تازہ تر ین

مرے خدا‘ یہ سخن کس کے کام آئے گا؟

اعتبار ساجد……..قلم کہانی
جب ہم نے لکھنا پڑھنا شروع کیا تو قدرتی طور پر دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ جلد از جلد مشہور ہو جائیں اور ان ادیبوں میں اٹھنے بیٹھنے لگیں جن کی عمریں ہم سے دس دس پندرہ پندرہ سال بلکہ اس سے زائد تھیں۔ نہ ہمارے پاس سفارش تھی۔ نہ ذرائع تھے نہ وسائل تھے نہ تعلقات تھے جن کے بل بوتے پر ادیبوں میں اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوتے۔ سچی بات یہ تھی کہ اتنی سوجھ بوجھ اور صلاحیت ہی نہیں تھی کہ کوئی ڈھنگ کا فقرہ یا قرینے کا مصرعہ لکھ سکیں۔ مطالعہ محدود‘ سکول کی طالب علمی کا زمانہ ابھی بالائی لب پر مونچھیں بھی نمودار نہیں ہوئی تھیں صرف ہونٹوں کے دائیں بائیں ہلکے ہلکے روش نمودار ہوئے تھے۔ چہرہ بچوں جیسا لگتا تھا۔ تھے بھی بچے (اب کونسے بڑے ہو گئے ہیں؟) لیکن تب کی بات ظاہر ہے کہ ناپختگی کی عمر تھی۔ عشق وغیرہ کا تو موقع نہیں ملا۔ کیونکہ گھر کا ماحول سخت مذہبی اور اخلاقی تھا۔ بچوں کے وسائل وغیرہ پڑھنے کی صرف اس حد تک اجازت تھی کہ سکول کی پڑھائی میں ہرج نہ ہو۔ تمام کلاس فیلوز دوست تھے لیکن ادبی مطالعے سے بھاگتے تھے۔ نصابی کتابوں کی حد تک محدود رہتے تھے۔ اسی زمانے میں (اب پروفیسر‘ ڈاکٹر) صلاح الدین حیدر اقبال ارشد ملتان کے سینئر ترین شاعر بہت ہنسوڑ اور زندہ دل۔ پھر خالد شیرازی ملا۔ (اب غالباً ریڈیو پاکستان کے اسٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہو چکا ہے) پروفیسر ڈاکٹر شوذب کا بڑا بھائی کہلانے کا شرف حاصل ہوا۔ معتبر شاعر نذیر قیصر (جو اب مستقلاً لاہور منتقل ہو چکا ہے) ان لوگوں کی صحبتیں اور دوستوں نے لکھنے پڑھنے کی تحریک میں تیزی پیدا کی۔ ابتدا ہم نے افسانہ نگاری سے کی۔ خالد شیرازی کو دکھائے تو اس نے بڑی واہ واہ کی۔ حیران بھی ہوا۔ کاپی ہم سے لے کر رکھ لی کہ پھر پڑھ کر واپس کردوں گا۔ کئی دہائیاں گذر گئیں یہ کاپی آج تک واپس نہیں ملی۔ البتہ بھائی ذین صدیقی اور ایاز صدیقی کی بیٹھک مل گئی۔ جہاں شہر بھر کے ادیب‘ شاعر اور صحافی باقاعدگی سے ہر شام جمع ہوتے اور رات گئے تک یہ نشست چلتی رہتی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے تلفظ کی املا خاصی حد تک درست ہوئی۔ جب یہ دیکھا کہ افسانہ سننے کا کسی کے پاس وقت نہیں تو اندر کا شاعر ہمک کر باہر آگیا۔ مگر پخت کار شاعروں کے مجمع میں اس بے چارے کی کون سنتا اور کیوں سنتا؟ جھاڑیں اور جھڑکیاں البتہ بے بھاﺅ ملتی رہیں۔ اور اعزازیہ ہے کہ حضرت احسان دانش کی طرف سے یہ تحفے زیادہ وصول پائے کیونکہ وہ ان دنوں ہرہفتے ملتان آتے تھے اور ایاز بھائی کی بیٹھک میں ان کا قیام ہوتا تھا۔ اﷲ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ شفیق اور باکمال بزرگ تھے۔ اس بیٹھک نے صحیح معنوں میں میری علمی و ادبی تربیت کی جسے میں احسان بلکہ احسانات کے زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ سفر جاری ہے۔ کہانی لمبی ہے۔ کہاں ٹھہرے‘ کہاں چلے‘ کہاں ٹھٹکے‘ کہاں ٹھوکر کھائی‘ کہاں بیٹھے‘ کہاں کود اٹھے۔ کسی نے اٹھانے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ گرانے والے بے شمار ملے اور اتنے ملے کہ کسی ایک کا نام بھی یاد نہیں۔ البتہ جنہوں نے حوصلہ دیا۔ آنسو پونچھے ہمت بڑھائی ان سب کے نام وردِ زباں ہیں۔ سالہا سال بیتنے کے باوجود وہ مجھے یاد ہیں اور یاد رہیں گے ہمارے بعد بہت سے لوگ میدان ادب میں آئے۔ ان کے لئے ایک غزل کئی برس پہلے کہی تھی جس کا مطلع یہ تھا۔
بھٹک نہ جائے‘ نظر کی پناہ میں رکھنا
وہ دُور ہے جو ستارہ نگاہ میں رکھنا
یہ گائیڈ لائن تھی نواردانِ بساط ادب کیلئے کئی برس پہلے کی یہ سوچ آج بھی اپنے آپ پر منطبق کرتا ہوں کہ منزل اور مقصد کو سامنے رکھو۔ سفر جاری رہنا چاہئے اور ستارہءمنزل کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی دہائیوں سے قلم کے اس ریگ زار کا مسافر ہوں اور کبھی نہیں سوچا ہے
تھک چکا طولِ مسافت سے مرا دل‘ مری جاں
اب کوئی سایہءدیوار میسّر آئے
سایہ ءدیوار نہ پہلے درکار تھا نہ اب ہے۔ سفر مسافر کا سبق پہلے بھی تھا۔ اب بھی ہے۔ البتہ اﷲ سے یہ دعا ضرور مانگتا رہتا ہوں۔
اگر نہ فائدہ بخشے تو ڈوب جائے گا
مرے خدا‘ یہ سخن کس کے کام آئے گا
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں نے اب مشقت کرنی چھوڑ دی ہے۔ راتوں رات شہرت چاہئے۔ لیکن اچھی طرح جانتا ہوں کہ راتوں رات کا سفر نہیں‘ برسوں کا سفر ہے۔ محنت‘ مشقت‘ جستجو اور لگن کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کچھ لوگ عارضی اور وقتی شہرت پر خوش ہو جاتے ہوں لیکن یہ ”ہوائی شہرتیں“ کس کام کی۔ جو دو چار برس بھی شہرت یافتگان کو زندہ نہ رکھ سکیں۔!
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved