تازہ تر ین

نظریہ ضروری ہے یا ملک؟

اسرار ایوب….قوسِ قزح
یہ بات کسی اور سے نہیں بلکہ ڈاکٹر عارف علوی سے سنی جو اب صدرِپاکستان بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ بائیبل(بُک آف ایگزوڈس) کے مطابق حضرت موسی ؑ نے صحرائے سینا میں دیکھا کہ ایک جھاڑی جل تو نہیں رہی لیکن اس میں سے آگ نکل رہی ہے، وہیں خدا ان سے ہمکلام ہوااورانہیں بنی اسرائیل تک یہ پیغام پہنچانے کا حکم دیا کہ خدا نے ان کی فریاد سن لی ہے۔ جس جگہ یہ جھاڑی تھی وہاں سینٹ کیتھرین نے ایک چرچ بنا دیا، یہ ظہورِ اسلام سے کم و بیش 300سال پرانی بات ہے۔ اسلام کو غلبہ ملنا شروع ہوا تو عیسائیوں کا وفد نبی ءمکرم کے حضور اس گزارش کے ساتھ پیش ہوا کہ اس چرچ کو امان بخشی جائے۔ جواب میں حضورِ اقدس نے اپنی ذاتی مہر کے ساتھ ایک حکم نامہ بھیجا جس کی اصل کاپی آج بھی اُس چرچ میں موجود ہے، اس میں آٹھ احکام درج تھے : کوئی عیسائیوں کے گرجہ گھر تباہ نہ کرے،کوئی ان کے گرجہ گھروںکو نقصان نہ پہنچائے،کوئی ان کے گرجہ گھروں سے سامان نہ لے جائے، ان کے پادریوں کو تبدیل نہ کیا جائے، ان کی عورتوں کے ساتھ زبردستی شادی نہ کی جائے،ان کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے، یہ قیامت تک کے لئے لکھا (معاہدہ نہیں بلکہ)عہد نامہ ہے، اس کی مخالفت نبی کی مخالفت کے مترادف ہو گی۔
ڈاکٹرعارف علوی نے یہ بھی کہا کہ ایک عہد یہ تھا اور ایک وہ جو 11اگست کو بانی ءپاکستان نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا کہ ”آپ آزاد ہیں۔ آپ کو اپنے مندروں، مسجدوں یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کی مکمل آزادی ہے۔ خواہ آپ کسی بھی مذہب، نسل یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں اس کا کوئی تعلق اس بنیادی اصول سے نہیں کہ ہم ایک ریاست کے شہری اور مساوی حیثیت رکھنے والے شہری ہیں“۔ قائد اعظم نے ایک طرف تو ایک ہندو(جوگندر ناتھ منڈل) کو وزیرِ قانون اور ایک قادیانی( ظفر اﷲ خان) کو وزیرِ خارجہ بنایا جبکہ دوسری طرف کسی ایک انتہا پسند کو بھی اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ صدرمملکت قومی یکجہتی کی اولین علامت ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کے بغیر ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو شکر ہے کہ اس عہدے پر کوئی ایسا شخص بھی منتخب ہو سکا جو لفظ ”قوم“ کے حقیقی معنوں سے واقف ہے ورنہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہمیں میثاقِ مدینہ تک یاد نہیںجس کی پہلی شق میں ہی لفظ ”امت“مسلمانوں اور غیر مسلمانوں ، دونوں کے لئے استعمال کیا گیاجن کے درمیاں یہ معاہدہ ہو رہا تھا اور جو ایک ریاست کے رہنے والے تھے چاہے ان کا تعلق کسی بھی عقیدے اور نسل سے تھا۔
ایک مرتبہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ”قوم“ شروع شروع میںایک ”نسل“کے لوگوں کو کہا جاتا تھا(قوم کے لیےNationکا لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا کہ لاطینی زبان میں اس لفظ کا مادہ Natus ہے جس کے معنی ہیں ”پیدائش“)لیکن ” سیاسیات“ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ”قوم“ کا مفہوم بھی وسیع ہوتا چلا گیا اور یہ لفظ ان لوگوں کے لیے بھی بولا جانے لگا جن کا تعلق بے شک ایک نسل سے نہ ہو لیکن وہ ایک ریاست کے شہری ہوں،اس کے برعکس برِ صغیر کے مسلمانوں نے مذہب کی بنیاد پر خود کو ایک قوم قرار دے کر اپنے لئے ایک نئی ریاست کا مطالبہ کیا اور اسے منوا بھی لیا۔ اقبال نے کہا تھاکہ
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ِ ہاشمی
اُن کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تری
قومیت کے اس نئے تصورکے تحت ملک بنایاتو جا سکتا تھا لیکن چلایا نہیں جا سکتا تھا۔ چنانچہ 14اگست1947کے بعد خود کو ”پاکستانی قوم“ قرار دے کر اپنی قو م میں ہراس فرد کو شامل کر لیا گیاجوپاکستان کا رہنے والا تھا چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہو لیکن کسی ایسے فرد کو اپنی قوم میں شامل نہ کیا گیاجو پاکستان کا رہنے والا نہیں تھا چاہے وہ مسلمان بھی ہو، یعنی سندھ کے رہائشی ہندو کو توحکومتِ پاکستان کی جانب سے قومی شناختی کارڈ جاری کر دیا گیا لیکن مکہ کے رہائشی عرب مسلمان کونہیں کیا گیا۔
قصہ مختصریہ کہ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارا نظریہ ہمارے عمل سے مختلف ہو گیا ،نظریاتی طور پر ہم آج بھی ” قوم مذہب سے ہے“ والے فلسفے کے ساتھ چپکے ہوئے ہیںجبکہ عملی طور پر ”قوم وطن سے ہے“والے فارمولے پر کاربند ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر آپ پاکستان کے کسی غیر مسلم کو اپنی قوم کا فرد نہیں مانتے تو اسے ملک سے نکال ہی کیوں نہیں دیتے، اور اگر مانتے ہیں تو پھروہ کسی مالیاتی کمیشن یا ادارے میں کام کیوں نہیں کر سکتا؟ اگرآپ غیر مسلموں سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں تو پھر یورپ ، امریکہ اور کینیڈا کے ویزوں کے لئے بھکاریوں کی طرح لائنوں میں کیوں لگے رہتے ہیں؟ اگر کافر آپ کو اتنے ہی برے لگتے ہیں تو ان کی بنائی ہوئی اشیا کا استعمال ترک کیوں نہیں کر دیتے جن میں موبائل،انٹرنیٹ، گاڑیوں، جہازوںوغیرہ سے لے کر زندگی بچانے والی ادویات اور سرجری کے آلات تک شامل ہیں؟اوراگر آپ کو یہ گوارا نہیں کہ کوئی غیر مسلم آپ کے یہاں کسی اچھے عہدے پر کام کرے تو پھر آپ غیرمسلموں کے یہاں اچھے عہدوں پر کام کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ گورے ہم سے آگے اسی لئے ہیں کہ ان کے یہاںعقیدے اورنسل کا نہیں بلکہ قانون اور میرٹ کا بول بالا ہے ورنہ لندن کا میئر صادق خان کیوں ہوتا گولڈ سمتھ کیوں نہ ہوتا؟ کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ قومیں نظریے کے بغیر تو رہ سکتی ہیں لیکن ملک کے بغیر نہیں رہ سکتیں ورنہ پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved