تازہ تر ین

قوم نے اعتماد کر لیا ڈیم شروع کیا جائے

عبدالودودقریشی

پاکستان کی معاشی حالت مسلم لیگ ن کی حکومت میں جس نہج پر پہنچ گئی تھی وہ انتہائی تشویشناک تھی جبکہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی ملک کے معاشی حالات نہ صرف بہتری کی طرف گامزن ہیں بلکہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے لئے کئے گئے اقدام پر حکومت نے بھی شامل ہوتے ہوئے لوگوں سے اس کے لئے چندہ دینے کا کہا ہے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت اورسیز پاکستانیز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس اس فنڈ میں جمع کروائیں جس سے نہ صرف ڈیم تعمیر ہوجائے گا بلکہ پاکستان کی معاشی حالت سنور جائے گی۔ یہ نئی حکمت عملی اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی ہے جس کے جواب میں لوگوں نے جس طرح سے بیرونی ممالک میں چندے اکٹھے کرنے اور خود رقم دینے کے اعلانات کئے ہیں وہ خوش آئند اور ایک زندہ قوم کی علامت ہیں۔ جن لوگوں کا سوشل میڈیا پر یہ کہنا ہے کہ ملک چندے سے نہیں چلتے اور نہ ہی ڈیم چندے سے بنتے ہیں انہیں آنکھوں کا علاج کروانا چاہئے بھارت، چین اور دیگر کئی ممالک میں ڈیم بنانے کے لئے لوگوں سے چندہ لیاگیا اور جب ڈیم بن گئے تو اس کے فوائد سے قوم کو مستفید کیا گیا۔ میاں نواز شریف کے پہلے دور میں قرض اتارو ملک سنوارو کی مہم چلائی گئی جس میں مجھ سمیت لاکھوں لوگوں نے چندہ دیا مگر اس چندے کو سڑکیں بنانے اور سیمنٹ لگانے میں اس لئے کھپا دیا گیا کہ اس کام میں کمیشن خاصی ملتی ہے اور وہ کمیشن پھر جعلی اکاﺅنٹس اور ماڈلز کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہوجاتی ہے عمران خان اور میاں ثاقب نثار سے قوم کواس بات کی توقع نہیں کہ وہ قوم کا پیسہ ہڑپ کریں گے،کمیشن لیں گے اور اسے بیرون ملک منتقل کردیں گے البتہ بیورو کریسی اور اس حوالے سے ذمہ داران آنے والے اس چندے کو ہڑپ کرنے کے لئے چھری کانٹے تیز کررہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کا ایک کروڑ روپیہ ایکڑ حکومت سے وصول کرنے والوں نے مالکان کو تو صرف چند سو روپے دیئے تھے اور انھیں نہ کسی نے پوچھا، نہ تحقیقات ہوئیں لہٰذا ڈیم کے معاملے میں بھی جو کچھ کر لیا جائے گا سب جائز ہوجائے گا اور لوگ اس بدعنوانی کو فراموش کر دیں گے ان کالموں میں ایک مدت سے اس بدعنوانی کی نشاندہی کی جا رہی ہے مگر جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہو تو کوئی اس بدعنوانی پر کیوں کر توجہ دے گا۔ ڈیم پر ریٹائر ہونے کے بعد پہرا دوں گا چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا یہ کہنا انتہائی بروقت ہے کیونکہ جسٹس میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد لوگوں کے چندے کو بھیڑیے کھانے کے لئے دانت تیز کررہے ہیں ملک میں وکلاءکی بڑی تعداد فیس کے عوض ہرمقدمہ لڑنے کو تیار ہوتی ہے لہٰذا یہ خدشہ موجود تھا کہ جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ مافیا نہ صرف حکم امتناعی حاصل کرکے اس ڈیم کو تاخیر کا شکار کرے گا بلکہ آنے والی تمام رقوم بھی ہڑپ کرتا جائے گا جبکہ عمران خان اس حوالے سے عدلیہ کے احترام میں خاموش ہوجائیں گے یا ان کے ماتحت بیورو کریسی اور قانونی مشیر متعلقہ لوگوں کے ساتھ مل کر غیر ملکی ایجنڈا چند ٹکوں کی خاطر پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو اپنی ملازمت کے دوران ہی ڈیموں کے حوالے سے کچھ فیصلے دے دینے چاہئیں جن میں یہ بھی ہو کہ ڈیم کے حوالے سے کوئی عدالت حکم امتناعی جاری نہ کرے، ڈیم کے حوالے سے خورد برد کرنے کمیشن لینے اور کمیشن کھانے والوں کے مقدمات ساٹھ دنوں میں مکمل کیئے جائیں اس حوالے سے تمام جرائم نا قابل ضمانت ہوں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جو ڈیموں کے خلاف پراپیگنڈا کرے اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے اور مستقبل میں ڈیموں کے خلاف خبر، مضمون، آرٹیکل نہ چھاپنے اور نشر کرنے کی ضمانت کے بعد انہیںدوبارہ اجازت دے دی جائے ڈیم میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی اطلاع ملتے ہی چوبیس گھنٹے میں اس پر تحقیقات کا آغاز کر دیا جائے اور شکایت کنندہ، درخواست دہندہ یا دیگر لوگوں کو بھی اس میں اطلاع دینے کی اجازت دی جائے۔ ڈیم کے لئے فنڈ دینے کے لئے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزار کی تعمیر کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا تھا وہ طریقہ اپنایا جائے اور خوبصورت کارڈ پر بڑے نوٹ کی شکل میں رسیدیں جاری ہوں جس پر چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان کے دستخط ہوں کیونکہ اس وقت قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزار کے لئے دیئے جانے والے چندے کی خوبصورت رسیدیں آج بھی ایک سوینئر ہیں اور سو روپے کی رسید آج دس ہزار روپے میں بھی نوادرات جمع کرنے والوں کے لئے دستیاب نہیں ہے۔ میرے پاس وہ رسیدیں موجود ہیں جو والد محترم نے چندہ دے کر حاصل کی تھیں۔ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین خریدنے میں جو گھپلا ہوا ہے اس پر شرمندگی محسوس کرنے اور خوف کھانے کی بجائے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اعلان کرکے بغلیں بجا رہے ہیں کہ اس ڈیم کی زمین ہم نے خریدی تھی جب ڈیم کی تعمیر کے لئے کوئی مالیاتی ادارہ ورلڈ بینک،آئی ایم ایف قرض دینے کو تیار نہیں تھا ملکی خزانے میں ڈیم بنانے کے لئے رقم نہیں تھی تو پھر یہ زمین ایک کروڑ روپیہ فی ایکڑ کیوں خریدی گئی جبکہ وہاں چند سو روپے ایکڑ زمین کی اصل قیمت تھی مالکان اور مستحقین کو چند سو روپے ہی دیئے گئے جبکہ بھاری رقم پنجاب اور سندھ کے موثر لوگ بیورو کریسی اور سیاستدان اپنی جیب میں ڈال کر چلتے بنے جس کا باضابطہ ریکارڈ کوئی نہیں ہے ڈیم کے لئے دو ارب کے قریب رقم جمع ہوچکی ہے لہٰذا فوری طور پر ڈیم کی تعمیر کے لئے ابتدائی ٹینڈر جاری کردینے چاہئیں مگر یہ تمام ٹھیکے صرف اور صرف پاکستانی کمپنیوں کو دیئے جائیں اور اس کی تعمیر کی ذمہ داری پاکستانیوں کی ہی ہو چین، روس، امریکہ، برطانیہ یا کسی اور ملک کی کمپنی کو اس کا ٹھیکہ نہ دیا جائے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved