تازہ تر ین

مقدس چڑیل

نوین روما……..اظہار خیال

جولائی کی شدےدحبس زدہ گرمی کی دوپہر تھی لےکن مےں جس کمرے مےں بیٹھی تھی وہ سیبرو(اے سی) کی ٹھنڈک دے رہا تھا۔ لاہور کے پوش علاقہ مےں واقع اےک بنگلہ مےں مجھے مےری اےک بہت اچھی جان پہچان والی خاتون نے مدعو کےا تھا ان کی والدہ اےک نامی گرامی ہےومن راےٹس ، وومن رائٹس اور بچوں کے رائٹس اور اےسے ہی بے شمار رائٹس کی علمبردار ہےں اور مجھ نا چےز سے مل کر وہ اپنے بہت سے پروجےکٹس کو زےر بحث لانا چاہتی تھی۔ محترمہ نے مےرا حال احوال پوچھنے کے فوراً©©©©© بعد ہی اپنے تمام معاملات ِ زندگی کے بارے مےں بتانا شروع کےا کہ کس طرح انہوں نے اپنی زندگی کو لوگوں کے لےے وقف کر دےا اور ان کی زندگی کا واحد مقصد صرف غرےب نادار لوگوں کی مدد کرنا اور بچوں کے حقوق کے لےے لڑناہے ۔ انہوں نے وقت کی کمی کا بھی ذکر کےا کہ آج انہےں لاہور کے اےک بڑے پانچ ستاروں والے ہوٹل مےں جانا ہے اور بچوں کے حقوق کے لےے آواز اٹھانی ہے۔ اتنے مےں کمرے کا دروازہ کھلا اور چائے کی ٹرے کو اےک اور ننھی سی بچی دھکیلتی ہوئی اندر آئی جتنی وہ چھوٹی تھی اس کے سائز کے مطابق تےن چار اور بچے ہوتے تو وہ بھی اس کو نہ لاسکتے خےر وہ اسے کسی نہ کسی طرح دھکیلتی لے آئی۔خاتون کے گفتگو جاری تھی اور وہ ملائیشےا سے برازےل تک اپنے تمام کارہائے نماےاں بےان کر رہی تھےں جو کہ صرف اور صرف عورتوں اور بچوں کی بھلائی کے لےے کئے گئے۔ اس دوران بچی مےرے قرےب آئی اور جوس کا گلاس مجھے تھماےاگلاس لےنے کے دوران اس کے ہاتھ دےکھے جوانتہائی مےلے تھے کپڑے ےوں تھے جےسے ڈےڑھ دو ماہ قبل پہنے ہوں گے۔ ننگے پےر اور اس قدر خراب حالت جےسے اسے نہائے ہوئے بھی عرصہ گزر گےا ہو گا۔ کمرے مےں سنگھار مےز پر پڑے درجنوں غےر ملکی پرفےوم اور اس غرےب کے کپڑوں سے اٹھتا ہوا تعفن آپس مےں بری طرح ٹکرارہاتھا۔ جےسے ہی وہ کمرے سے با ہر جانے کے لےے مڑی تو انہوں نے آواز دے کر کہا۔ ثوبےہ، اِدھر آ، مےرے پےر گھُٹ دے، سوجھ پئی اے۔بچی فوراً©©© بےڈ پر بےٹھ گئی اور ننھے ہاتھوں سے سوجھن زدہ پےروں کو دبانے لگی : تو ہاں ےاد آےا مےں نے پچھلے سال بے گھر بچوں کے لےے آواز اٹھائی ان کی تعلےم چائلڈ لےبر اےسے بہت سے مسائل ہےں جو حل طلب ہےں۔ خاتون نے زور سے ٹانگ پیچھے کی جو ننھی ثوبےہ کے سوکھے پےٹ کے اندر تقرےباً دھنس گئی اور بولےں ©: جان تےں ہے نہےں نہ تےرے وچ مُٹھیاں نال گُھٹ: اور ننھی ثوبےہ کے ننھے مےلے ہاتھ سوجھے ہوئے پےروں مےں مزےد دھنستے گئے۔ آج ےہ واقعہ مجھے اس لےے ےاد آےا کہ سوشل مےڈےا اور ٹی وی پر اےک وےڈےو کافی چل رہی ہے وہاں پر بھی اےک بھاری بھرکم خاتون اےک ننھی ثوبےہ ٹائپ بچی پر تھپڑوں کی بوچھاڑ کر رہی ہےں اور پتی کے ضائع ہونے کا ملال بے درےغ تھپڑوں سے کر رہی ہےں۔ ےہ اور اس طرح کے کئی اور واقعات روزانہ ہم اخبار مےں پڑھتے ہےں اور ٹی وی پر دےکھتے ہےں اور اپنے رشتہ داروں، ہمساےوں کے گھروں مےں بھی اےسے چھوٹے چھوٹےاں پٹتے دےکھتے ہےں۔ لےکن کےاہوتا ہے کچھ دن بعد بھول جاتے ہےں کچھ دن پہلے مسلم لےگ نون کی اےک اےم ۔پی۔ اے خاتون نے بچی پر اتنا تشدےد کےا کہ اس کی جان لے لی، کہاں گئی وہ خبر، کبھی چوری کا الزام ،کبھی تشدےد زدہ لاش ، زےادتی کے بعد قتل کر دےا گےا۔ کتنا عام سا لگتاہے ناےہ سب سنسنی تب تک باقی رہتی ہے جب تک نےوز اےنکر ےونہی خبر سنا رہی ہو۔خبروں سے واپس آتے ہےں اس کمرشل برےک کے بعد اس کے فورا بعد ہم بھی اپنی دنےامےں واپس آجاتے ہےں اور اےک زوردار آواز بلند کرتے ہےں۔ کہاں مر گئے ہو ابھی برتن صاف نہےں کئے تو گھرےلوں ملازمےن پر تشدےد ہوتا ہے ساری دنےا مےں بعض جگہوں پرگھرےلوملازمےن نے بھی بچوں بڑوں پر تشدےد کےا اےسی خبرےں بھی ملےں۔مارا، ہلاک بھی کر دےا اےسے بھی بہت دل ہلادےنے والے واقعات سننے کو ملتے ہےں ، لےکن ہمارے ہاں ہی بد قسمتی سے اےسے تمام واقعات کا فرضی نوٹس لےا جاتا ہے ۔ قانون سے سزا نہےں ملتی۔ معاشرے مےں قانون کا ڈر ہو تو اےسے واقعات پےش نہ آئےں۔ پاکستان کے قانون مےں گھرےلو ملازمےن پر تشدےد کی سزا موجود ہے لےکن عمل درآمد کےسے ہو ؟ مجھے کافی سالوں پہلے کی اپنی ملازمہ ےاد آگئی۔ ان دِنوں مےں اےک کالج مےں لےکچرار تھی اور مجھے اےک مستقل ملازمہ کی تلاش تھی جو مےرے ساتھ گھر کے کام کاج مےں ہاتھ بٹاسکے۔ مقدس سانگلہ ہل کے قرےبی گاوں سے ہمارے گھر آئی اور آتے ہی ا±س نے کہا کہ مےں پڑھنا چاہتی ہوں کےونکہ آپ اےک ا±ستانی ہےں۔ جس کی مجھ کو خوشی ہوئی۔ لےکن مقدس کے معاملات زندگی ےہ تھے کہ ا±س نے مجھے دوسرے دن اےک لسٹ پکڑائی جس مےں ا±سکی ضرورت کی اشےا درج ذےل تھےں۔اگلی صبح مےں جاگی تو مقدس سو رہی تھی مےں نے ناشتہ کےا ا±سے بھی کر واےا پھر ےہ معمول بن گےا۔ صبح مےں نے ناشتہ بناتی مقدس کا بھی بناتی کا لج چلی جاتی وہ جی بھر کر ٹی ۔وی ڈرامے دےکھتی مےں جہاں بھی جاتی پچھلی سےٹ پر بیٹھتی گھومتی رہتی گھر مےں ہلکا پھلکا جھاڑوں پونچھا لگاتی اور چےزوں کو اپنی جگہ پر رکھتی دھوبی سے آتے کپڑے الماری مےں لگاتی اور اےسے ہی چھوٹے مو ٹے کام کرتی۔ لاہور آ کر ا±سے بنا ﺅ سنگھار ا شوق ہوا، اور ا±س کی ڈےمانڈتھی کہ ا±سکی تنخواہ ا±سے دی جائے اسکی امی کو نہےں ، ا±س نے ان پےسوں سے نےلے رنگ کے بستر لےنے ہےں بقول اسکی شکل انڈےن آرٹسٹ اےشورےا رائے سے ملتی تھی اور لےنز لگا کر وہ ا±س جےسی دےکھنا چاہتی تھی۔ بعض اوقات مجھے اس پر بہت غصہ آتا مےرا پسندےدہ سوٹ اس نے جلا دےا اور کہا استری تےز تھی مجھے اس پر بہت غصہ آےا اور دل چاہا کہ اےک تھپڑ لگادوں لےکن مےرا ہاتھ نہ ا±ٹھ سکا اور زبا ن سے اےک لفظ نکلا©© مقدس چڑےل ۔ بس پھر کےا تھا جب بھی غصہ آتا مےں ا±سے مقدس چڑےل ہی کہتی۔ ےہ تھے وہ حالات جن مےں وہ بڑے مزے سے ہمارے گھر رہ رہی تھی لےکن پھر اےسا ہوا کہ مجھے کچھ عرصہ کے لےے گھر سے دور رہنا پڑا کےونکہ جاب کے لےے جانا ضروری تھا ۔ لہٰذا سے اس کے گھر بھےج دےا۔ کچھ عرصہ بعد ہمارے گھر قرےبی مارکےٹ مےں مےں نے مقدس کو دےکھا؛ا±س کو دےکھ کر دل بہت ا±داس ہوااس کا چہرہ جلاہواتھا ، بال بکھرے ہوئے تھے۔ مےں نے پوچھا کےا ہوا ےہ تمہارا چہرہ کس نے جلاےا۔ وہ بولی باجی وہ مےں جہاں کام کرتی ہوں وہاںان کے بچوں نے مذاق ہی مذاق مےں مےرے چہرے پے آگ لگا دی۔ کہنے لگے تو ہے ہی کالی، جلنے کے بعد بھی کالی رہے گی۔ آج بھی اس کا چہرہ ےاد آتا ہے تو دل بہت ہی د±کھتاہے۔ مےرے آج کی تحرےر کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ آپ کو ےہ بتا سکوں کہ آئے دن ہم گھرےلو ملازمےن سے تشدد کے واقعات پڑھتے ہےں اور کا ن بھی نہےں دھرتے۔ ےہ واقعات کچھ اس طرح سے بھی پےش آ سکتے ہےں کہ ملازمےن نے مالکان پر بدترےن تشدد کےا جیسے مقدس کا چہرہ جلاےاگےا ےا جیسے اُس فوٹےج والی خاتون نے بچی کے چہرے پر انتہائی بے ہودگی سے تھپڑوں کی بوچھاڑ کی۔وہ چہرے ہمارا ےا ہمارے بچوں کا بھی ہو سکتا ہے۔ جن ملازمےن کے سپرد آپ اپنا گھر اور بچے کر کے باہر نکلتے ہےں ان کا احترام کرنا سکھےں اور اگر کبھی اندر کی جاہلےت بہت ہی نے چےن کرے تو ”مقدس چڑےل“ کہنے پر اکتفا کرےں۔ (کالم نگارقومی و سماجی موضوعات پرلکھتی ہیں) ٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved