تازہ تر ین

”خونیں ہاتھ“

احمد خان چدھڑ….خصوصی مضمون
قوم یوم دفاع دھوم دھام جذبہ اور جوش و خروش سے منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی اور وطن کے اندرونی دشمن خون کی ہولی کھیل رہے تھے ۔ 1992ءماہ ستمبر کی 5 تاریخ تقریباً 9 بجے رات پولیس وائرلیس کنٹرول پر ایک پیغام نشر ہوا کہ علاقہ اقبال ٹاﺅن کی کوٹھی نمبر۔۔۔۔ عمر بلاک میں نا معلوم افراد نے گھر میں گھس کر دو بچوں سمیت ایک عورت کو قتل کر دیا ہے ۔
ان دنوں میں سی آئی اے لاہور میں بطور ڈی ایس پی تعینات تھا۔ میرا آفس پرانی کوتوالی نزد لنڈا بازار تھا سارے ضلعؑ لاہور کے سی آئی اے سٹاف کا فرض مضبی تھا کہ ضلع میں جہاں کہیں بھی سنگین واردات ہوتی سی آئی اے کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی کرتا اور تفتیش میں مقامی پولیس کی مدد کرتا۔
اس سنگین واردات کی اطلاع پاکر میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ جائے وقوعہ پر لوگوں کا بے پناہ رش تھا جو کہ حسب روایت حکومت اور پولیس کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔
ایسے موقع پر پولیس افسر کو انتہائی صبر، حوصلہ، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ میں نے لوگوں کو سمجھایا کہ آپ اگر ہمارے کام میں رکاوٹ ڈالیں گے، ہمارا وقت ضائع ہوگا تو ملزمان قانون کی نظروں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائینگے۔ ہمیں کام کرنےکا موقع دیں انشاءاللہ بہت جلد ملزمان کی گردنوں تک پہنچ کر ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائینگے۔
لوگوں کا غصہ قدرے ٹھنڈا ہوا نعرہ بازی ختم ہوئی کوٹھی کے اندر جاکردیکھا ایک کمرے میں ایک جوان عمر عورت کی نعش پڑی تھی جس کے گلے میں رسی کا پھندا دیا گیا تھا۔ عورت کی دائیں مٹھی میں بال تھے جو لگ رہا تھا کہ کش مکش کے دوران عورت نے ملزم کو سر کے بالوں سے پکڑا اور کچھ بال اسکی مٹھی میں رہ گئے۔ ملحقہ سٹور میں دو بچوں کی نعشیں پڑی تھیں ایک کی عمر تقریباً آٹھ سال اور دوسرے کی عمر تقریباً تین سال تھی ان بچوں کی گردنوں کی شہ رگیں کٹی ہوئی تھیں۔
مالک مکان نے بتایا کہ وہ انارکلی بازار میں کاروبار کرتا ہے۔ حسب معمول رات نو بجے گھر پہنچا دیکھا تو میری دنیا اجڑ چکی تھی بیوی اور دونوں بچوں کی نعشیں خون میں لت پت پڑی تھیں اور گھر سے کچھ سامان بھی غائب تھا۔اس نے مزید بتایا کہ میری بیوی باقاعدگی کے ساتھ گیٹ کو اندر سے بند رکھتی تھی اور بغیر واقفیت اور شناخت کے گیٹ ہرگز نہیں کھولتی تھی اس سے معلوم ہوا کہ یہ واردات کسی بھیدی یا واقف کار نے کی ہے یا کرائی ہے۔
نعشوں کو پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال بھجوایا گیا۔
جائے وقوعہ کا انتہائی باریک بینی سے معائنہ کرنے پر کمرے کے اندر دروازہ کے ساتھ دیوار پر خون آلود ہاتھ کے نشان پائے گئے، ایسے لگ رہا تھا جیسے ملزم نے مکبری سے بھاگتے وقت خون آلود ہاتھ دیوار پر صاف کیا ہو۔ فنگر پرنٹس بیورو کے ماہر کو بلوا کر خون آلود نشانات اٹھوائے گئے۔
چونکہ اپنی نوعیت کی سنگین واردات تھی لوگوں کا کافی رش تھا مدعی کے رشتہ دار اور عزیز اقارب اس کے گلے لگ کر رو رہے تھے ایسا ماحول نہیں مل رہا تھا کہ مدعی کے ساتھ علیحدگی میں یکسوئی کے ساتھ بات ہو سکے۔
دوسرے دن نماز جنازہ کے بعد لوگوں کا رش کم ہوا نعشوں کو دفنایا گیا تو میں مدعی کو علیحدہ کمرے میں لے گیا اس کے ساتھ اظہار افسوس کیا اور اعتماد میں لے کر تفتیش کا باقاعدہ آغاز کیا۔
اب ان لائنوں پر سوچ بچار شروع ہوئی بلاشبہ یہ واردات کسی بھیدی اور واقف کار نے کی تھی جنہوں نے اپنی شناخت کے خوف سے اہل خانہ کو قتل کردیا ایسی واردات میں کوئی منشیات کا عادی یا جرائم پیشہ رشتہ دار ، اہل محلہ سے کوئی یا کوئی پرانا ملازم جو نوکری چھوڑ کر جا چکا ہو یا کوئی کام مزدوروں کے ذریعہ گھر میں کروایا ہو ان کو مشکوک گردانا جاسکتا ہے۔
مدعی نے بتایا کہ تھوڑے دن ہوئے ہیں گھر میں سفیدی اور سینٹری کا کام کروایا تھا ملتان روڈ کی ایک سینٹری کی دکان سے دو مزدور لایا تھا جن کے نام آفتاب مسیح اور غلام مصطفی تھے۔ مدعی نے دکان کی نشاندہی کی مالک دکان نے بتایا کہ 5 ستمبر کو آفتاب مسیح اور غلام مصطفی کام کیلئے 9 بجے صبح گئے تھے اس کے بعد ابھی تک واپس نہیں آئے اسکی یہ بات سن کر میرا ماتھا ٹھنکا۔ اس دکاندار سے ان کے مکمل کوائف لئے ان دونوں کے گھروں سے پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ وہ گھروں سے بھی غائب ہیں اب ہمارے لئے سب سے اہم مسئلہ ان کی تلاش و گرفتاری تھا۔اس کے ساتھ ساتھ دوسری لائنوں پر بھی تفتیش کو جاری رکھا۔
آفتاب مسیح اور غلام مصطفی ملزمان کی گرفتاری کیلئے علیحدہ علیحدہ پولیس کی دو ٹیمیں تشکیل دی گئیں ان دونوں کے رہائشی تھانوں سے ان کے سابقہ ریکارڈ کا پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ آفتاب مسیح ملزم پولیس چوکی جھنگ بازار میں چوری کے تین مقدمات میں چالان ہوا تھا۔ ان مقدمات کے تفتیش کنندہ افسر کا نام معلوم کرکے اس سے رابطہ کیا گیا تو ان سے اس کی تصدیق کی اور اس نے 1989ءمیں آفتاب مسیح کو چوری کے تین مقدمات میں چالان کیا تھا ملزم کے سرچ سلپ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ملزم کا سرچ سلپ تیار کرکے دفتر فنگر پرنٹ بیورو لاہور بھجوایا گیا تھا۔
سرچ سلپ ایک ایسا Document ہوتا تھا جس پر ملزم کے انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات سیاہی کے ساتھ پرنٹ کرکے دفتر فنگر پرنٹ بیورو میں بطور ریکارڈ جاتے ہیں۔ بعد میں تفتیش کے دوران ملزم یا مشکوک شخص کے فنگر پرنٹس لے کر دفتر فنگر پرنٹ بیورو موازنہ کیلئے ارسال کئے جاتے ہیں اگر یہ فنگر پرنٹس جن کو سیمپل پیپر کہا جاتا ہے سرچ سلپ والے فنگر پرنٹس سے موازنہ کر جائیں یعنی رپورٹ مثبت آجائے تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملزم واردات میں شامل تھا یہ ایک ٹھوس، ناقابل تردید اہم شہادت ہوتی ہے۔
چنانچہ آفتاب مسیح کے سابقہ سرچ سلپ سے جائے وقوعہ سے اٹھائے گئے انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات کا فنگر پرنٹس بیورو کے ماہر سے موازنہ کرایا گیا تو ان نشانات کی آپس میں مطابقت پائی گئی۔ یہ دیکھ کر ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ ہم کامیابی کی منزل کے قریب پہنچ چکے تھے۔
اسی اثناءمیںہماری ٹیمیں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئیں دونوں ملزمان پکڑے گئے دونوں ملزمان سے علیحدہ علیحدہ دریافت کیا جنہوں نے یہ واردات کرنی تسلیم کی آفتاب مسیح اور غلام مصطفی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی شناخت کے ڈر سے عورت اور بچوں کو قتل کیا۔ کیونکہ انہوں نے پہلے انہیں دیکھا ہوا تھا آفتاب مسیح ملزم نے بتایا کہ بھاگتے وقت اس نے اپنے خون آلود ہاتھ کو دیوار پر صاف کیا تھا غلام مصطفی ملزم نے بتایا کہ عورت نے اس کے بالوں سے پکڑ لیا تھا رسی کے ساتھ گلہ دبانے پر اس نے چھوڑا۔
دونوں ملزمان کی نشاندہی پر لوٹا ہوا مال بھی بر آمد کر لیا۔ غلام مصطفی ملزم کے سر کے بالوں کا نمونہ لے کر ان بالوں سے موازنہ کرایا جو پوسٹمارٹم کے وقت ڈاکٹر نے عورت کے ہاتھ سے قبضہ میں لئے تھے۔ ان بالوں کی بھی ماہر کی رپورٹ کے مطابق مطابقت پائی گئی آفتاب مسیح ملزم کے نشانات کی رپورٹ پہلے مل چکی تھی ملزمان کے خلاف یہ بہت ہی اہم شہادتیں تھیں اس کے علاوہ واردات کے متعلق مکمل ثبوت فراہم کرکے تفتیش مکمل کی اور ملزمان کو چالان عدالت کیا انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہوئی دونوں ملزمان کو عدالت نے تین تین بار سزائے موت کی سزا دی۔ بعد میں عدالت عالیہ نے ان کی اپیلیں خارج کردیں اور جناب صدر پاکستان نے ان کی رحم کی اپیلیں بھی مسترد کردیں اس طرح یہ ظالم اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
قارئین کرام۔ اس واردات کے واقعات و حالات سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ گھر میں کام کرنے والے افراد کی چھان بین کتنی ضروری ہے اجنبی ڈاکو صرف مال لوٹتے ہیں لیکن واقف کار شناخت کے ڈر سے قتل کردیتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں مورخہ5جولائی1996ءکو محلہ مہاجر آباد نواں کوٹ لاہور کی ایک عورت اوراس کے پانچ بچوں کو اس عورت کے سگے بھتیجے نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ڈاکے کی واردات کے دوران قتل کردیا تھا اسے اس بات کا خوف تھا کہ اس کی پھوپھی اور اس کے بچوں نے اسے دیکھ لیا اگر وہ زندہ بچ گئے تو اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑا دیں گے وہ لڑکا چرس پینے کا عادی تھا اس نے ایک دن اپنی مقتولہ پھوپھی سے پیسے مانگے تو پھوپھی نے پیسے دینے سے انکار کردیا کہ تم چرس پیتے ہو اور آئندہ گھر آنے سے اسے منع کردیا۔ اس رنج کی بنا پر اس نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ اپنی پھوپھی کے گھر ڈاکہ ڈالا اس نے نہ صرف مال لوٹا بلکہ پھوپھی اور اس کے پانچ بچوں کو چھریوں سے ذبح کرکے پورے کا پورا خاندان ختم کردیا۔
(کالم نگارسابق ایس ایس پی اور ماہر تفتیش کار آفیسر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved