تازہ تر ین

سیاست نہیں انسانیت

توصیف احمد خان

بیگم کلثوم نواز بھی چلی گئیں، طویل عرصہ ہسپتال میں گذارا، ہوش اور بیہوشی کی حالت میں رہیں ، زیادہ عرصہ بیہوشی میں ہی گذرا…ہر فرد و بشر کو اس دنیا سے جانا ہے ، جو آیا ہے اس کیلئے دنیا ایک عارضی ٹھکانا ہے ، یہ وہ حقیقت ہے جو حضرت آدم ؑ کے وقت سے رو بہ عمل ہے اور اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وہ دن نہیں آجاتا کہ حضرت اسرافیل ؑ صور پھونک دیں گے، یہ وہی وقت ہوگا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے اور اس فانی دنیا میں کوئی ذی روح باقی نہیں رہے گا۔
بیگم کلثوم نواز اچھی خاتون تھیں…اس دور میں بھی جب ان کے شوہر ،بچے اور دوسرے سسرالی رشتے دار الزامات کی زد میں ہیں، شوہر اور بیٹی تو باقاعدہ جیل بھگت رہے ہیں … اس خاندان کی وہ واحد خاتون ہیں جن پر کوئی الزام نہیں ، وہ کتنی نیک خاتون ہونگی کہ ہر کوئی ان کی تعریف ہی کرتا ہے ، اب تو وہ دنیاوی تعریفوں سے بہت دور …اپنے رب کے حضور جاچکی ہیں…مگرحیات میں اور بعد از حیات کی گئی ستائش کی مولا کریم بھی لاج رکھتا ہے اور ہماری دلی دعا ہے کہ ان سے کوئی خطا سرزد ہوئی بھی ہو تو مولا کریم معاف فرما دے اور انکا ٹھکانا جنت الفردوس میں کردے۔
بتایا گیا ہے کہ بیگم صاحبہ کو تدفین کیلئے پاکستان لایا جائیگااور جاتی امراءمیں سپردخاک کیا جائیگا، کہاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو جس جگہ کی مٹی سے بنایا ہے اس کو اسی جگہ سپرد خاک ہونا ہے…تادم تحریر ان کی تدفین کے حتمی پروگرام کا اعلان نہیں کیاگیا، ممکن ہے یہ تحریر شائع ہونے تک اعلان کردیا جائے یا شہباز شریف کے لندن پہنچنے پر کچھ ارادہ بنے گا، وہ تو جو وقت مقرر ہے اس سے ایک لمحہ ادھر سے ادھر نہیں ہوا جا سکتا اور جو گھڑی قبر میں لکھ دی گئی ہے وہ چھ فٹ کے اس گڑھے سے باہر نہیں آسکتی، بہر حال ! وہ اللہ کے پاس جائیں تو اپنے حوالے سے اللہ کو خوش پائیں…کہ مولا ان کی قبر کو روشن و منور کردے بلکہ ریاض الجنة یعنی جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے۔
وہ اس حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئی ہیں کہ انہیں علم تک نہیں تھا کہ انکا شوہر پسِ دیوارِ زندان ہے ، ان کی بڑی صاحبزادی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دن گذار رہی ہیں، عالم ہوش میں انہیں علم ہو جاتا تو انکے دل کی حالت کیا ہوتی…وہ کٹ کر نہ رہ جاتیں، یہ ممکن ہے کہ شوہر اور بیٹی کا دکھ ان سے جینے کی مزید مہلت چھین لیتا لیکن یہ تو مولا کے کام ہیں، اس نے وقت مقرر کررکھا ہے جس میں ایک لمحہ جلد یا تاخیر نہیں ہوسکتی، لیکن اس نیک خاتون کے بارے میں اندازہ لگائیں جسے قبر میں اتارنے اور قبر کی مٹی دینے کیلئے اس کے بہت سے پیارے موجود نہیں ہونگے ، دونوں صاحبزادے دم آخر تک تو ان کے ساتھ اور پاس تھے مگر کس قدر المیہ ہے کہ سفر آخرت میں وہ نہیں ہونگے، ان کی بدنصیبی کا اندازہ لگائیں کہ ماں کے جنازے میں نہیں جاسکیں گے اور قبر تک پہنچانے میں ماں کو کندھا تک نہیں دے سکیں گے ، بالکل اسی طرح جیسے نوازشریف کو اپنے باپ کے جنازے کو کندھا دینا نصیب نہیں ہوا تھا،اگرچہ یہ الگ داستان ہے اور وہ پرویزمشرف کی حکومت تھی …مگر یہ عمران خان کی حکومت ہے جو یقینا حساس دل ہی نہیں رکھتے ،درد دل سے بھی آشنا ہیں، وہ اپنی ماں کو قبر تک پہنچا چکے ہیں ، وہ آگاہ ہیں کہ جب مائیں مرتی ہیں تو اولاد کی کیا حالت ہوتی ہے …بیٹے تو نہیں آسکتے …مگر بیٹی تو یہیں موجود ہے، شوہر بھی اسی سر زمین پر ہے …یہ انسانیت کا مسئلہ ہے …یہ انسانی ہمدردی کا مسئلہ ہے …یہ رشتوں کے تقدس اور رشتوں کے درد کو محسوس کرنے کا مسئلہ ہے…ہمارے محترم وزیراعظم نے ماں کے درد کو دل میں اس قدر جگہ دی کہ باقی دکھی دلوں پر پھاہا رکھنے کی ٹھان لی اور لوگوں سے مانگ مانگ کر …لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا پھیلا کر …ہسپتال بنادیا، اس مرض کا ہسپتال جس میں انکی ماں مبتلا تھیں اور جو لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔
یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اس موقعہ پر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسانی رشتوں کے تقدس اور درد کو پیش نظر رکھیں ، ہماری آپ سے گذارش ہے کہ کم از کم ان کی بیٹی کو فوری طور پر جیل سے نکال کر انکے پیاروں کے پاس پہنچا دیا جائے ، اس بچی کی جیل میں کیا حالت ہوگی، وہ تو کٹ کر رہ گئی ہوگی، اس کی آنکھیں ہی نہیں دل بھی رو رہا ہوگا…ماں بھی آخر وقت تک شکوہ کناں رہی کہ بیٹی اس سے بات کیوں نہیں کرتی ، اسے بیٹی کی آواز کیوں سنائی نہیں دیتی ، ماں کو کیا معلوم تھا کہ بیٹی ہی نہیں اس کی آواز بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے …اس بیٹی کو اب سہارے کی ضرورت ہے …تسلی و تشفی کی ضرورت ہے اور یہ سہارا اسے اپنے پیارے ہی دے سکتے ہیں …ہمیں یقین ہے کہ اس معاملے میں سیاست کی بجائے انسانی جذبوں اور انسانی رشتوں کو مقدم رکھا جائیگا، اسکا یہی طریقہ ہے کہ محترمہ مریم نواز کو فی الفور جیل سے نکال کر اس کے گھر پہنچایا جائے جہاں اس کے عزیزاور رشتہ دار اسے ڈھارس دینے کیلئے موجود ہوں…کم از کم اسے پیرول پر ضرور رہائی دیدی جائے تاکہ وہ ماں کے آخری سفر میں ہی نہیں اس کے بعد کے معاملات میں بھی شریک ہوسکے، جو قرآن خوانی اور ختم درود وغیرہ کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔
رہا نوازشریف کا مسئلہ …تو اس موقع پر ان کیلئے نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے، ہر ایک نے دنیا سے جانا ہے ، کسی کے پیاروں نے یہاں نہیں رہ جانا، انہیں اجازت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنی بہادر اہلیہ کی تدفین وغیرہ میں شریک ہو سکیں …نوازشریف کے طرز سیاست اور طرز فکر سے ہمیں بھی بہت سے اختلافات ہیں مگر یہ سیاست کا یا سیاسی سوچ کا مسئلہ ہے ہی نہیں ، یہ تو خالص انسانیت اور انسانی سوچ کا مسئلہ ہے ۔
اس سے پہلے سوچا تھا کہ وفاقی کابینہ میں مزید توسیع پر لکھا جائےگا مگرمحترمہ کلثوم نواز کے ایک سال تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کی خبر آگئی ، لہٰذا موضوع بدلنا پڑا، بیگم صاحبہ گذشتہ برس 17اگست کو علاج کیلئے لندن گئی تھیں اور 11ستمبر کو وہ خالق حقیقی سے جا ملیں…ایک بار پھر ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے مولا کریم کے حضور استدعا … مولا اسے قبول فرما لے ۔
کابینہ کے حوالے سے صرف محمد میاں سومرو کا ذکر کرینگے کہ وزیر مملکت کا عہدہ قبول کرنے کی بجائے وہ حلف اٹھائے بغیر اسلام آباد سے کراچی چلے گئے ، انہوں نے بالکل ٹھیک کیا، ان کیلئے یہ عہدہ تجویز کرنے والے شاید سوچ اور فکر سے عاری ہیں، جو شخص سینٹ کا چیئرمین رہا، قائم مقام صدر رہا، سندھ کا گورنر رہا اور نگران وزیر اعظم رہا اسے آپ ایک جونیئر عہدہ پیش کررہے ہیں، محمد میاں سومرو کا طرز عمل یہی ہونا چاہئے تھا کہ وزیر مملکت بنایا جاناواقعی انکی توہین ہے۔
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved