تازہ تر ین

ڈیموں کا کریڈٹ عمران خان کو جائیگا ، قوم کو مکمل اعتماد : ضیا شاہد ، حکومت دوٹوک جواب دے ، سی پیک پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے : راجہ پرویز اشرف کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سی پیک پر شکوک و شبہات اس لئے ہیں کہ بالعموم کہا جاتا ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بہت سارے معاہدات ہوئے تھے اور ان میں یہ افواہ ہے کہ ان میں اس قسم کی ڈیلنگ تھی جس سے سابق حکومت کے کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے اور اب غالباً یہ سوچا جا رہا ہے کہ اس قسم کے فائدے پہنچانے کی ضرورت نہیں اس لئے براہ راست معاہدے کئے جانے چاہئیں کس حد تک صداقت ہے۔ سی پیک کے بارے میں فول پروف بنانے کی کوشش کی جائے لیکن اس کا بنیادی معاہدے جو ہے کہ اس طرح کا پروجیکٹ بنتا ہے اور ہم نے اس کو آگے لے کر چلنا ہے اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ موجودہ اور نہ آنے والے کسی بھی دور کے بارے میں سی پیک کو جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان ایسا معاہدہ ہے جو اس علاقے کے لوگوں کو ایک نئی امید اور نئی روشنی کا کام دے گا۔ اصل میں میاں شہبازشریف کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی پرداخت جس سیاسی ماحول میں ہوئی ہے اس کا شمار اس قسم کا ہے کہ صبح ناشتہ کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو گالیاں دینی شروع کرنی ہیں اور پھر دوپہر 11,10 بجے اس میں تیزی آنی ہے۔ اور شام تک روزانہ کوئی نہ کوئی بڑا وینچر مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ شہباز شریف صاحب نے جو کہا ہے وہ سابقہ روایات کے مطابق ہے۔ عمران چاہے دس دفعہ کہیں ہمیں خلاف نہیں ہے شہباز شریف نے کہتے چلے جانا ہے اب ان کا لہجہ بھی آہستہ آہستہ نوازشریف کی طرح ہو رہا ہے۔ شہباز شریف کا ایک بیانیہ ہے جو عام لوگوں کے بارے میں ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں ہے ایک بیانیہ ہے جو تحریک انصاف کے بارے میں ہے جو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں ان کی نفرت کا عالم یہ تھا کہ وہ عمران خان کی بجائے نیازی صاحب کہنا شروع کر دیا تھا تو میں نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ تو انہوں نے کہا ہے کہ وہ کہتے ہیں میں لفظ عمران ادا کرتا اور میرے ذہن میں اتنی تلخی ہے اتنا غصہ ہے کہ میں یہ لفظ زبان پر نہیں لا سکتا۔ خوشی ہوئی کہ پاک آرمی کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر کے لئے فنڈ جم ہوا ہے۔ اس بات سے خوشی ہوئی کہ یہ فنڈ جمع کرنے کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ جو رقم ہے اس پر ہم حساب لگا رہے تھے 14 ارب ڈالر ہے۔ کام شروع ہو گیا ہے۔ ہمارے خبریں گروپ کے کارکن بھی سیلری سے ایک دن کی تنخواہ ڈیم فنڈ میں دے رہے ہیں۔ ایک بندہ ایسا نہیں جس نے شکایت کی ہو کہ میرے پیسے نہیں کٹنے چاہئیں۔ کئی ورکروں نے کہا کہ دو دن کے کٹنے چاہئیں۔لوگوں میں اس معاملے میں اتنا جوش و جذبہ ہے کہ جب میں نے پڑھا کہ 2019ءکے پہلے مہینوں میں اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ لوگ اتنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کام شروع تو ہوا۔ 14 برس پہلے تو میں نے پرویز مشرف کو یہ کہتے سنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بھاشا ڈیم بنائیں گے لیکن 14 سال سے ایک دھیلا جمع ہوا یہ کوئی عملاً کام ہوا اور نہ ہی دور دراز تک اس کے آثار نظر آ رہے تھے چنانچہ کام اب شروع ہوا ہے اور اب اس بات کی اُمید کی جاتی ہے کہ اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں عملاً کام شروع ہو جائے گا۔ شوکت خانم اور یونیورسٹی کا معاملہ ہوا عمران خان نے جب بھی چندہ مانگا لوگوں نے دیئے۔ یہ ایک آدمی کی کریڈیبلٹی ہے عمران خان کی۔ کریڈٹ دینا چاہئے۔ لوگوں کے دل میں ہے کہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ لاہور سے گوجرانوالہ میں اوپن ٹرک میں منصور صدیقی سے ارینج کیا تھا لوگ پیسے پھینکتے جاتے تھے۔ کسی نے نہیں پلٹ کے پوچھا کہ رسید دو کسی نے نہیں کہا کہ چٹ دے دو کہ ہم نے اتنے پیسے دے دیئے ہیں۔ عورتوں نے اپنے زیور پھینکے اور اس طرح سے اس چندے کا آغاز ہوا ہے جو کینسر ہسپتال لاہور کے لئے شروع ہوا تھا۔ لیکن عمران خان نے چندے کے لئے ہاتھ پھیلائے تھے تو ایک چیز بنا کے دکھائی۔ بلکہ چلا کر بھی دکھائی۔ اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ لوگوں نے محسوس کیا ہے کہ اگر عمران خان یہ کہتا ہے کہ اگر یہ فنڈ اس نے جرنیٹ کیا ہے۔ اگر یہ اس نے لوگوں سے درخواست کی ہے تو انشاءاللہ یہ بن کر رہے گا۔ میں نے فوجی ٹرکوں کو خود دیکھا ہے سمن آباد میں میرا دفتر تھا میں نوکری کرتا تھا اُردو ڈائجسٹ میں اور ساتھ ایم اے میں پڑھتا تھا میں نے دیکھا لوگوں نے فوجی ٹرکوں کو آگے نہیں جانے دیتے تھے۔ اور ان کو تحفے دیئے بغیر آگے نہیں جانے دیتے تھے۔
ضیا شاہد نے سوال کیا کہ ایک آج بڑی عجیب بات ہوئی کہ سی پیک کے بارے میں بحث مباحثہ شروع ہوا ہے۔ آپ کی پارٹی 5 سال اقتدار میں رہی پھر 5 سال نوازشریف کی حکومت رہی ہے۔ پھر اس میں شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ فنانشل ٹائمز کی خبر کے حوالہ سے یہ بحث شروع ہوئی دوبارہ اس پر گفت و شنید ہوئی۔ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ یہ کس بات کے لئے ہو رہے اور اب دونوں طرف سے یہ اعلانات کیوں ہوئے ہیں۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ میرے نزدیک یہ بڑی افسوسناک صورت حال ہے کہ جو بحث شروع ہوئی ہے میں سمجھتا تھا کہ ٹھوس اور مضبوط سٹینڈ لینا چاہئے تھا۔ موجودہ حکومت کو اور واضح الفاظ میں اس کی تردید کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سی پیک جو ہے یقینی طور پر سب کو پتہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں اسے انی شیٹ کیا گیا اور اس کو لے کر آگے بڑھے پھر دوسری حکومتوں نے بھی کام ہوا اور پچھلی حکومت میں بھی کام ہوا اس منصوبے کے دنیا میں بہت سارے مخالفین جو پاکستان کے خلاف اس منصوبے کے مخالفین ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے سے اس علاقے میں بڑی تیزی آنے والی ہے یہ گیم چینجر ہے اس سے علاقے کی تعمیر و ترقی ہو گی۔ گوادر جب فعال ہو جائے گا تو پاک چین تعلقات بڑے منفرد انداز سے ابھر کر سامنے آنے والے ہیں اس صورت حال میں اگر کوئی اخبار فنانشل ٹائمز ہو یا کوئی بھی ہو اگر اس میں خبر ااتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا جواب بڑا واضح طریقے سے دینا چاہئے تھا اور یہ بڑی بے چینی کی صورتحال ہے کہ آپ دس سال تو کہتے رہے کہ زبردست منصوبہ ہے یہ چیم چینجر ہے پاکستان کے حالات بدل دے گا اور پھر اچانک ایک خبر آنے کے بعد آپ یہ تاثر دیں کہ شاید اس پر کوئی گفت و شنید ہو رہی ہے اس کو کوئی روکنے کا طریقہ ہو رہا ہے۔ یہ بھی کوئی کہہ رہا ہے ایک سال تک یہ تمام منصوبے روک دیئے جائیں۔ یہ کوئی بچگانہ کھیل نہیں ہے آپ جو بھی کوئی بات کرتے ہیں اسے مکمل طور پر چھان بین کے بعد سوچ سمجھ کے بعد ہر نکتے پر باقاعدہ غوروفکر کے بعد اسی طرح کا کوئی بیان دیتے ہیں۔ میں اسے ایک غیرذمہ دارانہ بات سمجھتا ہوں کہ میری خواہش ہے حکومت اس کو عوام کے سامنے حقائق رکھے اور دو ٹوک بات کرے کہ ہم سی پیک پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے جا رہا ہے ہماری پارٹی اور ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی لے کر جائیں گے یہ تو بڑی افسوسناک صورتحال ہے یہ ایسی بات ہے جس کا نہ کوئی سر نظر آتا ہے نہ پیر نظر آتا ہے کہ اچانک ایک آدمی کھڑا ہوکر بیان دے یا اخبار والا لکھ دے تو اس کو اتنا اچھال دیا جائے کہ پوری دنیا سمجھے پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ شہباز شریف کا بیان سامنے آیا ہے کہ عمران خان ہمیشہ سی پیک کے مخالف رہے ہیں، کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟
بظاہر میں نے ایسے کوئی بات نہیں سنی لیکن شاید شہباز شریف کی اندرونی معلومات ہوں کہ وہ بہت ذمہ دار پوزیشن میں حکومت کا حصہ تھے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ عمران خان کی سی پیک کی مخالفت کی بات نہ میں نے دیکھی نہ محسوس کی ہے کہ انہوں نے سی پیک پر کوئی اٹیک کیا ہو۔ اس وقت وہ ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں اور سب سے زیادہ ذمہ داری ان پر ہے کہ وہ اس بے یقینی کی کیفیت کو ختم کر کے واشگاف الفاظ میں اپنے موقف کا اعلان کریں۔ کیونکہ کوئی بھی پراجیکٹ جب غیر یقینی کی کیفیت میں جاتا ہے تو اس میں دڑاڑیں آنے لگتی ہیں۔
ضیا شاہد نے سوال کیا کہ بھاشا ڈیم پر چیف جسٹس کی چندہ مہم میں وزیراعظم کی شمولیت اور آرمی چیف کی جانب سے چیف جسٹس کو ڈیم کے لیے چیک دینے کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت ڈیم کی تعمیر پر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ڈیم کی اہمیت پر کوئی دورائے نہیں، یہ پاکستان کی ضرورت ہے۔ ڈیم شروع کرنے کے لیے چیف جسٹس، وزیراعظم اور آرمی چیف کا موقف قابل ستائش ہے۔ مگر ایک بات ریکارڈ میں رکھنا چاہتا ہوں کی بھاشا ڈیم کو عملی شکل دینے میں پیپلز پارٹی کا بہت بڑا کردار ہے۔ بھاشا ڈیم کے لیے جتنی زمین کی ضرورت تھی وہ عوام سے حاصل کرنا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ہم نے جب واپڈا آفسز وہاں شفٹ کیے تووہاں باقاعدہ فائرنگ ہوئی اور ایک تنظیم متاثرین بھاشا ڈیم کی صورت میں سامنے آئے۔ ہم نے ان متاثرین کے ساتھ مذاکرات کیے اور مشترکہ کوششوں کیساتھ زمین حاصل کی، جو بہت مشکل کام تھا۔ ہم نے بھاشا ڈیم پر قومی مفاہمت حاصل کی اور انٹرنیشنل پرونشل کوآرڈینیشن میں اسے کلئیر کروایا جو کہ اس وقت کی ورلڈ بینک کی ریکوائرمنٹ تھی ۔ ڈیم کے لیے اب صرف فنڈز کی ضرورت ہے اس پر ملکی وسائل سے تعمیر کی طرف جانا اہم فیصلہ ہے۔ ہمیں پانی کی اشد ضرورت ہے اور بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر پوری قوم کو حصہ بننا چاہئے اور جو بھی اس حوالے سے مثبت قدم اٹھاتا ہے اسے خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔
ضیا شاہد نے عزیزیہ سٹیل مل کیس کے حوالے سے ممکنہ عدالتی فیصلے کی سوال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عدالتوں کے فیصلوں میں کبھی نہ دخل دیا اور نہ توقعات کا اظہار کیا۔ اپنے ملک کی عدالتوں کو مکمل خاموشی کے ساتھ موقع دینا چاہئے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ فریقین اور وکلاءصفائی کے دلائل سنیں اورجو بھی فیصلہ کریں وہ ایسافیصلہ ہو جس پر پوری قوم کا اتفاق ہو۔ سیاستدانوں اور سیاست کے مسائل پر عام طور پر ایسے الزام لگ جاتے ہیں کہ فلاں کی حمایت کی اور فلاں کو جان بوجھ کر رگڑا جا رہا ہے۔ مجھے کسی نے عدالتوں کے فیصلے پر یکسوئی کے ساتھ انتظار کرنے کے سوا کبھی کوئی رائے دہی کرتے نہیں دیکھا۔ خواہش ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے اس پر عوام سمجھے کہ یہ سہی اور جائز فیصلہ ہے۔
پرویز مشرف کے حوالے سے غداری کیس، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز کی وطن واپسی کے اقدامات کے حوالے سے سوال پر ضیا شاہد نے کہا کہ کس کو وطن واپس لایا جا سکتا ہے اور کس کو نہیںاس کا جواب وہی دیں جن سے مانگا گیا ہے۔ جسٹس یاور علی نے بہت عمدہ فیصلہ کیا ہے کہ غداری کا مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلے گا، چنانچہ اس معاملے کو لٹکانے کی بجائے انہوں نے روزانہ کی بنیادوں پر فیصلے کے حوالے سے بات کرنے کا کہا ہے۔ تاکہ یہ بات صاف ہو سکے کہ ان لوگوں کا کیا کرنا ہے۔ سٹیٹ آپریٹس اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ میں اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ ہم ملزمان کووطن واپس لانے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتے، یہ کیا بات ہوئی کہ ہمارے ملک کی ریاستی مشینری یہ کہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، یہ کس قسم کی ریاست ہے جو کہتی ہے کہ جو چلا گیا سو چلا گیا۔ اس کی پراپرٹی یہاں ہے، یہیں سے پیسہ لیجا کر اس نے دوبئی میں پراپرٹی بنا لی مگر ہم کر کچھ نہیں سکتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا کی کوئی ریاست برقرار نہیں رہ سکتی، اگر وہ اپنے اداروں کے حوالے سے اتنی کمزور ہو کہ جو بھاگ گیا ہے اسے واپس نہیں لا سکتی۔ ملزمان کو واپس لانے کے لیے جو کرنا ہے حکومت، عدالتوں اور سیاستدانوں نے کرنا ہے، اگر آئین میں ترمیم کرنا پڑتی ہے تو کریں۔ یہ بات غلط ہے کہ آرمی کسی کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ پانچ کور کمانڈرز اور ان کے آرمی چیف کو آج سے گیارہ سال پہلے ملک کے آرمی چیف رہ چکے انسان کو ضرور بچانے میں کیا دلچسپی ہے۔ میرا ایسا خیال نہیں۔
مجھے یہ یقین ہے کہ آرمی چیف پر بھی جب فیصلہ کرنے کا موقع آئے گا تو وہ سہی فیصلہ کریں گے جو ریاست ، ملک اور عوام کے حق میں ہے۔ وہ فیصلہ ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ جو لوٹ کر ، قانون کے پرخچے اڑا کر چلا گیا ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے ، اب ہم صرف دیکھ سکتے ہیں۔ وہ شخص باہر ہی گیا ہے کوئی دنیا سے تو نہیں چلا گیا۔
عمران خان کے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبوں کے منشور پراجلاس کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ عمران خان کا وعدہ ہے اور انہوں نے اپنے سو نکات کے ایجنڈا میں اسے شامل کیا تھا۔ لمبی چوڑی بحث کی بجائے کہتا ہوں کہ عمران خان صاحب آپ نے اس ملک کے لوگوں سے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، اس ملک کے لوگوں کو بے تحاشہ ضرورت ہے، آپ یہ وعدہ پورا کریں، پچاس لاکھ گھر بنائیں، بس!
اس سے زیادہ نہ میں سننا چاہتا ہوں اور نہ کوئی دلیل مانگتا ہوں۔
اس معاملے میں صرف اپنے ارادے کی مضبوطی کی ضرورت ہے، عمران خان نے وعدہ کیا اب ہمارا مطالبہ ہے عمران خان اس ملک کے لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دیں۔
گورنر ہاﺅس عوام کے لیے کھلنے پر عوام سیر ہی کرنے چلے جائیں گے، اس کے سامنے گلستان فاطمہ اور باغ جناح ہے، عوام گھوم کر آئیں۔
ہماری میاں اظہر سے دوستی تھی، ہم چند دوستوں کا ان سے مطالبہ تھا کہ گورنر ہاﺅس کو سکول کے بچوں کے لیے کھولیں۔ ایک گورنر ہاﺅس وہ تھا جہاںمیاں اظہر نے سکول کے بچوں کو دعوت دی اور روزانہ بسوں میں سوار بچے گورنر ہاﺅس دیکھنے آتے تھے اور انکی چائے کے ساتھ چھوٹی موٹی خدمت بھی کی جاتی تھی۔
ایک گورنر ہاﺅس وہ تھا جس میں باہر پہرے لگے ہوتے تھے، اندر کوئی نہیں جا سکتا تھا اور اندر آصف زرداری گھوڑے پر سوار ہو کر پولو کھیل رہے ہوتے تھے۔
ہر بندہ چاہتا ہے کہ ہمارے بچے جائیں اور گورنر ہاﺅس دیکھیں۔
گیس کی قیمتوں کے حوالے حکومتی اقدامات پر ضیا شاہد نے کہا کہ حکومت کوئی جواز توتلاش کرے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کس وجہ سے کر رہے ہیں، جن کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، ذمہ داران کو بھی پکڑیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ پچھلے دور کی عیاشیاں بتائیں گے،، تو بتائیں نہ۔ چپ کیوں ہیں؟ عمران خان کیوں چپ ہیں؟ کیوں نہیں بتاتے؟
کوئی تو ایسی جگہ بھی بچی ہوگی جہاں ثبوتوں کو آگ نہیں لگی ہوگی۔ پرانے حکمرانوں کے اللے تللے، ان کی بدمعاشیاں، ان کی لوٹ کھسوٹ پر سوال پوچھتا ہوں۔ مجھے آجکل کے اخبارات، ٹی وی چینلز پھسپھسے اور بے جان لگتے ہیں۔ پچھلی حکومت جب گئی تو ہمیں لگا تھاکہ بہت بڑے بڑے سکینڈل نظر آئیں گے۔ کدھر ہیں وہ؟ میڈیا خاموش ہے، میں نے اسی پروگرام پر بار ہا کہا ہے کہ 75 فیصد پاکستان کا میڈیا فروخت ہو چکا ہے۔ جنہوں نے میڈیا کو پیسے دئیے تھے وہ اب بھی چیزیں سامنے نہیں آنے دیتے۔ عمران خان کی حکومت کیا ہے، یہی لوگ ہیں، یہی بیوروکریسی، یہی افسر ہیں، ایک دوسرے کو بچانے اور تحفظ دینے والے۔ اسلیے میڈیا خاموش ہے۔
ضیا شاہد نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب! ابھی تو آپ نے وہ دن دیکھنے ہیں کہ آپ تلاش کرتے پھریں گے آپ کو ثبوت نہیں ملے گا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved