تازہ تر ین

توسیع کا مقابلہ

توصیف احمد خان

پنجاب کابینہ میں توسیع….پھر وفاقی کابینہ میں توسیع
حکومت بنے ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں توسیع پر توسیع ہو رہی ہے۔ دو تین بار ایسا ہو چکا ہے۔ لگتا ہے وفاق اور صوبوں میں مقابلے کا رجحان ہے کہ ایک کابینہ میں توسیع کرتا ہے تو دوسرا بھی وہی ڈگر اختیار کر لیتا ہے۔ دوسرے سے ہمارے مراد ایک نہیں دو ہیں یعنی پنجاب اور خیبر پختونخوا۔ اور پھر بلوچستان بھی کہاں پیچھے ہے جہاں کے حکمرانوں میں مذکورہ حکمران بھی شامل ہیں۔ ہماری مراد پاکستان تحریک انصاف کے حکمرانوں سے ہے۔ سندھ کو اس لئے شامل نہیں کر رہے کہ وہاں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جسے تسلسل حاصل ہے اور اس جماعت نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ کابینہ مختصر رکھی جائے گی اور کفایت شعاری کو اپنایا جائے گا۔ باقی چار حکومتیں آپس میں مقابلہ کر رہی ہیں کہ کون بڑی کابینہ بناتا ہے اور کون اس سلسلے میں عالمی ریکارڈ قائم کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان ان سب پر بازی لے جائے گا جہاں تحریک انصاف برسراقتدار نہیں محض شریکِ اقتدار ہے۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والا ہر رکن کوئی نہ کوئی عہدہ ضرور حاصل کر لے گا۔ویسے وہاں اپوزیشن نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ماضی میں تو ایسا بھی ہو چکا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ہی مکمل اپوزیشن تھے۔ بلوچستان کو ایک طرف رکھ دیں تو دیکھتے ہیں توسیع کا مقابلہ کون جیتتا ہے۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ آپس میں مقابلہ صحتمندانہ رجحان ہوتا ہے لیکن اِس طرح کا مقابلہ ….!
اس موضوع کی طرف آتے ہیں جو آج کا محبوب ترین ہے۔ یہ موضوع ڈیموں کے لئے فنڈ کا حصول ہے۔ اس کے لئے کافی عرصہ پہلے محترم چیف جسٹس نے قوم سے اپیل کی اور ایک فنڈ قائم کر دیا۔ بعد میں محترم وزیراعظم بھی سامنے آ گئے اور قوم کے نام اپنے پیغام میں ڈیموں کے لئے زیادہ سے زیادہ عطیہ کی اپیل کر دی۔ ان کی اس اپیل کا بڑا ہدف بیرون ملک مقیم پاکستانی خصوصاً امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی ہیں جن سے انہوں نے فی کس ایک ہزار ڈالر بھیجنے کی اپیل کی اور ان کا فرمانا تھا کہ اس سے نہ صرف ڈیم بن جائیں گے بلکہ ہم قرض بھی اتار سکیں گے۔
کیسے….؟
یہ بات ابھی تک ہماری موٹی عقل میں نہیں سما سکی۔ خصوصاً چیف جسٹس کی اپیل کا ردِ عمل معلوم ہونے کے بعد تو قریباً مایوسی ہی ہوئی۔ سٹیٹ بینک نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں ان کے مطابق اب تک جمع ہونے والی رقم دو ارب روپے سے کچھ کم ہے اور یہ دو ارب روپے دو کروڑ ڈالر بھی نہیں بنتے۔ اس میں یقینا وہ رقم بھی شامل ہے جو سرکاری ملازموں اور مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے ایک دن کی تنخواہ کی شکل میں عطیہ کی ہے….ایس ایم ایس سروس کے ذریعے ملنی والی رقم پانچ کروڑ سے زائد ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جمع ہونے والی رقم کا غالب حصہ تنخواہوں سے حاصل ہوا اور قوم کے افراد نے محض دس روپے دینے کا احسان ہی کیا ہے۔ وہ بھی ہر فرد نے نہیں آبادی کے محض ایک قلیل حصے نے۔ شاید ان کے نزدیک دس روپے دے کر وہ ڈیموں کے سلسلے میں اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں نے جو کچھ دیا وہ حاتم کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔ وہ رقم دو کروڑ سے بھی کم ہے۔ جی ہاں….! دو کروڑ ڈالر نہیں دو کروڑ روپے جن کا ڈالروں میں حساب کریں تو پونے دو لاکھ بھی نہیں بنتے۔
اللہ تعالیٰ سے ہماری دُعا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی اپیل کا نتیجہ ایسا نہ نکلے بلکہ قوم واقعی اس پر لبیک کہے اور اتنی مدد دے کہ کم از کم ایک ڈیم بن سکے….بظاہر یہ دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں وہ چاہے تو اپنی مخلوق کے ذریعے ایک نہیں کئی ڈیم بنوا دے۔
جب ہم سوچتے ہیں تو سوچ کے دھارے کئی جانب رواں ہو جاتے ہیں۔ ہم تصور کر لیتے ہیں کہ وزیراعظم کی اپیل کے جواب میں بیرون ملک سے کم از کم ایک لاکھ پاکستانی ایک ہزار ڈالر فی کس بھیجیں گے۔ اگرچہ بظاہر یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا مگر سوچ کی حد تک اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ ایسی صورت میں جمع ہونے والی رقم کتنی ہو گی….محض دس کروڑ ڈالر…. یہ وہ رقم ہے جس سے ڈیم بنانا تو ایک طرف ڈیم کے لئے درکار اراضی تک حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ڈیم بنانے کے لئے پندرہ سو سے دو ہزار ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ایک شخص خواہ دس روپے ہی کیوں نہ دے، کم از کم ا سے ایک اہم قومی فرض میں شرکت کا احساس تو ہو گا۔ اگر احساس جاگ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ سوئی ہوئی قوم میں بیداری کی لہر پیدا ہو رہی ہے اور یہ لہر کسی قوم کو بنانے اور سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
رقم جمع ہو نہ ہو ڈیم تو اب ہر صورت بننا ہے۔ لیکن محترم چیف جسٹس اور محترم وزیراعظم سے ایک گزارش ہے کہ جن جن لوگوں اور اداروں کی طرف سے رقم دینے کا اعلان کیا جا رہا ہے ان سے ہر قیمت پر اعلان شدہ رقم وصول کی جائے خواہ اس کے لئے کوئی قانون ہی کیوں نہ بنانا پڑے۔ اعلان کر دینا اور بعد میں رقم دینے کے حوالے سے خاموشی اختیار کر لینا ہمارے بہت سے لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ اس قسم کے کئی ایک اعلانات محض وقتی واہ واہ کے لئے ہوتے ہیں۔ بعد میں کون پوچھے گا کہ رقم دی یا نہیں۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ رقم ایسے لوگوں کی ہڈیوں سے نکلوائے جو اعلان تو کر دیتے ہیں اور اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔
چیف جسٹس صاحب کی اپیل کے بعد بہت سے اعلانات ہوئے تھے۔ وہ سب شرمندہ تعبیر ہو جاتے تو رقم اتنی کم نہ ہوتی جس کا سٹیٹ بنک نے اعلان کیا ہے….اب وزیراعظم کی اپیل پر بھی اعلانات ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک بیرون ملک پاکستانی کی طرف سے ایک ارب ڈالر کا اعلان ہوا ہے۔ قطر سے ایک لاکھ ڈالر کا اعلان آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے انہیں علم نہیں کہ ایک ارب یا ایک لاکھ ڈالر کتنے ہوتے ہیں۔ وہ غالباً ارب نہیں عرب سمجھے ہیں۔ ایک اعلان پانچ ارب روپے جمع کرانے کا بھی ہے۔ دیکھتے ہیں ایسے اعلانات کی تعبیر کیا نکلتی ہے۔ ہم تو اچھی تعبیر کے ہی خواہش مند ہیں۔
سب سے زیادہ زور بھاشا ڈیم پر دیا جا رہا ہے جس کا کئی بار افتتاح ہو چکا ہے۔ پرویز مشرف، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی اور پھر نوازشریف اس کا افتتاح کر چکے ہیں۔ اللہ کرے عمران خان کے دور میں ابتدا کے بجائے اس کی تکمیل کی تختی لگ سکے لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک باخبر دوست کہتے ہیں ن لیگ نے آتے ہی یعنی 2013ءمیں کے پی کے کو بیس ارب روپے ادا کئے کہ ڈیم میں آنے والی زمین ایکوائر کی جائے۔ کے پی کے حکومت نے چار سال یہ کام روکے رکھا اور اقتدار کے آخری سال یہ کام کیا….ہمیں علم نہیں یہ بات غلط ہے یا درست…. عمران خان خود نہیں تو ان کے ترجمان بلکہ بہتر طور پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اس کی وضاحت ضرور فرما دیں۔ اگر یہ محض غلط فہمی ہو تو اس کا ازالہ ہو سکے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved