تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (آخری قسط

 

ضیا شاہد
قارئین! یہ مختلف ابواب کے عنوانات ہیں۔ نواز شریف کی زندگی کو سمجھنے کے لئے یکطرفہ آئینہ کے طور پر اچھی کتاب سے اور اس کے صفحہ نمبر سات پر انتساب کبھی نہ بھولنے والا ہے لکھا ہے:
”آئین پاکستان کے نام پرجس کی حرمت بار بار پامال ہوتی رہی اس کے باوجود آج بھی آئین ،واحد امرت دھارا ہے جس پر سب صوبے سب پارٹیاں اور سب حلف اٹھانے والے متفق ہو سکتے ہیں۔
اور انتساب کی آخری سطر سے ملاحظہ کیجئے۔
کاش آئین کی حرمت کا لفظ مقدس روافیت بن جائے
قارئین محترم نوازشریف نے ٹھیک کہا آئین واقعی امرت دھارا ہے بس شرط یہ ہے کہ دو تہائی اکثریت آپ جمع کر سکیں مشورہ میثاق جمہوریت پر ہی کیوں نہ ہو جو ”تریاق جمہوریت“ بھی ہے۔ نوازشریف کے سیاسی گرو ضیاءالحق نے ٹھیک کہا تھا آئین تو کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے میں جب چاہوں پھاڑ سکتا ہوں اور سیاستدان تو کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے میرے پیچھے چلتے ہیں۔
قارئین کرام! نوازشریف کو ایسا ہی آئین چاہئے ایسی ہی اپوزیشن اور ردی کے کاغذ کے مانند آئین جسے جب چاہے وہ تبدیل کر سکے۔ آخری تبدیلی وہ پانچ ججوں کے جاری کردہ سارے فیصلوں کی واپسی بارے کرنا چاہتا ہے اور جیل میں بیٹھ کر بھی اسی بہار کی آمد کا منتظر ہے۔
کتاب غدار کون؟ نوازشریف کی کہانی ان کی زبانی مصنف سہیل وڑائچ ملنے کا پتاضیاءالقرآن پبلی کیشنز داتا دربار روڈ لاہور فیکس نمبر042-7238010الکریم مارکیٹ اُردو بازار 7220479-7247354 ۔14انفال سنٹر اُردو بازار کراچی
٭٭٭
ضمیمہ نمبر2
ایمانداری یا بددیانتی
میں نے جب سے ”میرا دوست نوازشریف“ کے موضوع پر کچھ لکھنا شروع کیا اس دوران متعدد بار پڑھنے والوں کے فون آئے۔ بعض لوگوں نے خطوط بھی لکھے کہ آپ اصل الزامات یعنی نوازشریف کی مالی بدعنوانی کے بارے میں کچھ نہیں لکھ رہے۔ میں جن دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں پارٹ ٹائم ”سبنگ“ پڑھاتا تھا تو ہم صحافتی قوانین کے بارے میں پہلی بار ہر طالب علم کو پڑھاتے تھے کہ آپ کسی بھی مسئلے پر رشوت ہو یا بددیانتی، مارکٹائی ہو یا تشدد اور قتل اس وقت تک قلم اٹھا سکتے ہو جب مقدمہ عدالت میں شروع نہیں ہو جاتا یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں بے اندازہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ فلاں قتل ہو گیا، ملزم پکڑے جانے تک ہر قسم کی قیاس آرائی ہو سکتی ہے اور گرفتاری ہو جائے تو بھی اظہار خیال جاری رہتا ہے لیکن جونہی ملزم جیوڈیشنل ریمانڈ پر چلا جاتا ہے یعنی پولیس کی تحویل کے اختتام پر ملزم جیل چلا جاتا ہے تو کائٹ فلائنگ ہو جاتی ہے کیونکہ پہلی پیشی کے ساتھ ہی مقدمہ عدالت میں چلا جاتا ہے اور صحافتی قوانین یہ کہتے ہیں کہ جب کیس کی عدالت میں سماعت شروع ہو جائے تو آپ صرف عدالت کی کارروائی ہی چھاپ سکتے ہیں اپنے طور پر کسی فریق کو مجرم یا معصوم نہیں کہہ سکتے۔ معلوم نہیں پاکستان میں اب قانون کی عملداری کیوں ختم ہو گئی ہے۔ مقدمات احتساب کورٹ ہوں یا سول کورٹ، چھوٹی عدالت ہو یا سپریم کورٹ یا قومی احتساب بیورو یعنی نیب، ہمارے اخبار ہوں یا ٹی وی چینلز کھلم کھلا اظہار خیال کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ میرے دوست نوازشریف پر سنگین الزامات تھے بعض الزامات کا فیصلہ ہو گیا اور اس کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے اعلان نے اقتدار سے ان کو الگ کر دیا لیکن مالی بدعنوانی کے مقدمات ابھی چل رہے ہیں اور اسی سلسلے میں اس کی گرفتاری بھی عمل میں آئی لہٰذا میں نے اس تمام عرصے میں کبھی تحریر میں یا ٹی وی پروگرام میں اسے مجرم نہیں لکھا یا بولا۔ بلکہ ملزم کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ابھی اس پر الزام ہے جس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں شاید بہت سی معلومات رکھنے کے باوجود مالی بدعنوانی کا کوئی معاملہ فی الحال زیر بحث نہیں لا سکتا۔ یہ میری اخلاقیات بھی ہے اور قانون کا احترام بھی لہٰذا مقدمات شروع ہیں حقائق سامنے آ رہے ہیں، روزانہ چھپ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بیان ہو رہے ہیں البتہ فائنل فیصلہ عدالت کو دینا ہے میں دخل در معقولات کیوں کروں اور عدالت کی توہین کا مرتکب کیوں ہوں۔
البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ سارا مسئلہ ہی مالی بدعنوانی کا ہے تاہم ہمیں انتظار کرنا چاہئے الزامات عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں اور ان پر بحث ہونی ہے بعض ضروری مواقع پر ملزم کو بھی پیش کیا جاتا ہے ورنہ اس کی طرف سے صفائی کے وکلا تو موجود ہوتے ہی ہیں۔بڑی سے بڑی بدعنوانی سامنے آ کر رہے گی لہٰذا تفصیلی فیصلہ آنے تک میں کوئی اظہار خیال نہیں کروں گا ہاں چند بنیادی اور اصولی معاملات کی جانب توجہ ضرور دلاﺅں گا۔ میں نے اپنے گھر نوازشریف سے اپنی آخری ملاقات کے بارے میں لکھا تھا کہ میں نے یہ کہا کہ آپ حلال اور حرام کے درمیان جو لکیر ہے اسے تسلیم نہیں کرتے میرا خیال ہے یہی بنیادی مسئلہ ہے۔ میں صرف چند نکات کی طرف اشارہ کروں گا۔
وزیراعلیٰ بننے کے فوراً بعد نوازشریف نے سرکاری رہائش گاہ ختم کر کے ذاتی گھر کو سرکاری گھر تسلیم کروایا۔ گویا اب اس کی تزئین و آرائش سے لے کر بجلی پانی گیس سکیورٹی سب بذمہ سرکار ہو گئے۔ سامنے والے گراسی پلاٹ میں کسی نقشے اور منظوری کے بغیر انتظار گاہ اور استقبالیہ کیمپ تعمیر کروا لئے گئے جس کے اخراجات حکومت کے ذمے تھے پھر جنگلوں کی بھرمار ہوئی اور اس علاقے کے لوگوں کے لئے مختص پارک سرکاری دفتر کا حصہ بن گیا۔ نوازشریف کے حامی کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب سرکاری اعتبار سے ضروری تھا۔ میں ان جاہلوں کی توجہ قوم کو انگلستان کے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ دس ڈاﺅننگ سٹریٹ کی طرف دلاتا ہوں۔ جس کی ایک طرف سڑک پر ناجائز کنسٹرکشن بھی نہیں ہوئی بلکہ لکڑی کا ایک لمبا کیبن برائے سکیورٹی آلات اور مشین نصب ہے، اینٹ سیمنٹ کے بغیر یہ ہارڈ بورڈ اور لکڑی کے شہتیروں پر مبنی ہے لیکن اس کی لمبائی چوڑائی زیادہ سے زیادہ آٹھ ضرب بارہ ہو گی۔
وزیراعظم انگلستان نے اپنے گھر کے سامنے کوئی تعمیرات نہیں کروائیں بہرحال نوازشریف کی بنائی ہوئی استقبالیہ عمارت اور سکیورٹی وغیرہ کو جو کہ ناجائز تعمیرات کی ذیل میں آتی تھی میاں منظور وٹو وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے بلڈوزروں سے اسے صاف کروا دیا البتہ اس کمی کو پوری کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان نے اپنی سرکاری رہائش گاہ جاتی امراءمیں ذاتی گھر کو قرار دیا اور سرکاری اخراجات پر کیا کچھ ہوا علیٰ ہذالقیاس کتنی سڑکیں کتنی لمبی گیس پائپ لائن کتنے سو بجلی کے کھمبے کتنے ٹرانسفارمر، پینے کے پانی کا کتنا انتظام ”بے چاری“ حکومت کو جاتی امراءکو سرکاری خرچے پر کیا کچھ نہیں کرنا پڑا۔
87-H ماڈل ٹاﺅن یعنی شہر میں نوازشریف کی رہائش گاہ جب تک رہی اس کے ساتھ والا پلاٹ جنگلہ لگا کر بند کر دیا گیا اور اس پلاٹ کا دروازہ نوازشریف کے گھر میں بغیر نقشہ منظور کروائے کھول دیا گیا تا کہ گھر کے بچے اس میں کرکٹ کھیل سکیں اس طرح یہ پلاٹ بھی عوام سے چھن گیا اور گھر کا صحن بھی بن گیا اور فیملی کے بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور فیملی سٹیڈیم بھی ۔
ایک اور مثال ملاحظہ کیجئے۔ منظور وٹو کی وزارت اعلیٰ میں سرکاری سکیورٹی چونکہ واپس لے لی گئی تھی اور ابھی نوازشریف جاتی امراءرائیونڈ منتقل نہیں ہوا تھا۔ ماڈل ٹاﺅن میں بقول ہمارے دوست منیر احمد بلوچ (کالم نگار اخبارات) دو ڈالے (فور ویلر ٹرک) ٹیوٹا راوی موٹر ٹھوکر نیاز بیگ سے فوری خریدے گئے تا کہ ان کے عقب میں چار چار کرسیاں ویلڈ کروا کے پرائیویٹ سکیورٹی گاڑیاں بنائی جا سکیں۔ ان پر کوئی نمبرپلیٹ گاڑی پر موجود نہ تھی چونکہ رجسٹریشن ہی نہیں کروائی گئی تھی۔ اکثر ”صاحب“ کو ایئرپورٹ چھوڑنے کے لئے سکیورٹی گاڑیاں ”صاحب“ کی گاڑی کے پیچھے جاتی تھیں تو واپسی پر کسی جگہ ٹریفک پولیس نے روک لیا کہ گاڑی کا نمبر کیوں نہیں۔ منیر احمد بلوچ اس وقت سکیورٹی کے عملہ سے واقف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک گاڑی پر 90 ہزار سے زائد ٹیکس بنتا تھا تب نمبر پلیٹ مل سکتی تھی۔ معلوم نہیں میرے دوست نوازشریف کو علم تھا یا نہیں لیکن نہیں تھا تو بھی ہونا چاہئے تھا کہ ان کے متعلقہ سکیورٹی والوں نے دیگر ملازموں کے موٹر سائیکلوں کے نمبر نئی نیم پلیٹس پر لکھوائے اور دونوں ڈالوں پر لگا دیئے۔ منیر احمد بلوچ کا دعویٰ ہے کہ میاں نوازشریف کو اس ”کارروائی“ کا علم تھا۔
دوسری بار وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد ایک خبر لاہور کے اخبارات میں شائع ہوئی چار یا پانچ فور ویل بڑی گاڑیوں (انٹرکولر ٹائپ) کو رجسٹرڈ نہیں کروایا گیا تھا مگر نوازشریف کے اپنے اور اہل خانہ کے استعمال میں رہیں ان پر بھی موٹر سائیکلوں کے نمبر لگائے گئے تھے کیونکہ ان دنوں ان بڑی گاڑیوں کو رجسٹر کروانے کی فیس فی گاڑی تین لاکھ روپے تھی۔ پندرہ لاکھ ایسے فضول کام پر خرچ کرنا تو یقینا بیکار تھا لہٰذا میرے دوست کے سکیورٹی پر مامور سرکاری ہو یا پرائیویٹ عملے نے اسی فارمولے پر عمل کیا۔ اس زمانے میں ”خبریں“ لاہور میں ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ نوازشریف کے زیر استعمال ایک بڑی گاڑی پر جو نمبر لگا ہے یہی ایک موٹر سائیکل پر بھی آویزاں ہے۔ یہ موٹر سائیکل جو کہ صفاں والا میں واقع ایک چھوٹی سی پھٹہ نما دکان کے مالک کی ہے جو مرغ ذبح کرنے کا کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ اور قیمتی گاڑیوں کی تعداد غالباً پانچ تھی۔ بعض اوقات اللہ اتنا نوازتا ہے کہ بندہ بھول ہی جاتا ہے کہ یہ پیسہ کہیں خرچ بھی کرنا ہے۔ اس دور میں میرے دفتر والوں نے بھی ایک بار زبردستی سفید رنگ کی پیجارو لے کر دی۔ مجھے ویسے بھی سیٹ پر بیٹھنے میں دقت ہوتی تھی لہٰذا میں نے اصرار کیا کہ مہربانی کر کے مجھے دوبارہ چھوٹی گاڑی لے دیں لیکن وائٹ پیجارو کی نمبر پلیٹ کے لئے میں نے خود تین لاکھ روپے کے چیک پر دستخط کئے ہے جو نمبر پلیٹ لینے کے لئے رجسٹریشن آفس جمع کروایا گیا تھا لیکن میں ایک مڈل کلاسیہ جرنلسٹ تھا۔ بڑے لوگ کہاں تین لاکھ فی گاڑی خرچ کرتے پھریں۔ انہیں کون مائی کا لعل پوچھ سکتا ہے کہ نمبر پلیٹ اصلی ہے یا کسی معمولی بندے کی موٹر سائیکل والی، اس فہرست میں بلکہ اس حمام میں اتنے لوگ ننگے ہیں کہ میرے پاس صرف نوازشریف کیا اس دور میں بھی آٹھ دس ایسے افراد کے نام تھے جو گاڑی خریدنے کے بعد کبھی سرکاری طور پر نمبر پلیٹ نہیں لیتے تھے اور جعلی نمبر پلیٹوں سے کام چلاتے تھے کوئٹہ اور طورخم سے سمگل کی جانے والی گاڑیاں تو اس زمانے میں بھی بلوچستان، چھوٹے شہروں سے لے کر میرپور آزاد کشمیر اور راولا کوٹ کے شہروں کی نمبر پلیٹ سے لاہور کراچی اور اسلام آباد میں عام چلتی ہوئی نظر آتی تھیں۔
میں نے صرف چند مثالیں دی ہیں ورنہ اس قسم کی معلومات پر تو میں 50,60 صفحے لکھ سکتا ہوں جس کا لب لباب یہ ہے کہ جب اختیار اور اقتدار اپنے پاس ہو یا آپ یہ سمجھتے ہوں کہ آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں تو پھر ڈائریکٹ کھمبے سے تار لے کر صرف جلسہ¿ عام میں ہی بجلی استعمال نہیں کی جاتی بلکہ جہاں بھی اس کی ضرورت ہو بلا تکلف تار کھینچ لی جاتی ہے۔
کاش میرا دوست نوازشریف جو ذاتی طور پر اتنی نمازی اور پرہیزگار فیملی سے تعلق رکھتا تھا پہلے صوبے اور پھر ملک میں دیانتداری سے جو ٹیکس بنتا ہے اسے ادا کرنے کی روش اپناتا تو آج اسے یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی کہ مجھے اتنی چھوٹی اور معمولی باتوں کا علم تک نہیں۔ جناب والا! یہ علم نہ ہونا بھی تو آپ کا قصور بنتا ہے۔ اگر ہر بڑی فیملی کے بچے اسی طرح اپنی جگہ پر کسی دوسرے کو بٹھا کر ڈگریوں پر ڈگریاں لیتے رہیں اور نقد معاوضہ طے کر کے پی ایچ ڈی بھی کر لیں تو پھر کسی کو کتاب میں غرق ہونے اور پڑھنے پڑھانے کی مشقت کی ضرورت کیونکر ہو، میرا دوست بہت اچھا آدمی تھا، اس کی فیملی بیک گراﺅنڈ انتہائی دینی تھی، معلوم نہیں یہ اتنی لوٹ مار اور غتربود کہاں سے اس کے دائیں بائیں پھیل گئی، میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ اللہ نے اس کے خاندان پر اتنی رحمت کی ہوئی تھی کاش پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز کی مثالیں نہ بیان کی جائیں بلکہ حکمرانوں کوبیوی سے گفتگو کرتے وقت بھی سرکاری چراغ بجھانے والی صفات بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved