تازہ تر ین

جماعت اسلامی کو نشاةِثانیہ کی ضرورت ہے2

ڈاکٹر محمد امین….خاص مضمونڈاکٹر محمد امین….خاص مضمونمولانا نے یہ بات پبلک پلیٹ فارم پر بھی کہی، جماعت کے پنجاب کے امیر مرکزی رہنما اور مولانا کے پرانے ساتھی سید اسد گیلانی مرحوم نے بھی مولانا مودودی کے حوالے سے اس سے ملتی جلتی باتیں بتائیں، مولانا وصی مظہر ندوی کے نام مولانا کے بعض خطوط بھی موجود ہیں، ایک معتبر رکن جماعت سے قاضی حسین احمد مرحوم نے بھی اس کا اعتراف کیا ، غرض یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مولانا مودودی اپنی اس رائے پر نظر ثانی کرناچاہتے تھے کہ سیاسی انتخابی جدوجہد پاکستان میں اقامت دین کی واحد راہ ہے لیکن اس وقت کی جماعتی قیادت نے مولانا کے موقف کو تسلیم نہ کیا اور سیاسی جمہوری انتخابی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، اس کے بعد سے جماعت آج تک اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔3۔1970 سے لیکر 2018تک یعنی نصف صدی میں جماعت اسلامی نے بےشمار انتخابات میں حصہ لیا اور ہمیشہ شکست کھائی، اس کے نتائج مندرجہ ذیل نکلے ہیں:٭….جماعت اسلامی آج ایک ناکام سیاسی جماعت ہے، اس کی سٹریٹ پاور ختم ہوچکی ہے ، اس کا ووٹ بنک معدوم ہوچکا ہے ، اس کے مرکزی قائدین کی اکثر ضمانت ضبط ہوجاتی ہے ، یہ چند سو ووٹ لیتے ہیں جبکہ انکا مد مقابل امیدوار ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ لے رہا ہوتا ہے ۔٭….جماعتی قائدین و ارکان کا اخلاقی ، دینی و علمی معیار گر چکا ہے اور جو معیار مولانا مودودی کے زمانے میں تھا اب اس کے پاسنگ بھی نہیں ہے اور 1956میں مولانا امین احسن اصلاحی اور دوسرے لوگوں نے جن خدشات کا اظہار کیاتھا وہ سچ ثابت ہوئے ہیں۔٭….پاکستان میں فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں دین سے دور ہوچکے ہیں ، مغربی فکر و تہذیب (خصوصاً سیکولرازم ، لبرل ازم ، کیپٹل ازم …وغیرہ ) اور اس کے اصول و اقدار ہر سو غالب آچکے ہیں اور یہ بڑی حد تک نتیجہ ہے اس اجتہاد کا جو مولانا نے مغرب کی لادین سرمایہ دارانہ اور ملحدانہ جمہوریت میں چند اسلامی اصول (کاغذوں میں) داخل کرکے اسے ”اسلامی جمہوریت“ قرر دے کر قبول کرلیا اور بدقسمتی سے دیگر علماءنے بھی اسے قبول کرلیا، حالانکہ یہ علمی اور شرعی طور پر بہت کمزور موقف ہے ( جس کی تفصیل میں ہم یہاں نہیں جاتے ، البرہان میں اہم البتہ اس پر کئی بار لکھ چکے ہیں …دیکھئے مثلاً شمارہ جولائی 2018)۔٭….جماعت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے روایتی دینی عناصر اور مدارس و مساجد کے علماء(جن کا تعلق سارے دینی مکاتب فکر سے ہے ) مولانا اور جماعت کی فکر کو قبول نہیں کرتے بلکہ اسے رد کرتے ہیں، عرصہ دراز تک وہ مولانا کو مسٹر مودودی کہتے اور لکھتے رہے ، انہوں نے ہر انتخاب میں جماعت کا مقابلہ کیا، اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا اور عوام کے دلوں میں جماعت کے خلاف نفرت بھردی، یہی وجہ ہے کہ عوام جماعت کو ووٹ نہیں دیتے، ہمارے علم میں ہے کہ جب خیبر پی کے میں جماعت اسلامی جمعیت علماءاسلام (ف) کے ساتھ برسراقتدار تھی تو انہوں نے جماعت کو ایسی وزارتیں دینے سے انکار کردیا جن میں جماعت کچھ موثر دینی کام کرسکتی تھی اور زیر زمین دونوں جماعتوں میں عدم آہنگی اور معاصرانہ چشمک جاری رہی جس کی وجہ سے ایم ایم اے اس صوبے میں کچھ بھی ڈیلیور نہ کرسکی، انتخابات 2018میں بھی کسی دوسری مذہبی جماعت نے جماعت کو ووٹ نہیں دیئے ورنہ وہ یوں بے عزت ہوکر نہ رہتی ۔حاصل بحث:-1۔اگر جماعت کی قیادت سٹیٹس کو برقرار رکھتی ہے اور اپنے اس فیصلے پر مصر رہتی ہے کہ سیاسی انتخابی جدوجہد ہی پاکستان میں اقامت دین کا واحد ذریعہ ہے تو جس طرح وہ ماضی میں کبھی انتخابات نہیں جیت سکی، آئندہ بھی کبھی نہیں جیت سکے گی، خدانخواستہ یہ نہ خواہش ہے نہ بددعا بلکہ زمینی حقیقت ہے جو ہمیں کھلی آنکھوں سے نظر آرہی ہے ، جماعتی قیادت کو اگر نظر نہیں آتی تو کیا کیا جاسکتا ہے ،،،گر نہ بیند بروز شپرہ چشمچشمہ آفتاب را چہ گناہ( اگر کلر بلائنڈ کو دن میں روشنی نظر نہ آئے تو اس میں سورج کا کیا قصور؟)2۔سیدھا سادہ حل یہ ہے کہ جماعت کے بانی ، مفکر اور مصلح مولانا مودودی کی نظر ثانی شدہ رائے مان لی جائے …لیکن معاف کیجیے گا! ہمیں جماعت کی قیادت میں اتنی علمی و فکری صلاحیت نظر نہیں آتی کہ وہ جماعت کیلئے کوئی نیا راستہ نکال سکے، ( نہ موجودہ لوگوں میں اور نہ ممکنہ طور پر آئندہ آنے والوں میں ) آج تک جماعتی قیادت نے مطالبوں کے باوجود کبھی کوئی کمیٹی یا کمیشن اس غرض سے نہیں بنایا کہ جماعت کی شکست کے اسباب کا جائزہ لے اور حل تجویز کرے، اس دفعہ سنا ہے کہ مجلس شوریٰ نے ایک کمیشن بنایا ہے لیکن دو باتیں جان کر ہمیں اس پر ہنسی آئی ( اگرچہ بعض لوگ اس پر باقاعدہ رو رہے ہیں ) ایک یہ کہ اس کمیشن کا دائرہ اختیار یہ نہیں کہ وہ جماعت کی شکست کے اسباب کا جائزہ لے ، اس کے ذمہ داروں کا تعین کرے اور آئندہ کیلئے متبادل لائحہ عمل پیش کرے، اور دوسرے سیاسی حکمت عملی طے کرنے والی کمیٹی کے سربراہ قیم جماعت ہیں، یہ تو وہی بات ہوئی کہ” میراتنے سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب … انہی حکیم صاحب سے دوا لیتے ہیں“ اور اس کی جو کمیٹی دعوت و ترتیب کیلئے سفارشات تیار کرے گی وہ پھر اسی قیادت کے حضور منظوری کیلئے پیش ہونگی۔بعض لوگ مطالبہ کررہے ہیں کہ قیادت مستعفیٰ وہ جائے ( یعنی صرف امیر نہیں بلکہ نائب امراءبھی اور قیم اور اس کے نائبین بھی ) اور بعض مطالبہ کررہے ہیں کہ ارکان کا اجتماع عام بلایا جائے اور ان سے فیصلہ کروایا جائے ، ہماری رائے میں اصل بحران فکری ہے اور قیادت کا ہے، جب ایسی قیادت ہی موجود نہیں جوفکری رہنمائی کرسکے تو ارکان کا جم غفیر کیا کریگا؟، انہیں فکر دے کر کسی ایک بات پر یکسو کون کریگا؟ ہاں ! یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قیادت کے بعض عناصر کو یا مذکورہ کمیشن کو اس کی توفیق دے تو وہ ارکان کا اجتماع عام بلائیں اور انکے سامنے مولانا مودودی کی نظرثانی شدہ رائے رکھ کر اسے تسلیم کرلیا جائے، یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح افغانستان میں طالبان اٹھے تھے اسی طرح جماعت میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور وہ باقی لوگوں کو مولانا مودودی کی نظر ثانی شدہ رائے پر عمل کیلئے قائل کر لیں اور اس کیلئے تفصیلی سٹریجی واضع کرلیں، اس کیلئے یہ بھی سوچا جائے کہ مولانا مرحوم نے دسمبر 1975میں شوریٰ میں میں جو تقریر کی تھی، اسے شائع کردای جائے تاکہ ارکان و قائدین اس سے رہنمائی لے سکیں۔خلاصہ : یہ کہ جماعت اسلامی کو جو چیلنج آج درپیش ہے وہ یہ نہیں ہے کہ چھوٹی موٹی لیپا پوتی کرلی جائے، کوئی رسمی سی کمیٹی کمیشن بناکر اس سے ادھر ادھر کی چھوٹی موٹی تجاویز لے لی جائیں اور داخل دفتر کردی جائیں اور پھر کاروبار زندگی جیسا چل رہاہے ویسا ہی چلتا رہے، اگر یہی ہونا ہے ( اور جو کچھ نظر آرہاہے اس سے بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہی ہوگا) تو جس جماعت کو ہم آج رورہے ہیں کہ وہ زوال پذیر ہے وہ کل کو ختم ہو جائیگی جیسے تحریک خاکسار ہمارے دیکھتے ختم ہوگئی اور آج اس پر رونے والا کوئی بھی نہیں، یاد رہے کہ نظر یاتی جماعتوں کو حکومتیں اور ایجنسیاں ختم نہیں کرسکتیں وہ داخلی فکری تضادات کی وجہ سے ختم ہوتی ہیں، لہٰذا آج جماعت کو جو چیلنج درپیش ہے وہ نشآة ثانیہ سے کم درجے کی کوئی چیز نہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ اس فکر اور دستور پر نظر ثانی کی جائے، جماعت کی فکر اور دستور کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے جسے تبدیلی کی نیت سے چھوٹا گناہ ہو بلکہ یہ انسانی کاوش ہیں ، اجتہادی کاوش ہیں اور ان پر نظر ثانی تقاضائے وقت ہے، اور یہ تو جماعت اسلامی کی خوش قسمتی ہے کہ اسکا بانی خود اس فکر پر نظر ثانی کرچکا ہے ، لہٰذا اسے ہمہ شمہ کا منہ دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف اخلاص و دیانت اور راست فکری کی ضرورت ہے اور مولانا مرحوم کی نظر ثانی شدہ رائے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ (ختم شد)(بشکریہ:ماہنامہ البرہان)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved