تازہ تر ین

سیاسی محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی

طارق سردار فرخ….سنہرے خواب
ایک جمہوری نظام حکومت میں اپوزیشن کی طرف سے برسراقتدار پارٹی کے طرز حکمرانی پر جائز تنقید کو تعمیری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک مضبوط اختلاف کی موجودگی جمہوری حکمرانوں کو آمرانہ روئیے اختیار کرنے سے روکتی ہے لیکن جب کبھی یہ تنقید جائز حد سے آگے نکل جائے تو سیاسی صورتحال پھر محاذ آرائی میں بدل جاتی ہے جو نہ صرف حکومت اور اپوزیشن بلکہ پورے جمہوری نظام کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔
ہماری عمر کے جوانوں نے جب ہوش سنبھالا تو ملک پر جنرل ضیاءالحق کا مارشل لا نافذ تھا، انہوں نے 1977میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بالآخر 1985 میں عام انتخابات کرواہی دئیے اور وہ شاید پیپلزپارٹی کو اسمبلیوں سے باہر رکھنا چاہتے تھے اسی لئے یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں سیاسی لیڈروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہوئی جو پاکستان کی مختلف پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے آج سیاسی میدان میں ہے۔
صدر ضیاءالحق کی فضائی حادثے میں موت کے بعد 1988ءمیں ہونے والے الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہوئے جن میں پیپلزپارٹی اور آئی جے آئی اپنے اپنے اتحادی گروپوں اور سیاسی گٹھ جوڑ کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل تھیں اور یہی وہ دور تھا جب ملک میں سیاسی محاذ آرائی کے ایک نئے چلن کا آغاز ہوا، مخالفین کو پنجہ دکھانے کیلئے جھوٹے الزامات، غداری کے فتوے اور بے بنیاد مقدمات روز کا معمول تھا۔ کبھی ایک لیڈر کو کرپٹ اور دوسرے کو سکیورٹی رسک قرار دیا جاتا تو کبھی دونوں طرف سے سیاسی دشمنی بڑھانے کے نئے منصوبے بنائے جاتے۔ یہ سلسلہ اکتوبر 1999 تک چلتا رہا اور جب جنرل پرویزمشرف نے تین سال کے وقفہ کے بعد 2002میں جمہوری سلسلہ پھر سے بحال کردیا تو وہی محاذ آرائی کی سیاست بھی اگلا جنم لے کر میدان میں اتر آئی۔
کسی بھی عام شہری کی طرح ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ملک سے لوٹ مار، چوربازاری اور غنڈہ گردی کا خاتمہ ہو، قصور وار کو اس کے جرم کی سزا ملے اور مظلوموں کے ساتھ انصاف ہو مگر قومی اسمبلی جیسے بڑے فورم پر ایسے الزامات لگنے کے باوجود بھی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے کیا مثال چھوڑ کر جائیں گے؟ ان الزامات کے پیچھے دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں کہ یا تو یہ بے بنیاد اور جھوٹے تھے یا پھر حکومتی ادارے کوئی کارروائی ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اصل حقیقت چاہے کچھ بھی ہو مگر اس محاذ آرائی نے پاکستان میں ترقی کا عمل روک رکھا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کو اسلام دشمن قرار دینا، ان کے شوہر آصف علی زرداری پر قتل کے مقدمات، شیخ رشید احمد کو کلاشنکوف کیس میں سزا، شریف فیملی کی اتفاق فونڈریز کیخلاف کارروائیاں، فاروق لغاری کے رضی فارم کا قصہ، سیف الرحمان کا احتساب سیل اور پھر میموگیٹ سکینڈل، سوئس بینک اکاﺅنٹس، عمران خان پر شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے الزام اور سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں یہ سب محاذ آرائی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں چودھری شجاعت حسین نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ”سچ تو یہ ہے“ میں دعویٰ کیا کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو وزیراعظم نوازشریف نے ان پر دباﺅ ڈالا کہ اپوزیشن لیڈر بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو منشیات کے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جائے۔
ہمارا مو¿قف ہے کہ جن لوگوں نے بھی کرپشن کی ہے اور ملکی دولت کو لوٹا ہے ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے۔ بدعنوانی میں ملوث سیاستدان ملک کی اسمبلیوں کو اپنے بچاﺅ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اربوں کے فراڈ میں ملوث لوگ اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اپنے جرم کو سیاسی رنگ میں ڈھال کر احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ قوم کو اپنی بے گناہی کا تاثر دیا جاتا ہے اور اپنے حلقے کے ووٹرز کو بیوقوف بنا کر اپنی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے سب لوگ گناہگار نہ ہوں اور احتساب کے نام پر انتقامی کارروائی کی جا رہی ہو کیونکہ موجودہ سیاسی نظام میں سچ اور جھوٹ کے درمیان تفریق کافی حد تک مٹ چکی ہے لیکن پھر بھی جو لوگ لوٹ مار سے کمائی ہوئی دولت کے بل بوتے پر الیکشن جیت کر اسمبلی میں آ جائیں گے ان سے بہتری کی توقع رکھنا بے حد مشکل ہے۔ ہمارے منتخب نمائندے جب تک اسمبلیوں کو اپنی ذات کے تحفظ کیلئے استعمال کرتے رہیں گے اس وقت تک ایک اسلامی فلاحی ریاست کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچ سکتے۔
ماضی میں جس صورتحال کا سامنا پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو رہا ہے اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی اپوزیشن کی ہلڑبازی سے اسی مشکل کا شکار ہو سکتی ہے اس لئے موجودہ اسمبلی کے پلیٹ فارم پر نئی منتخب حکومت کو چاہئے کہ وہ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری اس محاذآرائی کے کلچر کو بدلنے میں پہل کرے۔ ایسا طریقہ کار متعارف کرایا جائے جن کے تحت متاثرہ فریق یا کسی بھی رکن اسمبلی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے کی صورت میں پارلیمنٹ کی ہی تشکیل کردہ کسی کمیٹی سے فوری طور پر انصاف مل سکے۔ حکومت بھی ایسے اقدامات نہ اٹھائے جن سے اپوزیشن کو اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔ اس محاذآرائی نے ماضی میں نفرتیں پھیلانے کے سوا پاکستانی عوام کو کچھ بھی نہیں دیا‘ جیسی چپقلش اور سیاسی اختلافات ان دنوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگی کارکنوں میں دیکھے جاتے تھے‘ ان سے بھی زیادہ سنگین صورتحال آج پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن) کے کارکنوں کے درمیان ہے۔ سیاست میں موجود اس گرمی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پہل ہمارے سیاسی لیڈروں کو اسمبلی کے پلیٹ فارم سے ہی کرنا ہو گی۔
سیاستدانوں کو بھی سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا ہو گا کیونکہ تحمل اور برداشت کا رویہ اپنا کر ہی وہ ملک کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔ ایک بہتر معاشرہ ہی کسی ملک کی ترقی کا ضامن ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو‘ جرم سے نفرت کی جاتی ہو‘ لوگ قواعدوضوابط کااحترام کرتے ہوں‘ ہر شخص کو بنیادی حقوق کی آزادی ہو اور ان سب کے حصول کیلئے جو طریقہ کار درکار ہے اس کا آغاز عوام کی نمائندگی کرنے والے اداروں سے ہو گا۔ ہماری منتخب اسمبلیوں میں بیٹھے ارکان بھی خوشحالی کی یہ منزل اسی وقت پا سکتے ہیں جب وہ سیاسی محاذآرائی سے مکمل طور پر گریز کریں گے اور پاکستان کو ایک مثالی مملکت بنانے کا عہد کریں گے۔
(کالم نگار‘ میڈیا ریسرچ سکالر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved