تازہ تر ین

سیاستدان تاریخ سے نہیں سیکھتے

عبدالودودقریشی

انتخابات کا مرحلہ بخیر و خوبی مکمل ہوا۔ انسانی نفسیات ہے کہ سےاست دان اقتدار کی کرسی چھوڑنا نہیں چاہتا اور اگر اس کی عمر جواب دے رہی ہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی ،بیٹا،نواسے ،پوتے،بھتیجے، بھائی اس مسند پر براجمان ہوجائیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کو تیار کیا تھا ،آصف زرداری نے بلاول کو تیار کرلیا۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں مدتوں سے جاری ہے پہلے وقتوں میں تو بادشاہت ہوتی تھی باپ کے بعد بیٹا مگر اسلام کی آمد کے بعد خلفائے راشدین کا تقرر مشاورت سے ہوتا رہا اور پھر ملوکیت میں باپ کے بعد بیٹا کی رسم شروع ہوئی جو بری طرح ناکام ہوگئی جمہوری ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا مگر پسماندہ ملکوں میں جمہوریت کو بھی بادشاہی طرز پر چلانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد عزت تو ملتی ہے اور اگر اقتدار پانچ سال سے طویل ہوجائے اور مذکورہ شخص خود یا اپنے بیٹوں کو اقتدار کا مستحق قرار دے دیں تو پھر ذلت ان کا مقدر بنتی ہے۔لاکھوں سالوں سے انسان اس دھرتی پر رہ رہے ہیں مگر آنے اور چلے جانے والے حکمرانوں کے برے اعمال ہی یاد رہتے ہیں برطانیہ اور امریکہ میں سیاسی جماعتیں انہی ناموں سے رہتی ہیں اور سیاستدان منظر سے غائب ہوجاتے ہیں پاکستان اور بھارت میں سیاسی جماعتوں کووراثت سمجھ لیا جاتا ہے اور پھر یہ حکمران اپنی کم علمی کی بنیاد پر دعویٰ کرلیتے ہیں کہ ہمارے بغیر ہماری پارٹی سے کوئی جا کر تو دیکھے دو ٹکے کا نہیں رہے گا مگر یہ سیاستدان تین چار سال پہلے کی تاریخ ہی بھول جاتے ہیں کہ سندھ اور کراچی کی حد تک ایم کیو ایم ایک بڑی جماعت تھی اس کے قائدین کو الطاف حسین عوام کی جانب منہ کرکے کھڑا کردیتا تھا کبھی کان پکڑوا کر جوتا اور کبھی اینٹ رکھوا دیتا تھا اس کا یہ دعویٰ تھا کہ ناپ آپ دیں بوری ہم دیں گے۔آج اس کی جماعت کے چار ٹکڑے ہوچکے ہیں اس کا نام لینے والا کوئی نہیں ۔ وہ زندہ ہے مگر جن حلقوں میں اس کا طوطی بولتا تھا کوئی ذکرکرنے کو تیار نہیں اس کی رہائشگاہ اور عالی شان میموریل ہال میں الو بول رہے ہیں چمگاڈروں کا بسیرہ ہے اگر ہمارے سیاستدان جاہل بھی ہیں تو چند سالہ تاریخ ان کے سامنے ہے اسے پڑھنے کی تو ضرورت نہیں ہے مولانا فضل الرحمٰن کو جب دو سیٹوں پر شکست ہوئی تو وہ اس قدر اقتدار واختیار کے غرور میں تھے کہ فرمانے لگے میں یوم آزادی نہیں مناﺅں گا اور پھر تین دن بعد ہی باقی جماعتوں نے بھی انھیں ٹھینگا دکھا دیا وہ تمام لوگ یوم آزادی کی تقریبات میں شریک بھی ہوئے۔ پارلیمنٹ میں آکر حلف اٹھایا اور انتخابات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان کو بنے 71سال ہوچکے مگر جو الیکشن ہارتا ہے وہ انتخابات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ سمجھ لینا ہے کہ ووٹ اسی کو دیا گیا ہے اگر کسی اور کوووٹ دیا گیا تو پھر نہ ووٹ کی عزت ہے نہ ووٹر کی عزت ہے اور نہ ہی ریاست کی عزت ہے یہ سطحی مفاد پرستی کی سوچ ہے جس کو دفن ہونا ہی ہے سیاستدانوں اور پارلیمنٹیرین کا یہ دعویٰ ہے کہ انھوں نے جو انتخابی اصلاحات کی ہیں اس کے مقابلے میں ساری دنیا میں اصلاحات نہیں ہوئیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو آزاد اور خود مختار بنا دیا ہے جب سیاستدانوں نے عرق ریزی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنا دیا ہے تو پھر اس کے فیصلے کیوں نہیں مانتے اس سے شبہ گزرتا ہے کہ ان سیاستدانوں نے الیکشن اصلاحات کی جو ترامیم کیں وہ صداقت اور منصفانہ، غیر جانبدارانہ انتخابات کے لئے نہیں تھیں بلکہ اپنی ذات اور اپنے مفادات کے لئے تھیں پانچ پانچ سال یہ پارلیمنٹیرین ایوانوں میں بیٹھتے ہیں سب کمیٹیاں بنتی ہیں اس کے الگ سے پیسے لئے جاتے ہیں ،ٹی اے ڈی اے لیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کا سماں ہوتا ہے اور کھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ عوام کو پینے کا صاف پانی،بچوں کی تعلیم،صحت کا مفت انتظام،بجلی اور گیس کی فراوانی نہیں کرسکتے صرف اپنی اولادوں اور نسلوں کو بیرونی ممالک کے ویزے، جائیدادیں دے سکے ہیں۔پاکستان میں سب سے زیادہ غریب اور لاہور کی سڑکوں پر جھاڑو دینے والا ایک شخص جو کبھی سر پر خاک ڈالتا تھا کبھی بوری کا لباس پہنتا تھا اسے وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔جے سالک آج کل امریکہ میں ہے وہ اپنے بچوں، بیوی،بھائیوں،بھتیجوں سب کے ویزے لگوا کر امریکہ میں نہ صرف مقیم ہوگیا ہے بلکہ اس نے تو پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر سے بھی بھیک مانگ کر گھر کا کرایہ،فرنیچر اور نہ جانے کیا کیا حاصل کر لیا تھا۔یہ حال اس رکن پارلیمنٹ کا ہے جو لاہور کی سڑکوں پر جھاڑو دیتا اردو اور انگریزی لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا امریکہ میں سارے خاندان کو سیٹل کروا چکا ہے تو جو سیاستدان پڑھے لکھے ہیں ان کے پاس مال و دولت بھی ہے انھوں نے کیا کچھ کمایا ہوگا اس کا اندازہ اسی ایک رکن پارلیمنٹ کے معاملات سے لگایا جاسکتا ہے۔جبکہ دوسری جانب میاں فیملی کے بچے جو 16سے20سال کی عمر کے تھے نہ صرف برطانیہ کی شہریت کے حامل ہیں بلکہ اربوں روپے کی پراپرٹی کے بھی مالک ہیں اس عمر میں تو پاکستانی بچوں کا شناختی کارڈ بھی رو رو کر بنتا ہے۔یہ بچے عدالت سے بلائے جانے سے قبل ہوائی اڈے پر جہاز کی سیڑھیوں سے وزیر اعظم ہاﺅس کی گاڑی میں بیٹھ کر وزیر اعظم ہاﺅس رہائش پذیر ہوتے تھے اور پھر اسی طرح وی وی آئی پی شاہانہ پروٹوکول سے جب چاہیں باہر چلے جاتے تھے پاکستان میں رہائش کے دوران وہ وزیراعظم ہاﺅس میں کھانا بھی قومی خزانے اور غریب کے ٹیکسوں سے ہی کھاتے تھے مگر جونہی بدعنوانی کا شکنجہ ان کے گرد تنگ ہونے لگا تو انھوں نے پاکستان کی شہریت سے بھی انکار کر دیا اور ملک سے باہر بھی بھاگ گئے انھیں اگر اقتدار نہ ملے تو پھر ملک میں جمہوریت بھی نہیں ہے ان انتخابات کے بعد یہ یقین ہوچلا ہے کہ رفتہ رفتہ ان سیاستدانوں کو اپنی روش تبدیل کرکے عوام کے فیصلے کو ماننا ہوگا جو شکست کھائے وہ پانچ سال انتظار کرے اور جسے لوگ منتخب کریں وہ حکومت کرے اگر وہ احسن طریقے پر حکومت نہ چلا سکا تو لوگ اسے مسترد کردیں گے۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved