تازہ تر ین

ڈیم مخالفین پر غداری کا مقدمہ ہو گا : چیف جسٹس

لاہور (کورٹ رپورٹر، خبر نگار) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا، پانی کی ڈکیتی کسی صورت قبول نہیں، قوم کی خدمت کے سوا کوئی مقصد نہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں۔سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی نکال کر منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے تمام بڑی منرل واٹر کمپنیوں کے سی ای او کو کل صبح 11 بجے طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے دیکھنا ہوگا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں، پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ پانی نکالنے کاریٹ طے کر لیںوکیل نے کہا کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لٹر ادا کر کے 50 روپے فی لٹر پانی فروخت کر رہی ہیں، میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے، ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ ملک نہ ہوتا تو شاید میں آج اعتزاز احسن کا منشی ہوتا، جس نے ڈیم روکنے کی کوشش کی ان کیخلاف آرٹیکل 6 کےتحت کارروائی کروں گا، پانی کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ قوم میں اتفاق ہوا تو دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے بعد کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے۔ لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت کے مسائل سامنے آئے، پتا چلا کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ اتنا سنگین ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے پتا کرایا تو معلوم ہوا کہ پانی کا مسئلہ تو پورے ملک کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پانی کی شدید قلت ہو گی اس لیے پانی کی قلت کا واحد حل ڈیم کی تعمیر ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم ہی پاکستان کی بقاءکا ضامن ہے، اللہ کے گھر میں کھڑا ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ہم نے کالا باغ ڈیم کو چھوڑا نہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر قوم متفق ہوئی تو دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے بعد کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ سب محافظ ہیں، آپ نے پہرہ دینا ہے تاکہ ڈیم پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان نے منرل واٹر کمپنیوں کی طرف سے زیر زمین پانی کے استعمال کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے زیر زمین پانی نکال کر منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں وفاقی حکومت کے وکیل اور ایم ڈی واسا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنیاں حکومت کو 25 پیسے فی لیٹر ادا کرکے 50 روپے فی لیٹر فروخت کررہی ہیں جبکہ ایم ڈی واسا نے بتایا کہ 2018 سے قبل پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں زمین سے مفت پانی نکال رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کےساتھ پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزیدکہا کہ دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں، میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ میری قوم یہ پانی پی رہی ہے، غریب آدمی آج بھی چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے اس کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک بات بتا دوں ماسوائے قوم کی خدمت میرا کوئی مقصد نہیں، میں نے آرٹیکل 6 کامطالعہ شروع کر دیا ہے، جس نےڈیم روکنےکی کوشش کی ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کروں گا۔عدالت نے منرل واٹر کی تمام بڑی کمپنیوں کےسی ای او کو کل صبح گیارہ بجے طلب کر لیا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved