تازہ تر ین

او ر الیاس شاکر بھی چلے گئے

 

ضیا شاہد
غالباً 1974ءکا ذکر ہے جب میں نے لکشمی چوک میکلوڈ روڈ لاہور سے ہفت روزہ صحافت شروع کیا۔ چوک میں یونائیٹڈ بنک کی برانچ ہوتی تھی اُس کے عین اوپر جاوداں فلمز کا دفتر تھا۔ حفیظ اللہ حسن عرف اپی اس ادارے کے کرتا دھرتا تھے۔ باجی، تیرے شہر میں، پاکیزہ، مہندی والے ہتھ، چار فلمیں یہ ادارہ بنا چکا تھا۔ ملکہ سٹوڈیو خرید کر نہر کے پل پر مال روڈ کے کنارے جاوداں سٹوڈیو بھی بنا چکا تھا لیکن یکے بعد دیگرے فلموں میں جو اچھی تھیں، کاروباری نقصان ہونے کے باعث فلمی دفتر بند ہو گیا۔
اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ حنیف رامے اور ان کے ایڈوائزر راجہ منور احمد کی سفارش پر مجھے جاوداں فلمز کا دفتر کرایہ پر مل گیا۔ ایک کمرہ البتہ ساری فلموں کے پرنٹس پر مشتمل ڈبوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ پہلا پرچہ صحافت کا یوں نکلا کہ ساتھ ہی پولیس آن پہنچی اور شمالی لاہور میں عوامی جلسے میں زندہ سانپ چھوڑنے پر جو بھگدڑ مچی اور پانچ بندے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اُس کی تصویریں سرورق پر چھاپنے کے باعث ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مجھ پر کیس دائر کر دیا۔ سرکاری ہینڈ آﺅٹ یہ تھا کہ کوئی بندہ نہیں مرا جبکہ میں تین چار لاشوں کی تصاویر چھاپ بیٹھا تھا۔ میں نے صحافت کی بجائے نقیب ملت کے نام سے ڈیکلریشن لے کر ہفت روزہ چھاپ دیا۔ حیدر آباد سندھ میں میر رسول بخش تالپور نے پیپلزپارٹی کے باغی کارکنوں کا کنونشن بلایا تو اس کنونشن کی روئیداد ایک نئے لکھنے والے الیاس میمن نامی نوجوان نے مرتب کر کے مجھے پی آئی اے کے ذریعے پیکٹ میں بھیجی جس کے ساتھ تصویریں بھی تھیں۔ یہ میرے ہفت روزہ کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئیں۔ چھوٹے چھوٹے مگر مو¿ثر اور دلپذیر لہجے میں رپورٹ مرتب کی گئی تھی۔ میں نے ٹیلیفون پر الیاس میمن کی خیریت پوچھی۔ پتہ چلا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہو چکے ہیں اور اُن کے والد کاروباری آدمی ہیں اور شاید میڈیکل ہال چلاتے ہیں۔ میں اُن سے نہ کبھی ملا تھا اور نہ خط کتابت ہوئی تھی جبکہ تحریر بہت مو¿ثر ارو دلنشین تھی۔ میں نے انہیں حیدر آباد سے مستقل نمائندگی کی آفر کی جو انہوں نے فوراً ہی قبول کر لی۔ یوں الیاس شاکر سے جو ان دنوں الیاس میمن تھے میرا پہلا ٹاکرا ہوا۔ چند ہفتے چلنے کے بعد صحافت کی طرح نقیب ملت کا دفتر بھی ضبط کر لیا گیا پھر سال بھر کی بے کاری، لیکن چھوٹے قد آور خشک بالوں والا الیاس شاکر دوست بن گیا۔
بھٹو صاحب کی حکومت سے علیحدگی اور ضیاءالحق کی آمد پر میں نے پھر ہفت روزہ صحافت نکالا تو میری خواہش پر الیاس شاکر نے حیدر آباد کے بجائے کراچی رہائش اختیار کرنے کی حامی بھر لی۔ ٹیلیفون کی یونین والوں کا کمرہ تھا اور فری کھاتے کا لینڈ لائن نمبر۔ میرے دوست سرتاج ریسٹورنٹ والے عمر سیلیا اور میں نے الیاس شاکر کی خدمت میں پیش کر دیا۔ صحافت ایک ایسا ہفتہ روزہ تھا جس کے کریڈٹ لائن پر الیاس شاکر کا نام ریذیڈنٹ ایڈیٹر کراچی کے طور پر چھپتا تھا۔ الیاس ان دنوں خوب لکھتے تھے۔ ہفتے میں کراچی کی ایک ڈائری، دو تین کڑاکے کی سیاسی سٹوریز۔ مجھے یاد ہے کہ سب سے پہلی ہٹ سٹوری حسنہ شیخ کون ہے کے نام سے چھپی۔ اُس وقت کسی کے علم میں بھی نہ تھا کہ حسنہ شیخ کون ہے کیونکہ حسنہ شیخ کی تصویر میں نے تلاش کی تھی۔ باقی ساری معلومات الیاس شاکر نے کراچی سے جمع کی تھیں۔
صحافت کی سرکولیشن 63 ہزار فی ہفتہ تک پہنچی جو پاکستان میں الطاف حسن قریشی کے ہفتہ روزہ زندگی اور مجیب الرحمان شامی کے ہفت روزہ بادبان اور اسلامی جمہوریہ کے ہم پلہ تھی۔ ڈیڑھ دو برس تک صحافت خوب چلا مگر جب مجھے ضیاءالحق حکومت کی طرف سے پری سنسر شپ کا حکم مل گیا اور ہر سیاسی جماعت سے پہلے کالعدم مسلم لیگ اور کالعدم جماعت اسلامی لکھنا پڑا تو میں نے اپنی طبع کے مطابق احتجاجاً رسالہ بند کر دیا اور نوائے وقت میں نوکری کر لی۔ الیاس شاکر کے مضامین، انٹرویوز اور سیاسی ڈائریاں دکھا کر میں نے انہیں بھی نوائے وقت کراچی میں سیاسی رپورٹر رکھوا دیا حالانکہ میں خود نوائے وقت لاہور سے منسلک ہوا تھا۔
چند سال مجھے بعد میگزین ایڈیٹر سے ڈپٹی ایڈیٹر بنایا گیا پھر ریذیڈنٹ ایڈیٹر بنا کر کراچی بھیج دیا گیا۔ الیاس شاکر اور میں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ وہ ذہین، محنتی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی، مضبوط بیک گراﺅنڈ کے انسان تھے۔ پانچ سال بعد میں واپس لاہور آ گیا اور پھر میں نوائے وقت لاہور چھوڑ کر جنگ سے منسلک ہوا تو پتہ چلا کہ الیاس شاکر ایک ایوننگر (دوپہر کے اخبار) کی پلاننگ کر رہے ہیں۔ وہ میمن برادری سے تھے پارٹنر انہیں برادری کے حوالے سے بھی ملے۔ جنگ کے حیدر آباد سے نمائندے اور میرے دوست مختار عاقل بھی انہیں حیدر آبادی جہیز میں مل گئے اور دونوں نے روزنامہ قومی اخبار کی داغ بیل رکھی اور سچ تو یہ ہے کہ دونوں کی محنت نے خوب رنگ دکھایا۔ برسوں بعد مختار عاقل اپنا ڈیکلریشن جرا¿ت لے کر الگ ہو گئے۔ تاہم الیاس شاکر نے متبادل روزنامہ ریاست لے کر خوب چلایا اُس نے میرا ایک ڈیکلریشن اخبارِ خواتین بھی مجھ سے مانگ لیا اور ہفت روزہ آواز خواتین بھی شروع کیا۔ کئی اور اخبار بھی نکالے۔ ہم ناروے گئے تو وہاں سے اوسلو کا نام لے کر الیاس شاکر نے واپسی پر پینے کے پانی کا کاروبار شروع کیا۔ دیسی کے نام سے ایک ریسٹورنٹ بھی چلایا کئی اور چھوٹے موٹے کاروبار بھی کیے۔ دھوم کے نام سے ٹی وی چینل کا لائسنس بھی لیا اور بعد میں اسے کرائے پر دے دیا کچھ کاروبار دبئی میں کیا۔ الیاس کے ساتھ زندگی بھر بہت تعلقات رہے مگر وہ موڈی آدمی تھے کسی بھی وقت ان کے خیالات تبدیل ہو سکتے تھے پھر بھی انہوں نے پرانے تعلقات خوب نبھائے۔ وہ قومی اخبار کے کامیاب مالک تھے اور بہت سے دوسرے کاروبار بھی چلاتے رہے ۔
گزشتہ سال ان کا آپریشن غلط ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ دلبرداشتہ ہو گئے اور کم وبیش سال بھر سے وہ کم ہی دفتر آ رہے تھے۔ ان کی دو بیویاں ہیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹی ہے جس کی شادی ہو چکی ہے، دوسری بیوی سے دو بیٹے ہیں ایک سترہ سال کا اور ایک اٹھارہ سال کا ہے گزشتہ چند ماہ سے وہ کسی سے ملتے جلتے نہیں تھے البتہ پرانے دوست مختار عاقل سے رابطہ موجود رہا۔ میں بہت اصرار کرتا تو ٹیلیفون پر سلام دعا ہو جاتی۔ صحت کی خرابی کے باعث اچانک وہ گوشہ نشین ہو گئے اور اس گوشہ نشینی نے ایک بہت اچھا دوست اور کولیگ ہم سے چھین لیا۔ اُن کی اچانک وفات نے میرے دل پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے وہ زندگی بھر شدید محنت کے بعد سیلف میڈ تھے خدا ان کے ادارے کو کامیاب وکامران کرے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved