تازہ تر ین

بھارت میں ہم جنس پرستی جائز قرار

طارق سردار فرخ….سنہرے خواب
کالج کیفے میں چائے کے ٹیبل پر بیٹھی تانیہ انتہائی غصے میں روئے چلی جارہی تھی ، اس کے ساتھ بیٹھی دو لڑکیاں اور ایک لڑکا اسے دلاسہ دینے کی کوشش کررہے تھے ، کلاس شروع ہونے سے پہلے کالج کے کیفے سے چائے یا کافی لینا مجھ سمیت دوسرے طالبعلموں کا بھی معمول تھا، میں جیسے ہی کافی کاو¿نٹر سے اپنی چائے لے کر ہال وے کی طرف بڑھا تو میری نظر تانیہ اور اس کے دوستوں پر پڑی، میں نے پاس جاکر حیرانگی سے سب کی طرف دیکھا اور ہمت کرکے تانیہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے….؟ اس نے اپنے سامنے کھلا ہوا ایک اخبار ”میٹرو“ کا صفحہ میری طرف اچھال دیا۔
اخبار نے اپنے پورے صفحہ پر ایک دن پہلے ٹورنٹو کی چرچ سٹریٹ پر ہونے والی ہم جنس پرستوں کی پریڈ میں شامل افراد کی رنگین تصاویر مختلف گروپس میں شائع کی تھیںاور ایک گروپ میں تانیہ کا بوائے فرینڈ جارج بھی دوسرے شرکا کے ساتھ وکٹری کا نشان بنائے کھڑا تھا۔ تانیہ ٹشو پیپر سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اسے پہلے ہی جارج کی حرکتوں پر شک تھا۔ میں نے اپنی دیسی انگریزی میں تانیہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ پہلے جارج سے پوچھ لے، تانیہ نے اپنی سوجی ہوئی آنکھوں کی پلکیں اٹھاکر میری طرف دیکھا اور کہا ” طارق اب کوئی فائدہ نہیں ، یہ تصویر میٹرومیں چھپی ہے ، میری فیملی والے کیا سوچ رہے ہوںگے “۔
روزنامہ ” میٹرو“ کینیڈا کی ریجنل میونسپلٹی جی ٹی اے سے بڑی تعداد میں چھپنے والا اخبار ہے ، جو ٹرینوں، بسوں ، ہوائی اڈے اور اس ریجن کی کافی شاپس کے علاوہ ٹرانزٹ ٹرمینلز پر مفت تقسیم کیا جاتا ہے، درجنوں شاپنگ مالز میں بھی اس فری اخبار کے کاو¿نٹرز موجود ہیں، تانیہ پریشان تھی کہ اس کے ملنے جلنے والوں نے اگر جارج کی تصویر دیکھ لی تو نہ جانے کیا ہوگا۔یہ آج سے اٹھارہ انیس سال پہلے کا وہ زمانہ تھا جب ہم جنس پرستوں کی مہم کے باوجود کینیڈا میں ابھی ان رشتوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا، سرکاری سطح پر اس مہم کی حوصلہ شکنی جاری تھی کہ چرچ کے ایک پادری نے 14جنوری 2001کو دو ہم جنس مردوں کی شادی کروادی جسے بعدازاں حکومت کو تسلیم کرنا پڑا اور یوں کینیڈا دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے ” گے میرج“ کو قانونی حیثیت دے کر رجسٹرڈ کرلیا ، حالانکہ نیوزی لینڈ اور بلجی¿م نے ایسی شادیوں کے بارے میں کینیڈا سے پہلے قانون سازی کر لی تھی۔
ادھر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اب ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دیدیا ہے۔ بھارت میں ہم جنس پرست طبقے اور ان کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے کافی عرصے سے مہم چلائی جارہی تھی اور انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کررکھی تھیں، بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی ثقافت اور رہن سہن کا جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ممالک پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اب بھارت میں ہم جنس پرستی جائز قرار پانے سے اس کے اثرات ہمسایہ ممالک کے معاشرے پر اثر انداز ہونے کا خدشہ بہر حال موجود ہے ۔ یہ وہی بھارت تھا جہاں اس آئین کی دفعہ 377کے تحت مردوں پر ہم جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی سزا دس سال قید بامشقت رکھی گئی تھی اور اس عمل کو فطرت کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس فیصلے کے حق میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے تحت ہر شہری کو شخصی آزادی دی گئی ہے اور ہم جنس پرستوں کے عمل کا تعلق اسی شخصی آزادی سے ہے ، انہوں نے آئین میں رکھی گئی دفعات کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ہم جنس پرستی کرنیوالوں کو بھی دوسرے شہریوں کے مساوی حقوق دینے کی بات کی۔
دوسری طرف اگر دیکھیں تو بھارتی معاشرہ شاید ایسی آزادی کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنے کو تیار نہ ہو اور آنے والے دنوں میں مذہبی بنیاد پرست اور شخصی آزادی کے علمبردار ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوں، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ ان کے آرڈرز کی نقول بھارت کے تمام پولیس تھانوں اور چوکیوں میں بھجوائی جائیں تاکہ وہ ہم جنسی میں ملوث افراد کے خلاف آئندہ کوئی کارروائی نہ کریں۔
اس فیصلے کے بعد مودی بھی کشمکش کا شکار نظر آتا ہے جس نے پہلے ہی یہ کہہ دیاتھا کہ وہ سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی کوئی اپیل نہیں کرے گا، لیکن حکومت نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کی مخالفت نہ کرنے کا مطلب ہم جنس پرستی کی حمایت نہ سمجھا جائے ، یوں لگتا ہے جیسے حکومت بھی کسی دباو¿ کا شکار ہے اور وہ معاشرتی طور پر ہم جنسی کی مخالفت کے باوجود عدالت میں اس کے خلاف اپیل کرنے سے ڈرتی ہے ، نریندر مودی جیسا چالاک وزیراعظم ایک تیر سے دو شکار کھیلنا چاہتا ہے ۔
عدالتی فیصلے کی روشنی میں جہاں دو مردوں کو ایک دوسرے سے جنسی تعلقات رکھنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں کوئی دو عورتیں بھی آپس میں ایسے ہی تعلقات رکھ سکتی ہیں، ایسا چال چلن پھیلا تو اس کے اثرات جوکہ یقینا مضر ہی ہوںگے انہیں سرحد پار تک پھیلنے سے روکنا مشکل ہو جائے گا، سارک ممالک تو پہلے ہی بھارتی ثقافت سے حد درجہ متاثر نظر آتے ہیں ، پاکستان میں بھی اس کلچر کے جراثیم تیزی سے سرایت کرتے جارہے ہیں، بھارت یقینا پہلا ملک نہیں ہے جو اس دلدل میں پھنس رہا ہے ، جیسے ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ نیوزی لینڈ (ہالینڈ) بلجی¿م اور کینیڈا کے علاوہ سپین، ساو¿تھ افریقہ ، ناروے، سویڈن، آئس لینڈ، پرتگال، ارجنٹائن ، ڈنمارک، نیوزی لینڈ، فرانس ، برازیل ، انگلینڈ ، سکاٹ لینڈ ، لکسمبرگ، فن لینڈ، آئرلینڈ، امریکہ، گرین لینڈ، کولمبیا، جرمنی ، آسٹریلیااور مالٹا جیسے ممالک پہلے ہی ہم جنسی تعلقات کو تسلیم کر چکے ہیںِ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ کئی بار سر اٹھا چکا ہے لیکن شاید ہماری دینی اور اخلاقی قدریں ابھی زندہ ہیں جن کی وجہ سے یہ معاملہ دبا ہوا ہے اور آگے بھی دبا ہی رہے تو اچھا ہے۔
جہاں تک آئین میں دی گئی شخصی آزادی کی بات ہے وہ ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے لیکن کسی بھی آزادی کی ایک حد ہوتی ہے جسے عبور کرنے سے کسی دوسرے کی آزادی متاثر ہوسکتی ہے ، ایک چھوٹے سے طبقے یا گروہ کی آزادی کے لئے آپ پورے ملک کے شہریوں کی اجتماعی آزادی کو کس طرح داو¿ پر لگا سکتے ہیں، جو اپنے دین ، مذہب اور عقیدے کی روشنی میں پوری آزادی کے ساتھ ایک پرامن ماحول میں اس پر عمل پیرا رہنا چاہتے ہیں ، اس پر مزید بحث کی گنجائش بلاشبہ موجود ہے ۔
(کالم نگار‘ میڈیا ریسرچ سکالر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved