تازہ تر ین

یہ عجائبات

توصیف احمد خان

کرلیں باتیں…! وزیراعظم ہاو¿س یونیورسٹی اور گورنر ہاو¿س میوزیم بنیں گے، کیسی خوش کن خبر ہے یہ، یونیورسٹی تو خیر ٹھیک ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان عجائب گھروں میں کون کون سے عجائبات رکھے جائیں گے ، جو کچھ بھی رکھیں ، اس سلسلے میں جانے والے اور آنے والے گورنروں کو نہ بھولیں، ان میں بھی کئی ایک عجائبات سے تعلق رکھتے ہونگے ، لہٰذا کسی نہ کسی حیثیت اور حوالے سے یہاں انکی نمائندگی ضرور ہونی چاہئے، پھر کچھ لوگ یہاں جو ”کارنامے “ کرتے رہے ہیں ان کے ذکر کے بغیر یہ میوزیم نامکمل رہے گا،معلوم نہیں سچے ہیں یا جھوٹے مگر ہماری ہوش میں غلام مصطفی کھر کے کارنامے بیان کئے جاتے ہیں اور پھر یحییٰ خان اگرچہ گورنر نہیں صدر پاکستان تھے مگر ان کی رانیاں اور نورجہانیں اکثر انہیں اسی عمارت میں درشن دیتی رہی ہیں، اب ان کارناموں کا اس جگہ کیا ذکر کریں کہ یحییٰ خان سمیت ان میں سے غالباً کوئی بھی اس جہانِ فانی میں موجود نہیں ۔
جس جگہ گورنر کے دفاتر بنائے جارہے ہیں وہ بھی کچھ کم اہم نہیں ، ہماری مراد پنجاب کے گورنر سے ہے ، چنبہ ہاو¿س جی او آر میں ہے اور ایک زمانے میں یہ جگہ کافی بدنام رہی، کسی اور حوالے سے نہیں بلکہ نیب کے حوالے سے کہ یہ اس کا تفتیشی مرکز رہا ہے ، اسی مقام پر نیب اپنے ملزموں سے راز اگلواتا تھا…یہ راز کیسے اگلوائے جاتے تھے…؟ اندر کی بات کا تو ہمیں علم نہیں مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ اگلوانے والے معاملے میں پیپلزپارٹی کا ایک کارکن جان سے چلا گیاتھا، غالباً سخت جان بننے کی کوشش کی ہوگی، بعد میں نیب والے تو یہاں سے چلے گئے مگر یہاں کی ویرانی کو دیکھ کر ”گھوسٹ ہاو¿س “ یا ” بھوت بنگلے“ کا نام دیدیا گیا ، سنا ہے اب پھر سے اس کی تزئین و آرائش کردی گئی ہے …ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ گورنر صاحب کو اتنے لمبے چوڑے عملے کی ضرورت ہی کیا ہے جس کیلئے یہ وسیع و عریض عمارت مختص کردی گئی ہے ۔
ایک صاحب نے سوال اٹھایا ہے جو وزیراعظم ہاو¿س کو یونیورسٹی بنانے کے حوالے سے ہے، کہتے ہیں یہ مقام ریڈ زون میں ہے جہاں بلند ترین سکیورٹی ہوتی ہے ، ایسے میں یہاں یونیورسٹی کیسے بن سکتی ہے کہ اس سے سکیورٹی کے بیشمار مسائل پیدا ہو جائیں گے ، اور پھر وزیراعظم ہاو¿س موجودہ شکل میں تو یونیورسٹی بننے سے رہا، اس میں وسیع پیمانے پر ردو بدل کے علاوہ نئی تعمیرات کرنی پڑیں گی، یہ تعمیرات تو خیر کوئی مسئلہ نہیں ، اصل معاملہ سکیورٹی کے حوالے سے ہے، حکومت اس کا کیا حل نکالتی ہے…..دیکھتے ہیں۔
ایک اور نقطہ اہم ہے، نقطہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں تو ٹھیک ہے لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ آنے والی کوئی حکومت یا حکمران موجودہ حکمرانوں کے فیصلوں کی پابندی کرینگے، لاہور میں کلب روڈ پر وزیراعلیٰ ہاو¿س کے ساتھ بھی تو دفاتر کیلئے لمبی چوڑی عمارت بنی تھی جسے بعد میں زنانہ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کردیاگیا، مگر شہبازشریف صاحب نے اعلان کو مانا اور نہ اس کی پاسداری کی، جس مقصد کیلئے عمارت بنی تھی اسی کیلئے استعمال ہو رہی ہے ، جونیجو دور میں چھوٹی گاڑیوں کے استعمال کے فیصلے کو دیکھ لیں، بعد میں اس کا کیا حشر ہوا، پہلے بڑی گاڑیاں فارغ کی گئیں، اور انکی جگہ چھوٹی آگئیں مگر جونیجو کے جانے کے بعد چھوٹی گاڑیاں فارغ کرکے پھر بڑی خریدلی گئیں، جونیجو دور سے یاد آیا کہ موجودہ وزیراعظم ہاو¿س کی بنیاد موصوف یعنی محمد خان جونیجو نے ہی رکھی تھی مگر انہیں اس میں رہنا نصیب نہ ہوا، اس میں افتتاحی یعنی سب سے پہلی رہائش محترمہ بینظیر بھٹو کی تھی … کیا کوئی ایسا قانون بن سکتا ہے جس کو کبھی منسوخ نہ کیا جاسکے اور جس میں قرار دیدیا جائے کہ صدر، وزیراعظم ، گورنر اور وزرائے اعلیٰ چھوٹے گھروں میں تھوڑے عملے کے ساتھ قیام کرینگے، ورنہ ہوسکتا ہے کہ آنے والا کوئی وزیراعظم یا اسی قسم کا کوئی دوسرا عہدیدار شوقین مزاج ہو اور وہ اس سے بھی بڑا وزیراعظم ہاو¿س وغیرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلے۔
ویسے ان دنوں نیلامیوں کے معاملات زوروں پر ہیں، اب وہ چار بم پروف گاڑیاں بھی نیلام ہونگی جو شاہد خاقان عباسی نے منگوائیں مگر انہیں انکی سواری نصیب نہ ہوئی کہ حکومت ہی ان کا ساتھ چھوڑ گئی تھی، لیکن انہیں بم پروف گاڑیو ں کی کیا ضرورت پڑ گئی، ان کے والد خاقان عباسی اوجڑی کیمپ کا ایک گولہ لگنے سے اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے، اگرچہ شاہد خاقان عباسی اس وقت زیر تعلیم ہونگے مگر ہو سکتا ہے کہ والد کی اس طرح ہلاکت کا خوف ان کے ذہن میں موجود ہو ، لہٰذا ان سے جو کچھ بن پڑا انہوں نے کرلیا، یعنی ذاتی جیب سے خرچ کرتے ہوئے ہول پڑتے تھے ، سرکاری خرچ پر بم پروف گاڑیاں منگوالیں۔
لیکن ان چار ہیلی کاپٹرز کا کیا ہوگا جو کیبنٹ ڈویژن کے پاس ہیں اور طویل مدت سے یونہی کھڑے اپنے سواروں کے منتظر ہیں، مگر آج تک انہیں کوئی سوار نہیں مل سکا، اس لئے وہ کھڑے کھڑے ناراض ہوچکے ہیں، ان میں سے کوئی بھی چلنے سے انکاری ہے کہ اڑان بھرنے کی سکت ہی نہیں رہی…کہا یہ گیا ہے کہ انہیں نیلام کردیا جائے لیکن نیلامی کے دن بھی وہ خالی میدان میں ہی کھڑے رہیں گے کہ انکا کوئی خریدار ہی نہیں ہوگا…یہ ہیلی کاپٹرز جس طرح آئے تھے اسی طرح کھڑے ہیں، دھوپ ، گرمی ، سردی ، بارش …انہوں نے سب موسم کھلے میدان میں برداشت کئے ، لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،پی ٹی آئی کے نعیم الحق صاحب نے انہیں نیلام کرنے کا حکم تو جاری کردیا ہے مگر یہ جانے بغیر کہ ان کو نیلام کیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں، اس کی وجہ کوئی قانونی پیچیدگی نہیں بلکہ انکا ناکارہ ہونا ہے ، ان میں سے دو ہیلی کاپٹر 1971/72اور دو 1991/92 ماڈل کے ہیں جو ریسکیو آپریشن کے سلسلے میں تحفہ میں ملے تھے ، مگر ان سے آج تک ریسکیو کا کوئی کام ہی نہیں لیا گیا اور کھڑے کھڑے ان کے پرزوں میں ”کیڑے “پڑ چکے ہیں، ان میں چونکہ ہتھیار نصب کئے جاسکتے ہیں لہٰذا انہیں کوئی باہر کا خریدار ہی لے سکتا ہے مگر انکو رواں کرنے میں اتنے اخراجات آئیں گے کہ کارآمد ہیلی کاپٹر خریدنا اگرسستا نہیں تو بہت زیادہ مہنگابھی نہیں پڑیگا۔
ویسے ایک تجویز ہے کہ جس طرح 1965ءکی جنگ کے بعد ناکارہ ہو جانے والے سیبر طیارے مختلف چوکوں میں کھڑے کردیئے گئے اسی طرح ان ہیلی کاپٹرز کو بھی چاروں صوبوں میں بانٹ دیا جائے جو اپنے اپنے دارالحکومت میں انہیں گورنر ہاو¿س میں کھڑا کردیں کہ اب یہ بھی عجائبات میں شامل ہیں، دو چوتھائی صدی اور دو قریباً نصف صدی پرانے ہیں لیکن ان صاحب کا کھوج لگایا جائے جنہوں نے ان کو محض کھڑے رکھنے کا حکم دیدیاتھا تاکہ انہیں حماقت ٹائپ کا کوئی تحفہ دیا جاسکے ۔
انعام الحق صاحب لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیں کہ ان نو بھینسوں کا کیا بنا جو وزیراعظم ہاو¿س کی ملکیت ہیں اور نوازشریف نے خریدی تھیں، بہتر ہوگا انہیں نوازشریف کو ہی تحفہ میں دیدیا جائے تاکہ انہیں جیل میں تازہ دودھ اور مکھن تو مل سکے…..دیکھتے نہیں …..کافی کمزور ہو گئے ہیں ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved