تازہ تر ین

وزیراعظم ہاﺅس یونیورسٹی ، بلٹ پروف گاڑیاں نیلام ہونگی : وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب کے شروع میں سب سے پہلے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ احسن رشید و سلونی بخاری کی خدمات کبھی نہیں بھول سکتا۔ کارکنوں نے 22 سال تحریک و جہاد میں میرا ساتھ دیا۔ میں نے سیاست کو کبھی کیریئر نہیں بنایا۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں۔ تمام کارکنوں کو سلام و خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کارکنوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ کس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے مشکل معاشی حالات نہیں تھے۔ 10 سال پہلے 6 ہزار ارب کا قرضہ اب 28 ہزار ارب ہو گیا۔ مسائل، چیلنجز پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں، حل پر بات کروں گا۔ 10 سال میں جو قرضہ لیا گیا۔ تفصیلات قوم کے سامنے لائیں گے۔آج ہمیں قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ پی پی حکومت کے آخری سال کا بیرونی قرضہ 2 ارب ڈالر تھا۔ روپے کی قدر پر دباﺅ غیر ملکی قرضوں کی وجہ سے ہے۔ پاکستان میں 45 فیصد بچے ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔ پاکستان مقروض قوم بن چکا ہے۔ بچوں پر خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو صاف پانی اور روزگار فراہم نہیں کر پاتے۔ حکمرانی کرنے والوں کا رہن سہن آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں۔ پاکستان میں وزیراعظم کا ملازم 524 ہیں۔ وزیراعظم ہاﺅس 1100 کینال پر قائم ہے۔ وزیراعظم کیلئے 33 بلٹ پروف گاڑیوں سمیت 80 گاڑیاں ہیں۔ گورنر، چیف منسٹر ہاﺅسز کے کروڑوں کے اخراجات ہیں۔ وزیراعظم کیلئے طیارے اور ہیلی کاپٹر مختص ہیں۔ ڈی سیز اور کمشنرز بھی بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ قوم مقروض جبکہ صاحب اقتدار بادشاہوں کی طرح رہتے ہیں۔ پاکستان کی آدھی آبادی دو وقت کی روٹی سے محروم ہے۔ سوا 2 کروڑ بچے سکولوں میں پڑھنے سے محروم ہیں۔ بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو روزگار کیسے ملے گا۔ جب تک ہم سوچ نہیں بدلیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان 7 ویں نمبر پر ہے۔ مغربی جمہوریت میں جو اصول اپنائے گئے وہ بتاﺅں گا۔ غذائی قلت کی وجہ سے ہمارا ہر دوسرا بچہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ قانون کمزور کو طاقتور سے تحفظ دینے کے لئے ہوتا ہے۔ زیادہ دولت پر زیادہ ٹیکس کا نظام مغرب میں رائج ہے۔ مغرب میں جانوروں کے لئے بھی ہسپتال ہیں۔ ہمارے انسانوں کا حال مغرب کے جانوروں سے بدتر ہے۔ سیکرٹریز و سول انتظامیہ کے پاس بے پناہ مراعات ہیں۔ وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر 65 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ماضی میں حکمرانوں نے عوام کی بنیادی ضرورتوں کی فکر نہیں کی۔ حکمران قانون سے بالاتر نہیں اور جوابدہ بھی ہے۔ مغرب میں قانون کے مطابق اقتدار سے خود فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ عوام کو گھبرانا نہیں، بتانا چاہتاہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ حالات اس لئے برے ہیں کیونکہ ہم اصولوں پر نہیں چل رہے۔ آپ کو مسائل کا مقابلہ کر کے دکاﺅں گا، عوام میری ٹیم ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں رہائش اختیار نہیں کر رہا، ملٹری سیکرٹری کی رہائش گاہ میں ہوں، وہ بھی اس لئے کیونکہ مجھے کہا گیا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے ورنہ میں بنی گالہ میں آرام سے رہ سکتا تھا۔ ملٹری سیکرٹری کے 3 کمروں والے گھر میں رہوں گا۔ وزیراعظم کیلئے موجود گاڑیوں کی نیلامی کرینگے، اس کا پیسہ قومی خزانے میں جمع ہو گا۔ بطور وزیراعظم 524 میں سے 2 ملازم اور 2 گاڑیاں رکھوں گا، کوئی بھی گورنر، گورنر ہاﺅس میں نہیں رہے گا۔ ہمیں بیرون ممالک سے قرضہ لینے کی بری عادت ہو چکی ہے۔ گورنر و وزیراعلیٰ ہاﺅسز کفایت شعاری اختیار کریں گے۔ قرضوں کے ساتھ کوئی بھی ملک ترقی کا سفر طے نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ ترین یونیورسٹی بنائیں گے۔ پیسہ ان پر خرچ کریں گے جو معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ 20 کروڑ میں سے صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ امیر لوگ بڑی بڑی گاڑیاں رکھتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنا میری ترجیح ہو گی۔ اصلاحات کے بعد ٹیکس کے پیسے کی حفاظت خود کروں گا۔ عوام کو ملک کی غیرت کے لئے ٹیکس دینا ہو گا۔ غرباءکے مسائل حل کرنے ہیں۔ٹیکس ایسے دینا ہوگا جیسے اللہ کی راہ میں دے رہے ہیں۔ ہمارے خرچے زیادہ اور آمدنی کم ہے۔ پاکستان سے چوری ہوکر باہر جانے والاپیسہ واپس لانا ہوگا۔ہر سال پاکستان سے ایک ہزار ارب روپے چوری ہوکر باہر جاتا ہے۔ جس پارٹی کے لیڈر کا پیسہ ملک میں نہیں اسے کبھی ووٹ نہ دینا۔جس کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں وہ کیسے عوام کی حالت بہتر کرے گا۔ ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے توجہ دینا ہوگی۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل ہے ہماری مدد کریں۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کی بھرپور مدد کریں گے۔سرمایہ کاری کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے کی کوشش کرینگے۔ سرمایہ کاری کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرینگے۔ بیرون ملک پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں۔بیرون ملک پاکستانی 20عرب ڈالر بھیجتے ہیں۔بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی پوری مدد کریں گے۔تمام سفارتخانوں سے قید پاکستانیوں کی تفصیلات لیں گے۔اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کریں گے۔ اوور سیز پاکستانی اپنا پیسہ پاکستانی بینکوںمیں رکھوائیں گے۔کرپشن کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے۔ صاحب اقتدار کرپشن کرتے ہیں تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔ احتساب یقینی بنانے کیلئے چیئرمین نیب سے ملاقات کروں گا۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو 20سے 25فیصد انعام ملے گا۔ ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ کا خاتمہ کریں گے۔کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تویہ سب شور مچائیں گے۔ محکموں میں کرپشن مافیا بیٹھاہے۔جو کرپٹ نظام سے پیسہ بنارہاہے۔ تیار ہوجائیں کرپٹ مافیا شور مچائے گا، سڑکوں پر بھی آئے گا۔ اب یہ ملک بچے گا یا کرپٹ مافیا۔ عوام ساتھ دیں کرپٹ مافیا کا مقابلہ کرکے دکھاﺅں گا۔عدلیہ کے تعاون سے انصاف کا نظام بہتر کریں گے۔ چاہتے ہیںایسا نظام آئے، مقدمات میں ایک سال سے زیادہ تاخیر نہ ہو۔چیف جسٹس سے درخواست ہے کم ازکم بیواﺅں کے مقدمات جلدی حل کریں۔ایک خاتون نے اپنے خون سے خط لکھا میرے شوہر کو قتل کیا گیا۔خاتون نے بتایاکہ پولیس والے بری نظر رکھتے ہیں کیس میں تاخیر کرتے ہیں۔کمزور طبقے کے ساتھ ظلم ہورہاہے اسے ختم کرنا ہے۔یہ میرا عزم ہے۔ کے پی پولیس میں تبدیلی آئی۔ اس پر بہت خوشی ہے۔ کے پی میں پولیس پر لوگوں کا اعتماد ہماری جیت کی وجہ بنا۔ناصر درانی کو مشیر بنائیں گے وہ پنجاب میں پولیس کو ٹھیک کریں گے ، وہ پنجاب پولیس کی اصلاح کرنے کیلئے مان گئے ہیں۔جیلوں میں موجود غریب قیدیوں کی معاونت کریں گے۔پانی کی قلت دور کرنے کیلئے منسٹری بنارہے ہیں، بھاشا ڈیم ناگریز ہوگیا ہے۔ کسانوں کو پیداوار بڑھانے کیلئے وسائل فراہم کرینگے۔چاہتا ہوں مدرسے سے پڑھ کر نکلنے والا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ سرکاری افسران کو چاہیئے عام آدمی کوعزت دیں۔ساڑھے5لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس کادائرہ کار ملک بھر میں پھیلائیں گے۔ چیف جسٹس نے ڈیمز بنانے کیلئے زبردست اقدام کیا ہے۔ عام آدمی کی مدد کیلئے رائٹ ٹو سروس ایکٹ لائیں گے۔پانی کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال ہے۔کراچی،کوئٹہ اور اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں پانی نہیں، سندھ سمیت ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کا معیار بہتر کرینگے۔ کے پی میں سرکاری ہسپتالوں کو مزید ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری سال میں کے پی میں سرکاری ہسپتالوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ مدارس میں پڑھنے والے 24لاکھ بچوں کو پیشہ ور تعلیم دینگے۔انکو نہیں بھولیں گے۔ نجی سکولز سرکاری سکولز میں ڈبل شفٹ کلاسز لے سکتے ہیں۔سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔ سرکاری سکولوں میں بہتر تعلیم نہیں مل رہی۔پرائیویٹ سکولز میں پڑھانے کیلئے تنخواہ دار طبقہ قربانی دے رہاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 5سال میں 50لاکھ مکان فراہم کرنا بڑا چیلنج ہے۔ بلدیاتی نظام میں اصلاحات کریں گے۔اب ہم ڈسٹرکٹ ناظم کا الیکشن براہ راست کروائیں گے۔جنوبی پنجاب کو بالکل صوبہ بنائیں گے۔کراچی کے حالات ایسے نہیں ہونگے تو ملک کے معاشی حالات ایسے نہیں ہونگے۔کوشش کرینگے فاٹاکو جلد سے جلد کے پی میں ضم کریں۔سٹریٹ چلڈرن ہماری ذمہ داری ہے یہ بچے ہمارے ہیں۔کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے سندھ حکومت سے تعاون کریں گے۔کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سندھ پولیس کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اقتدار میں رہتے ہوئے کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرونگا۔ وزارت داخلہ فی الحال اپنے پاس رکھ رہاہوں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved