تازہ تر ین

گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے کارکن

ثروت روبینہ….فکرتازہ
پیڑ کی حقیقت جڑ کے ساتھ ہے اگر جڑیں سوکھ جائیں تو ہرے بھرے پیڑ کو سوکھنے میں دیر نہیں لگتی‘ جڑ ہے تو پیڑ ہے۔ جڑ نہیں تو پیڑ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ پیڑ کے پھل دینے کی صلاحیت جڑ کی مرہون منت ہے۔ اسی طرح سیاسی پارٹیوں میں کارکنوں کی حیثیت جڑ کی سی ہے۔ لیڈر شپ سیاسی کارکنوں کے بغیر بیکار ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے کارکن لیڈر کے بال و پر ہوتے ہیں جو اس کو اونچا اڑاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے مرید اپنے پیر کو اونچا اڑاتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی 22 سالہ جہد مسلسل سے کارکنوں کی ایک نسل تیار کی جس نے عمران خان کی آواز پر لبیک کہنا اپنا اولین فرض سمجھا۔ کارکنوں کا یہ دل پذیر نعرہ خان کا غرور ہے کہ ”خان تیرا ایک اشارہ حاضر ہے لہو ہمارا“ یہ ایک لیڈر کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے کارکن ہمہ وقت اپنا لہو دینے کو تیار ہوں۔ سیاسی پارٹیاں لیڈر نہیں درحقیقت کارکن بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیپلزپارٹی کو دیکھیں لیڈر شپ تو موجود ہے لیکن لیڈر شپ کے نیچے سے کارکن غائب ہوگیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کارکن مایوس ہوکر پی ٹی آئی کا حصہ بن گئے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی مضبوط ہوگئی۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی سیاسی طور پر بانجھ ہوگئی لہٰذا عمران خان کو اپنے کارکنوں کے جذبات کو سنبھالا دینا ہوگا اور ان کی وفاداری کو بھی قدر شناس نگاہوں سے دیکھنا ہوگا۔ نجانے کن نفوسِ قدسیہ نے عمران خان کو اس احساس تیّقن میں مبتلا کیا کہ کارکنوں اور مخلص و وفادار ساتھیوں کے بغیر نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ الیکشن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مکمل طور پر انتخابی سیاست سے دور رکھا گیا تمام ٹکٹ چند ایک کے سوا الیکٹیبلز کو دیئے گئے۔ سنٹرل پنجاب اور دیگر کئی اضلاع میں تنظیمی فقدان کی وجہ سے پی ٹی آئی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ قصور میں تو ایک پرانے سیاستدان نے الیکشن کے دنوں میں خماری میں یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے جیتنے کیلئے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ضرورت نہیں جس کے نتیجے میں ”ن لیگ“ کے کل کے مُنڈے سے 80 ہزار ووٹوں سے ہار گئے اتنے بھاری ووٹوں سے ہارنا ایک سوالیہ نشان ہے جتنے ووٹوں سے ن لیگ کا یہ لونڈا جیتا ہے اتنے ووٹ تو کبھی بھٹو کو بھی نہیں پڑے بہرحال پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بے چینی اس وقت عروج پر ہے۔ کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے سے متعلق کوئی لائحہ عمل ابھی تک واضح نہیں ہوسکا۔ مخصوص نشستوں پر جن خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی ان کا ازالہ بھی ابھی تک نہیں کیا گیا۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست بنانے کی ذمہ داری منزہ حسن‘ عالیہ حمزہ اور شمسہ علی کو سونپی گئی تھی جنہوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فہرست مرتب کی جس پر پی ٹی آئی کی کارکن خواتین میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور خواتین کی طرف سے منزہ حسن‘ عالیہ حمزہ اور شمسہ علی کی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا اور اس سلسلے میں عمران خان سے بالمشافہ ملنے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے شکایات سیل کے ہیڈ ارشد داد کو خواتین کی طرف سے مشترکہ اور انفرادی درخواستیں دی گئیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ ارشد داد صاحب جلد اس پر اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کی جو پہلی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی اس میں سیالکوٹ کی مومنہ وحید کا نام 24 نمبر پر کیسے ڈالا گیا‘ یہ ایک معمہ ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ موصوفہ نے اپنا نام ڈلوانے کیلئے کون سے ذرائع استعمال کئے جبکہ پہلی فہرست الیکشن کی طرف سے دی گئی آخری تاریخ میں جمع کروائی گئی تھی۔ تاریخ گزرنے کے بعد فہرست میں کوئی ردوبدل ممکن نہیں تھا لیکن آخری تاریخ گزرنے کے باوجود فہرست میں ایک نام کا اضافہ ہوگیا کیسے؟؟؟ الیکشن کمیشن کو دی گئی فہرست میں ایک دلچسپ پہلو یہ تھا خواتین جن ناموں سے عرف عام میں پہچانی یا پکاری جاتی تھیں انہی ناموں سے فہرست مرتب کی گئی جبکہ شناختی کارڈ پر بہت سی خواتین کے نام کچھ اور تھے‘ جن کی تصحیح بعد میں کی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کو دی گئی درخواستوں کو کھولا بھی نہیں گیا اور نہ ہی انہیں پڑھا گیا اور بہت سی خواتین نے تو پارٹی فیس بھی نہیں دی۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اس وقت آخری امید گورنر پنجاب چودھری سرور بنے ہوئے ہیں۔ چودھری سرور ایک خوش اخلاق‘ ملنسار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور کارکنوں کی ہردلعزیز شخصیت ہیں۔ 5 ستمبر کو چودھری سرورنے اپنی حلف برداری کی تقریب میں سارے پنجاب سے کارکنوں کو مدعو کیا ہوا تھا۔ حلف برداری کی تقریب ان کے عوامی سیاستدان ہونے کی دلیل تھی۔ وہ کارکنوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اکثر کہتے ہیں پاکستان تحریک انصاف ایک خوش قسمت جماعت ہے جس کے پاس بے شمار جانثار کارکن موجود ہیں۔ چودھری سرور صاحب کی کارکنوں میں پذیرائی کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کارکنوں کے ساتھ ملاقات کے لئے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ سرور صاحب پی ٹی آئی کے واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے ملاقاتیوں کیلئے ایک باقاعدہ سسٹم بنا رکھا ہے۔ ان کا پی اے کاشف بلا تخصیص کارکنوں سے ملاقات کیلئے ٹائم مقرر کرتا ہے جبکہ موسیٰ فوٹوگرافی کے فرائض سرانجام دینے میں پیش پیش ہوتا ہے۔ ہر ملاقاتی کی تصویر سرور صاحب کے ساتھ ان کے پاس محفوظ ہوتی ہے۔ گورنر سرور صاحب کو برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پہلے مسلم رکن اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سرور صاحب کو پی ٹی آئی کے پہلے سینیٹر اور پہلے گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرور صاحب اور ان کی اہلیہ بیگم پروین سرور صاحبہ پاکستان میں کئی فلاحی منصوبوں پر کام کررہے ہیں جس میں صاف پانی کے پلانٹ اور ہنرگاہ کے نام سے سلائی کڑھائی کے کئی مراکز شامل ہیں۔ سرور صاحب خدمت کے جذبہ کے ساتھ پاکستان میں موجود ہیں۔ اب یہ پی ٹی آئی پرمنحصر ہے کہ وہ سرورصاحب کی صلاحیتوں سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(کالم نگارسماجی ورکر اورتحریک انصاف کی رہنما ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved