تازہ تر ین

دےامر بھاشا ڈےم کی تعمےر ناگزےرکےوں؟

راﺅغلام مصطفی….عوامی کٹہرا
ملک مےں پانی کی قلت اور توانائی بحران وقت کےساتھ ساتھ شدےد تر ہوتا جا رہا ہے جو کہ حکمران طبقہ سمےت ملک مےں بسنے والے تمام طبقات کےلئے لمحہ فکرےہ اور غوروفکر کا متقاضی ہے۔ نئے ڈےم کی تعمےر کسی بھی حکومت کی ترجےحات مےں شامل نہےں رہی اس لئے مسائل مےں گھری عوام بھی اس گھمبےر مسئلہ کے بارے سوچنے سمجھنے سے قاصر ہی رہی کہ مستقبل قرےب مےں پانی کی عدم دستےابی پر اس کا انجام کےا ہوگا۔بد قسمتی سے قےام پاکستان سے لےکر ابتک کسی بھی قومی اےشو پر قومی قےادت اور سےاستدانوں کے درمےان اتفاق رائے دےکھنے مےں نہےں آےاجس کے باعث ےہ ملک و ملت مختلف بحرانوں سے دوچار ہے۔سےاسی مصلحتوں کے شکار اس ملک مےں توانائی بحران اور پانی کا مسئلہ سنگےن صورتحال اختےار کر چکا ہے جس کے باعث ملک کی معیشت عدم استحکام سے دوچار ہے۔ان حالات کے تناظر مےں دےکھا جائے تو ہمساےہ دشمن ملک بھارت نے کھل کر پاکستان کےخلاف آبی جنگ کا آغاز کر دےا ہے ان حالات مےں زمےنی حقائق سے آنکھےں نہےں چرائی جا سکتیں بھارت آبی جارحےت سے اس ملک کو اےتھوپےا بنانے کےلئے بر سر پےکار ہے۔قومی سطح پر اس وقت جتنے بھی بنےادی مسائل موجود ہےں سب سے بڑا اےشو بھارتی آبی جارحےت اور ملک مےں تےزی کےساتھ پانی کی قلت کا ہے۔پاکستان مےں ڈےمز کی تعمےر اور پانی ذخےرہ کرنے کے انتظامات نہ ہونے کے باعث اوسطا سالانہ بےس ملےن ہےکٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہر سال سےنکڑوں ہےکٹر فٹ اراضی پر فصل کاشت نہےں ہو پاتی اگر ےہی صورتحال رہی تو 2025ءتک پاکستان عالمی فہرست مےں ان ممالک کی صف مےں کھڑا ہو گا جہاں پانی کا بحران شدےد تر ہے۔ملک مےں کالا باغ ڈےم کا منصوبہ ملکی سلامتی و بقاءسے زےادہ سےاسی اناﺅں کی بھےنٹ چڑھ کر ابھی تک سرد خانہ مےں پڑا ہے ۔ملک مےں پانی کی شدےد قلت کا اندازہ آپ مےجر جنرل آصف غفور کے اس بےان سے بھی بخوبی لگا سکتے ہےں کہ اگر بھارت کےساتھ جنگ ہوئی تو وہ پانی پر ہوگی۔اس وقت ملک مےں حکمران جماعت پاکستان تحرےک انصاف کی حکومت قائم ہے اور وزےر اعظم عمران خان سے قبل سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس ثاقب نثار نے پانچ جولائی 2018ءکو ڈےمز کی تعمےر کے متعلق چار رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے مسلم لےگ ن کی حکومت کو حکم دےا تھا کہ دےامر بھاشا ڈےم اور مہمند ڈےم کی فوری تعمےر شروع کی جائے اور حکومت تےن ہفتوں مےں ڈےمز کی تعمےر کے متعلق رپورٹ کرے۔چےف جسٹس نے رجسٹرار سپرےم کورٹ کے نام اےک پبلک اکاﺅنٹ کھولنے کی بھی منظوری دےتے ہوئے اپنی گرہ سے دس لاکھ روپے ڈےم فنڈ مےں دےنے کا اعلان کےا تھا اور شہرےوں سے اپےل کی تھی کہ ڈےم فنڈ مےں عطےات دئیے جائےںاور اب وزےر اعظم عمران خان نے بھی پاکستانی عوام اور اوورسےز پاکستانےوں سے اپےل کی ہے کہ پانی کا مسئلہ ہمارے لئے زندگی موت کی جنگ ہے اسے جہاد سمجھ کر ڈےم کی تعمےر کےلئے فنڈز دےں ۔پانی و بجلی حکام کے مطابق 2001ءسے پانی کی دستےابی مےں بتدرےج کمی واقع ہو رہی ہے تربےلا کے بعد ہمےں ہر دس سال بعد اےک ڈےم تعمےر کرنا چاہےے تھا ہمارے پاس اس وقت 13.7ملےن اےکڑ پانی ذخےرہ کرنے کی استعداد ہے۔دےامر بھاشا ڈےم کی تعمےر کا اعلان سابق صدر جنرل(ر)مشرف کے دور حکومت مےں کےا گےا تھا لےکن بعد مےں آنےوالی حکومتوں نے فنڈز کی کمی اور دےگر مشکلات کا بہانہ بنا کر اس منصوبہ کو پاےہ تکمےل تک نہےں پہنچاےا21اگست2018ءکو اسحاق ڈار نے دعویٰ کےا تھا کہ انہوں نے ورلڈ بنک کو بھاشا ڈےم کی تعمےر کےلئے چودہ بلےن ڈالرز کی امداد کےلئے راضی کر لےا ہے۔اس سے دو سال قبل 2016ءمےں سابق وزےر اعظم نواز شرےف کی زےر صدارت ہونےوالے وفاقی کابےنہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے دےامر بھاشا ڈےم کی تعمےر کےلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہےںاور اس اجلاس مےں بھاشا ڈےم کےلئے زمےن کی خرےداری کی منظوری بھی دی گئی تھی۔پھر اپرےل 2018ءکو سابق وزےر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زےر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمےٹی (اےکنک)کا اجلاس ہوا جس مےں چار کھرب 74ارب روپے کی لاگت سے بھاشا ڈےم منصوبے کی منظوری دی گئی پھر مسلم لےگ ن کی حکومت نے رواں سال جون مےں جو بجٹ پےش کےا تھا اس بجٹ مےں دےامر بھاشا ڈےم اور مہمند دےم کی تعمےر کےلئے بجٹ 36ارب سے بڑھا کر 65ارب روپے کر دےا تھا جبکہ سات نئی اسکےموں سمےت پانی کے دےگر وسائل کےلئے 849ارب روپے مختص کئے گئے تھے ےہ اعداد و شمار قارئےںکےساتھ شےئر کرنے کا مقصد ےہ ہے کہ دےامر بھاشا ڈےم کی تعمےر کا مسئلہ تےن دہائےوں سے زےر التواءہے سال2008ءمےں ڈےم کو 2016ءکے آخر تک مکمل کرنے کا تہےہ کےا گےا تھا مسلم لےگ ن کی حکومت نے جون 2016ءمےں زمےن خرےدنے کا پھر تہےہ کےا لےکن نےتوں کی ولی حکومت کو پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑاےہ وہ الفاظ کی جنگ ہے جسے آج بھی ن لےگ اس ڈےم کی بنےاد سے لےکر اسکی تعمےر تک کا کرےڈٹ خود لےنا چاہتی ہے اور ےہی وجہ ہے کہ عمران خان کے ڈےم تعمےر کرنے کے غےر متزلزل ارادے کے راستے مےں تنقےدی تےروں کی بوچھاڑ کر رہی ہے تاکہ ےہ منصوبہ پاےہ تکمےل تک پہنچ کر انکی نےتوں کے فتور کو بے نقاب نہ کر دے۔اللہ کرے عمران خان کی حکومت ےہ معرکہ سر کرنے مےں کامےاب ہو جائے تاکہ پاکستان کو پانی کی قلت کے مسئلہ سے نجات مل سکے دےامر بھاشا ڈےم کا منصوبہ ےومےہ ساڑھے چار ہزار مےگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحےت رکھتا ہے اس منصوبے کی تکمےل سے پاکستان کی قومی آبی ذخائرکی گنجائش 38 سے بڑھ کر 45روز تک ہو جائےگی ۔چلاس سے 4کلو مےٹر نےچے کی جانب گلگت بلتستان مےن ڈسٹرکٹ ہےڈ کوارٹر دےامر واقع ہے جہاں 32دےہاتوں مےں چار ہزار 266گھر ہےں جن مےں 30ہزار350افراد مقےم ہےں۔اس منصوبے کی تکمےل کےلئے 37ہزار419اےکٹر زمےن درکار ہے جس مےں کاشت کاری‘بنجر اور دےگر استعمال کےلئے 19ہزار62اےکڑ سرکاری اور 18ہزار7 35اےکڑ نجی زمےن شامل ہے۔واپڈا کے جنرل منےجر برےگےڈئےر (ر) شعےب تقی کے مطابق کل زمےن کا 85فےصد رقبہ حاصل کر لےا گےا ہے اور ذخائر کےلئے تقرےبا95فےصد زمےن درکار ہے ۔بہر حال بھارت کی جانب سے آبی جارحےت اور توانائی بحران پر حکومت کو خاموش کردار ادا نہےں کرنا چاہےے بھارت کی طرف سے آنےوالے درےاﺅں پر ڈےمز بنانے اور درےاﺅں مےں پانی کا بہاﺅکنٹرول کرنے کے معاملہ پر اےکشن لےنا چاہےے اور خاموش رہنے کی بجائے اس اہم اےشو پر عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا۔اگر خدانخواستہ بھاشا ڈےم کی تعمےر بھی ناکامی کے باب مےں بند ہو کر رہ گئی تو پھر جنوبی اےشےا مےں بھارت اور پاکستان کے درمےان پانی کی ملکےت اور تقسےم کا تنازع بھی خطرناک صورتحال اختےار کر سکتا ہے ےہ طے ہے کہ ملکی ترقی و خوشحالی اور ملکی سلامتی و بقاءکو درپےش خطرات کا خاتمہ ڈےمز کی تعمےر سے ہی ممکن ہے۔۔۔!
(کالم نگارقومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved