تازہ تر ین

حضور عیاشیوں کی لمبی فہرست ہے قدم اٹھایئے

عبدالودودقریشی

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ن لیگی عیاشیاں سامنے لائیں گے جو اچھی بات ہے مگر اس پر عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے جس کی وجہ عمران خان کی نیت نہیں بلکہ ان کے ساتھ حلقہ بنائے ہوئے وہ جم غفیر ہے جو اس سارے کام میں نہ صرف ملوث رہا ہے بلکہ مستقبل میں بھی وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں پارلیمان کی عقل،حب الوطنی اور حلف کے مطابق ذاتی،گروہی مفادات سے بالا ہوکر ملک و قوم کی خدمت کریں گے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بااثر افراد نے پارلیمنٹ سے یہ قانون پاس کروا لیا کہ جو شخص چند دن ،چند ماہ یا صدر پاکستان کے بیرون ملک دورے کے دوران قائم مقام صدر مملکت کے فرائض سرانجام دے گا اسے صدر کا پروٹوکول ملے گا اس کے گھر کے باہر پولیس اور ایف سی پہرا دے گی اسے ایک کلرک،ٹائپسٹ کے علاوہ کسٹم اور ڈیوٹی میں بھی رعایت ملے گی۔ اس وقت کے قائم مقام صدر نے جو سینٹ کے چیئرمین تھے‘ اثرورسوخ سے باضابطہ قانون سازی کروا لی آج ان کے گھروں کے باہر قومی خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر وہ سب جائز اور قانونی ہیں کیا دنیا کے کسی اور مہذب ملک میں ایسا ممکن ہے کہ ایک آدمی رہا تو چیئرمین سینٹ ہو مگر چیئرمینی ختم ہونے کے بعد وہ صدر مملکت کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی مستفید ہورہا ہو۔اسی طرح ارکان پارلیمنٹ کے لوگوں کی جانب سے مسترد کیئے جانے اور ہار جانے کے باوجود پارلیمنٹ میں اپنے لئے کئی استحقاق قانونی طور پر منظورکروائے گئے ہیں۔ گزشتہ روز ایک سرکاری دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا جس میں سب سے بڑے عہدے کا آفیسر گریڈ بائیس کا ہوتا ہے مگر پچاس گاڑیاں سرکاری،آٹھ پلازے اور سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین ہیں جب کبھی کوئی ادارہ خواہ ایک کمرے میں بنا دیا جائے وہاں پر ایک آدمی گریڈ بیس کا تعینات کر دیا جائے تو وہ خود بخود گریڈ اکیس بائیس میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے نیچے گریڈ چار سے بیس تک کی ایک فوج ظفر موج بھرتی کرلیتا ہے ایک کمرے کا دفتر کئی پلازوں پر محیط ہوتا ہے مگر ان اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ وہ کام نہیں کرتے جس کے لئے یہ ادارہ بنایا گیا تھا۔سارا دن کاغذ پنسل، بجلی گیس کے بل گاڑیوں کے پٹرول، چھٹیاں، مراعات، ذاتی ترقیاں،رشتے داروں کے کام ان کے لئے نوکریوں کی تلاش کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے مگر جس کے لئے یہ ادارہ بنایا گیا تھا ان سائلوں کے لئے ان دفاتر کے دروازے بند ہوتے ہیں ہر سرکاری ملازم کے پاس ایک کارڈ ہے جس کو کمپیوٹر کے سامنے رکھنے کے بعد دروازہ کھلتا ہے۔ سائل ان دروازوں کے باہر گھنٹوں کھڑے ہوکر واپس چلے جاتے ہیں اور عوام کے لئے بنائے گئے ان دروازے کو اس طرح شیشوں کے دروازوں پر کمپیوٹر نصب کرکے بند کیا گیا ہے جیسے یہاں ایٹم بم یا میزائل ٹیکنالوجی پر کام ہورہا ہے ایک صاحب سے پوچھا گیا کہ شیشے کے ہر دروازے پر مخصوص کمپیوٹر کیوں نصب ہے جسے صرف وہاں پر سرکاری تنخواہ لینے والے ملازم اپنے کارڈ سے کھول سکتے ہیں تو اس کی منطق بھی عجب تھی کہ یہ کارڈ اس لئے ہیں کہ کہیں کوئی دہشتگرد نہ آجائے جس پر اس سے سوال کیا گیا کہ کیا آنے والا دہشتگرد اس شیشے کے دروازے کو اینٹ یا گولی سے توڑنے کی بجائے کارڈ طلب کرے گا اور اگر کسی ملازم کو وہ بندوق دکھا کر وہ یہ دروازہ کھلوا نہیں لے گا مگر جب وہ دہشت گردی کرنے کے لئے داخل ہوہی گیا ہے تو پھر وہ اخلاقیات اور تہذیب کی پاسداری کرے گا دراصل ان دروازوں کو اس لئے مقفل رکھا جاتا ہے کہ کوئی سائل اندر آکر ان کے کرتوت نہ دیکھ لے جو سارا دن انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر کرتے رہتے ہیں حیرت ہے کہ ان دفاتر میں نائب قاصد کرسیوں اور صوفوں پر براجمان ہوکر سرکاری انٹرنیٹ سے موبائل فونوں پر مصروف ہوتے ہیں اور سائلوں کو بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں دیتے۔یہ ایک دفتر کی جھلک تھی جو وفاقی دارلحکومت میں تعلیم کے حوالے سے مخصوص ہے اسی طرح ملک میں طلباءکو غیر ملکی ایجنڈے پر ڈالنے کے لئے نصاب بھی ٹھیکیداری نظام کے تحت کر دیا گیا ہے جن کو ادائیگی غیر ملکی این جی او کرتی ہیں اور پھر وہ رفتہ رفتہ نصاب میں اپنی مرضی کی چیزیں ڈالتے ہیں مثال کے طور پر 2017ءمیں پانچویں کلاس کی معاشرتی علوم میں حضور کا ایک واقعہ درج تھا کہ آپ نے قبائل مکہ کو ایک بہت بڑی جنگ سے بچایا اور بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حجر اسود کو ایک چادر پر رکھا اور چادر کے چاروں کونے مکہ کے چار قبائل کو اٹھا کر حجر اسود کی تنصیب کی جگہ تک لانے کا کہا اور پھر خود حجر اسود کو اٹھا کر دیوار پر رکھ دیا اس واقعے کو نکال کر 2018ءکی معاشرتی علوم میں نلسن منڈیلا کے کارنامے ڈال دیئے گئے اور سر ورق پر قائد اعظم کی تصویر ہٹا کر اوٹ پٹانگ چیزیں ڈال دی گئیں 2017ءکی کتاب کی قیمت ایک سو روپیہ تھی جبکہ 2018ءمیں اس کی قیمت151روپے رکھ دی گئی۔ان تمام کتابوں کی قیمت جو اسلام آباد میں بچوں کو مفت دی جاتی ہیں کی ادائیگی غیر ملکی این جی او کرتی ہیں جو حکومت پاکستان پر قرض یا احسان بتایا جاتا ہے مگر وہ اپنا ایجنڈا پورا کر رہے ہوتے ہیں جبکہ بیرون ملک اور کینٹ کے علاقے میں یہ کتابیں بچوں کو قیمتاً فروخت کی جاتی ہیں۔اس معاملے میں کروڑوں روپے گذشتہ حکومت نے کمائے جس سے عیاشیاں کی گئیں اور اس سال سے یہ نئی کتاب نیلسن منڈیلا کے حوالے سے سکولوں میں دی جائے گی۔اس سے پہلے یہ کتابیں قومی ادار ہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن چھاپتا تھا جو باقاعدہ طور پر ٹیکسٹ بک بورڈ بنا دیا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا مگر گذشتہ حکومت کے وزراءنے اس معاملے میں چمک حاصل کرنے کے لئے باہر ٹھیکیداروں کو یہ کام دیا اور کتاب کی قیمت ایک سو روپے سے بڑھا کر 151روپے کر دی گئی۔یہ تازہ ترین واقع ہے کہ نئے حلف اٹھانے والے وزراءکے ماتحت عملے نے غیر قانونی طورپر کئی کئی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں جن کو وزراءکے چیلے چانٹے استعمال کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت میں حکومت کشمیر کی گاڑیاں اکثر اندرون سندھ دیکھی جاتی تھیں جن کا پٹرول اور مینٹی ننس آزاد کشمیر حکومت ادا کرتی تھی۔میاں نواز شریف کے ایک مشیر کشمیر حکومت کی گاڑیوں کا لاﺅ لشکر اپنے زیر استعمال رکھتے تھے۔یہ بظاہر نہ نظر آنے والے کام ہیں مگر ان عیاشیوں کو بند کرکے کروڑوں روپے بچائے جاسکتے ہیں اور ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جاسکتا ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved