تازہ تر ین

اپنے ملک کی خدمت ہم پرفرض ہے

تحسین بخاری….درد نگر سے
ورلڈ کپ جیتنے کے بعد 1992میں جب شوکت خانم ہسپتال کیلئے چندہ مہم کے سلسلے میں عمران خان صاحب جمالدین والی آئے تب میں دسویں جماعت کا طالبعلم تھا ۔دیگر طالبعلموں کی طرح میں بھی عمران خان سے آٹو گراف لینے میں پیچھے نہ رہا، میرے ہاتھ میں لال ورقوں والی کاپی تھی جسے ہم رف کاپی کہتے تھے ،یہ کاپی میری زندگی کی حسین یاد گار اس لیے ہے کہ ایک تو عمران خان صاحب کا آٹو گراف اس پہ درج ہے اور دوسرا اس کاپی پر فتو وال سے تعلق رکھنے والے میرے ریاضی کے استاد مجید صاحب جب سوال کرواتے تھے تو سوال نہ آنے پر بانس والے پیلے ڈنڈے سے میرے ہاتھ لال کر دیتے تھے کیونکہ میں ریاضی میں ایسے کمزور تھا جیسے صحت کے لحاظ سے قائم علی شاہ صاحب یا پھر یوں کہ لیں کہ میں ریاضی میں ایسے نا اہل تھا جیسے پاناما کیس میں نواز شریف ۔خیر میں نے وہ کاپی آگے بڑھائی تو عمران خان نے اس پر جو لکھا وہ آٹو گراف آج بھی میرے پاس کسی قیمتی چیز کی طرح محفوظ ہے ۔اس آٹو گراف سے عمران خان کی سوچ،ملک سے محبت اور ان کاو ژن صاف جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔مگر میں آٹو گراف کا وہ جملہ آپ کو اپنے کالم کے اختتام پر بتاﺅں گا کیونکہ جس طرح مداری اپنی پھکی بیچنے کیلیے مجمع کو آخر تک بٹھائے رکھنے کی خاطر ایک پٹاری کو سسپنس بنا کر رکھتا ہے کہ اس پٹاری میں سینگوں والا سانپ ہے جو میں آپ کو کچھ دیر بعد دکھاﺅں گا اور پھر مجمع مداری کی ساری پھکی بک جانے تک اس لیے منتشر نہیں ہوتا کہ وہ سینگوں والا سانپ دیکھ سکے تو میں نے بھی یہ آٹو گراف والی پٹاری آخر میں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آپ کو اپنا کالم مکمل پڑھوا سکوںورنہ تو آپ میرے کالم کو بور کالم کہہ کر اخبار سائیڈ پر رکھ دیں گے ۔تو جناب آپ ذراتھوڑا او رآگے ہو جائیے تاکہ میں بھی اپنی پھکی کا تعارف کروا سکوں ۔یہ پھکی عام پھکیوں سے ذرا مختلف ہے عام پھکی اس کو فائدہ دیتی ہے جو اسے استعمال کرتا ہے جبکہ مشور ہ نامی اس پھکی کا کمال یہ ہے کہ اس کو استعمال ہمارے وزیرعظم اور ان کی ٹیم کرے گی اور فائدہ پوری قوم کو ہوگا۔کیونکہ زخم خوردہ پاکستانیوں کوعمران خان سے بہت سی توقعات ہیں اور ملک بھی اس وقت ہر لحاظ سے مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے جسے نکالنے کیلیے سخت ترین محنت کی ضرورت ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ہر سیاسی گدھ نے لا وارث سمجھ کراپنی مرضی سے اس کا خون چوسا ،دوسری پارٹی نے دیکھ کر واویلا کیا تو ستم رسیدہ پاکستانی عوام نے اسے ہی اپنا مسیحا جان کر اقتدار کی چھڑی اس کے حوالے کردی مگر اس نے بھی وہی کیا جو اس سے پہلے والے کر رہے تھے اور پھر یہ ہواکہ دونوں نے ایک باری تیری ایک میری پر مک مکا کر لیااور مل کر اسے خوب لوٹا ،جب چور اور چوکیدار ہی آپس میں مل جائیں توپھر اللہ ہی حافظ ہے۔عمران خان نے یہ سب دیکھا اور واولا شروع کیا تو پہلے والوں سے مایوس قوم نے اس کی بات پر بھی کوئی خاص توجہ نہ دی مگر مسلسل 22سال کی وطن عزیز کے حق میں جدو جہد دیکھ کر قوم نے اسے کپتان بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
کون سا تھانہ ہے جس کی حدود میں منشیات اور فحاشی کے اڈے قائم نہیں ہیں ،کارکردگی دکھانے کیلیے پولیس محض اس اڈے پر چھاپہ مارتی ہے جو مہینے کی پہلی تاریخ کو حصہ پنہچانا بھول جائے کیا کبھی کسی ایس ایچ او سے باز پرس ہوئی کہ تیرے تھانے کی حدود میں یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟سرکاری دفتروں میں جائیں تو سرکاری ملازمین اور افسران غریب آدمی سے ایسے پیش آتے ہیں جیسے وہ غلطی سے وہاں چلا گیا ہو ۔خان صاحب آپکو انتہائی سخت قسم کے صرف چند فیصلوں کی کڑواہٹ برداشت کرنی ہوگی پھر یہ ملک خود بخود ہی سیدھی ڈگر پر چل پڑے گا آپ اعلان کردیں کہ جس تھانے کی حدود میں منشیات اور فحاشی کا اڈہ نظر آیا وہ ایس ایچ او جیل میں ہوگا ،عطائی کا کلینک دکھائی دیا تو ڈرگ انسپکٹر اور اس کی تمام فیملی اسی عطائی سے علاج کروانے کی پابند ہو گی،کہیں مردہ جانور کا گوشت فرخت ہونے کی اطلاع ملی تو اسی علاقے کے لائیو سٹاک آفیسر کوو ہی گوشت عوام کے ہجوم میں کھلایا جائے گا ، پانی چوری کا واقعہ پیش آیا تو وہاں کے ایس ای ، ایکسئین کو معطل جبکہ ایس ڈی او اور اوور سیئر کو اسی پانی میں ڈبکیاں دی جائیں گی،بچیوں کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تو مقدمہ وہاں کے ایس ایچ او پر ہو گا ،کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ پکڑی گئی تو ایک ماہ تک ملاوٹ کرنے والے کو وہی چیزیں استعمال کرنا ہوں گی جس کی نگرانی ایک کمیٹی کرے گی۔ چیزوں کا ریٹ زیادہ وصول کرنا پایا گیا تو اس کی سزا یہ ہو گی اسے اپنا اڈہ ہمیشہ کیلیے بند کر کے کوئی اور کام کرنا ہوگا ۔خان صاحب اگر آپ اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں میں دو چار ایسے کام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دیکھیں کہ کیسے ترقی نہیں ہوتی اور کیسے سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا پھر یہ قوم آپ کوجھولیاں اٹھا کر دعائیں دے گی ،اور قائد اعظم کی روح بھی آپ کوشاباش دے گی اور پھر 2023کا الیکشن بھی آپ سے کوئی نہیں لے سکتا ۔تو قارئین کرام اس امید کے ساتھ کہ خان صاحب اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کیلیے تلخ فیصلوں کے کانٹے داروں راستوں پر قدم رکھنے سے ہرگز نہیں ہچکچائیں گے ۔اجازت لینے سے پہلے میںخان صاحب کے 22حروف والا آٹو گراف آپ سے شیئر کرتا چلوں جس کی وجہ سے آپ نے میرا پورا کالم برداشت کیا تو قارئیں 22رنز سے پاکستان کو عالمی چمپئن بناکر 22سالہ جدود جہد کرنے والے ملک کے 22ویں وزیراعظم کا 22حروف پر مشتمل جو آٹو گراف تھا وہ کچھ یوں تھا ۔
(اپنے ملک کی خدمت ہم پرفرض ہے)
(سیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved