تازہ تر ین

نقش امید

عطا محمد خان….خصوصی مضمون
انسانی ذہن سکھ، دکھ، خوشی ،غم ،آس، نراس،تحیّرو تجسس،حسرت وامید، فراق وصال، اداسی و جوش،شاد مانی و کامرانی وغیرہ جتنی بھی کیفیات سے گزرتا ہے آزاد فضائیں اسے کہیں نہ کہیں،کسی نہ کسی صورت میںزبان عطا کرتیں ہیں، وہ آزاد فضائیں جن کے لئے ہم نے قیام پاکستان کے وقت دس لاکھ مسلمانوں کی جانوں کی قربانیاں دیں،نوے ہزار خواتین کو اغوا ہونا پڑا۔میرے خیال مےں پاکستان کی عظمت، شہدا کی یادوں کے مہکتے پھولوں سے عبارت ہے۔ یہ جو برصغیر پاک و ہند کا خطہ ہے اسے ایک طرف تو جہاں بدی نے کشمکش میں مبتلا رکھا وہاں دوسری طرف مردِ مومن اس خطے کو خصوصاًجبکہ پورے عالم کو عموماًشائستہ اور مہذب بنانے میں سرگرداں رہا ہے۔6ستمبر کو ہونے والی تقاریب ہمارے زندہ¿ جاوید قوم ہونے کا پتہ دیتی ہیں، جس طرح ہم نے اپنے شہدا اور غازیوں کویاد کیا ہے وہ قابل تعریف ہے، شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہمیں اپنے ان ادیبوں ،شاعروں ،صحافیوں اور گلوکاروں کی خدمات کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے اپنی تحریروں اور سریلی آوازوں کے ساتھ اپنے جوانوں کے عزم کو بلند رکھا ،انہیں اپنے وطن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے دینے کی ترغیب دی۔ مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ اس گلوکاروں کے فن کے نکھار میں کہیں نہ کہیں لاہور آرٹس کونسل الحمرا کے پلیٹ فارم کا بھی عمل دخل رہا ہے کیونکہ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نام فیض حا صل کر چکے ہیںاور یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے بلکہ اب تو اس کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی ہے ۔
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے ایک مجاہد سپاہی مقبول حسین غازی کی زندگی پر ڈرامہ بنانے کا ٹاسک بھی لاہور آرٹس کونسل الحمرا کو سونپا ہے جسے چیئرمین الحمرا توقیر ناصر اپنی نگرانی میں تیار کروا رہے ہیں۔یہ ڈرامہ الحمرا آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر پیش کیا جائے گاجو ایک تاریخی واقعہ ہوگا۔موجودہ حکومت میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہہ رہاہوں کہ اب ملک کی ترقی و خوشحالی کی تحریک میں ایک نیا جوش اور ولولہ دیکھا جا سکتا ہے ،یہ تحریک موجودہ حکومت میں نہایت فعال اور نان کمپرومائزنگ محسوس ہورہی ہے،اس کی وجہ پاکستان میں سیاسی شعور کی آنے والی وہ لہر ہے جس سے حالات ایک نیا رخ اختیا ر کرتے نظر آرہے ہیں،میں یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم اپنے ہاں صرف اخلاقی گراوٹ پر قابو پا لیں توہم دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں ،سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے عظیم قوم بننا نہیں ہے بلکہ ہم عظیم قوم تو پہلے ہی ہیں ، ہماری ثقافت ، اقدار و شناخت میں عظمت کی علامات پہلے سے موجود ہیں ،البتہ ہم نے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے ،یقینا آج ملک و قوم کو مختلف نوعیت کے مسائل درپیش ہیںمگر یہ بات قابل اطمینان ہے کہ قوم جمہوری حکومت کی سرکردگی میں ان مسائل سے نمٹنے کے لئے پر عزم ہے۔موجودہ سیٹ اپ میں ثابت قدمی ،مستقل مزاجی ،صبر اور مسلسل جدوجہد کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں ،ایسی صورت حال میں حالات چاہے کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوںیہ ہمارے حوصلوں کو متزلزل نہیں کر سکتے ۔میں نئی نسل کو یہ یاددہانی بھی کروانا اپنا فرض سمجھتاہوں کہ آج ہمیں ان عظیم مقاصد کو یاد کرنا ہے جن کے لئے یہ وطن عزیز معرض وجود میں آیا۔ہم بھی یہاں براہ راست لاہور آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر اپنے مستقبل کے معماروں کو اپنی ادب و ثقافت کی تعلیم کے ذریعے تیار کر رہے ہیں، انہیں معاشرتی و سماجی ترقی کے لئے جستجو کرنے کا درس دے رہے ہیں ،ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر اپنے ان سپوتوں ، ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کی قربانیوں کو اپنے ذہنوں میں رکھتے ہوئے اپنی وطن کی سلامتی و سربلندی کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیا رہنا چاہیے۔ راقم بھی اس مقدس قافلے (پاک فوج) کا حصہ بننے کے عزم کے ساتھ جوانی چڑھا تھا اور پھر قدرت نے اس نیک عزم کو قبولیت بخشی۔آج جب میں اپنے ماضی میں غوطہ لگاتا ہوں تو جہاں تک میری آنکھ دیکھ سکتی ہے میں خود کو دشمن کے ساتھ پنجاآزمائی کرتے دیکھتا ہوں۔
ےہ غازی ےہ تےرے پُر اَسرار بندے
جنہےں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نےم ان کی ٹھوکر سے صحرا و درےا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہےبت سے رائی
چھ ستمبر1965 کے آفتاب کی ابتدائی کرنوں کے ساتھ ہم ظلم اور وحشت کے اس طوفان کی ہولناکےاں دےکھ رہے تھے جو رات کے پچھلے پہر پاکستان کی سرحدوں مےں داخل ہوا تھا۔پاکستان کے دس کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کے درمےان صرف چند مےل کا فاصلہ رہ گےا تھا۔ اور پھر ےہ چند مےل کا فاصلہ ملت پاک کے حوصلوں کی آماجگاہ بن گےا۔ غازےانِ ملت اس طوفان کے سامنے آ ہنی چٹانےں بن کر کھڑے ہو گئے اور پھر زمانے کی نگاہےں ان کے عزم و ےقےن کی روشنی مےں قدرت کے معجزے دےکھنے لگےں۔
6ستمبر کے دن وطن عزےز کے جےالوں نے سرخ آندھی مےں لہو کے چراغ جلائے تھے ۔53برس قبل ےہ تند و تےز آندھی ہم سے زندگی کی روشنی چھےننے کے لئے اٹھی تھی لےکن روشنی کے متوالوں کو زندگی کی ےہ تارےکی قبول نہ تھی۔ وہ اندھےروں کا راستہ روکنے کے لئے سر پر کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور ساری قوم پکار اٹھی کہ:
اے وطن تونے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تےرے بےٹے تےرے جانباز چلے آتے ہےں
مےں ان جےالے کفن بردوشوں کو آج بھی دےکھ رہا ہوں جو قطار اندر قطار آگ اور خون مےں ڈوبی ہوئی سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہےں۔ ان کے چہروں پر سرخی ہے، ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے اور سےنے مےں جذبہ¿ شہادت موجزن ہے۔ وہ موت سے ہمکنار ہونے کی آرزو لے کر نکلے ہےں اور آزادی و جان سپاری کا پھر ےرا لےے چل رہے ہےں۔ ان کی راہوں مےں جو بھی آتا ہے مٹ جاتا ہے ان کے عزم سے جو بھی ٹکراتا ہے گر جاتا ہے۔ وہ دےوانہ وار تھے، آگے بڑھ رہے ہےں اور اب وہ موت کے تمام خدشات اور زندگی کی چاہتوں کو پےچھے چھوڑ گئے ہےں کےونکہ اسلام کے اےک سپاہی کا مطلوب و مقصود کفرو باطل کے بتوں کو توڑنا اور حق کی شہادت دےنا ہے۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنےمت نہ کشور کشائی
اپنے گردوپےش پر نظر ڈالےں توہمےں صدےوں کی گہرائی اور تارےکی سے ےہ آواز سنائی دے گی کہ۔۔۔اے پاک سر زمےن کے باشندو!6ستمبر کے دن جی بھر کو خوشےاںمناﺅ لےکن ےہ نہ بھولو کہ تمہےں اےک اےسے دشمن سے واسطہ پڑ رہا ہے جسے اےک ناکامی ےا اےک شکست راہ راست پر نہےں لا سکتی۔ اسے زندگی کی راحتےں صرف اس وقت حاصل ہوتی ہےں جبکہ وہ بے خبری کی حالت مےں کسی کمزور کا گلا دبوچ لےتا ہے۔ وہ برسوں اور صدےوں تک اس وقت کا انتظار کرے گا جب تم اپنے حال اور مستقبل سے خدانخواستہ غافل ہو جاﺅ گے۔ وہ ضرورت اور حالات کے مطابق اپنے چہرے کے نقاب بدلے گا لےکن اس کے عزائم مےں تبدےلی نہےں آئے گی۔ جب تم اےنٹ کے جواب مےں پتھر اٹھا سکو گے تو وہ تمہےں صلح، امن اور عدم تشدد کی دل کش راگنی سے مسحور کرنے کی کوشش کرے گا اور جب تم سو جاﺅ گے تو اچانک ےہ دےکھو گے کہ اس کا خنجر تمہاری شہ رگ پر ہے۔ ےہ کبھی نہ بھولو کہ بھارت کی برہمنی سےاست کا اصلی نصب العےن پاکستان کو تباہ کرنا ہے اور بھارت کی بے پناہ جنگی تےارےاں صرف تمہارے خلاف ہےں۔ پاکستان کے باشندو!جاگتے رہو اور قدرت نے تمہےں سنبھلنے کا جو موقع دےا ہے اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔ ہم سب کواللہ تعالیٰ کی بارگاہ مےں سربسجود ہو کر دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمےں بصےرت دے اور ہمارے اسلاف کی سی قوت اور طاقت دے کہ ہم اپنے لےے سلامتی کا راستہ پہچان سکےں۔
دل مرد مومن مےں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ¿ لاتذر مےں
عزائم کو سےنوں مےں بےدار کر دے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے
(کالم نگار صوبہ پنجاب کے سےکرٹری وےمنز
ڈوےلپمنٹ ڈےپارٹمنٹ اورممتاز شاعرہےں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved