تازہ تر ین

ضرورت اتحادِ بین المسلین

مبارک علی شمسی….مسافرِ شب
اسلام نے سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا ہے وہ بھائی چارہ ہے۔ فرمان رسالت مآب ہے کہ سب اہل اسلام بھائی بھائی ہیں اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عالم اسلام کے تمام مومن ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ غیر مسلم طاقتوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانان ِعالم کی شیرازہ بندی کو توڑا جائے اور قرآن پاک کی روشنی میں اس کام میں یہود ونصاریٰ پیش پیش ہیں ۔ اسی لئے خالق کائنات نے اپنی بے عیب و لاریب کتاب میں واضح فرما دیا ہے کہ ” یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ” اور جو دوست نہیں ہوتا اس سے اچھائی کی توقع کرنا بیوقوفی کے مترادف ہے ۔ یہود و نصاریٰ شروع سے ہی مسلمانوں کا بھیس بدل کر مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے در پے رہے ہیں اور اس کی گواہی قرآن پاک کی سورہ منافقون میں ہے۔
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان پر جان نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے مگر اب مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ مسلمان ، مسلمان کے خون کاپیاسا کیوں ہے؟ مسلمان، مسلمان کی تذلیل کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے؟ مسلمان، مسلمان کی آزادی صلب کرنے پر کیوں آمادہ ہے؟ مسلمان، مسلمان کا حق مارنے کا کیوں سوچ رہا ہے ؟ اور مسلمان، مسلمان سے آئے دن کیوں دور ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ قرآن مجید واضح فرما رہا ہے کہ ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقوں میں نہ پڑو” اگر یہ کہا جائے کہ قرآن حکیم یکجہتی کا حکم دے رہا ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔ مگر ہم ہیں کہ تعلیمات اسلامی کو چھوڑ کرغیر وں کے اشاروں پر چل رہے ہیںاور دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلمان،ایک دوسرے سے دست وگریباں نظر آتے ہیں ۔ اسلامی امت میں تفرقہ ڈالنا سب سے بڑا ظلم ہے ہمیں قرآنی آیات، احادیث، اجہتادات اور ایسے لوگوں کی آرا جو امت کو اتحاد کی طرف بلاتی ہیں ان سے استفادہ کر کے اس مہلک بیماری کا علاج تلاش کرنا ہو گا۔ دیکھئے ! بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں رحمت، وحدت اور اسلامی و انسانی اخوت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ ان امور کو اسلامی معاشرے کے لیئے اہم قرار دیا گیا ہے ۔ اسلام کی اعلیٰ وارفع تعلیمات کے باوجود اسلامی ممالک میں غربت ، افلاس، نفاق، ظلم ، عدم مساوات، بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی وارداتیں اور طبقاتی فاصلے کا مرض دیکھنے کو ملتا ہے جسکی وجہ سے ان ممالک میں اکثریت لوگوں کی زندگی درہم برہم ہو کررہ گئی ہے۔ عالم اسلام میں مسلم امہ کا درد رکھنے والے لوگ اتحاد پر زور دے رہے ہیںمگر کچھ ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو الگ ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں وہ مذہبی اختلافات اور بعض رسومات کو غلط رنگ اور غلط ہوا دے کر مسلمانوں کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہیں واجب القتل بھی قرار دیتے ہیں جبکہ اسلام میں انسان کی جان اور اس کے تحفظ پر تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد رب العزت ہے کہ ” جو شخص کسی کو نہ جان کے بدلے میں نہ ملک میں فساد پھیلانے کی سزا میں (بلکہ ناحق)قتل کردے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر ڈالا” ۔ اسی طرح سورة النِساءمیں فرمان خداوندی ہے کہ ” کسی ایماندار کے لیئے جائز نہیں کہ کسی مومن کو جان سے مارڈالے مگر غلطی سے ” اس کے بعدا رشادہوتا ہے کہ ” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالے تواس کی سزادوزخ ہے اور ہمیشہ اس میں رہے گا” ۔ اس پر خدا نے اپنا غضب ڈھایا ہے اور اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیئے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ” ۔ یہاں پر واضع ہے کہ قرآن حکیم میں مسلمانوں کے لئے مومن کی تعبیر استعمال کی ہے جبکہ سورة حجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ” بدوعرب کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔ اے رسول کہ دو تم ایمان نہیں لائے بلکہ اسلام لے آئے” اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں تمام مسلمان شامل ہیں اور ان کے دل کا حال خدا جانتا ہے اور وہی ان کے ایمان کی حقیقت سے واقف بھی ہے اور ان کے ایمان کا حساب روز قیامت کیا جائے گا” ۔ ان آیات شریفہ سے یہ بات واضح ہے کہ مسلمان کو کافر قرار دینا اور اس کے قتل کا حکم دینا جائز نہیں ہے یہ امربذات خود ایک طرح سے اتحاد یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک اور سوال درپیش ہے کہ خدا معلوم وہ کیسے مسلمان ہیں جو ان مسلمانوں پر کفر و شرک کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیں جو “لااِلَہَ اِلااللہ ُ محمد ُ الرَسول ُ اللہ” کے قائل ہیں ، حج کرتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور تمام فروع و اصول کو دل سے تسلیم کرتے ہیں مگر ان پر اس لئے فتوے لگائے جاتے ہیں کہ وہ فتوے لگانے والوں کے ہم مسلک نہیں ہوتے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دور حاضر کے مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ مسلمان ہر جگہ ذلت کا شکار ہیں غیرمسلم آئے دن مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں جیسے فلسطین، عراق، لبنان، افغانستان، شام اور کشمیر اور ان کے علاوہ بھی کئی اسلامی ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں ، خواتین بچوں پر ظلم و ستم کیئے جار ہے ہیں اور ان کی آزادی کو صلب کیا جا رہا ہے مگرمسلمانان ِ عالم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور یہ سب کچھ چند نام نہاد یہودی نوازمسلمانوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے خداراہر فرد کو خدا کے احکامات پرعمل پیرا ہوتے ہوئے اپنااپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس نفرت اور ذاتی انا اور مفاد کی سرد جنگ کوختم کرکے ایک ہونا چاہیے ، ہمیں اپنے ذہن میں ایک ہونے کی فکر کو رواج دینا ضروی ہے اس سے ایک دوسرے کااحترام کرنے کی فضا قائم ہو گی اور نفرت ایک بند گلی میں بند ہو کر رہ جائے گی ۔ جس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے درمیان تعاون اور مفاہمت بڑھے گی اور اوراس عمل سے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی ہو گی اور تمام مسلمان امت و احدہ بن کر عزت و وقار سے زندگی گزاریں گے اور ان کوکبھی بھی ذلت کاسامنا نہیں کرنا پڑے گااور کامیابی مسلمانان ِ عالم کے قدم چومے گی۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved