تازہ تر ین

نیلم و جہلم کو مرنے سے بچائیں

اسرار ایوب….قوسِ قزح
اس سے حیرت انگیز بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک طرف ہم اربوں درخت لگانے کی بات کررہے ہیں تاکہ ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے اور دوسری طرف اپنے ”اِیکو سسٹم“یعنی ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہے ہیں؟” اِیکو سسٹم “اُس حیاتیاتی ربط کو کہتے ہیں جس کے تحت جاندار اور غیر جاندار اشیاءایک کمیونٹی کی طرح مل جل کر رہتے ہیں تاکہ زندگی کا سلسلہ جاری و ساری رہے۔ دنیا دراصل چھوٹے چھوٹے ecosystems کا مجموعہ ہوتی ہے بلکہ بعض سائنسدانوں کے خیال میں تو دنیا بذاتِ خود بھی ایک بہت بڑے ”اِیکو سسٹم“ کا نام ہے۔ اس نظام کے بنیادی اجزا میں اہم ترین پانی ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر دریا کا اپنا ایک الگ ”اِیکو سسٹم “ہوتا ہے جو اُسی صورت میں بنتا اور برقرار رہتا ہے کہ دریا تواتر کے ساتھ ایک مخصوص راستے پر بہتا رہے، دریا کا رُخ موڑ دیا جائے تو ”اِیکو سسٹم©©“ تباہ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ ہی اس سے منسوب زندگی دھیرے دھیرے مرناشروع ہو جاتی ہیں۔ تو ہوا یوں کہ نیلم جہلم ہائڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے تحت دریائے نیلم کا رخ موڑ دیا گیاتاکہ نئے راستے کے ذریعے وہ ڈھلوان حاصل کی جا سکے جس کے بغیر مجوزہ مقدار میں بجلی پیدا کرنا ممکن نہیںتھا لیکن اس سے پہلے انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سے” این او سی“لینا ضروری تھا جو اس شرط کے ساتھ دیا گیا کہ پرانے راستے پر بھی دریا کا اتنا پانی رہنے دیا جائے جو” اِیکو سسٹم“کو سپورٹ کرنے کے لئے کافی ہو۔کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اتنا پانی آئے گا کہاں سے جس سے دو دریا بنائے جا سکیں گے ایک بجلی پیدا کرنے کےلئے اور دوسرا ماحولیاتی نظام کوبچانے کے لئے؟نیا راستہ 29کلومیٹر لمبی سُرنگ پر مشتمل ہے جو مظفرآباد شروع ہونے سے پہلے شروع ہوتی ہے مظفرآباد ختم ہونے کے بعد ختم ہوتی ہے ۔ نئے راستے پر”جنریشن لیول“کا پانی ڈالا گیا تو پتہ چلاکہ پرانے راستے کے لئے پانی بچتا ہی نہیں، اس جگہ دریا سوکھنے سے آبی مخلوق اور پودے مرچکے ہیں یا مر رہے ہیں۔
یہاں یہ گزارش بھی کرتا چلوں کہ زمین کی سطح پر زلزلے سے پیدا ہونے والی لہروں کی شدت کے اعتبار سے پاکستان کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے خطرناک زون 4ہے جہاں مظفرآباد اور یہ سُرنگ واقع ہیں ،جس کا مطلب یہ ہے کہ زلزلے کی صورت میں ”پِیک گراﺅنڈ ایکسیلی ریشن“0.32 gسے زیادہ ہو گی جو قیامت سے کم نہیں ہوتی اور جس سے بچنے کے لئے جس” بلڈنگ کوڈ“ کی پابندی لازمی ہوتی ہے وہ بھی(اطلاع کے مطابق) اس سرنگ کی تعمیرمیں نہیں اپنایا گیا۔
یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ”گلوبل وارمنگ“ کی وجہ سے ہمالیہ کے برفانی تودے مسلسل پگھل رہے ہیں وہ بھی اس تیزی سے کہ ان میں ہر سال 33سے 49فٹ کمی واقع ہو رہی ہے ،یہ سلسلہ جاری رہا تو( ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق) اگلے 50 برس میںہمالیہ کے 67فیصدگلیشئر مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔
اسی لئے توحکومت ِ پاکستان کہتی ہے کہ ہمیں فوری طور پر ڈیم بنانے چاہئیں ورنہ 2025میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو جائے گا چناچہ بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے بوٹ پالش کرنے والے بچوں سے بھی چندہ لیا جارہا ہے اور دوسری طر ف(پانی ذخیرہ کئے بغیر یعنی) ”رَن آف دی ریور“ کے نیلم جہلم پروجیکٹ پر 507ارب روپے خدا جانے کیا سوچ کر خرچ کئے گئے وہ بھی ”ایکو سسٹم“کو برباد کرکے اورزلزلے کی انتہائی زون میں بلڈنگ کوڈ کی پابندی کئے بغیر ؟
یہ سب باتیں آزادکشمیر کے حکمران جانتے تھے لیکن کیونکہ انہوں نے اپنی حیثیت چپڑاسی کے برابر رکھی ہوئی ہے لہذا وہ ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کچھ کر ہی نہیں سکتے بصورتِ دیگر نوکری ختم ہو سکتی ہے۔ موجودہ وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر میاں صاحب کی تحفظِ کرپشن تحریک کے دوران ہزاروں لوگوں کے روبرومیاں صاحب کی موجودگی میں راجہ فاروق حیدرفی الواقعہ رو ئے کہ اگر کرپشن کیس میں میاں نوازشریف کوسزا ہوگئی تو ہم کیاکریں گے۔ ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔ اس سے پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے تھے کہ ہم عمران خان کے پاکستان کو ماننے سے الحاقِ پاکستان کے نظریے پر نظر ثانی کو بہتر تصور کریں گے۔ جبکہ سابق وزیرِ اعظم چودھری عبدالمجیدکہتے تھے کہ میں گڑھی خدابخش کا مجاور ہوں اور ان سے پچھلے وزیراعظم سردار عتیق احمدکے خیال میں پاکستان کے لئے بہترین نظامِ حکومت ”ملٹری ڈیموکریسی“ تھاکیونکہ جنرل مشرف برسرِ اقتدار تھے۔چناچہ مظفرآباد کے لوگوں نے بجاطور پرازخود ہی نیلم بچاﺅ تحریک شروع کر دی ہے،جسٹس منظور گیلانی سابق چیف جسٹس آزادکشمیر اور امجد علی ایڈوکیٹ سابق وائس چیئرمین آزادکشمیر بار کونسل قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں جس کا لبِ لباب فقط یہ ہے کہ ”اِی پی اے“ کی جانب سے عائد کردہ شرائط فوری طورپر پوری کی جائیں بصورتِ دیگر یہ پروجیکٹ غیرقانونی ہوگا۔
نیلم کے بغیر مظفرآباد کبھی مکمل نہیں ہوسکتا ، اس دریا کے ساتھ مجھے بھی بڑی محبت ہے کیونکہ بچپن سے جوانی تک یہ میرا بھی بڑا ہی پیارا ساتھی رہا، تو اس کے نام ایک نظم ”نیلم کہانی“لکھی ہے جس پر آج کا کالم ختم کرتے ہیں کہ
کوئی موسم کوئی منظر کب یہاں ادھورا رہتا تھا
اِ س شہر کے بیچوں بیچ کبھی اک پورا دریا بہتا تھا
جو اُس دریا کے دھارے تھے وہ اپنے نور نظارے تھے
جو اُس کی بوندیں ہوتی تھیں وہ اپنے ہیرے موتی تھیں
اپنی آغوش کی ٹھنڈک سے جو پھول کھلایا کرتا تھا
اور سارے شہر کا کچرا بھی دامن میں اپنے بھرتاتھا
روتا رہتاتھا شب بھروہ اور دن بھرگاتاجاتا تھا
قہر کی دھوپ میں بھی ہم تک جو سرد ہوائیں لاتا تھا
وہ دریا اک بنجارا تھااور وقت کی آنکھ کا تارا تھا
ہم نے اُسے کیسا پیار دیاجیتے جی اُس کو مار دیا
یہ نیلم جہلم کی لہریںیہ سونے چاندی کی نہریں
دردیلی سُر میں روتی ہیںاب برف میں بھی کب سوتی ہیں
یہ پیاس کی نئی کہانی جواِن دریاﺅں میں بہتی ہے
یہ ہم سے بھی کچھ مانگتی ہے یہ ہم سے بھی کچھ کہتی ہے
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved