تازہ تر ین

الیاس شاکر کا سفر آخرت

مختار عاقل …. دوٹوک
دن کاٹے ۔ حیدر آباد واپس آئے تو معروف سیاستدان نواب مظفر حسین خان اپنی مشہور پارٹی ”مہاجر ‘پنجابی ‘پٹھان متحدہ محاذ“ بنا چکے تھے ۔ الیاس شاکر اس کے طلبہ ونگ ”مہاجر پنجابی پٹھان اسٹوڈنٹس محاذ میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں شریک ہو گئے ۔ کتب بینی سے عشق انہیں صحافت کی طرف لے آیا۔ اسی دور میں بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد المعروف نوستاروں کی تحریک شروع ہو گئی ۔ اب الیاس شاکر کا محاذ سیاست نہیں صحافت تھا ۔ حیدر آباد کے مقامی اخباروں میں خبر نویسی کا سلسلہ شروع کیا ۔ جنرل ضیاءالحق نے بھٹو حکومت ختم کرکے مارشل لاءلگایا تو لاہور کے مشہور صحافی ضیاءشاہد کا ہفت روزہ ”صحافت“ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا ہوا تھا بھٹو حکومت کے جو اسکینڈل اس ہفت روزہ کی اشاعت دن رات بڑھا رہے تھے ۔ الیاس شاکر کا صحافت کے مدیر اور ناشر ضیاءشاہد سے رابطہ ہوا تو انہوں نے حیدر آباد چھوڑ کر کراچی میں ڈپٹی ایڈیٹر کی ذمہ داری سونپ دی ۔ سیاست سے لگاﺅ اور صحافت کا جنون 1977ءمیں انہیں کراچی لے آیا جہاں نہ گھر تھا اور نہ کوئی ٹھکانہ ‘ اس کسمپرسی کے دور میں ساﺅتھ ایشیا سالیڈریٹی کے روح رواں عبدالمالک ‘ سیاستدان عمر سیلیا اور ٹےلیفون یونین کے معروف لیڈر حاجی محمد یونس نے ان کا ہاتھ تھاما ‘ بودو باش کی فکر سے آزاد کیا اور الیاس شاکر کا کاٹ دار قلم صحافت کی سنگلاخ سر زمین پر سرپٹ دوڑنے لگے ۔ ہمسفر ملتے گئے کارواں بنتا گیا ۔ الیاس شاکر جلد ہی کراچی کے سیاسی و صحافتی حلقوں کی جان بن گئے ۔شب روز محنت ان کی پہچان بن گئی ۔ کراچی جیسے بحربیکراں میں ان کا نام مشہور ہوتا چلا گیا ۔ الیاس شاکر ایک بہادر اور فائٹر قلمکار تھے ۔ دھن کے پکے اور مقصد کے حصول کے لیے ہر شے قربان کرنے والے ‘ ان کی شخصیت کا یہ پہلو ان کی ہر سرگرمی پر حاوی تھا ۔ انہوں نے نوائے وقت میں بھی کافی عرصہ برق رفتار رپورٹر کی حیثیت سے وقت گزارا ۔ ایک مرتبہ نوائے وقت کے ایک رپورٹر کی موٹر سائیکل ہنگاموں کے دوران چھین گئی وہ غیر مسلح اور تنہا الیاس شاکر کو اپنی مدد کے لیے اس علاقے میں لے گیا ۔ یہ بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے گئے اور محض الفاظ کی تلوار سے جبر کی زنجیر کاٹ کر موٹر سائیکل بازیاب کرا لائے ۔ میرا اور الیاس شاکر کا ساتھ حیدر آباد کے سٹی کالج سے قائم ہوا اور ان کی زندگی کی آخری سانسوں تک بر قرار رہا ۔ انہوں نے دو سال قبل اگست 2016ءمیں پروسٹیٹ کا آپریشن آغا خان اسپتال سے کرایا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔ ان کا اندرونی انفیکشن بڑھتا ہی چلا گیا ۔ گزشتہ آٹھ ماہ سے وہ تنہائی اور فرسٹریشن کا شکار تھے ۔ بیرونی دنیا اور دوستوں سے بہت کم رابطہ کرتے تھے ۔ خود سے ملاقاتوں پر از خود پابندی لگادی تھی ۔ اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکریٹری سرمد علی نے بہت کوشش کی کہ وہ بیرون ملک علاج پر آمادہ ہو جائیں لیکن انہوں نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی ۔ حمید ہارون ستمبر میں ان کی زندگی اور شاندارن جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک بڑا پروگرام منعقد کرنا چاہتے تھے لیکن الیاس شاکر اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے اور جمعہ کی شب سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ستمبر ان کے لیے ستمگر ثابت ہوا ۔ ”قومی اخبار“ کے پلیٹ فارم سے وہ صحافتی لیجنڈ تھے ۔ 1988ءمیں راقم الحروف اور الیاس شاکر نے مل کر اس اخبار کا آغاز کیا تھا ۔ ہماری شب و روز محنت رنگ لائی اور یہ اخبار گزشتہ 30برس سے سندھ کے آسمان صحافت پر روشن ستارے کی طرح جگمگا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست سمیت کئی اخبارات اور ”دھوم“ ٹیلی ویژن چینل بھی ہمیشہ الیاس شاکر کی یاد دلاتے رہیں گے ۔ اور ہماری مثالی دوستی کی گواہی دیں گے ۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved