تازہ تر ین

محترمہ کلثوم نواز کی وفات

عبدالودودقریشی

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ ،سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئیں ،انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ وزیر اعظم ہاﺅس میں نرسیں،ڈاکٹر اور طبی عملہ ہر وقت موجود رہتا تھا مگر انھوں نے اپنی بیماری بارے کبھی انھیں زحمت نہیں دی بلکہ اس وقت اپنا میڈیکل چیک اپ کروایا جب بیماری انتہا کو پہنچ چکی تھی اور کینسر تیسری سٹیج پر تھا اس سے کلثوم نواز کے صبر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے محترمہ کلثوم نواز میاں نوازشریف کے لئے بھی نیک شگون تھیں جب تک وہ انھیں کوئی مشورہ دیتی تھیں معاملات ٹھیک رہے مگر جونہی مریم نواز شریف نے سیاست میں قدم رکھا اور پھر پیپلز پارٹی کو چاہنے والے بعض سیاستدانوں نے مریم نواز شریف کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرنا شروع کیا تو معاملات اس حد تک پہنچے کہ میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی دونوں جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف عدالتوں میں کچھ اور مقدمات بھی چلے گئے جن میں اضافی سزائیں نظر آ رہی ہیں۔ مریم نواز شریف کے دونوں بیٹے اور بیٹی کے سسر اسحاق ڈار یقیناً ان کی تدفین کے موقع پر پاکستان نہیں آئیں گے بلکہ وہ لندن میں ہی کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کرلیں گے۔حسن اور حسین نواز اشتہاری ہیں ان کا نام ای سی ایل پر ہے اور اسی طرح اسحاق ڈار کے عام اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ منسوخ کیے جاچکے ہیں وہ بھی اشتہاری ہیں اگر وہ محترمہ کی تدفین میں شرکت کے لئے پاکستان آجاتے ہیں تو انھیں قانون کے مطابق واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ حکومت کو ضرور اس حوالے سے اعلان کر دینا چاہیئے کہ حسن نواز،حسین نواز اور اسحاق ڈار اگر پاکستان آنا چاہیں تو انھیں پاسپورٹ اور دوسری سہولتیں فوری طور پر مہیا کی جائیں گی۔ تاہم واپسی کا معاملہ قانون کے مطابق ہی ہوگا عمران خان نے محترمہ کی رحلت کی خبر ملتے ہی اچھا اقدام کیا اور ان کی میت کو پاکستان لانے کے لئے ہر طرح کی معاونت کے لئے پاکستانی سفارتخانے کو بھی کہا اور وزارت داخلہ کو بھی اس حوالے سے ہدایات دی گئیں میاں شہباز شریف گزشتہ شام ہی میاں نواز شریف اور مریم نواز سے مل کر تدفین کے حوالے سے معلومات طے کر لیے اور پھر خود لندن جاکر میت کے ساتھ واپس آئیں گے جس میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کو تین سے چھ دن تک کی پیرول پر رہائی مل جائے گی اس کے لئے ڈپٹی کمشنر،متعلقہ عدالت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے جو روٹین کا معاملہ ہے۔ کسی بھی قیدی کے والد،بیوی،بھائی باپ کی رحلت پر اسے پیرول پر رہا کر دیا جاتا ہے جس کے لئے باقاعدہ مچلکے دائر کیئے جاتے ہیں اور یہ طریقہ انگریز دور سے چلا آرہا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید محترمہ کو لندن میں ہی دفن کر دیا جائے جو ممکن نہیں ہے۔ میاں محمد شریف نے جب جدہ میں رحلت فرمائی تو انھیں مکہ یا مدینہ کے ان مقدس قبرستانوں میں دفن کیا جاسکتا تھا جہاں دفن ہونے کی مسلمان خواہش کرتے ہیں مگر میاں شریف کے جسد خاکی کو پاکستان لاکر رائے ونڈ ہی ذاتی قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔ اس روایت کے پیش نظر وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کو لاہور میں ہی لایا جائے گا اور رائے ونڈ میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی جس میں میاں نواز شریف اور ن لیگ کی ساری قیادت شرکت کرے گی۔محترمہ کلثوم نواز کی رحلت پر عمران خان،سراج الحق،مولانا فضل الرحمٰن،بلاول بھٹو زرداری غرض کہ سب نے افسوس کے پیغامات جاری کیے ہیں جو اچھی روایت ہے۔
نماز جنازہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوکر ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقع ہے کہ تین بار ملک کا وزیر اعظم بننے والے شخص کی بیوی بیرون ملک رحلت فرما جائے اور وہ خود جیل میں ہو میاں نوازشریف اور ان کا خاندان اگر بیگم کلثوم نواز کی صحت کے بارے میں تمام حقائق قوم کو بتاتے تو اس کا انھیں کوئی سیاسی فائدہ ضرور مل سکتا تھا مگر نہ جانے انھیں کس نے یہ مشورہ دیا کہ سارے معاملات کو خفیہ رکھا جائے۔ جب متضاد بیانات آئے تو مخالفین نے بیگم کلثوم نواز کی لندن کے بازاروں میں چلنے پھرنے کی پرانی ویڈیوز جاری کرکے انھیں متنازعہ بنا دیا اگر محترمہ کی ہسپتال سے روزانہ خود میڈیا کو جاری کر کے کچھ فاصلے سے تصاویر بنانے اور کلپ بنانے کی اجازت دی جاتی تو انتخابات میں لوگوں کی ہمدردیاں بھی ن لیگ کے ساتھ ہوتیں مسلم لیگ ن کے انتہائی قریب لوگوں نے بتایا کہ جب میاں نواز شریف اور مریم نواز پاکستان کے لئے روانہ ہوئے تو ڈاکٹروں نے انھیں بتا دیا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کے ہوش میں آنے کا کوئی امکان نہیں البتہ آپ کی خواہش پر ہم انہیں جتنا عرصہ ممکن ہوا وینٹیلیٹر پر رکھ لیتے ہیں برطانیہ میں بھی جب کوئی مریض بحال نہ ہوسکے تو پھر اسے ایک مدت تک ہی وینٹیلیٹر پر رکھا جاتا ہے خواہ اس کے وارثان کتنی ہی رقم کی پیشکش کیوں نہ کریں کیونکہ وہ اسے وسائل کا ضیاع تصور کرتے ہیں۔ البتہ ہر مریض کے لواحقین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی زندگی کا سارا سرمایہ لگ جائے مگر وہ صحت یاب ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کوئی معجزہ کردے۔پاکستان میں بھی لوگ یہی خواہش رکھتے ہیں اور بعض مریض کئی ہفتے وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد صحت یاب ہوگئے مگر یہ سب اللہ تعالیٰ کے کام ہیں اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے مقدر میں لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved