تازہ تر ین

نیا نظام عدل

توصیف احمد خان

عدلیہ کا ایک اور سال ختم ہوگیا، نئی امیدوں اور نئی توقعات کے ساتھ ایک نئے سال کی صبح گذشتہ روز طلوع ہوچکی ، ہماری بارلی تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس صبح کو روشن، چمکدار اور انصاف کے حوالے سے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا سبب بنادے…انصاف کسی بھی قوم ، ملک اور علاقے ہی نہیں فرد کی بھی بنیادی ضرورت ہے اور ہمارے جیسے ملکوں میں تو اجتماعی سے زیادہ یہ انفرادی مسئلہ ہے کہ افراد انصاف کی آس میں بوڑھے ہوجاتے ہیں ، پھر ان کی اولادیں جوان ہوتی ہیں ، ان پر بڑھاپا طاری ہوتا ہے اور جب تیسری نسل عالم وجود میں آتی ہے تو سوچا جاتا ہے کہ اسے انصاف ملتا ہے کہ نہیںاور کیا وہ انصاف کی حتمی منزل یعنی فیصلے کی سطح تک پہنچ پائے گی، جن قوموں اور ممالک میں انصاف ناپید ہو یا ادھورا انصاف مل پائے وہ قومیں کبھی پائیداری او ر استحکام کی معراج تک نہیں جاسکتیں، عروج وہی قومیں حاصل کرتی ہیں جہاں انصاف کا دور دورہ یا بول بالا ہو۔
انصاف کے نئے سال کے آغاز پر گذشتہ روز ایک فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں جج صاحبان کے علاوہ بار کے عہدیداروںنے بھی شرکت کی، اس میں کئی ایک حضرات نے خطاب کیا اور آخری خطاب محترم چیف جسٹس کا تھا، جنہوں نے بہت سی خوش کن توقعات کا اظہار کیا لیکن اس نئی صبح کی آمد سے ایک روز قبل سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کی جو تعداد بتائی گئی اس سے بہت کچھ عیاں ہو جاتا ہے ، اس وقت صرف سپریم کورٹ میں چالیس ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، اگر پانچوں ہائیکورٹس کے اعداد و شمار سامنے آجائیں تو وہ یقینا پانچ کا عدد عبور کرکے چھ کے عدد میں چلے جائیں گے ، زیریں اور ماتحت عدالتوں کا تو کوئی حال اور حساب ہی نہیں ہوگا، وہاں کتنے لاکھ مقدمات زیر سماعت ہیں اور کب سے زیر سماعت ہیں … شاید ہم اورآپ اس کا اندازہ نہیں لگاسکتے۔
کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی کے مترادف ہے ، یہ ایسی حقیقت ہے جس کو کسی طرح سے جھٹلانا ممکن نہیں، جو شخص انصاف کی آس میں قبر تک چلا جاتا ہے اس کو وہاں دنیاوی انصاف یا ناانصافی سے کوئی غرض ہی نہیں رہتی ، وہاں تو وہ اللہ تعالیٰ کے انصاف کا منتظر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، رحمن ہے، کریم ہے، اس کے غضب پر اس کی رحمت غالب ہے اور ایک حدیث پاک کے مطابق یہ وہ الفاظ ہیں جو عرش بریں پر بھی تحریر ہیں، لہٰذا وہاں کیا ہر جگہ ہمیں اس کے رحم اور رحمت کی ہی امید رکھنی چاہئے ، لیکن اس وقت بات دنیاوی انصاف کی ہورہی ہے ، انصاف کی کرسی پر بیٹھا جو شخص دانیال یعنی سچا اور حقیقی منصف نہیں ہوگا وہ آخرت میں کس طرح نشان عبرت بنے گا…!اگر اس کے تصور میں کچھ موجود ہو تو وہ انصاف کے پلڑے میں فرق نہ آنے دے اور حقیقی انصاف کیلئے اپنی ہر ممکن سعی کر ڈالے، جہاں تک انصاف میں تاخیر کا معاملہ ہے تو یہ بھی ایک قسم کی ناانصافی ہے ، جو کوئی انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اگلے جہاں کوچ کرگیا …اس کو بعد میں انصاف کی فراہمی بھی ناانصافی کے زمرے میں ہی آئیگی۔
سپریم کورٹ کے ایک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اجلاس میں ستمبر 2017 سے جون 2018 تک کے مقدمات کا جائزہ لیا گیا تو 16ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ ہو اجبکہ 19ہزار نئے مقدمات دائر کئے گئے ، یعنی انصاف کی رفتار اس قدر تیز نہیں جس سرعت کے ساتھ مقدمات دائر ہورہے ہیں ، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر جن کو انصاف درکار ہوتا ہے انہیں وجوہات سے کوئی غرض نہیں ہوتی،اگرچہ کہا یہ گیا ہے کہ اتنی تعداد میں مقدمات کا آنا عدلیہ پر اعتماد کا مظہر ہے مگر اس کا ایک دوسری پہلو بھی ہے کہ جس قدر اعتماد میں اضافہ ہوگا اسی قدر جج حضرات کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جائیں گی تاکہ وہ خود کو اس اعتماد کا اہل ثابت کرسکیں، فیصلہ شدہ مقدمات کے مقابلے میں دائر ہونے والے مقدمات کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو پھر چالیس ہزار زیر التواءمقدمات حرف آخرنہیں رہیں گے ، ان میں اضافہ ہی ہوتا جائیگا، محترم چیف جسٹس کے دل میں خاص درد ہے، وہ سائلین کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ ہیں ، انہیں اس امر کا احساس بھی ہوگا کہ جو شخص پیشی پر پیشی بھگتتا ہے مگر انصاف سے محروم رہتا ہے اس کے دل کی کیا حالت ہوتی ہوگی، ان کے پاس وقت انتہائی کم مگر کام بہت زیادہ ہے ، وہ اس حوالے سے جو بنیادیں رکھ جائیں گے یقینا آنے والے انہی بنیادوں پر اس عمارت کو استواد کرینگے۔
اس شخص کو انصاف سے کیاغرض جو قبر میں سوگیا اور چھ سال بعد ”مژدہ “ سنایاگیا کہ وہ تو معصوم ہے ، اسے قتل کے جس الزام میں طویل مدت جیل میں گذارنا پڑی اور آخر وہیں اس نے جان جانِ آفرین کے حوالے کردی، اسے بعدمیں معصومیت کے اس پراونے سے کیا غرض، اس کی معصومیت کی گواہی تو اس سے بہت پہلے اوپر آسمانوں پر دی جاچکی ہوگی… قبل ازیں ایک دو کالموں میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ ایک مقدمے کا فیصلہ ٹھیک سو سال بعد ہوا …کیا فائدہ ایسے فیصلے کا، بہن بھائی میں اراضی کا یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب یہ ملک بھی وجود میں نہیں آیاتھا، اور ہم سے پہلی نسلیں غیر منقسم ہندوستان میں رہتی تھیں ، یہ مقدمہ سب سے پہلے راجستھان کی عدالت میں دائر ہوا، کئی عشرے سماعت کے بعد ہندوستان تقسیم ہوگیا تو مقدمہ پاکستان کے حصے میں آگیا کہ یہ اراضی پاکستان کی حدود میں تھی ، یہاں یہ مقدمہ قریباً سات عشرے یعنی ستر سال تک چلتا رہا جس کی گذشتہ برس سپریم کورٹ کے احاطے میں سو ویں برسی یا سالگرہ بھی منائی گئی، مقدمہ شروع ہو اتو محض دو فریق تھے اور جب اپنے اختتام کو پہنچا تو ان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرچکی تھی ، اس کا فیصلہ موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ہی ایک بنچ نے دیاتھا اور حتمی فیصلہ یہ تھا کہ ورثاءمیں جائیداد اسلامی قانون کے مطابق تقسیم کر دی جائے ، جی ہاں …! اس کا یہی فیصلہ تھااو ر اس فیصلے تک پہنچنے میں سائلین کو پورا سو سال لگا ، جن دو بہن بھائیوں میں مقدمہ شروع ہوا وہ تو مدت پہلے قبروں میں سو چکے،اب انکے وارثوں کی جس قدر تعداد موجود ہے شاید ہی ان کو کوئی معقول حصہ مل سکے ، اس بات کا امکان اپنی جگہ ہے کہ ان میں تقسیم کا عمل شروع ہوگا یا مکمل ہوگا تو لڑائی جھگڑے اور مقدمہ بازی کا ایک نیا دور بھی شروع ہوسکتا ہے ، اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن موجودہ معاشرتی نظام میں ہم اس امکان کو رد نہیں کرسکتے۔
اپنا قصہ ہم بیان نہیں کرنا چاہتے ، وہ بھی کچھ کم دردناک نہیں ، صرف اتنا بتادیتے ہیں کہ متعلقہ محکمے کا وجود تک ختم ہوگیا مگر ہمیں انصاف نہ مل سکا…یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد اپنی معزز و محترم عدلیہ کی خدمت میں گذارش کرنا ہے کہ خرابیاں ملک کے نظام عدل کی جڑوں میں سمائی ہوئی ہیں، جن کی وجہ سے سائل ہی نہیں اکثر اوقات منصف بھی مجبور ہوتے ہیں… اب عدلیہ کا ایک اور نیا سال طلوع ہوا ہے تو ہماری عدلیہ ہی نہیں ہماری حکومت کو بھی اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، محترم چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں یہی فرمایا ہے کہ انصاف کی فراہمی کیلئے نظام کی خرابیوں کو دور کرنا ہوگا…عدلیہ کی یہ خواہش خوش آئند ہے اور موجودہ حکومت بھی نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے نظام عدل کی خامیوں اور خرابیوں کو دور کرکے ایک نیا نظام عدل تشکیل دے ، وگرنہ نئے پاکستان کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved