تازہ تر ین

اوپرسے حکم آیا ہے

نجیب الدین اویسی ….ستلج کنارے
بلدیاتی الیکشن سے قومی اسمبلی الیکشن تک یوں تو میرا سیاسی سفر چیئرمین یونین کونسل سے قومی اسمبلی تک ہے۔ اس سارے سفر میں کئی مشکلات‘ کئی دُکھ‘ تکالیف دیکھیں۔ غیر تو غیر ہوتے ہیں اپنوں نے بھی جو سلوک کیا اسے بیان کروں تو شاید میرے خاندان کے بہت سے لوگ مجھ سے رشتہ ناطہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں۔ اس لئے میں نے اپنے بیٹے عثمان اویسی کو وصیت کی ہے کہ میری سوانح عمری میری وفات کے بعد شائع کرنا۔
بات ہورہی تھی بلدیاتی الیکشن کی۔ میرے شعور کا یہ ساتواں بلدیاتی الیکشن تھا۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخاب تھا۔ کونسلر سے لے کر ضلعی چیئرمین‘ میئر تک سب کو سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ دیئے۔ یہ انتخابات مرحلہ وار ہوئے۔ ہمارے ڈویژن میں آخری مرحلہ میں یہ الیکشن ہوئے۔ جب ہمارا مرحلہ آیا تو الیکشن کمشن کو یاد آیا ایم پی اے‘ ایم این اے اس الیکشن میں غیرجانبدار رہیں گے۔ حیرت ہوئی جب الیکشن جماعتی ہیں تو ہم جس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس جماعت کے ٹکٹ ہولڈرز کے لئے کیسے خاموش رہیں؟
ایک پولیس کے سب انسپکٹر نے بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ”ہم سیاستدانوں کو منع کررہے ہیں‘ وہ سیاست نہ کریں“‘ ریلی نکالنا منع‘ جلسہ منع‘ سپیکر منع‘ شور شرابہ منع‘ ان ساری چیزوں کو الیکشن سے خارج کردیں تو ایسے ہی ہے جیسے شادی میں بارات پر پابندی لگادی جائے‘ ہمارے کئی دوست اراکین پر تو باقاعدہ ایف آئی آر کا اندراج ہوا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے نوٹس تو تقریباً سب کو ہی ملے‘ ایک دن تو اُوپر سے حکم آیا میں آج تک اُوپر سمجھنے سے قاصر رہا ہوں۔ مجھ جیسے راسخ العقیدہ مسلمان کا ایمان اُوپر سے کچھ اور مراد ہے مگر جب ہم اپنے سرکاری اعمال پٹواری‘ پولیس آفیسر ودیگر سے کسی خاص معاملے میں دریافت کریں تو وہ فرماتے ہیں اُوپر سے حکم آیا ہے۔ حکم آیا ہر تھانہ ہر جماعت کے 5‘ 5سرگرم ورکرز کو حراست میں لے۔ ایک تھانے والوں نے تو خوب غضب ڈھایا۔ ہمارے ایک چیئرمین کے اُمیدوار کو حوالات میں بند کردیا۔ میرے اپنے ایریا کے تھانیدار نے پی ٹی آئی کا ایک سرگرم رُکن پکڑ لیا۔ میرا کزن جو پی ٹی آئی کا اُمیدوار تھا میرے شہر کے پی ٹی آئی کے کارکن سمیت مجھ پر ناراض ہیں کہ ایسا شاید میرے کہنے پر کیا گیا۔ بدقسمتی یہ ہوئی ابھی اس نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو پکڑنا تھا کہ اوپر سے احکامات واپس ہوگئے۔ شاید وہ پکڑے جاتے تو میری بات کا انہیں یقین آتا۔
اب آیئے جنرل الیکشن کی طرف‘ اس سے قبل ہم 8جنرل الیکشنوں میں بھرپور حصہ لے چکے تھے مگر یہ الیکشن ہی اپنی نوعیت کا بڑا عجیب وغریب تھا۔ ہمارے پُرجوش ووٹرز‘ سپورٹرز نہ ناصرف پوسٹرز‘ بینرز چھپوا لئے بلکہ بعض دوستوں نے نمایاں جگہوں پر انہیں آویزاں بھی کردیا۔ اب ہم سب کو ڈپٹی کمشنر کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کردیئے گئے۔ ان شوکاز نوٹسز کے جواب کے لئے ایک تاریخ بھی مقرر کردی گئی چونکہ میرا آپریشن ہوچکا تھا میں چلنے پھرنے سے عاری تھا۔ میں نے جواب کے ساتھ جب پی اے کو بھیجا تو صاحب بہادر نے فرمایا اس شوکاز کے لئے ملزم کا اصالتاً حاضر ہونا ضروری ہے۔ ملزم کا ٹھیک 10بجے آنا اس سے بھی زیادہ اشد ضروری ہے لیکن معلوم ہوا جو ہم سے ایک دن پہلے حاضر ہوئے وہ حسب ِحکم 10بجے پہنچے مگر سرکار دولت مدار خود اڑھائی بجے تشریف لائے۔ میرے پی اے کی ضد پر موصوف نے اتنی رعایت فرمائی کہ وہ دفتر آئیں چاہے کار میں بیٹھے رہیں اہلکار بے چارے واقف کار تھے۔ وہیں آکر مختلف فارموں پر دستخط کرائے (تکلیف کی شدت سے یہ بھی نہ پڑھ سکا کہ ان میں کیا درج ہے؟)۔ 10ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔ ساتھ ہی ہمیں ہدایت نامہ بھی پکڑوا دیا گیا۔ پوسٹرز‘ پینافلیکس‘ بینرز کے یہ سائز ہونے چاہئیں۔ جو دوست پوسٹرز وغیرہ کا مشورہ کرتے انہیں ہم سائز سمجھا دیتے لیکن کچھ جوشیلے خود ہی چھپواکر دیواروں پر لگادیتے۔ ہر صوبائی حلقے میں کسی نہ کسی آفیسر کی ڈیوٹی لگادی گئی۔ وہ روزانہ ہمارے پوسٹرز اُترواتا رہتا بلکہ بذریعہ ڈپٹی کمشنر ہمیں نوٹس بھی ملتے رہتے۔
علاوہ ازین جن کے نام نیچے درج ہوئے ان کے خلاف تھانوں میں رپٹ بھی درج کروا دیتا۔ کچھ دنوں بعد حکم آیا پوسٹرز پر سپورٹران کی تصاویر نہ لگائیں۔ اس حکم کے چند دن بعد دوسرا حکم آیا تصاویر ہوں مگر تصاویر کے نیچے شناخت کے طور پر نام نہ ہوں۔ کونسلرز‘ چیئرمینوں کی تصاویر تو شجرممنوعہ تھیں۔ دورانِ الیکشن کئی چیئرمینوں کو 24‘24گھنٹے تھانوں میں پابند کیا گیا۔ ہمارے ایک صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار دوست تو سارے الیکشن میں اپنے کونسلرز کی ضمانتوں میں مصروف رہے۔ ہر تھانے کو حکم ملا ہمارے 5‘5/ 10‘10سپورٹران کے قلندرے بناکر انہیں عدالتوں میں ضمانت کے لئے پیش کیا جائے۔ ہمارے مہربان ڈپٹی کمشنر نے تو حد ہی کردی۔ ہمارے ایک انتہائی شریف النفس سپورٹر کو عین الیکشن سے 4دن قبل 15دن کے لئے نظربند کردیا گیا۔ یوں تو ہم بہاول پور والوں کی قسمت میں چُن چُن کر آفیسر نصیب ہیں مگر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او تو خصوصاً بڑی ریسرچ کے بعد ہمارے پاس بھیجے گئے ہیں۔
الیکشن کے اعلان کے بعد جمعتہ الوداع والے دن مسجد میں پاو¿ں پھسلنے کی وجہ سے ٹانگ ٹوٹ گئی۔ میں اب تک مکمل صحت یاب نہیں۔ یہ میرے دوستوں کی مہربانی‘ میرے اﷲتعالیٰ کا خصوصی فضل ہے کہ گھر میں بیٹھے بٹھائے میں بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ ریلیوں پر سخت پابندی‘ جلسے کے لئے اجازت کے کٹھن بلکہ دُشوار ترین مراحل‘ اُمیدوار کے ساتھ 5گاڑیوں سے زیادہ گاڑیاں نہ ہوں‘ آپ کے پینافلیکس بجلی کے کھمبے پر‘ ٹیلیفون کے کھمبوں پر کیوں لٹکے ہوئے ہیں انہیں اُتار بھی لیتے‘ رپٹ بھی کروادیتے حالانکہ کئی اُمیدواروں کو یہ سہولت میسر رہی۔
پولنگ سٹیشنوں کو دیکھا تو سبحان اﷲ‘ جنوبی لسٹیں مغرب کی طرف‘ مغرب کی شمال‘ محلے‘ وارڈ میں پولنگ سٹیشن بھی ہے مگر اس محلے کے ووٹرز کو 5میل دور‘ دوسرے پولنگ سٹیشنوں میں 5میل دور کے ووٹرز کو پھینکا گیا۔ جب ہم نے ریٹرننگ آفیسر سے رابطہ کیا تو جواب ملا آپ کو پولنگ سٹیشنوں پر اعتراض تھا تو ہم نے 3دن مقرر کئے تھے اعتراضات کے لئے‘ اس دوران آپ نے اعتراض نہیں جمع کرائے‘ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم نے عرض کی آپ نے ہمیں کب شیڈول دیا یا کب اس کی تشہیر کی؟ جواب نداردہم نے یہ بھی کہا ۔ اس سے قبل تو ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر اگر ہماری استدعا سے مطمئن ہو تو 2دن پہلے بھی پولنگ سٹیشن تبدیل کردیتے تھے۔ جواب ملا‘ اب اُوپر سے یہی احکامات ہیں۔
اس الیکشن کی ایک اور خوبصورت بات جو میرے ساتھ ہوئی۔ یہ الیکشن میرے لئے چومکھی لڑائی تھا۔ ہماری پارٹی کے ضلعی چیئرمین کا داماد میرے خلاف الیکشن میں اُمیدوار تھا۔ ضلعی چیئرمین نے رات دن ایک کردیا وہ جہاں جاتا لوگوں کو کہتا کیا چاہیے‘ نوکری؟ میرے پاس 500اسامیاں ہیں۔ فائل دو میں الیکشن کے بعد آرڈر کردوں گا۔ اچھا آپ کو سولنگ چاہیے‘ سڑک‘ نالی‘ پُلی کیا ہو؟ میرے پاس 50کروڑ کا بجٹ ہے۔ ظالم نے ایک دو جگہ تو ٹف ٹائل‘ اینٹوں‘ بجریوں کے ٹرک بھی (بغیر کسی ٹینڈر کے) اُتار دیئے۔ میرے وسیب کے 2بڑے عہدیدار ہیں۔ ایک پولیس میں ڈی آئی جی ہیں تو دوسرے ڈسٹرکٹ سیشن جج ہیں۔ مجھے ہمیشہ ان پر فخر رہا ہے اور رہے گا مگر نہ جانے جج صاحب کو مجھ سے کیا غصہ ہے وہ ہر الیکشن میں میری اس طرح مخالفت کرتے ہیں جیسے وہ خود الیکشن میں اُمیدوار ہوں۔ حالانکہ میرے ہر کالم کے بعد مجھے دادِتحسین بھی دیتے۔ ان کا آخری پیغام آج بھی میرا منہ چڑا رہا ہے۔ You are the only hope۔ سمجھ نہیں آتی انہیں کیسی اُمیدیں ہیں؟
اس طرح جو پولیس آفیسر ہیں ان کا بھائی میرے بھتیجے کے مقابل صوبائی اسمبلی کا اُمیدوار تھا۔ ظاہر ہے وہ میرے مقابل اُمیدوار کے پینل میں تھے موصوف اکثر لوگوں کے پاس خود تشریف لے جاتے‘ فون کرتے۔ کسی کو پیار سے تو اکثر کو تڑی بھی لگادیتے۔ 25جولائی گزر جاتا ہے آپ نے بھی یہیں رہنا ہے‘ میں بھی یہیں ہوں۔ چونکہ وہ پی ایس پی آفیسر ہیں تمام انتظامیہ ان کی بات سنتی ہے‘ آپ خود اندازہ لگائیں۔ ہم نے کن مشکلات میں الیکشن میں حصہ لیا۔ کبھی کبھار رات کے پچھلے پہر میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتا‘ پریشان ہوتا مگر اس دوران میری اپنے رب سے جو باتیں ہوتی رہیں اس کریم کا یہ اعجاز ہے کہ میں گھر میں بیٹھا الیکشن جیت گیا۔ باوجود یہ کہ جج صاحب اور ڈی آئی جی نے میری مخالفت کی ہے۔ میرے دل میں ان کے لئے آج بھی ذرّہ بھر کدورت نہیں بلکہ دل سے دُعائیں نکلتی ہیں۔ خدا انہیں ترقیاں نصیب فرمائے۔ آمین
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved