تازہ تر ین

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

میاں احمد حنان….خاص مضمون
کم وبیش اتنی ہی عمر میں جماعت اسلامی کے رہنما انجینئر خرم جاہ مراد کا انتقال ہوا تھا اور وہ بھی جماعت اسلامی میں اپنی عاجزی‘ انکساری‘ مثبت انداز فکر کے حوالے سے ہردلعزیز تھے جبکہ ان کے عظیم فرزند ڈاکٹر حسن صہیب مراد بھی اسی عمر میں اچانک داغ مفارقت دے گئے جبکہ ان کے وژن‘ ان کی دوراندیشی اور احسن جذبوں پر مشتمل سوچ کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی۔ انسان فانی ہے اور جس کسی نے دُنیا میں آنکھ کھولی اس نے ایک نہ ایک دن آنکھ موند لینی ہے مگر بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا خلاءپورا نہیں ہوسکتا۔ نہ تو خلاءانجینئر خرم جاہ مراد کا جماعت اسلامی کی کور ٹیم کے حوالے سے پورا ہوسکا اور نہ ہی ڈاکٹر حسن صہیب مراد کی اچانک وفات سے پیدا ہونے والا خلاءتعلیمی میدان میں پورا ہوسکے گا۔
آج یادوں کا ایک طوفان ہے۔ ان کے ساتھ رفاقت‘ چیزوں کو انتہائی مثبت انداز میں دیکھنا اور ہر کسی کو عزت دینا یہ انہی کا خاصہ تھا۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے بانی اور ریکٹر تھے جبکہ آئی ایل ایم ٹرسٹ کے چیئرمین‘ سوموار کے روز خنجراب بائی پاس کے قریب گاڑی کے حادثے میں جاںبحق ہوگئے۔ موت نے ان سے زندگی تو چھین لی مگر موت ان کے چہرے سے سکون‘ متانت‘ عاجزی اور تبسم نہ چھین سکی اور اس معاملے میں انہوں نے موت کی سختی کو بھی شکست دے دی۔ انہوں نے ایک سیمینار میں شرکت کرنا تھی۔ اس حادثے میں ان کے بیٹے ابراہیم حسن کو بھی معمولی چوٹیں آئیں مگر سر کی چوٹ حسن صہیب مراد کو ہم سب سے بہت دور لے گئی۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے ابھی زندگی کی سات دہائیاں نہیں دیکھی تھیں۔ وہ 1959ءکو کراچی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور یوں ایک انجینئر کا بیٹا بھی انجینئر بن گیا مگر ان کے قدم علمی‘ تعلیمی اور تدریسی میدان میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ انجینئرنگ کے بعد انہوں نے امریکہ سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر یونیورسٹی آف وہلیز برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1990ءمیں محض 31سال کی عمر میں وہ بہترین انتظامی صلاحیتوں کے تمام اسرار ورموز سے آگاہ ہوچکے تھے اور عمر کے اس سال انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ کے نام سے تعلیمی ادارہ شروع کیا جو بعد میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوگیا۔ 2004ءمیں ان کی یونیورسٹی کو حکومت کی طرف سے چارٹر ملا۔
ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے جوانی میں ہی اﷲ کو پالیا تھا۔ یونیورسٹی کی جامع مسجد میں خطبہ¿ جمعہ سالہاسال سے وہی دیا کرتے تھے اور گزشتہ دنوں یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا انتقال ہوا تو انہوں نے ازخود نمازجنازہ پڑھائی۔ علم دوست انسان ہونے کے ناطے وہ تعلیم یافتہ افراد کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ یونیورسٹی میں گزشتہ روز میں نے بہت سے لوگوں‘ طلباءوطالبات اور پروفیسرز حضرات کو زاروقطار روتے دیکھا اور انہیں رونا کیوں نہ آئے جب کوئی اپنا دُنیا سے جاتا ہے تو آنسو رُکنے کا نام نہیں لیتے۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کے اپنے تھے۔ ان سے ہر کسی کو فیض ملتا تھا جو انہیں سالہاسال سے جانتے تھے وہ بھی یہی کہتے ہوئے پائے گئے کہ ڈاکٹر حسن کو کبھی انہوں نے غصے میں نہیں دیکھا۔ وہ کسی کے خلاف بات نہ کرتے نہ سنتے‘ ان سے ہر کوئی اپنے دل کی بات آسانی سے کہہ دیتا اور وہ بھی دل میں چھپا کر ہر ممکن امداد کرتے تھے۔ چہرے پر عاجزی‘ آواز میں دھیما پن‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ‘ زبان کی ہر پل حفاظت‘ مومن کی اور نشانی ہے ہی کیا۔ آہ! ڈاکٹر حسن صہیب مراد آپ کی اچانک موت سے جو خلاءپیدا ہوا وہ پُر نہیں ہوسکے گا۔ آپ بہت زیرک تھے۔ آپ نے یونیورسٹی میں بہت ہی اعلیٰ ٹیم تیار کررکھی ہے مگر آپ کہاں:
”ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“
(کالم نگار یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی
میں شعبہ ماس کمیونیکیشن کے سربراہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved