تازہ تر ین

کلثوم نواز کے جنازے میں بد نظمی ،افسوس لوگ مولانا طارق جمیل کے موثر بیان سے محروم رہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ محترمہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ کے موقع پر بہت سارا ہجوم تھا۔ 35 برس سے شریف خاندان برسراقتدار رہا۔ 23 برس سے حکومت میں ہے۔ نوازشریف کے اتنے چاہنے والے،پسند کرنے والے، اتنے ان کے ووٹرز ہیں ظاہر ہے رش بہت ہی ہونی چاہئے تھی۔ لیکن مجھے افسوس ہوا میں نے کل بھی اس بات پر اظہار خیال کیا تھا کہ اس موقع پر سیاسی نعرے نہ ہوتے تو اچھا ہوتا۔ ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ایک دن اس دنیا سے جانا ہے اور جو لوگوں کے جانے کا اللہ کی طرف سے وقت مقرر ہے اور اگر شائستگی، تہذیب اور معاشرتی اور مذہبی قدریں تو جنازہ کی تقریب کو سیاسی نعرہ گوئی کا نشانہ نہیں بننا چاہئے۔ سیاست اپنی جگہ ہے۔ مثال کے طور پر بہت سارے ایسے بھی وہاں گئے تھے جو شاید سیاسی طور پر جناب نوازشریف سے اتفاق نہ کرتے ہوں۔ بے شمار مخالف سیاسی لیڈر بھی وہاں گئے۔ کیونکہ انسانی اخلاقیات کا پہلو جو ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں خود یہ سوچ رہا تھا اور میں نے بڑی کوشش سے فیصلہ کیا کہ ایک دو دن گزر جائیں تو کم از کم اطمینان سے انسان سلام دعا تو کر سکے کیونکہ آج کے دن بہت رش ہونا تھا۔ اور وہ رش ہوا۔ اس گہما گہمی کو اور بھیڑ بھاڑ کو سیاسی نعروں کے لئے استعمال کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ مولانا طارق جمیل کا بیانیہ بہت موثر ہوتا ہے۔ میرے اپنے بیٹے عدنان شاہد کی اچانک ہاٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا تھا تو مولانا طارق جمیل صاحب تشریف لائے تھے اور اتنا موثر ان کا بیانیہ ہوتا ہے اور ان کی تقریر سے وہاں موجود ہر شخص آبدیدہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی خوبصورت الفاظ کا تاثر اتنا ہوتا ہے کہ لیکن میرا خیال ہے کہ ہڑبونگ اور بدنظمی کی وجہ سے اور رش کی وجہ سے شاید ان کو باقاعدہ موقع بھی نہ مل سکا ہو حالانکہ اگر موقع ملتا تو مولانا طارق جمیل صاحب بہت عمدگی سے خاص طور پر جنازوں پر ان کا بیانیہ بہت ہی موثر ہوتا ہے میں تو خود سوچ رہا تھا کہ ان کو مناسب نہیں لیا گیا تو مجھے افسوس ہوا۔ زیادہ ہوتا کہ عمران خان جنازے میں شریک ہوتے لیکن چونکہ پہلے ہی حکومتی پارٹی نے اپنا ایک وفد تشکیل دیدیا تھا۔ چودھری سرور کے ذمہ لگایا گیا تھا کہ وہ تحریک انصاف کی طرف سے تدفین کے موقع پر جائیں۔ بہتر ہوتا کہ وہ جنازے میں شریک ہوتے۔
ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھی گفتگو کی ایک پوائنٹ مجھے پسند آیا کہ انہوں نے کہا کہ میری واہ واہ کی ضرورت نہیں آپ مجھے کچھ نہ کہیں اور آپ بہتر کام کریں۔ اس طرح انہوں نے بیورو کریسی میں خواہش پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ کام کی جو نوعیت ہے اس کو کامیابی سے ادا کریں اور کام پر توجہ اور محنت پر صرف کریں۔ کارروائی نہ ڈالیں۔ دو اڑھائی سال پہلے رحیم یار خان میں ایک تقریب ہوئی جب تقریب ختم ہوئی اور جب وزراءچلے گئے تو اچانک انہوں نے دیکھا کہ لوگوں نے انتظار بھی نہیں کیا اسی وقت وہ تنبو قناتیں اتارنے لگے اور ابھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو ان کو کرسیاں وہ لپیٹنے لگے۔ رائے ونڈ سے عاطف سبزواری نے کہا کہ نوازشریف صاحب کے یہاں آنے کے بعد ان کے جو چاہنے والے ہیں انہیں دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ اس طرح اتنا رش پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا۔ رائے ونڈ کی تاریخ میں اتنا بڑا جنازہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میاں محمد شریف، عباس شریف کا جنازہ بھی ہوا ہے لیکن اس جنازے میں لوگوں کی دلچسپی اس لئے زیادہ تھی میاں نوازشریف جیل سے یہاں پر آئے تھے اور پولیس کا رویہ بہت سخت رہا ہے۔ ٹریفک پولیس اور ضلعی پولیس ۔ اس طرح یہ فیملی مزید ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ کارکنوں کی طرف سے پہلے دو تین یہی نعرے لگتے رہے ہیں نوازشریف کے حق میں پورے حلقے میں یہ فضا ہو گئی تھی کہ نواز شریف سے بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے پولیس نے بالکل تعاون نہیں کیا۔ اڈا پلاٹ سے لے کر نوازشریف کے فارم تک پوری روڈ بلاک تھی اور وہاں لوگ 5,4 کلو میٹر پیدل چل کر جنازہ گاہ تک پہنچے ہیں اور لاکھوں افراد میں سے ہزاروں افراد جنازہ پڑھنے سے بھی رہ گئے ہیں اور اسی حوالے سے لوگوں نے وہاں پر نعرے بازی بھی کی اور اتنے رش کی وجہ سے مولانا طارق جمیل اپنا بیان بھی کر سکے انہوں نے اندر چند منٹ کا بیان خواتین کے ساتھ کیا اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا ہے۔ بہت سے لوگ ان کا بیان سننے کے لئے بھی آئے ہوئے تھے لیکن ان کو جو بھگدڑ مچی ہوئی جسے تبلیغی اجتماع میں ہوتا ہے ویسی ہی صورتحال بن گئی ہوئی تھی۔ نوازشریف کے کارکن تین چار دن سے یہاں موجود ہیں ایم پی اے، ایم این اے جو مقامی رہنما ہیں وہ اپنے طور پر انتظامات کر رہے تھے لیکن پولیس کی طرف سے انتظامیہ کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا اور بے شمار لوگوں کی جیبیں کٹی ہیں اور ان کی گاڑیاں گم ہوئی اور لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں اس طرح مظاہرہ ہوا۔ یہاں زیادہ نعرے نوازشریف وزیراعظم کے نعرے لگتے تھے مادر جمہوریت الوداع کے نعرے لگتے رہے۔ دوبار جنازہ کروایا گیا ہے اور تقریباً اتنا ہی مجمع یہاں سے بے نماز جنازہ پڑھے یہاں سے رخصت ہوا ہے اور ابھی تک رات 9 بجے تک ٹریفک بلاک ہے اور کوئی انتظام نہیں کیا گیا کہ عوام آرام سکون سے ساری ٹریفک نکل جائے۔
چوہدری عبدالغفار جو چند ماہ پہلے الگ ہو گئے نے کہا ہے زندگی موت اللہ کی طرف سے ہے کہ میاں محمد شریف کے ساتھ میری بڑی قربت رہی یہاں تک ان کی قبر اپنے ہاتھ سے بنانے کا موقع ملا اور اپنے ہاتھوں سے میں نے انہیں قبر میں اتارا۔ آج بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ تھی۔ کیونکہ سیاسی طور پر تو میں ان سے یقینا علیحدہ ہو چکا لیکن بیگم صاحبہ سے میرا ایک بڑا محبت والا رشتہ تھا۔ میں نے ہمیشہ انہیں بہت قریب سے دیکھا۔ بحیثیت سیاسی لیڈر وہ سب سے نمایاں تھیں پوری مسلم لیگ ن کے اندر جو رول انہوں نے ادا کیا۔ بحیثییت بیوی نوازشریف کا بے انتہا ساتھ دیا۔ کوئی بیوی اتنے مشکل وقت میں کھڑے ہو کر انہوں نے ثابت کیا کہ میں نوازشریف کے ساتھ کھڑی ہوں اور ان کے ویژن کے مطابق اس مشکل وقت میں کام کیا۔ نماز جنازہ میں بہت لوگ تھے اور ملک بھر سے لوگ وہاں پہنچے اور جب تک نماز جنازہ ختم ہو گئی تھی لوگ واپس آ رہے تھے اس وقت لوگ جا بھی رہے تھے جنازہ میں شامل ہونے کے لئے گاڑیوں کی لائن بہت لمبی تھی اڈا پلاٹ تک تو گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ ٹریفک پولیس اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی اچھے انتظامات تھے۔ کھلی جگہ پر اتنا بڑا ہجوم تھا، اہم جماعتوں سے لوگ آئے ہوئے تھے ان کی سکیورٹی کا مسئلہ تھا، ہزاروں لوگ جنازے میں شریک تھے، پولیس کے انتظامات کو سراہتا ہوں۔ بیگم کلثوم نیک خاتون تھیں۔ ان کو میلاد کی محفلیں سجاتے دیکھا، کبھی کسی ملازم سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا، سیاست میں بھی بہت اہم مقام رکھتی تھیں، محبت بانٹتی تھیں اور محبت بانٹتے بانٹتے ہی منوں مٹی تلے چلے گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دکھ ہے اسحاق ڈار کیوں نہیں آیا جن کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچا اس کو شرم آنی چاہئے۔ انہوں نے شعر کہا کہ
سارا جہاں اس کے جنازے میں شریک تھا
تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مر گیا
انہوں نے کہا میری بیوی وینٹی لیٹر پر ہوتی تو کبھی چھوڑ کر نہ آتا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ برطانوی حکومت کا رویہ ہمیشہ سے عجیب رہا جو بھی پاکستان سے بھاگ کر مال وہاں لے گیا برطانیہ نے اسے تحفظ دیا۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے رہے، ان کے خلاف گواہیاں آئیں لیکن برطانیہ کی عدالتوں نے کبھی گرفت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب برطانیہ اسحاق ڈار کے معاملے پر کہہ رہا ہے کہ اس کا پاکستان کے سات مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں، اگر معاہدہ نہیں بھی ہے تو ہم دولت مشترکہ کے رکن ہیں اس کا کیا فائدہ؟ مطلب یہ سب مذاق ہے۔ پاکستان سے جتنے بدمعاش برطانیہ گئے خواہ کسی بھی جرم میں ملوث تھے، کسی کو نہیں پکڑا گیا۔ برطانیہ سے ہمارے مخالفین کو ہمیشہ سیاسی پناہ دی۔بیورو چیف خبریں لندن وجاہت علی خان نے کہا کہ جس کے پاس پیسہ ہے خواہ وہ پیسہ کیسے بھی آیا اگر وہ برطانیہ آ جائے تو یہاں کی حکومت اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان یا کسی بھی ملک سے اگر کوئی ڈیڑھ کروڑ روپے لے کر برطانیہ آ جاتا ہے تو حکومت اس کو بزنس ویزہ جاری کر دیتی ہے۔ پیسے کی کوئی تحقیق نہیں ہوتی اور یہی امریکہ اور یورپ کے ممالک کی خوشحالی کا راز ہے۔ برطانوی حکومت صرف پیسہ دیکھتی ہے، یہ نہیں دیکھتی کہ وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے آیا یا بلیک منی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی، نون لیگ یا مشرف دور میں کبھی برطانیہ سے کوئی بندہ لے کر نہیں گئے۔ عمران خان صاحب وزیراعظم نہیں تھے تو 2 بار یہاں فائلوں کا پلندہ لے کر آئے کہ الطاف حسین کو نہیں چھوڑوں گا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں برطانوی حکومت سے رابطہ کریں اس کو واپس لائیں۔ پیپلزپارٹی دور میں رحمن ملک یہاں فائلیں لے کر آئے تھے اور برٹش حکومت یا اداروں کو دینے کے بجائے الطاف حسین کو دے دی تھیں۔ نون لیگ دور میں چودھری نثار نے بھی 5 سال کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ایجنسیوں نے 2 بندے پکڑے ہوئے ہیں جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ الطاف حسین کے کہنے پر قتل کیا، برطانوی حکومت ان دونوں ملزموں کی حوالگی مانتی ہے جو پاکستان کی ایجنسیوں کے پاس ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved