تازہ تر ین

عثمان ،عمران اور نیا پاکستان

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
چند سال قبل اپنے لوک قصوں کے ذریعے ماں دھرتی سے جوڑنے والے والد محترم اس دنیا سے چلے گئے تو ان کی مونجھ نے ایسا تنگ کیا کہ ابھی تک مونجھا ہوں،دوسال قبل ملتان کے باغوں،چناب کے کناروں سے آشنا کرنے والے نوازش نے جھوک بھپلا کی چادر اوڑھی تو ہمیں بھی غم کی چادر اوڑھا گئے اب ایک ہفتہ قبل تل ،وطنی فلاسفی اور سندھ وادی کی تاریخ سے شناسائی کروانے والے شمیم عارف اچانک جدائی دے گئے تو برداشت نہ ہوسکی اور ملتان شہر سے کچھ دن دور جانے پر مجبور ہوگیا ہوں ،راستے میں ہوں اور پتا نہیں منزل کہاں ہے ،فیس بک سکرین پر پودے لگاتے بچوں کو دیکھ کر دل کو بھی تھوڑی بہت ٹیک مل رہی ہے کہ کل کلاں یہ پودے بڑے درخت بنیں گے ،ان پر پھول لگیں گے ،ان پر تتلیاں بھی آئیں گی ،ان کی لکڑیوں سے بانسریاں بھی بن سکتی ہیں ،ٹالھی کی بالیاں بھی بن سکتی ہیں جنہیں میرے وسیب کی شہزادیاں پہن کر چندلمحوں کے لیے خوشیاں حاصل کرسکیں گی،دل مونجھ سے خوشی کی جانب گامزن ہے کہ اب میرا ملک آگے کی جانب جارہا ہے کہ جس کی منزل خوشیاں ،مسکراہٹیںاور ترقی اور امن ہے جس کے لیے یہاں کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اور یہ بھی لگتا ہے کہ اب ریاست بھی ماں بننے جارہی ہے جو اپنے سبھی بچوں سے برابر پیار کرتی ہے اس عظیم ماں کے آگے پھر کوئی سکا یا مترایا بیٹا نہیں ہوتا بلکہ سبھی بیٹے اپنے ہوتے ہیں وہ چاہے تونسے کے ہوں یا لاہور کے راول پنڈی کے ہوں یا مٹھی کے بقول ریاض عصمت
بھانویں تونسے ہیں بھانویں مکے ہیں
اساںاللہ سائیں دے سکے ہیں
اس وقت اللہ آباد ہوں یہ وہ شہر ہے جہاںسے سابقہ ریاست کے نوابوں نے اپنی حاکمیت کا آغاز کیا تھا ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ شہر دارالخلافہ تھا اب یہ یونین کونسل ہے ،نوابوں نے بھی یہاں اس وجہ سے لیاقت پور چھوڑ کر سکونت اختیار کی تھی کہ یہاں کاپانی میٹھا تھا ،اب بھی یہاں کا پانی اتنا شربت ہے کہ یہاںہزاروں ایکٹر رقبے پر پھیلے اناروں کے باغ اپنی مٹھاس کی بدولت پورے ملک میں مشہور ہورہے ہیں ایک وقت تھا علی پور کا سفید انار ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اب اللہ آباد کا انار ہے کہ پاکستانیوں کے دلوں کو چھو رہا ہے ،چڑیاں ،لالیاں ،گیرے اور کاں کبھی اِدھر تو کبھی اُدھراڑ کر میرا غم بھلا رہے ہیں مگر شمیم ہیں کہ بھول ہی نہیں رہے۔نیل کتھا اٹھائے مسکرا رہے ہیں ،یہ کتاب تل وطنیوں کی تاریخ لگتی ہے وہ تاریخ جو کسی حاکم کی تعریف میں نہیں بلکہ دھرتی واسوں کی ایسی تاریخ ہے جس میں ،ملوہا ،ملتان اور سندھ وادی ہرے بھرے اناروں ،ساوے کچور آموں سے رجی کجی لگتی ہے جس کے بوٹے بوٹے پر پکھی ،پرندے چہچہاتے اور گاتے محسوس ہوتے ہیں اسی خوشی میں میرے ذہن میں عمران خان گھومنے لگے جو آج کل بائیس کروڑ پاکستانیوں کی امید بنے ہوئے ہیں ،خاکم بدہن ایک اجڑا پاکستان مگر پر امید پاکستان ،اجڑا اس وجہ سے کہ یہاں دہشت گردوںنے وہ گل کھلائے کہ اب حقیقی گل کھلنے سے پہلے ڈر جاتے ہیں ،یہاں انسانوں نے وہ کچھ کیا کہ انسانیت ہی شرماجائے کہ اپنے جسموں سے بم باندھ کر انسانوں کے جسم اڑائے مگر اب نئی کونپلیں نکل چکی ہیں ،تبدیلی بھی آچکی کہ تونسہ کا عثمان بزدار بڑے پنجاب کا سردار بن چکا ہے۔
توں محنت کرتے محنت دا صلہ جانے خداجانے
توں ڈیوا بال تے رکھ چا ہوا جانے خداجانے
خطے کے لوگوںنے عرصہ دراز سے اپنی محنت کے جو دیئے جلا کر رکھے تھے اس کا صلہ اب ملنے جارہا ہے ،عاشق نے مہرے والا میں جوجوت جگائی تھی اب اس کی لوتونسہ سے بزدار کی شکل میں نظر آچکی ہے اور آج رحیم یار خان کے تل وطنی بھی خوش نظر آرہے ہیں ۔جگہ جگہ ،چائے خانوں ،چھپر ہوٹلوں ،جھوکوں ،دیروں میں بیٹھے لوگ اس تبدیلی پر ڈسکس کررہے ہیں جس کا فیصلہ عمران نے کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے زیادہ اس کے وزیراعلیٰ کے فیصلے پر عام عوام خوش ہیں کہ چولستان میں بھی اب کے بار کام ہوں گے جس طرح تونسہ میں پینے کا پانی نہیں اسی طرح چولستان میں بھی پینے کا پانی نہیں اور تس کی یہی سانجھ بزدار کی محبت میں بدل چکی ہے
تسے پھلان دے کیتے مسیں ہے پانی آیا
شمدن سکا نہ سجھ آمنت کریندا پیاں
اب جبکہ عثمان کے منظر عام پر آنے کے بعد عام آدمی ،مقامی آدمی خوش ہورہا ہے تو وہی پرانی سوچ رکھنے والے اینکرز اور نام نہاد دانشور عجیب وغریب کیڑے نکال رہے ہیں ،کوئی اس کی جھجھک پر بات کررہا ہے تو کوئی کیا اعتراض کررہا ہے مگر اس کی سادگی اور بطور وزیراعلیٰ نامزدگی کو بڑے بڑے چینلز پر بیٹھے لوگ کم سراہا رہے ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کے دلوں میں موجود ان سے رہی سہی محبت بھی کم ہوتی جارہی ہے کہ ان میڈیا مینوں کو بڑے بڑے شہرے اور پڑھے لکھے لوگ اس وجہ سے کم دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی اصلیت جان چکے ہیں مگر دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں موجود عام لوگوں کو اب پتا چل رہا ہے کہ یہ کس کے اشاروں پر چلتے ہیں اور یہی بات شمیم عارف ایسا تل وطنی بندہ بھی کہتا تھا کہ پاکستان کا سرحدی میڈیا ہے جو صرف لاہور ،کراچی اور اسلام آباد تک محدود ہے اب تبدیلی نے انہیں بے نقاب بھی کر دیا ہے کہ عام لوگوں نے ان کی نہیں سنی،اس وقت جب لوگ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے شایدعثمان بزدار تخت لاہور پر بیٹھ چکے ہوں گے ،امید ہے وہ پرانی ڈگر پر چلنے کے بجائے مجبور ،نظرانداز،محکوم اور پسے ہوئے طبقات کو آگے لائیں گے ،کچھ دن قبل ”خبریں“کے پنجابی صفحے پر جناب ضیاشاہد کا انٹرویو پڑھنے کا موقع ملا تو وہ فرما رہے تھے کہ صوبے بھانویں وکھ بنا لو مگر دل وکھ نئیں ہونے چاہیدے تو انہیں ہم یقین دلاتے ہیں کہ دل وکھ نہیں ہوں گے بلکہ مزید جڑیں گے کیونکہ بابا بلھے شاہ اور شاہ حسین کا مزار لاہور میں ہے جہاں وسیب کے لاکھوں لوگ جاتے ہیں ،پنجاب سے بھی سخی سرور اور شاہ شمس کے مزار پر بھی لاکھوں لوگ آتے ہیں جنہیں درمیان میں موجود پاکپتن والی سرکار مزید جوڑ کررکھے گی۔بقول جمیل احمد جمیل کہ اب لوگوں کے دلوں کو صوفیاءکی تعلیمات سے ہی جوڑا جاسکتا ہے آخر میں ایک صوفی کی دوسرے صوفی سے بات جو حضرت بہاءالدین زکریا نے بابا فرید گنج شکر کے لیے کہی تھی کہ
ہتھاں سنویں ہتھ فریدا پیراں سنویں پیر
تساں نہ متیاں گاجراںاساںنہ متے بیر
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved