تازہ تر ین

پولیس کی اصلاح

افتخار خان ….اظہار خیال
بڑے مزے کی بات ہے ہر آنے والی حکومت نے پولیس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی تاکہ عوام کی خدمت کی جاسکے۔ اس وقت پولیس خدمت کرنے کی بجائے اپنی خدمت کروا رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسائل پولیس کے پیدا کردہ ہیں۔ ان کو مزید سہولیات دینے سے یا تنخواہ بڑھانے سے کرپشن بڑھتی ہے اور پولیس کی ایک فیصد بھی اصلاح نہیں ہوتی۔ پولیس اس وقت سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیتی ہے۔ قاتل باہر پھر رہے ہیں اور بے گناہوں کو پھانسی مل رہی ہے۔ اس سے بڑا اندھیر نہیں ہوسکتا۔ ایک Sub-Inspector کو تفتیسی افسر بنایا جاتا ہے اور سارا کیس اس ایک شخص کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں دو قتل کے کیس تفتیشی افسر کو ساری زندگی کی روٹیاں فراہم کرتے ہیں۔
پولیس اصلاح کے لیے میری تجویز ہے کہ ان سے تفتیش واپس لے لی جائے اور یہ کام سیکٹر آفس اور عدالت کے سپرد کر دیا جائے یعنی پبلک خود اپنے فیصلے کرے۔ یقینا موجودہ سسٹم سے بہتر کرے گی۔ سیکٹر میں ایک غلط فیصلہ یا اس کا جھوٹا سامعہ میں غلط ہوگا تو اس کی کے خلاف سیکٹر آفس میں ہی اپیل ہوجائے گی۔ سیکٹر میں اگر قتل ہوجائے تو سارا سیکٹر جانتا ہے کہ کس نے قتل کیا۔ قتل کی اصل وجہ کیا تھی۔ اس نئے سسٹم کے تحت غلط فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس نئے سسٹم کی خوبی یہ ہے کہ 7 دن کے اندر ہر قسم کے کیس کا مکمل فیصلہ ہوجائے گا بمعہ دو عدد اپیلوں کے۔
اب میں واپس پولیس کی اصلاح کی طرف آتا ہوں۔ جب پولیس سے تفتیش واپس لے لی جائے گی تو پولیس کی وردی بدل جائے گی۔ پولیس کا ہر ملازم چھوٹا ہو یا بڑا ہو سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنے گا اور سر پر پگڑی ہوگی۔ شلوار کے پائنچے تنگ ہونگے اور پیٹ پر پٹکا ہوگا۔ یہ پٹکا پولیس والوں میں ایک دوسرے سے مختلف شو کرے گا۔ کالے رنگ کے شوز ہوں گے۔ پولیس صرف آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دے گی۔ گھر سے ناشتہ کر کے آئے گی اور گھر جا کر رات کو کھانا کھائے گی۔ رات کو مختلف لوگ ڈیوٹی دیں گے۔ SHO کا دفتر ایک کشادہ دفتر ہوگا۔ جس کا رقبہ 10 کنال سے کم نہیں ہوگا۔ حوالات کا تصور ختم کر دیا جائے گا۔ پولیس کا کام یہ ہوگا کہ عدالت فیصلہ کر کے سیل کر کے پولیس کو بھیج دے گی۔ پولیس اس فیصلہ کو Implement کرے گی اور عملدرآمد کر کے عدالت کو واپس اطلاع کردے گی۔
عدالت کا فیصلہ (1) بری کرنے کا ہوگا۔ ہوسکتا ہے ملزم کو شاباش کی سند دی جائے۔ (2) جرمانہ ہوسکتا ہے پولیس بینک میں جرمانہ جمع کروائے گی (3) قید ہوگی۔ پولیس پکڑ کر جیل میں داخل کردے گی۔ (4) پھانسی کی سزا ہوئی تو پولیس پکڑ کر تھانے میں پھانسی دے گی اور لاش ورثا کے حوالے کرے گی۔
خیال رہے پولیس فیصلہ کو نہ بدل سکتی ہے نہ اس میں ایک دن کی بھی دیر نہیں کرسکتی ۔ اگر مجرم بھاگ گیا ہوا ہے اور عدالت میں بھی پیش نہیں ہوا تھا۔ ایک تو مجرم اپنی صفائی کا حق کھو دے گا۔ سیکٹر میں جب بھی ملزم آئے گا پکڑا جائے گا۔ محلہ والے ہی بتا دیں۔ جب تک مجرم نہیں پکڑا جائے گا تو فائل پولیس کے پاس ہی رہے گی اور active رہے گی۔ ملزم کب تک چھپے گا۔ ملزم کے سر پر تلوار لٹکتی رہے گی۔ یہ خوف برداشت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ ہر وقت یہی خیال آتا ہے کہ اب پکڑا گیا چاہے وہ دنیا کے کسی حصے میں چلا گیا ہو۔ ہر محکمہ جب بھی کبھی بھی کوئی پیسوں کا نوٹس جاری کرے گا اس کی کاپی پولیس کو بھجوائی جائے گی۔ جو موقع پر جا کر جرمانہ کی رقم بینک میں جمع کروائے گی۔ سب سے اہم ڈیوٹی پولیس کی یہ ہوگی کہ اگر کوئی خریدار رسید نہیں لے گا تو ساتھ 20% کے برابر ٹوکن نہیں لے گا۔ اس کی اطلاع محکمہ پولیس کو بمعہ ثبوت کے بھجوائے گی اور پولیس اسی دن اس کی دوکان سیل کردے گی۔ یہ Five Star ہوٹل ہوسکتا ہے۔ کوئی شادی ہال ہوسکتا ہے۔ کوئی گاڑی یا مکان کی سیل ہوسکتی ہے۔ یہ سیل پھر دفتر کی تفتیش اور عدالت کی ڈگری کے بغیر نہیں کھلے گی۔ بجلی ، گیس، پانی کے محکمے بھی نوٹس پولیس کو بھیجیں گے تاکہ جرمانہ ادا ہوسکے۔ سولڈ ویسٹ والے ٹھیکیدار بھی بھی نوٹس پولیس کو بھیجیں گے تاکہ بل ادا ہو۔ پولیس کا اپنے سیکٹر پر پورا پورا کنٹرول ہوگا۔ ان کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکے گا۔ پولیس میں سپاہی کم اور افسر زیادہ ہوں گے۔ بلکہ سپاہی بھی افسر ہی ہوں گے اور موبائل ہوں گے۔
اس نئی تجویز سے پولیس کے محکمے کی Overhaulding خود بخود ہوجائے گی۔ 90% پولیس نوکری چھوڑ جائے گی اور ان کی جگہ پڑھے لکھے بھرتی کیے جائیں گے۔ جن کے لیے نئے سسٹم کو چلانے میں آسانی ہوگی۔ تمام رشوت خور پولیس کے ملازم بھاگ جائیں گے۔ اس کو کہتے ہیں پولیس کی اصلاح۔ اس سے پولیس کی بھی عزت بڑھے گی۔ پولیس کا عوام میں خوف بڑھے گا۔ پولیس کے محکمے میں رشوت صفر ہوجائے گی۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved