تازہ تر ین

بھارتی سورماﺅں کیلئے برُی خبر

ممبئی (ویب ڈیسک)بھارتی فوج کی طرف سے آئندہ چار سے پانچ برسوں کے دوران اپنے دستوں میں ڈیڑھ لاکھ کٹوٹی کرنے کا امکان ہے۔ نظرثانی کی اس تجویز سے واقف 2افسروں نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں جنگوں کی تیاری اور فوج کے لڑنے کی صلاحیت مو¿ثر کرنا ہے۔ فوج کی تعداد میں نظرثانی کیلئے 21جون کو دیئے گئے آرڈر کے مطابق مذکورہ منصوبے میں 12لاکھ کی طاقتور فوج میں کٹوتی سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے ان کا آپس میں انضمام کیا جائے گا۔ ملٹری سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل جے ایس بندھو کی زیرسربراہی میں 11رکنی پینل نظرثانی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ وہ نومبر میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کرانے سے پہلے آرمی چیف جنرل بپن راوت کو رواں ماہ کے آخر میں ابتدائی رپورٹ جمع کرانے والا ہے۔ کچھ شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ان کا انضمام کر دیا جائے گا‘ جس کے نتیجے میں اگلے دو برسوں میں 50ہزار دستوں کی کٹوتی کا امکان ہے۔ 2022-23ءتک مزید ایک لاکھ اسلحہ کار کم کرنا ممکن ہو سکتا ہے‘ تاہم ابھی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ فوجی ہیڈکوارٹرز‘ لاجسٹکس یونٹوں‘ مواصلات‘ تعمیرومرمت اور دیگر انتظامی شعبوں میں انضمام کر کے دستوں میں کمی کرنے کا امکان ہے جبکہ دوسری طرف نظام کو ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔ فوج میں ترقی کے عمل میں روانی کیلئے بریگیڈیئر کا عہدہ ختم کرنے کا امکان ہے۔ کمیٹی نے ہتھیاروں اور دیگر سازوسامان کیلئے مزید رقم کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے روزانہ کے اخراجات میں بھی کٹوتی کی تجاویز تیار کی ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved