تازہ تر ین

وطن کی ثقافت کا حال

خواجہ عبدالحکیم عامر\سچ ہی لکھتے جانا
قارئین! خبریں کی خدمت میں محبت بھرا سلام پیش کرتا ہوں۔ اپنا پہلا کلام پیش کرنے سے قبل ایک وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا کالم عام آدمی اور اس کے مسائل کا عکاس ہو گا۔ یہ سچ ہے کہ سیاست ہمارا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہوئی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایک غریب گھرانے کا سیاست سے بھلا کیا تعلق؟ اس کی سوچ چولہے روٹی سے شروع ہو کر دال دلیہ اور گھی پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ سوسائٹی کے بڑے طبقے نے تو دولت کے بل بوتے پر بہت مہنگے مہنگے شوق پال رکھے ہیں مگر ایک متوسط شخص کی بڑی سے بڑی تفریح یا فلم یا سٹیج ڈرامہ ہی تو ہے اور لگتا ہے کہ ان دونوں تفریحات کے ٹکٹس بھی متوسط طبقے کی بساط سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے اچھے بھلوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہوئی ہے۔ کوئی پوچھنے ٹوکنے والا نہیں۔ پوچھنے ٹوکنے والے تو خود حکمران ہیں۔ اشیائے خوردنوش اور روزمرہ استعمال کی تقریباً تمام اشیاکو پر لگ چکے ہوئے ہیں اور حکمرانوں میں اتنی جرا¿ت نہیں کہ مہنگائی کے اس جانور کے پر کاٹ سکیں۔
لگتا ہے کہ تمہید کچھ زیادہ ہی طویل ہونے لگی ہے لہٰذا کالم کا باقاعدہ آغاز کرتا ہوں۔
آغاز شورش کاشمیری مرحوم کاایک معروف شعر ہے :
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں
سیاست کل بھی ہمارا اوڑھنا بچھونا تھی، آج بھی ہے اور شاید آئندہ بھی رہے اس لیے سیاست پر وقت ضائع کرنے کی بجائے میں آغاشورش کشمیری صاحب ہی کے اس شعر میں ”سیاست“ کی بجائے ”ثقافت“ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں۔
میرے وطن کی ثقافت کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں
میں آج کا کالم اپنی ثقافت ہی کے حوالے سے تحریر کر رہا ہوں کیونکہ ثقافت میں پہلے دوسرے اور تیسرے درجے کے تمام افراد شامل ہوتے ہیں اور یہ سچ ہم سب کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر حکومت اپنی طرز کی اور اپنے مزاج کی ثقافت متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہے۔مختصراً یہ کہ جیسی حکومت ویسی ہی ثقافت نظر آتی ہے۔
تاریخ کا طالب علم ثقافت کا تذکرہ بڑی آسانی سے کر سکتا ہے کہ کس کس دور میں کس کس قسم کی ثقافت اور ثقافتی ماحول دیکھنے کو ملا لیکن اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ ہر دور میں ثقافتی ماحول مختلف ہی رہا یوں کہیے کہ حکمرانوں کے مزاج کا مرہون منت ہی رہا ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ کئی سال پہلے جب شاید سٹیج ڈراموں کی ابتدا ہوئی تھی میرے ایک رائٹر، وہدایتکار دوست اقبال آفندی نے الحمرا میں کھیلے جانے والے اپنے کھیل سکسر میں مدعو کیا اور خاص کر نئے اداکار امان اللہ خان کا کام چیک کرنے کی تاکید کی۔ سکسر امان اللہ کی زندگی کا پہلا ڈرامہ تھا میں نے سکسر دیکھا۔ رپورٹ تیار کی اور مجید نظامی صاحب کے حوالے کر دی۔ رپورٹ میں سکسر کی تعریف کی گئی تھی مگر رپورٹ کے آخر میں ایک فقرہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ تمام تر خوبیوں کے باوجود سکسر فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگلے روز نوائے وقت میں رپورٹ شائع ہوئی۔ اخبار مارکیٹ میں آنے کے چار گھنٹے بعد ہی پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن شیخ حفیظ الرحمان جو ایک شریف اور غیرت مند انسان تھے نے سکسر بین کر دیا اور 19 دن بین رہا اور پھر شرائط منوائے جانے کے بعد سکسر کو نمائش کی اجازت ملی اور امان اللہ کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہو گئی۔ شیخ حفیظ الرحمان کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ سٹیج پر ایک بھی بے ہودہ مکالمہ بولا جائے اور یہ حکومت خاص کر متعلقہ افسر کی غیرت اور ضمیر زندہ ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سٹیج ڈراموں نے عروج پکڑنا شروع کیا اور سٹیج ڈرامہ باقاعدہ ایک منافع بخش کاروبار بننے لگا۔ اسی کاروباری دھکم پیل میں چند بے ضمیروں نے جگہ بنانا شروع کی اور کامیابی حاصل کی کیونکہ یہ وہ دن تھے جب بازار حسن بند کر دیئے گئے تھے۔ مختصراً یہ کہ بازار حسن سمٹ کر اس نئے کاروبار میں کھپنے لگا اور سٹیج ڈرامے بازاری پن کا شکار ہو گئے۔
کہتے ہیں جہاں بے غیرتی ہوتی ہے وہاں غیرت مند بھی پیدا ہو کر بے غیرتی کے سامنے آ جاتے ہیں۔ غیرت مندوں کے احتجاج پر ہی سنسر اور سکروٹنی کا نظام معرض وجود میں آیا۔ ڈراموں کا سکرپٹ پڑھا جانے لگا کھیل کی تکمیل پر سرکاری ٹیمیں ڈرامے سنسر کرنے لگیں پھر مانیٹرنگ سسٹم بھی اپنایا گیا۔
ان سرکاری ٹیموں نے پہلے پہل تو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ڈراموں میں صفائی ستھرائی نظر آنے لگی واہیاتی کم ہونے لگی اور یہ چیز بے غیرتوں، بے ضمیروں کو گوارا نہ ہوئی اور انہوں نے سرکاری ٹیموں کو سبز باغ دکھانا شروع کیے جس کے نتیجہ میں ڈرامے ایک بار پھر واہیاتی اور بے ہودگی کا شکار ہونے لگے اور یہ سلسلہ بڑی تیزی کے ساتھ چلنا شروع ہو گیا اور اس میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔
میں نے چند کالموں میں سرکاری کمیٹیوں کے ممبران کی ضمیرفروشی اور خریدوفروخت کا ذکر کیا تو سید یوسف رضا گیلانی نے مجھے فلم سنسر بورڈ کا ممبر بنا دیا۔ میں نے فلم سنسر بورڈ کا ممبر بنتے ہی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک بہت بڑی فلم روک دی۔ بہت دباﺅ تھا مگر میں ڈٹا رہا اور میری اطلا ع کے مطابق وہ فلم آج بھی ڈبوں میں بند پڑی ہے پھر ایک وقت آیا کہ میرے ایک کالم کے جواب میں شہباز شریف نے مجھے سٹیج ڈراموں کی سکرپٹ سکروٹنی کمیٹی کا ممبر بنا دیا یہاں بھی میں نے بے غیرتی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی اور آج بھی سرگرداں ہوں۔ سٹیج ڈراموں کے بے غیرت عناصر میری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ وحشائیں میرا نام سننا پسند نہیں کرتیں اور نام سن کر گالیاں اور بددعائیں دینے لگتی ہیں۔
میں نے زندگی میں پہلی بار حکومت سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر مجھے واہیاتی اور فحاشی پر ڈرامہ یا فنکار بین کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو سٹیج ڈراموں کے موجودہ معیار میں کافی بہتری لا سکتا ہوں مگر میری خواہش کو قبول نہ کیا گیا اور اسے ہوا کے بے رحم جھونکوں کے سپرد کر دیا گیا۔ اس انکار میں سیکرٹری داخلہ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر لاہور نے اہم رول ادا کیا۔
دوستو! نہ جانے کیا مجبوری ہے محکمہ انفارمیشن وداخلہ کی اس باضمیر فقیر کو ابھی تک برداشت کیے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زیر نظر کالم کی اشاعت سے پہلے ہی میرا پتا کاٹ دیا جائے۔
سٹیج ڈراموں کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال کا تذکرہ میں نے ایک تحریری مکتوب میں وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس جناب ثاقب نثار، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، سیکرٹریز انفارمیشن داخلہ اور ڈپٹی کمشنر لاہور کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے اور اس بات کو ایک مہینہ بیتنے کو ہے۔ وہ دن اور آج کا دن مجھے کوئی مثبت یا منفی جواب موصول نہیں ہوا البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ انفارمیشن سیکرٹری پنجاب نے میرا سیل نمبر ہی بلاک کر دیا ہوا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنا کہنے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور لگتا ہے کہ سٹیج ڈراموں کا مالک طبقہ اس قدر طاقتور ہو چکا ہوا ہے کہ قانونی طور پر طاقتور میرے حکمران خاموش رہنے پر مجبور ہو چکے ہوئے ہیں اور حوّا کی بیٹیاں جنہیں میں وحشیاﺅں کا نام دیتا ہوں ہم غیرت مندوں کی غیرت کا منہ چڑا رہی ہیں…. جیسا میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ کسی جگہ کی ثقافت کا اندازہ حکمرانوں کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔
شہباز شریف کسی فرشتے کا نام نہیں وہ بھی خوبیوں خامیوں سے بنا ہوا انسان ہے مگر میں اس کے ایک اقدام پر آج بھی خوش ہوں کہ میرے ایک کالم کے جواب میں اس نے ایک سہ رکنی کمیٹی بنائی۔ کمیٹی میں میرے علاوہ پرویز رشید اور عطاءالحق قاسمی شامل کیے گئے کمیٹی کو وہ سفارشات مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا جن پر عملدرآمد کر کے سٹیج ڈراموں کی غلاظت کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ کمیٹی کی سفارشات آج بھی سٹیج ڈراموں پر لاگو ہیں مگر عمل نہیں ہو رہا۔ اگر مذکوہ سفارشات پر عمل کیا جائے تو سٹیج پر دکھایا جانے والا گند ختم کیا جا سکتا ہے۔
(کالم نگارثقافتی‘سماجی اورادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved