کریں۔ نیکی اور خوبی کے ذریعے حکمرانی کا فریضہ انجام دیں۔
(کالم نگارانگریزی اخبار ”دی پوسٹ“ کی سابقہ ایڈیٹر اورپنجاب اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔ )
(بشکریہ: پاکستان ٹو ڈے‘ترجمہ:ملک محمد ظفر)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved