تازہ تر ین

بلوچستان سے پھر افسوسناک خبر ، کان میں گیس بھرنے سے 2 مزدور جاں بحق

کوئٹہ(ویب ڈیسک)بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس کے باعث 2 کان کن جاں بحق اور 2 بیہوش ہو گئے۔ جاں بحق اور بے ہوش کان کنوں کو کوئٹہ کے سول اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی کہ دونوں کان کنوں کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی تاہم بے ہوش ہونے والے کان کنوں کی حالات خطرے سے باہر ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن کے مطابق ’2010 سے 2018 کے درمیانی عرصے میں تقریباً 45 واقعات میں 318 کان کن جاں بحق ہوئے اور کان کنی کا شعبہ بنیادی ضروریات سے محروم ہے‘۔ جاں بحق ہونے والے کن کنوں کا تعلق افغانستان کے شہر زابل ہے۔ریسکیو ورکر کا کہنا تھا کہ یہ کان کن ہزاروں فٹ گہرائی میں کام کررہے تھے جب اچانک کان زہریلی گیس سے بھر گئی، جبکہ کان کنوں کے لیے کام کے حالات بھی انتہائی خراب تھے۔کان کنوں کو مناسب معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی وہ کان میں محفوظ ہوتے ہیں۔ 2015 میں بھی دکی میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث 7کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔اس وقت کے انسپکٹر مائنز رشید ابڑو نے بتایا تھا کہ بے ہوش کان کنوں کےلیے دکی میں علاج و معالجے کا کوی بندوبست نہیں ہے۔ان کا کہناتھا کہ کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 13 کان کنوں کو نکالا تاہم 7 کان کن 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی اندر پھنسے رہے اور ہلاک ہو گئے۔ رواں سال 5 مئی کو کوئٹہ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان مینرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی ملکیت سر رینج کوئلے کی کان مٹی کے تودے کی زد میں آگئی تھی۔کان میں حادثے کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، تاہم ریسکیو کا عمل مکمل ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 23 تک پہنچ گئی تھی۔جاں بحق 23 کان کنوں میں سے دو بلوچستان کے مقامی تھے جبکہ دیگر 21 کان کنوں کا تعلق شانگلہ سے تھا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved