تازہ تر ین

موسم بدلا رُت گدرائی

عامر بن علی….مکتوب جاپان
چاول کی فصل جاپان میں تیار ہو گئی ہے۔ آج کل کٹائی کا موسم ہے۔ دیہی علاقوں کی فضا میں دھان کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ پہلی کٹائی روایتی معبدوں میں دیوتاﺅں کے حضور پیش کی جا رہی ہے۔ ستمبر کا پہلا عشرہ اس بار سمندری طوفان کی تباہ کاریوں اورزلزلے کے نقصانات کی خبروں کے ساتھ گزرا مگر پھر بھی صدیوں پرانی ثقافتی اور مذہبی رسومات جو نئی فصل آنے کی خوشی میں منائی جاتی ہیں اپنے روایتی جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہیں۔ عبادت گاہوں کے اردگرد کھانے، پینے کی اشیا کے اسٹال سجے ہیں اور بچوں کی دلچسپی کا سامان بک رہا ہے۔ ایسا سماں ہمارے ہاں میلوں، ٹھیلوں میں نظر آتا ہے۔ جیسے بزرگان دین کی درگاہوں پر عرس کے موقع پر رونق ہوتی ہے بالکل ویسی ہی گہما گہمی دیہی جاپان میں ان دنوں عبادت گاہوں کے اطراف نظر آتی ہے۔
جاپان ایک صنعتی معاشرہ ہے، مگر ثقافتی اعتبار سے اس کی سماجی بنیادیں زراعت کے شعبے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جس طرح قدیم ہندوستان کا معاشرہ چار ذاتوں میں بٹا ہوا تھا، جو بڑی حد تک انسان کا پیشہ بھی طے کرتی تھیں، جس میں برہمن، کھشتری، ویش اور شودر تھے۔ اس سے ملتی جلتی صورت حال ہمیں قدیمی جاپانی معاشرے میں بھی نظر آتی ہے، یہاں بھی سماج کی چار برتیں، درجے یا ذاتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ بھارتی سماج میں برہمن بھگوان کے سر سے پیدا ہوئے سمجھے جاتے تھے اور شودر ذات کا جنم بھگوان کے پاﺅں سے ہوا۔ اسی عقیدے کی بنیاد پر برہمن مذہبی شعبے کے انچارج ہزاروں سال سے ہیں، کھشتری جنگجو تھے، حفاظت اور جنگ ان کا پیشہ، ویش کاروبار کرتے تھے جبکہ شودر ناپاک سمجھے جاتے مگر مزدوری یہی کرتے تھے۔ جاپان میں یہ تقسیم تو موجود تھی مگر اس قدر ظالمانہ نہیں تھی جیسے ہندوستانی معاشرے میں تھی۔ یہاں اس تقسیم کی بنیاد کام کی تقسیم تھی۔ کسی انسان کی توہین و تذلیل مقصود نہ ہوتی تھی۔
یہ چار سماجی درجے کچھ یوں تھے۔ بادشاہ اور اس کے خاندان کو پہلا اور سب سے بلند درجہ حاصل رہا ہے۔ دوسرے درجے پر سمورائی اور ان کے جنگجوسپاہی ہوتے تھے۔ تیسرے درجے پر کسان تھے، کھیتوں میں کام کرتے اور سادگی سے زندگی بسر کرتے۔ کاروباری لوگ سماجی درجہ بندی میں چوتھے اور آخری درجے پر سمجھے جاتے تھے۔ بادشاہ اوراس کے خاندان کو مذہبی تکریم ہمیشہ سے حاصل تھی اور اب تک ہے۔ بادشاہ کو صرف حکومتی اختیار کی بنیاد پر قابل احترام نہیں جانا جاتا، بلکہ اسے زمین(نعوذباللہ) پر خدا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ خدا کا نائب یا خلیفہ ہونا ایک مختلف بات ہے، جاپانی بادشاہ کو خدائے مجسم اور زندہ و جاوید خدا مانا جاتا تھا، اس کی پوجا کی جاتی تھی، عام لوگوں کو ہندوﺅں اور سکھوں کی طرح مرنے کے بعد جلایا جاتا ہے جبکہ بادشاہ کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد بادشاہ نے ریڈیو پر اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب خدا یا اس کا اوتار نہیں ہے مگر پھر بھی عوام میں صدیوں سے اس کی تکریم تھی، اب بھی ہے۔
سمورائی یوں تو ایسا موضوع ہے کہ اس پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں مگر مختصر بیان کریں تو یہ طبقہ بادشاہ کے وفادار جاگیر داروں اور جنگجوﺅں پر مشتمل تھا۔ پورا جاپان ان جاگیرداروں میں تقسیم تھا، ان کے اپنے قلعے اور مسلح افواج تھیں ان کی تعداد اگر ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں ضرور تھی۔ سمورائی طبقے کے علاوہ کسی کو تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ قانون یہ تھا اور سماج میں تسلیم شدہ حقیقت بھی کہ سمورائی کے علاوہ کوئی بہادر نہیں ہو سکتا۔ اب سماج میں فقط سمورائی طبقے کے خاندانی نام باقی ہیں، سماج میں ان کا پیشہ ختم ہو چکا ہے، دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد اب کاروباری طبقے کو کسان طبقے سے زیادہ اہمیت اور تکریم حاصل ہو گئی ہے۔ میرے جاپانی دوست کھوگو کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ کسی بھی آدمی کا خاندانی نام جان کر بتا سکتا ہے کہ وہ تاریخی اعتبار سے سمورائی طبقے سے ہے، کسان پیشہ یا پھر کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ بادشاہ کے خاندان کا نام بالکل علیحدہ ہے مگر شاہی خاندان بھی نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ایسے خاندانی ناموں کی کل تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر شہری ان پانچ سو خاندانی ناموں کی فہرست میں سے اپنی مرضی کا نام چن سکتا ہے۔ باالفاظ دیگر اپنی ذات خود چُن سکتا ہے۔
عمومی طور پر جب کوئی غیر ملکی شہری جاپانی شہریت اختیار کرتا ہے تو اسے ان پانچ صد خاندانی ناموں میں سے کسی ایک کو منتخب کر کے اپنے نام کا لاحقہ بنانا ہوتا ہے۔ میرے جاپانی دوست کھوگوسان کا مشورہ ہے کہ اگر میں جاپانی شہریت کبھی اختیار کروں تو مجھے سمورائی نام رکھنا چاہئے۔ میں اسے ہمیشہ تسلی دیتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا، حاسدین نے میرے دوست کے بارے میں مشہور کر رکھا ہے کہ وہ آدھا پاگل ہی نہیں پورا چریا ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ ہر نام کے آخر میں جاپانی لوگ ”ساں“ کا لاحقہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ لفظ ”ساں“ صاحب اور سائیں کے معمول میں استعمال ہوتا ہے۔ ہر نام کے ساتھ لاحقے کے طور پر اس کا استعمال ضروری ہے۔ اس ”ساں“ کے بغیر کسی کا نام پکارنا سنگین بدتمیزی شمار کیا جاتا ہے۔ مثال سے واضح کروں جیسے دھوبی صاحب، مکینک صاحب، نائی صاحب، ڈرائیور صاحب، بھائی صاحب، چاچا صاحب، خالہ صاحبہ، بشیر صاحب، یہ روایتی مشرقی معاشرہ ہے، ادب، آداب اور رکھ رکھاﺅ کا یہاں پر بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔
عطر فروشوں کی زبان میں بات کی جائے تو جاپان کی فضا نیوٹرل ہے۔ عمومی طور پر ہوا میں کسی بھی طرح کی کوئی مہک، خوشبو یا بدبو آپ کو نہیں آئے گی۔ یہ ایام مگر خصوصی ہیں۔ مضافاتی علاقے تازہ دھان کی مسحور کن مہک سے معطر ہیں۔ جس طرح پنجاب میں گندم کی کٹائی کے موقع پر ”وساکھی“ کا روایتی تہوار منایا جاتا ہے، اس دیس میں چاول کی کٹائی کے موقع پر تہوار کا منظر نظر آتا ہے۔ گلی گلی سے جلوس نکلتے ہیں۔ مذہبی اور ثقافتی جوش و جذبے کے ساتھ نکلنے والے ان جلوسوں کے شرکا روایتی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ آگے آگے نوبت بجتی ہے اور ڈھول کی تھاپ پیچھے پیچھے بچے ہونٹوں سے بانسری لگائے سُربکھیرتے جاتے ہیں۔ نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ ان جلوسوں کے آگے کوئی نہ کوئی خوفناک شکل والا بھوت نما فلیٹ ہوتا ہے یا کسی جانور کی شبیہ بڑے سائز میں اہل علاقہ نے تیار کی ہوتی ہے۔ اس بابت میں نے سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ بدروحوں کو ڈرانے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ان جلوسوں کی منزل قریب ترین معبد ہوتے ہیں۔ وہاں دُعا کر کے شرکا گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔ محرم کے ایام عزا میں تعزیے کے جلوس اور ربیع الاول میں عیدمیلاد النبی کے جلوس سے ملتی جلتی تصویر آج کل یہاں کے مضافاتی علاقوں کی سڑکوں پر نظر آ رہی ہے۔
(کالم نگار جاپان میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved