تازہ تر ین

بلوچستان کا سوری

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
تحریک انصاف ایوان میں داخل ہوتے ہی کامیابی کی طرف یوں بڑھ گئی ہے کہ اسد قیصر پاکستان پیپلزپارٹی،مسلم لیگ نواز ودیگرجماعتوں کے متفقہ امیدوار سید خورشید شاہ کو 146ووٹوں کے مقابلے میں 176 ووٹ لیکر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ اسی طرح تحریک انصاف بلوچستان کے رکن قاسم سوری پر ایوان کا اعتماد یوں زیادہ رہاہے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے فرزند اسد محمود کے144 ووٹوں کے مقابلے میں 183 ووٹ حاصل کرکے ڈپٹی اسپیکر شپ اپنے نام کرلی ۔تحریک انصاف کیلئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن یوں اہمیت کا حامل تھاکہ رائے شماری خفیہ تھی لیکن جیسے ہی اسد قیصر کو اسپیکر ایاز صادق نے کامیاب قراردے اسپیکر منتخب ہونے کا اعلان کیاتو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی خوشی دیدنی تھی۔ساتھ ہی اسد قیصر نے فورا ہی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کی نشستو ں کا رخ کیا ، لیگی لیڈر شہبازشریف،پیپلزپارٹی کے لیڈ رآصف زرداری، بلاول بھٹو ،خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف کا شکر یہ ادا کیا ۔ اسی طرح دیگر جماعتوں کے لیڈروں سے بھی ملے۔اسی دوران ہی اسپیکر ایاز صادق نے اسد قیصر کو حلف کیلئے اوپر بلالیا، حلف شروع ہونے لگا تھاکہ لیگی لیڈرشپ اور ارکان اسمبلی نے احتجاجی نعروں سے ایوان کو سرپر اٹھالیا،ساتھ ہی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نشست کی طرف بڑھ گئے ۔تحریک انصاف کی قیادت اور ارکان اسمبلی نے لیگی ارکان اسمبلی کے انداز سے بھانپ لیا کہ ان کے ارادے نیک نہیں ہیں،یوں فورا ًخان کے سامنے والی نشستوں کو حصار میں لے لیا تاکہ لیگی ارکان فاصلہ پر رہیں ۔پریس گیلری میں موجود راقم الحروف کو لیگی ارکان اسمبلی کو اس انداز میں دیکھ کر وہ واردات یاد آگئی جو انہوں نے پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کیساتھ ڈالی تھی ۔اسی طرح کا اندازتھا اوراس وقت بھی تلخی کو اس حد تک لے گئے تھے کہ پیپلزپارٹی کے ارکان کو اپنے وزیراعظم گیلانی کو حملہ سے محفوظ رکھنے کیلئے نشستوں کو چھوڑ کر لیگی ارکان کیساتھ گتھم گھتا ہونا پڑا تھا ۔ وزیراعظم گیلانی کی طرف جب لیگی ارکان بڑھ رہے تھے تو اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان اپنی سیٹ پر موجود ہونے کی بجائے اسمبلی کی آخری نشستوں میں ایک سیٹ پر بیٹھ کر زیر لب مسکراکر احتجاجی حملہ کو انجوائے کررہے تھے۔لیکن اس بار صورتحال یکسر مختلف تھی کہ لیگی ارکان اسمبلی کی پشت پر مسلم لیگ کے صدر شہبازشریف کھڑے تھے اور ان کی خاموشی ارکان کو اشارہ تھاکہ وہ اس بات کا برا نہیں مان رہے ہیں ،اس احتجاج کے دوران لیگی ارکان نے اپنے اڈیالہ کے قیدی لیڈر نوازشریف کی تصاویر ہاتھوں میں لی ہوئی تھیں اور مطالبہ کررہے تھے کہ نوازشریف کو رہاکرو،لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی ،ووٹ کی چوری بند کرو،ہمارا قائد نوازشریف،نہ بکنے والا نہ جھکنے والا ،مصنوعی مینڈیٹ نامنظور،ووٹ کو عزت دو ۔ اس احتجاج میں نوازلیگی خواتین صف اول میں تھیں ۔ اس ساری صورتحال میں جو بات پریس گیلری میں ڈسکس ہونے لگی وہ یہ تھی کہ لیگی احتجاج سے پیپلزپارٹی نے اپنے آپ کو دور رکھا ہواہے اور خاص طور پر زرداری نواز لیگی ارکان کے احتجاج کو انجوائے کررہے ہیں ۔یقین نہیں آرہاتھاکہ جس لیگی قیادت کو تھپکی دے کر پیپلزپارٹی ایوان میں لائی تھی اور اسپیکر کا الیکشن ان کیساتھ مل کر لڑاتھا لیکن لیگی جیسے ہی تحریک انصاف کو ایوان میں عام انتخابات میں دھاندلی کو ایشو بنا کر ٹینشن دینے کیلئے احتجاج کی طرف بڑھے تو انہوں نے خاموشی اختیارکرلی اور نوازلیگی ارکان کو اپنے حال پر چھوڑدیا۔ لیگی ارکان کا بھرپور احتجاج تحریک انصاف کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے کہ اب کی بار اپوزیشن ڈھیلی ڈھالی نہیں ہوگی ۔درست ہے کہ پیپلزپارٹی اور لیگی احتجاج پر تقسم ہوگئے لیکن قومی اسمبلی کے اسپیکر وڈپٹی کے الیکشن کا نتیجہ اس بات کی چغلی کرتاہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک دوسرے کیساتھ کیے گئے وعدوں کوپوراکیاہے ۔ تحریک انصاف کو پیغام ہے کہ ہم بھی موجود ہیں اور آپ کے پیچھے آرہے ہیں۔اس صورتحال میں عمران خان کو بحیثیت وزیراعظم پرفار م کرنا ہوگا ۔ ایوان میں پوری تیاری کیساتھ شرکت کرنی ہوگی ۔ادھر اپنی کابینہ میں ان ارکان کو لینا ہوگاجوکہ اپوزیشن کے دباﺅ کا سامنا کریں۔اور اپنے آپ کو ایوان میں جوابدہ کرنے میں اسپیکر کی طرف نہ دیکھنے لگیں کہ جان چھڑادیں۔ ابھی تک خان نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے چناﺅ میں جو فیصلہ لیا ہے ،وہ حوصلہ افزایوں ہے کہ بلوچستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی قاسم سوری نے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو تے ہی(واضح رہے انہوں نے بلوچستان کی انتہائی قدآورمگر متنازع شخصیت محمود خان اچکزئی کو چاروں شانے چت کیا ہے اورعرصہ دراز سے قائم ان کی چودھراہٹ کوختم کیاہے) جس طرح ایوان میں بلوچستان کے ساتھ روارکھی گئی زیادیتوں پر آواز اٹھائی ہے ،اس پر ہمارے سمجھدار صحافی طارق ورک کاکہناتھاکہ کپتان نے اس نوجوان کا چناﺅ کرکے بتادیاہے کہ اسکی کابینہ میں کون لوگ ہونگے ؟ سوری کا کہناتھاکہ بلوچستان کیساتھ کبھی انصاف نہیں ہوا ہے ،جو آیا اس نے معافی مانگی اور چلتابناہے۔اس کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان ہے اور بلوچ لوگ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں لیکن ان کو حقوق دینے ہونگے ،ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنی ہونگی ۔ناراض بلوچوں سے ڈائیلاگ کرنا ہوگا اورر ان کو قومی دھارے میں لانا ہوگا ،تلخیاں مسائل کا حل نہیں ہیں ،کوئٹہ شہر بلوچستان کا دارلحکومت ہی نہیں بلکہ دل ہے، حدیہ ہے کہ اس میںبنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ آٹھ اگست کی دہشت گردی میں جب ہسپتال پہنچے تو زخمیوں کیلئے سٹریچرتک نہیں تھے۔بلوچستا ن کی عوام نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں ،حالیہ انتخابی مہم میں دہشت گردی کے واقعات میں سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں لیکن بلوچستان کے عوام نے ڈر اور خوف کو قریب نہیں آنے دیا اور 25 جولائی کو ووٹ ڈالے اور جمہوری سفر میں اپنا بھر پور کردار اداکیاہے۔ان کی جرا¿ت کی وجہ سے ایوان میں کھڑا ہوں ۔اب بلوچستان کی آواز چیئرمین عمران خان تک میں خودپہنچاﺅں گا ،یوں بلوچستان پیچھے نہیں جائے گابلکہ ترقی اور خوشحالی کے سفر میں لیڈکرے گا۔بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے ،اسی بلوچستان کی 600 کلومیٹر کی ساحلی پٹی ہے۔سی پیک میں بھی جو بلوچستان کیلئے ہوناتھا ،وہ نہیں ہے ۔سوری نے پراعتماد انداز میں کہاکہ اب بلوچستان میں قومیت رنگ نسل پر تقسیم نہیں ہوگی بلکہ سب برابر ہونگے اور پاکستان بالخصوص بلوچستان کی ترقی میں بھر کردار اداکریں گے۔ قاسم سوری کا جوخوبی راقم الحروف کو بہت اچھی لگی وہ یہ تھی کہ اس نے اگلے اجلاس کیلئے بلوچستان کے معاملے کو نہیں اٹھا رکھا بلکہ پہلے ہی دن بتادیاکہ وہ کس مقصد کیلئے ایوان میں آیاہے ؟ اور اس کو کس بات کا مینڈیٹ ملا ہے ؟ اس طرح ہوتی ہے حقیقی لیڈر شپ اور یوں عوام کے حقوق کیلئے ایوان میں پوری جرا¿ت سے آواز اٹھائی جاتی ہے۔کاش تھل (خوشاب ،میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ،جھنگ) کے ارکان اسمبلی میں بھی یہ حوصلہ اور جرات ہوتی اور وہ ایوان میں کھڑے ہوکر سوری کے انداز بتاتے کہ قیام پاکستان کو 71 سال ہوگئے ہیں لیکن تھل کے 6 اضلاع میں ایک ائرپورٹ ،ایک میڈیکل کالج، ایک ٹیچنگ ہسپتال ،ایک بارانی یونیورسٹی،ایک نرسنگ کالج ،ایک ہائی کورٹ کا بنچ ،ایک ڈویثرن ہیڈ کوارٹر ،ایک وویمن یونیورسٹی ،ایک ڈینٹل کالج ،ایک کیڈٹ کالج،ایک موٹروے،ایک ایکسپریس ہائی وے،ایک ٹیکنالوجی کالج ،ایک انجینئرنگ یونیورسٹی ،ایک کرکٹ اسٹیڈیم ،ایک ہاکی اسٹیدیم تک نہیں ہے بلکہ کچھ بھی نہیں ہے جو اہل لاہور کو حاصل ہے بلکہ میں تو ملتان کے مقابل کی سہولتیں دستیاب نہیں اور مذکورہ علاقے گنا‘کپاس‘ آم‘ چاول اورکنووافرمقدار میں ہیں اور ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے لیکن ان کے عوام کو دانستہ پسماندہ رکھنے کی باقاعدہ سازش کی گئی ہے۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved