تازہ تر ین

ایسا پاکستانی جس نے لندن کا مشہور ترین ہوٹل 10ارب ڈالر میں خرید لیا

لندن (ویب ڈیسک) معروف و نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیںکہ یہ تو نیب کی انکوائری کے بعدپتہ چلے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ سینٹرل لندن کا یہ ہوٹل اور کلب‘ پاکستان کی جس بڑی شخصیت نے خریداہے‘ اس کے بارے سننے میں آ یا کہ وہ ایک بہت بڑی صنعتی اور تجارتی شخصیت ہے‘ جسے ایک اہم ترین سیا سی شخصیت کے قریب ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور انہوں نے اسسیاسی شخصیت کے لیے سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کوSavills Gerard Nolanاینڈ پارٹنرز‘ برطانیہ کی پراپرٹی کمپنی کے ذریعے خریداہے۔ یادر ہے کہ جیسے ہی اس ہوٹل کی خریداری ہوئی‘ تو اس وقت بھی میں نے‘ ایک قومی اخبار میں اپنے ایک کالم میں اس کی خریداری کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا تھاکہ سات‘ آٹھ پارک پیلس ‘سینٹرل لندن میں واقع اس ہوٹل کی کل قیمت 60 ملین پاﺅنڈز ہے‘جو اس وقت کی یورپی یونین کی کرنسی کے مطا بق70 ملین یورو بنتی ہے۔یہ رقم پاکستان کی ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت کی جانب سے ادا کی گئی اور اس میں وہ رقم شامل نہیں‘ جو یہ سودا کروانے والی کمپنیوں کو بطورِ کمیشن اور حکومت ِبرطانیہ کو ادا کئے جانے والے ٹیکسوں کی صورت میں سینٹ جیمز ہوٹل اور کلب کو 2008ئ میں دوبارہ کھولا گیااور دو سال تک اس پر کام ہوتا رہا‘ تاکہ اس کو ایک بار پھر نئے سرے سے تیار کیا جائے۔واضح رہے کہ یہ ہوٹل بکنگھم پیلس ‘ مے فیئر‘ پکا ڈلی اور گرین پارک کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ابتدا میں اس ہوٹل کو خریدنے کی ڈیل کو خفیہ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی‘ لیکن لندن کی تاریخ کے اہم ترین معاملات کی طرح یہ سودا ہی ایسا تھا کہ برطانیہ بھر کی رئیل اسٹیٹ میں اس نے ایک ہلچل سی مچا دی۔ لوگ حیران ہو ئے کہ اس قدر بھاری قیمت پر یہ ہوٹل خریدنے والا کون ہو سکتا ہے؟ لندن کی پراپرٹی مارکیٹ سے متعلقہ لوگ سمجھتے رہے کہ لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ کا کوئی نو دولتی ہے‘ لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے کہاس خریدار نے کبھی بھی کچی گولیاںنہیں کھیلیں اور یہ سچائی اب اس ہوٹل کی مارکیٹ ویلیو خود ہی بتا رہی ہے اور یہ ہوٹل بیچنے والی کمپنی ‘جس کا دفتر 122 وگمور سٹریٹ لندن میں واقع ہے ‘کے علا وہ یو کے پراپرٹی کمپنی کے دفتر میں سجائی گئی فائلیں تصدیق کر رہی ہیں کہ ا?ج اس کی قیمت کس قدر بڑھ چکی ہے۔جب یہ ہوٹل بیچا گیا ‘تو اس کےمینیجنگ ڈائریکٹرHenrik Muehle نے اس وقت کہا تھا کہ یہ ہوٹل متعلقہ سرمایہ کار گروپ کیلئےTroph asset ثابت ہو گا۔ اس ہوٹل کے فرنٹ کا ایک منظر تو بہت ہی پیارا ہے۔ ایک پرانے درخت کی سوکھی ہوئی ایک نہیں ‘بلکہ ارد گرد لٹکتی ہوئی کوئی 12 کے قریب ٹنڈ منڈ اور خشک شاخیں ‘اس کے چند کمروں کی کھڑکیوں کی جانب بڑھتی ہوئی عجب نظارہ پیش کرتی ہیں۔ لندن میں رہتے ہوئے‘ میراوہاں سے جب بھی گزر ہوتااور میں جب بھی وہ منظر دیکھتا‘ تو مجھے وہ بہت بھلا لگتا۔امید ہے کہ وہ منظر اب بھی ویسا ہی ہو گا۔ساٹھ ملین پاﺅنڈز میں خریدے جانے والے اس ہوٹل کو‘ اگر آج کے پاکستانی روپے کے حساب سے دیکھا جائے ‘تو یہ رقم تقر یباً 10 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔ اب اگر آج سے دس سال قبل پاکستان کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات کو سامنے رکھیں ‘تو باسانی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی مارکیٹ میں موجود اسقدر بھاری رقم کی بیرون ملک خریداری کرنے والے بہت ہی کم لوگ تھے اور اس قدر بیرونی انویسٹمنٹ کوئی بہت بڑا کاروباری شخص اکیلانہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہجیسے ہی یہ خبر باہر نکلی‘ تو یہی ایک چیز ذہنوں میں بہت سے سوالات اٹھانے لگی کہ اس پردے کے پیچھے پاکستان کی طاقتور شخصیت کون ہو سکتی ہے؟ کیونکہ بہت سے با خبر لوگوں کا شک پرائیویٹائزیشن کمیشن کی مہربانیوں کی جانب بھی اٹھنے لگا تھا کہکہیں یہ سب کچھ اس کی مرہون منت تو نہیں ؟ ساٹھ ملین پاﺅنڈ کوئی معمولی رقم نہیں‘ کیو نکہ اگر اس رقم کو ڈالرز کے حساب سے دیکھا جائے ‘توخریداری کے وقت جو کاغذات تیار کئے گئے تھے‘ ان کے مطابق یہ کروڑوں ڈالر بنتے ہیں۔صرف اتنا ذہن نشین کر لیں کہ پاکستانی شخصیت کی جانب سے سینٹ جیمز اینڈ کلب ہوٹل کا ایک کمرہ10 لاکھ پاﺅنڈز میں خریدا گیا تھا اور اس ہوٹل کے کمروں کی کل تعداد60 سے کچھ زیا دہ ہے۔کمروں کی حتمی تعداد تو ساٹھ ہے‘ لیکن بتایا جاتا ہے کہ کچھ اضافی لگڑری اپارٹمنٹس بھی اس میں شامل ہیں۔سات اور ا?ٹھ پارک پیلس پر واقع سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کی دیکھ بھال کا انتظامAlthoff Hotels کی انتظامیہ کے پاس تھا ‘جو اسے بہت ہی خوش اسلوبی سے چلا رہی تھی۔یہ ہوٹل اپنی انتظامیہ اور ہوٹل کی اندرونی اور بیرونی دیکھ بھال کی وجہ سے ظاہری طور پر بھی بہت خوبصورت نظر آتا ہے۔فائیو سٹار ہوٹل جووکٹورین ٹاﺅن ہاﺅسز کی طرز تعمیر کے ساتھ اس اضافی خصوصیت کا بھی حامل ہے کہ یہ کسی گزر گاہ پر نہیں‘ بلکہ سینٹ جیمز سٹریٹ پر واقع ‘ اس ہوٹل کی عمارت آخری سرے پر ہے اور آگے کی جانب گزرنے کیلئے کوئی اور راستہ نہیں اور یہ اپنے بلاک کے آخر پر واقع ہونے کی وجہ سے بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کی روانی سے محفوظ ہے اور یہ ایک اضافی خوبی سمجھی جاتی ہے ‘جو دنیا بھر کے سیا حوں اور کاروباری شخصیات کواپنی جانب مائل کرتی ہے۔ پاکستان کی اس کاروباری شخصیت کی اس ہوٹل کی خریداری میں دلچسپی اس وقت اور بھی بڑھ گئی‘ جب اسے معلوم ہوا کہ یہFreehold پراپرٹی ہے‘ جس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں‘ جنہیں لندن میں گھر بار یا کوئی بھی عمارت خریدنے کا کبھی اتفاق ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ہوٹل کی خریداری کے معاہدے پر تمام قانونی دستاویزات کیتکمیل کے بعد savills Hotels کے چیف ایگزیکٹو فلپ جانسن نے کہاکہ لندن اپنی شاندار روایات اور مضبوط مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہی بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا سبب رہا ہے اور اس ہوٹل کی فی کمرہ کے حساب سے ادا کی جانے والیرقم نے بے شک پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کو چونکا کر رکھ دیا تھا۔خیریاد رہے کہ جیسے ہی سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کی خریداری کی خبر سامنے آئی ‘تو لوگ فلپ جانسن اور اس کی کمپنی ” سیولز ہوٹلز“ کو اس کی بہترین ڈیل پر مبارکبادیں دینے لگے ‘کیونکہ ان سب کیلئے اس ہوٹل کی اس قدر بھاری پیشکش کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی تھی؟ وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے ستمبر 2009 میں اسی کمپنیsavills and gerard Nolan نےStafford Hotelکوصرف7 لاکھ40 ہزار پاﺅنڈز میں بیچا گیا تھا اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لوگ حیران ہو رہے تھے کہ یہ خریدار تیل پیدا کرنے والے کسی ملک کا نہیں‘ بلکہ کسی غریب ایشیائی ملک سے تعلق رکھتاہے۔لندن کے مذکورہ ہوٹل کی خریداری کیلئے تو نیب نے معروف کاروباری شخصیت کو طلب کر لیا ہے‘لیکن چیئر مین نیب سے گزارش ہے کہ آئس لینڈ کی سب سے بڑی چین ” ہیگ کاپ گروپ“ کو کس پاکستانی نے خریدا اور خریدنے کے بعد سب سے پہلے اس میں کام کرنے والے تمام پاکستانیوں کو نکال باہر کیا۔یہ اربوں ڈالر کہاں سے آئے؟ اس بارے میں بھی تحقیق کرنا از حد ضروری ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved