تازہ تر ین

چندے سے ڈیم بھی بنے گا؟

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
اب جہاں عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے ”ڈیم فنڈ“ قائم کر دیا ہو اور وزیر اعظم آف پاکستان نے اس ڈیم کیلئے چندہ مہم کا اعلان کر دیا ہو وہاں خواہ میری آواز صدا بصحرا سمجھی جائے یا نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو لیکن دور جمہور میں مجھے اپنا نکتہ بیان کرنے کی اجازت تو یقینا ہے۔ چنانچہ گدائی میں لتھڑے ہوئے اس معاشرے کو یہ حقیقت بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ بھائی لوگو! چندوں سے مساجد اور ہسپتال تو بن جاتے ہیں ڈیم نہیں بنائے جا سکتے۔ ان عظیم مقاصد کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے بڑے بڑے قرضے لیے جاتے ہیں۔ اب جناب وزیر اعظم کے اعلان کے بعد حالت یوں ہو چکی ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں وہاں موقع پرستوں اور رجسٹرڈ دیہاڑی بازوں نے چندہ کیمپ قائم کر لیے ہیں اور مال مفت دل بے رحم کے مصداق جیبیں بھرنے کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کم از کم ایک ہزار ڈالر اس فنڈ میں جمع کروائیں۔ دنیا بھر میں 80 لاکھ سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں ا ور یہ تمام تو پہلے ہی 20 ارب ڈالر کی خطیر رقم ہر سال پاکستان کو زرمبادلہ کی صورت بھجواتے ہیں اب یہ علیحدہ بحث ہے کہ ان کے بدلے پاکستان کے ہوائی اڈوں پر انہیں کیا سہولت ملتی ہے اور ان کی کیا درگت بنائی جاتی ہے اور پاکستان میں ان کی جائیدادوں املاک اور رقوم پر کس طرح قبضہ کر لیا جاتا ہے اور پھر انہیں عدالتوں سے بھی دہائیوں تک انصاف نہیں ملتا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک ہزار ڈالر کی کوئی بڑی رقم نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہم 80 میں سے 70 لاکھ پاکستانیوں کیلئے جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ چھوٹی رقم نہیں ایک ہزار ڈالر تنخواہ میں سے نکل جائیں تو مہینے کا بجٹ خراب ہوتا ہے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کوئی ایک ملین ایسے اوورسیز پاکستانیوں کی لسٹ بنا لی جاتی جو تاجر ہیں کروڑ پتی یا ارب پتی ہیں یا اپرکلاس سے تعلق رکھتے ہیں چندہ دینے کی درخواست ان سے کی جاتی۔
حُب الوطنی کا جوش دلا کر ہم آوارہ وطن پاکستانیوں کو جیبیں خالی مت کروائیں کسی نے خوب چندہ کہانی بیان کی ہے پہلے یتیم خانے کا مہتمم چندہ مانگا کرتا تھا پھر مدرسے کا مولوی سارا سال چندہ مانگتا تھا اور پھر مسجدیں چندے پر بننے لگیں اورمسجدوں مدرسوں کی ساری انتظامیہ ان چندوں پر چلتی ہے خانقاہوں و مزاروں میں کبھی چندہ رکتا نہیں۔ زمانہ بدلا تو ہم نے زلزلوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کا مقابلہ بھی چندے سے کرنا شروع کر دیا پھر چندے سے خیراتی ہسپتال بنائے چندے سے سکول کھولے گئے۔ آج جدید چیریٹی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں۔ انہوں نے شاعروں، زاکروں، اداکاروں اور کھلاڑیوں کو معاوضے پر ہائر کیا اور بین الاقوامی طور پر چندہ مہم پر نکل کھڑے ہوئے افریقہ کے قحط کے مارے اور پاکستان کے محرومین کے نام پر چندہ بازی کی۔ اب قومی میڈیا بھی مارکیٹ میں موجود ہے اور بڑی کامیابی سے چندہ لے کر جنت بانٹنے کا کاروبار کرتا نظر آتا ہے۔ اینکر، گویے اور کرکٹر بھی لنگر لنگوٹ کس کے مارکیٹ میں اتر چکے ہیں۔ ایسی رمان پرور فضا بنا دی گئی ہے کہ اللہ دے اور بندہ لے اور اب تو اللہ اللہ حکومت خود اس چندہ مہم کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جو انتہائی آسان بھی ہے اور اس کی پوچھ گچھ بھی کوئی نہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی مسلم لیگ ن کی طرح ”قرض اتارو ملک سنوارو“ اوورسیز پاکستانیوں سے کھربوں ڈالر اکٹھا کرنے ہیں کیا کوئی بتائے گاکہ وہ پیسہ کدھر گیا۔ پرویز مشرف دور میں بھی ایسی ہی ایک مہم شروع ہوئی تھی وہ بڑی بڑی رقوم کا کیا ہوا؟ ہم اس حکومت پر کس طرح اعتبار کر لیں کہ ہمارا دیا ہوا محنت کا پیسہ مختلف لوگوں کی جیبوں میں نہیں جائے گا؟ حکومت جس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کا مورال دُنیا میں بلند کرے انہیں گداگری کی لعنت سے نجات دلانے کیلئے اقدامات کرے اور ایسی مضبوط معاشی پالیسیز بنائے کہ اسے بیرونی دُنیا سے قرض مانگنا پڑے اور نہ ہی اپنے عوام سے، حکومتیں تو اپنے عوام کو قرض دیتی ہیں مانگتی نہیں ہم مُحب وطن لوگ ہیں ہمیں اپنے آبائی وطن کا درد بھی ہے لیکن اپنی محنت کی کمائی ہم کرپشن اور دو نمبری میں ڈوبے ہوئے اداروں کو نہیں دے سکتے، ایک اور سوال بھی حکومت سے ہے کہ کیا آپ چندہ دینے والے سے پوچھیں گے کہ یہ جو رقم تم اس نیک کام کیلئے دے رہے ہو یہ تمہاری حلال کی کمائی ہے یا یہ دولت تم نے لوٹ مار اور منی لانڈرنگ سے اکٹھا کی ہے؟
اس سلسلہ میں ایک اہم ترین معاملہ جو حکومت کا فرض تھا کہ شفافیت کے ساتھ اپنے عوام کے سامنے لاتی وہ یہ کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جس جگہ پر یہ ڈیم بننے جا رہا ہے بھارت اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور عالمی عدالت میں جا کر اسے رکوا نہیں دے گا کیونکہ ہمیں یاد ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے منصوبے کا افتتاح 18 اکتوبر 2011ءکو اُس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی طرف سے قرض کی درخواست پر فنڈز دینے کی رضا مندی بھی دے دی تھی لیکن بعدازاں بھارت نے یہ دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان اور وہ علاقہ جہاں پاکستان یہ ڈیم بنانا چاہتا ہے وہ کشمیر کا حصہ ہے اور کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے چنانچہ بھارت کے اس اعتراض پر ان دونوں مالیاتی اداروں نے پاکستان کو قرض دینے سے انکار کر دیا۔ اب ایک لمحے کیلئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ ڈیم بنانے کیلئے ہم بیرونی دنیا سے کوئی قرض نہیں لیتے اور حالیہ چندہ مہم سے اس قدر رقم اکٹھی بھی کر لیتے ہیں جو مطلوب ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ بھارت عالمی عدالت میں جا کر ایک دفعہ پھر کشمیر کے متنازع ہونے کا رونا رو کر اس پر پابندی نہیں لگوا دے گا! لہٰذا ایسی صورت میں چندے کی اس کھربوں کی رقم کا کیا بنے گا؟
کیا ہم ماہرین کی اس رائے پر بھی کان نہ دھریں کہ دُنیا بھر میں کسی نے ایسے منصوبے پر کام شروع نہیں کیا جس کی مالیت اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 10 فیصد حصے کے برابر ہو۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں کہیں کوئی ایک مثال نہیں ملتی کہ کہیں اتنا بڑا منصوبہ چندے کی رقم سے پایہ تکمیل ہوا ہو ایسے منصوبے ہمیشہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر یا حکومتیں اپنے خزانے سے کرتی ہیں۔ دُنیا میں سب سے زیادہ ڈیم چین میں ہیں جن کی تعداد 87000 ہے انڈیا میں 3,200 ڈیم ہیں جبکہ پاکستان میں 150 چھوٹے بڑے ڈیم موجود ہیں تو کیا انڈیا اور چین سمیت پاکستان نے یہ ڈیم چندے سے بنائے ہیں ۔ عقل وشعور کا تقاضہ ہے اور سیدھی بات بھی یہی ہے کہ کیا ملک چندوں سے چلتے اور اس کے ترقیاتی منصوبے چیریٹی سے چلتے ہیں، کیا اس قسم کی چندا مہمات سے پاکستان جیسے ساتویں ایٹمی پاور کے حامل ملک کی ساکھ خراب نہیں ہوتی۔ دیامیر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کیلئے اگر پاکستان کے تمام شہری یعنی ملک کی تمام آبادی 30 ہزار روپے فی کس دے تو شاید ہم مطلوبہ رقم کے قریب قریب پہنچ سکیں لیکن کیا ہمارے ملک میں عام لوگوں کی آمدنی اس قدر ہے۔ عالمی ماہرین کی رائے میں اس طرح ڈیم بنانے کا خیال حکومت کی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماہرین کی آراءپر مشتمل بی بی سی کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ ڈیم فنڈ میں مطلوبہ رقم کا بمشکل پانچ فیصد جمع ہو سکتا ہے چنانچہ باقی 95 فیصد رقم سے کہاں سے آئے گی؟
تاریخ گواہ ہے کہ دیا میر بھاشا ڈیم جنرل پرویز مشرف دور میں بھی بنایا گیا تھا لیکن متعدد بار اس کی تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم ابھی تک صرف اپنے انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔ دو سال قبل نواز شریف نے بھی اس ضمن میں کوششیں کیں، متوقع طور پر 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے اس ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کی تعمیر کا تخمینہ 12 ارب ڈالر دیا گیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق آج اس کی تعمیر پر 18 سے 20 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ گزشتہ سال پاکستان نے یہ بھی کوشش کی کہ چین اقتصادی راہداری کے جاری منصوبے میں دیامیر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کر لے لیکن بعدازاں چین کی جانب سے رکھی گئی سخت شرائط کی وجہ سے اس خیال کو ترک کر دیا گیا تھا۔ اس تناظر میں اہم سوال یقینا یہ ہے کہ جس ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ 20 ارب ڈالر تک ہو اور اس کی تعمیر کا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو کیا اسے محض چندے کی رقم سے بنایا جا سکتا ہے اور پھر اس بات کا احتمال موجود ہو کہ انڈیا اپنی روایت کے مطابق اس معاملہ پر عالمی عدالت میں جا سکتا ہو تو کیا ان حالات میں اس قسم کی چندہ مہمات کا کوئی جواز رہتا ہے۔ پاکستان کو ڈیمز کی آج سے نہیں گزشتہ پچاس سال سے اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلی ضرورت یہ بھی ہے کہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر مذاکرات کیے جائیں پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق اپنے حصے کا پانی بھارت سے لے ورنہ اسے عالمی عدالت میں چیلنج کرے اور بھارت ہماری طرف آنے والے دریاﺅں پر جو ڈیم بنا رہا ہے۔ اس معاملے میں بھی عالمی سطح پر چیلنج کیا جائے، پاکستان اپنی معیشت کو بہترین معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے معاملات کو مضبوط کرے، ملکی پیسہ جو طاقتور لوگ ملک سے باہر لے جاتے ہیں اس پر کنٹرول کیاجائے۔ حکومت ایک اور کام بھی کر سکتی ہے کہ الزام زدہ مشتاق رئیسانی سے 84 ارب، شرجیل میمن سے 426 ارب، ڈاکٹر عاصم سے 480 ارب، نواز شریف سے 300 ارب ، احد چیمہ سے 850 ارب نکلوائے ان پانچ آدمیوں سے کل ملا کر 3140 ارب روپے اکٹھا کر کے چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں ڈال دے اور اگر پر نہ جلیں تو فوجی انکار پوزیشنز سے بھی دو چار سو ارب روپے چندہ لیا جا سکتا ہے لیکن حیرت ہے آ جا کر قربانی کا بکرا اوورسیز پاکستانیوں کو ہی سمجھا جاتا ہے اور پھر یہ 300 کینال میں رہنے والے بنی گالہ کے مکین 2500 کنال کے جاتی امراءرائے ونڈ کے رہائشی اور لاہور وکراچی میں سینکڑوں کینال پر مشتمل بلاول ہاﺅسز کے مالکان نے ایک روپیہ بھی ڈیم فنڈ میں نہیں دیا تو ہم چار مرلے کے مارگیج زدہ مکانوں میں رہنے والے پردیسیوں سے ڈالر کیوں مانگے جا رہے ہیں چنانچہ اثرانداز ہونے والی طاقتور قوتوں سے گزارش ہے کہ ڈیم تو ضرور بنائیں لیکن ہمیں ڈیم فول نہ بنائیں۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved