تازہ تر ین

چالباز افسروں سے ہوشیار

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
انڈین سول سروس ، برصغیر میں انگریز حکمرانی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، شروع شروع میں یہ مکمل انگریزوں پر مشتمل تھی مگر دوسری جنگ عظیم تک اس میں بہت اونچی ذہانت رکھنے والے مقامی نوجوان بھی نظر آنا شروع ہوگئے تھے ، انگریز راج کی سرپرستی میں اس سول سروس کی انتظامیہ بے مثال رہی ، کبھی کبھار تو جزیرہ برطانیہ کا نظم و نسق چلانے والے گورے افسران بھی انڈین سروس کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے، پاکستان بنا تو چند سول افسران پاکستان کو بھی ملے ، آزادی کے شروع کے کٹھن برسوں میں اسی سول بیوروکریسی نے اپنی انتہائی مہارت سے ایک نوزائیدہ ملک کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کردیا، ایوب خان کے وقت کا طاقتور اور خوشحال پاکستان ساری دنیا کا مرکز نگاہ ، یہ پاکستان سول اور ملٹری سروسز کی انتھک کوششوں ، لگن اور محنت سے وجود میں آیاتھا، ایوب خان کے بعد کا پاکستان جونہی ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں گیا، یہیں سے وطن عزیز کے ہر ادارے بشمول سول سروسز آف پاکستان کا بیڑہ غرق کردیاگیا، ایوب خان دور کے ریلوے، واپڈا، پی آئی اے وغیرہ جوکہ پاکستان کے قابل فخر اداروں میں سے تھے ہماری بیوروکریسی نے ہمارے حکمرانوں کے ساتھ غلامانہ رویہ اپنا کر برباد کرکے رکھ دیئے، بربادی کی، دیگر وجوہات میںان اداروں میں مادر پدر آزاد بھرتیاں تھیں جن کے ذریعے ہزاروں بے ہنر افراد اور نکھٹو روحوں سے یہ محکمے بھر دیئے گئے، یہ ناسور آتے ہی محکموں کو لوٹنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے تھے، شاطر افسر شاہی نے اپنے اپنے پیٹ خوب بھرے رکھے، سیاستدانوں کے منہ میں بھی کچھ نہ کچھ ڈالتے رہے ، مگر ریلوے ، واپڈا اور پی آئی اے جیسے قابل فخر ٹائی ٹینک ادارے ڈبو دیئے گئے ، نتیجے میں ملکی معیشت کا ٹائی ٹینک بھی غرقاب ہوگیا، اس سب کے باوجود حرامخور خوشامدی بیوروکریٹس نے اپنے اللے تللے ، دن رات بیرونی قرضے اٹھا کر جاری رکھے اور اس وقت جس حال میں وطن عزیز معاشی طور پر پہنچ چکا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے، اس ساری معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ یہی خونخوار پاکستانی بیوروکریسی ہے کہ اس نے اتنے بے پناہ اندرونی و بیرونی قرضے قوم کی کمزور گردن پر یوں لاد دیئے کہ ان سے اب ملکی سلامتی اور آزادی بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔
ایسی ہی مشکل اندرونی صورتحال کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف ”تبدیلی“ کا نعرہ لگاکر الیکشن جیت کر اب میدان عمل میں اتر چکی ہے ، سندھ کے علاوہ مرکز اور باقی صوبوں میں اس پارٹی کی حکومتیں بن چکی ہیں، یہاں تک تو سب ٹھیک ہے ، اب اگلا مرحلہ پہلے ہی سو دن کی حکومت میں یہ ہے کہ اپنے تبدیلی کے نعرے کو کیونکر وطن عزیز میں آگے بڑھایا جائے، ہولناک قسم کے اندرونی و بیرونی قرضے، کوئی آدھے ارب سے اوپر کا خوفناک گردشی قرضہ، ایک مگرمچھ کی طرح سارا کچھ ہڑپ کرنے کو منہ کھولے کھڑا ہے ، اوپر سے تباہ حال ادارے جس کی تازہ ترین مثال سرکاری پی ایس او ہے اس کو دوچار دن قبل ہی سانس چلانے کیلئے فقط دس ارب جاری کئے گئے ہیں، یہ انہی درجنوں برباد کئے گئے اداروں میں سے ایک ہے جس کی تباہی کی پہلی اینٹ بھی بھٹو دور میں رکھی گئی تھی اور جن کا ابھی اوپر تذکرہ کیا جاچکا ہے ، بر سبیل تذکرہ اسی پی ایس او کے جسم کی آخری سانس بھی جناب زرداری نے ڈاکٹر عاصم حسین کے توسط سے اور اسی روائتی افسر شاہی کی مکاریوں کے سہارے اپنے پچھلے دور میں کھینچی تھی، ڈاکٹر عاصم تو اب اس کو نیب عدالتوں میں دن رات بھگت رہا ہے ، زرداری بھی نیب کے راڈار پر ہے مگر یہ مکروہ افسران ابھی تک ڈاکے کا کھرا اپنے سے دور رکھنے میں تاحال کامیاب نظر آتے ہیں۔
بہرحال جونہی پچھلی شریف حکومت کے خلاف ہوا نے رخ بدلا ، ان دونوں بھائیوں کے سیاہ کارنامے بھی عوام پاکستان کے آگے کھلنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ بڑے شریف کا افسر فواد حسن فواد اور چھوٹے شریف کا بیوروکریٹ احد چیمہ نیب کی حراست میں زیر تفتیش آچکے ہیں ، شنید ہے کہ دونوں سلطانی گواہ بننے کی شرط پر سب کچھ اگلنے کو تیار ہیں۔
ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ مکار افسر شاہی نے گوکہ ”تبدیلی “ کا نعرہ عمران کان سے سن رکھا ہے ، مگر جونہی عمران خان نے عوام پاکستان کو بلدیاتی سطح پر بااختیار کرنے کی طرف قدم بڑھایا، ان افسروں نے ہر حیلے بہانے سے اس کو اسی طرح ناکام بنانے کی سعی کرنی ہے، جس طرح پرویز مشرف کے ایوان صدر میں موجود ہونے کے باوجود ”رولز“ بنانے کے بہانے اس کے ناظمی سسٹم کا جنازہ نکال کر رکھ دیاتھا، عمران خان نے مغربی ممالک میں وہاں کا بااختیار بلدیاتی نظام دیکھ رکھا ہے ، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ معاشرے کی ترقی اسی ” بااختیار بلدیاتی نظام “ کی مرھون منت ہوتی ہے، جس میں کہ اسمبلیوں کا کام فقط قانون سازی کے اور کچھ نہیں ہوتا، ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلے میں صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی پانچ سالہ کارکردگی ، ناظموں اور بلدیات کے حوالے سے کچھ ایسی قابل رشک نہیں رہی، اس ناکامی کے پیچھے بھی یہی بیوروکریٹس اور کسی حد تک کوتاہ نظر صوبائی حکمران تھے، کیا اب مرکز اور تین صوبوں میں حکومتیں بنانے کے بعد بااختیار مقامی حکومتوں کی جانب تحریک انصاف کوئی پیش رفت کر پائیگی یا نہیں ؟ اسی ایک نقطے سے وطن عزیز کی تباہ حال معیشت و معاشرت جڑی ہوئی ہے ،اور یہ جنگ اکیلے عمران خان نے اپنے ملک کے جملہ بددیانت افسران سے لڑنی ہے ، اگر وہ اس جنگ میں افسر شاہی پر فتح پاگیا تو پھر سمجھ لیں کہ یہ وطن بچ بھی گیا اور ترقی کی منازل بھی طے کرتا جائیگا، اور اس جنگ میں جزوی فتح رہی اور افسران اپنے اختیارات بچانے میں کامیاب ہوگئے تو وطن عزیز میں تاریکیاں اور بھی گہری ہو جائیں گی ، ہماری نگاہ میں صوبہ سرحد میں مقامی حکومتوں کے حوالے سے تحریک انصاف قطعاً کامیاب نہیں ہوسکی تھی اور اسی وجہ سے وہاں ”تبدیلی “ کا نعرہ اپنی پوری آب و تاب سے پانچ برس میں بھی جگمگا نہ سکا ، یہ کامیابی یا ناکامی کا معیار جانچنے کیلئے تھرمامیٹر کونسا ہوتا ہے ؟ اس میں بھی ہماری رائے بہت صاف ہے ، جب بھی کوئی وزیراعظم یا بااختیار صدر، بیوروکریسی کے مشورے پر محکموں پر ”ذاتی نگرانی“ کا نعرہ جڑنے لگے، سمجھ لو کہ افسران نے اس حکمران کو ”چکرا“ کر رکھ دیا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب صدر ضیاءالحق ذاتی نگرانی میں ہر محکمے حتیٰ کہ ریڈیو اور ٹی وی تک کا ”قبلہ درست“ کرنے کو ذاتی طور پر نکل پڑا تھا ، اس کی ” صدارت “ وہیں ڈول گئی تھی ، جب جنرل مشرف نے ذاتی طور پر سندھ میں ”کالاباغ ڈیم“ کی افادیت پر لیکچر دینے اور ذاتی طور پر نہروں کے کھالوں کی صفائی پر اپنے تئیں مامور کیا تھا ، وہ وہیں پر اپنے منصب سے بھٹک گیاتھا، اور جب عمران خان بھی ذاتی نگرانی میں” ایف بی آر“ یا ”ایف آئی اے“ وغیرہ کو دیکھنے کیلئے وزارت داخلہ کو اپنے پاس رکھے گا تو یہ بھی انہی مکار افسروں کی خوشامد اور اس کے باوصف راہ راست کو کھو دینے کی طرف ایک حرکت ہوگی، سمجھ لو کہ ایسا سوچنے اور کرنے والا چیف ایگزیکٹو اب بیوروکریسی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکا ہے اور اس کے ذہن و دماغ کو مکاری کی بین بجاکر مست و جذب میں مبتلا کردیاگیاہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر چیف ایگزیکٹو (مرکزی و صوبائی ) اپنی اپنی کابینہ پر بھروسہ رکھ کر ان کو کام کا موقع دیں ، ہر چیف ایگزیکٹو اپنی اپنی ترجیحات سے متعلق کابینہ کو آگاہ کریں اور پھر افسروں کی بجائے اپنی اپنی کابینہ کے کام پر ذاتی نظر رکھیں ، رہ گئی پہلے سو دنوں کی بات ، تو یہ بھی ایک درست ضرب المثل ہے، اگر آپ نے اپنی صحیح ترجیحات کابینہ کو سمجھا دیں تو پھر اس کی سو دنوں کی مانیٹرنگ یا جائز نگرانی کے بعد قوم پر یہ واضح ہو جائے گا کہ ان کا وطن اور معاشرہ صحیح سمت کو نکل پڑا ہے کہ نہیں، اور کسی بھی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا رول سوائے اس کے کچھ اور نہیں ہونا چاہئے ،تو اسی سے ملک میں جمہوریت ، حکومت معیشت اور معاشرت ٹھیک رہ سکے گی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved