تازہ تر ین

منصوبہ بندی کا فقدان

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ ِ نظر
پاکستان میں اس وقت ہر شعبے میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے ہماری ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوں نے ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت، انتظامی امور، قومی اور بین الاقوامی مسائل اور علاقائی معاملات کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات کو بھی بگاڑ کر رکھ دیا ہے لیکن بہتری کی کوئی صورت سامنے نظر نہیں آتی۔ ہم تو صرف مسائل کے حل کی بجائے اس پر غوروخوض کیلئے مشاورتی کونسلیں، تحقیقاتی کمیٹیاں، کمیشن اور ٹاسک فورس بنانے کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ قومی امور کے بارے میں نہ ہی ہماری کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی کوئی ترجیح۔ ہماری نہ کوئی قلیل المدت پالیسی ہے اور نہ ہی طویل المدت اس کی وجہ سے ہی ملکی ترقی کا گراف اوپر جانے کی بجائے ہچکولے کھا رہا ہے ہماری مجموعی قومی پیداوار، ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جبکہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں ہر سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ہماری حکومتوں کی فرضی کارکردگی اور جھوٹے اعداد وشمار سے یہ صورتحال کبھی بھی بہتر نہیں ہو سکتی۔ ہماری حکومتوں نے ہمیشہ چند امور کی طرف توجہ دی ہے اور دیگر اہم ملکی امور اور معاملات کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ حکومتوں نے ہمیشہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کی ہے یا پھر اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے ملکی خزانہ بھرنے کے دعوے کیے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا جسکی وجہ سے ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ رہی سہی کسر ہماری سیاسی جماعتوں کی باہمی کشمکش اور جنگ نے پوری کر دی۔ ملک میں نئی سرمایہ کاری پہلے ہی تعطل کا شکار ہے جبکہ صنعتی پہیہ پہلے ہی آہستہ آہستہ چل رہا ہے اور زرعی شعبہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ملک میں نئی سرمایہ کاری نہ ہونے اور صنعتی پیداوار میں کمی ہونے کی وجہ سے سمگلنگ کا دھندا زوروں پر ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک کی منڈی بن چکا ہے اور ہمارے بازار اور مارکیٹیں غیرملکی مصنوعات سے اٹی پڑی ہیں۔ حکومت کی ناقص تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں ایسی اشیا بھی دھڑا دھڑ درآمد ہو رہی ہیں جو پاکستان کے صنعتی اداروں میں بھی تیار ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ہماری اپنی صنعتی پیداوار اور کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ملک کا قیمتی زرمبادلہ غیرملکی اشیا کی درآمد پر بے دریغ خرچ ہو رہا ہے اور اب بھی اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اور سادگی، بچت کے فروغ کیلئے قیمتی سرکاری گاڑیوں اور املاک کو فروخت کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں بھی بڑی قیمتی گاڑیوں کو نیلام کر دیا گیا تھا لیکن محمد خان جونیجو کی وزیر اعظم کے عہدے سے برطرفی کے بعد حکومت نے ایک بار پھر بڑی نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے قومی خزانے کے منہ کھول دیئے تھے۔ اس لیے اس طرح کے فیصلے نہایت سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیں۔ ہماری معیشت کو سب سے زیادہ نقصان ہماری ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 18 رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل قائم کی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ کونسل ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کرے گی۔ خاص طور پر مالیاتی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے ہنگامی اور فوری اقدامات کرنے کی سفارش کرے گی۔ ابھی حال ہی میں امریکہ نے بے بنیاد الزامات کی آڑ میں پاکستان کی 300 ملین ڈالر کی امداد روک دی ہے جس سے ہماری معیشت کے مزید دباﺅ میں آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ یاد رہے کہ ڈومور کی امریکن پالیسی کے تحت ہم پہلے بھی بھاری امریکن امداد سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری کھلی جنگ سے نہ جانے امریکہ کیوں مطمئن نہیں ہو رہا اُسے ہماری افواج، سول فورسز اور عوام کی بھاری جانی اور مالی قربانیوں کا نہ جانے کیوں احساس نہیں ہو رہا۔ اس خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ہماری معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جس کے تدارک کیلئے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو باہم مل کر ٹھوس اور جامع قابل عمل پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔ ایک اقتصادی جائزے کے مطابق اس وقت پاکستان پر گردشی قرضوں کا بوجھ 1200 ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ ابھی اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ دوسری طرف ہماری درآمد میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کے سدباب کیلئے بھی اقتصادی مشاورتی کونسل کو مناسب اقدامات تجویز کرنا ہونگے خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات، کھانے کا تیل اور دیگر مصنوعات کی درآمدات کے گراف کو اوپر جانے سے ہر صورت میں روکنا ہو گا۔
تحریک انصاف کی حکومت پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے سو دن کے پلان پر مو¿ثر منصوبہ بندی کے تحت کام کرے۔ یہ بات واضح رہے کہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور غربت کے خاتمے کیلئے حکومت کو نئی سرمایہ کاری کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved