تازہ تر ین

اور تبدیلی بھی آچکی ہے

خضر کلاسرا….ادھوری

ملاقات سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں اسوقت خاموشی چھاگئی جب پتہ چلاکہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)کا سالانہ منافع صرف گیارہ لاکھ روپے ہے لیکن معلومات فراہم کرنیوالوں کی طرف سے اس طرف توجہ نہیں دی گئی ہے کہ کمیٹی ارکان صرف گیارہ لاکھ کا منافع سننے کے بعد سکتے میں آگئے ہیں۔انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود سمیت ارکان جن میں سنیٹرز نجمہ حمید ،محمد جاوید عباسی ،روبینہ خالد ،ہدایت اللہ ،نصیب اللہ بازائی ،ستارہ ایاز اور ڈاکٹر اسد اشرف کو بتایاکہ پی ٹی ڈی سی کے پاس 38 موٹلز ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل بھی ہیں جن میں فلیش مین ہوٹل روالپنڈی (کینٹ)شامل ہے ، جس کا رقبہ 72کنال ہے ۔موٹلز جوکہ پی ٹی ڈی سی کی مالکیت ہیں ،ا ن میں ایوبیہ ، بالاکوٹ ،بہاولپور،بمبورت(چترال) ،بونی (چترال) بارسین،بشام،چترال، گلگت،گپس (شندور)،ہنزہ،کلام،کھپلو(غزیرہ)،مستگ(چترال)،کٹاس(چکوال)،موہنجوڈرو،مینڈم(سوات)،ناران،پان کوٹ دیر)رامالیک (استور)،سیدو شریف (سوات)، ستپرا(سکردو)،سوسات (پاک چائنا بارڈ) ،ٹیکسلا ،تفتان(پاک ایران بارڈر)،زیارت ،واگھا (پاک انڈیا بارڈر) اور برمو گلاشت(چترال) شامل ہے۔ اسی طرح پاکستان ٹورازم ڈوپلیمنٹ کارپوریشن لاہور سے دہلی بس سروس کے علاوہ پاک چائنا بس سروس بھی چلارہاہے ۔پی ٹی ڈی سی کے بارے میں جب اتنا کچھ بتایاگیاتو کمیٹی کے ارکان بمعہ چیئرمین سینٹرز طلحہ محمود پھٹ پڑے کہ دنیا بھر میں سیاحت سے معیشت چلتی ہے لیکن یہاں صورتحال تنزلی کا شکار ہے ۔ ادارہ کی اس بدتریں صورتحال میں کہاجاسکتاہے کہ 1970میں قائم ہونیوالا پاکستان ٹورازم ڈوپلیمنٹ کارپوریشن جیسا اہم سیاحتی ادارہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکا م ہوچکاہے۔ کمیٹی رکن سینیٹرروبینہ خالد کا کہناتھاکہ حکومت کا کام موٹلز اور ہوٹلز چلانانہیںہے ،اس ادارہ کو منافع بخش بنانے کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ہی مسائل کاحل ہے۔کمیٹی چیئرمین طلحہ محمود کا تکرارتھاکہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے ،اتنے موسم دنیا میں کم ہی ہیںجتنے کہ ہمارے ہیں،ہم اس ادارہ کو اتنا منافع بخش بنانے میں ناکام کیوں ہیں ؟ سینیٹر نصیب اللہ بازائی کا کہناتھاکہ اس ادارہ کے بارے میں جوفیصلہ اٹھارویں ترمیم میں کیاگیاہے ،اس پر من وعن عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔سینیٹر جاوید عباسی اس حق میں نہیں تھے کہ پی ٹی ڈی سی کو اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیاجائے ، ان کا کہناتھاکہ سیاحت کے فروغ کیلئے صوبوں اور مرکز کو ملکر کام کرناچاہیے،ان کا یہ بھی کہناتھاکہ یہ فیصلہ پارلیمان کرے کہ یہ ادارہ کس کے پاس رہے گا۔ادھر سینیٹر نصیب اللہ نے وادی زیارت کا جس اندازہ میں نقشہ کھنچا اور پی ٹی ڈی سی کی کارکردگی بیان کی تو صورتحال سنجیدہ ہوگئی اور پھر سوال اٹھایا گیاکہ آخر ادارہ کیاکررہاہے کہ سیاحوں کو اتنے اہم مقام پر خانہ بدوشوں کی طرح رہنا پڑتاہے۔اس ساری بحث کے دوران اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن مسز شائستہ ،منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی الیاس خان ، جنرل منیجر پی ٹی ڈی سی علی اکبر اورمنیجر اکاونٹس پی ٹی ڈی سی عادل زیدی زیادہ وقت خاموش ہی تھے ۔انکی طرف سے پی ٹی ڈی سی کی اس بدترین صورتحال پر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیاگیاتھا جوکہ کمیٹی کے ارکان اور چیئرمین کی تسلی کروانے میں مددگار ثابت ہوتا ، یوں کمیٹی چیئرمین سینیٹر طلحہٰ محمود نے اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن مسز شائستہ سے سوال کیاکہ میڈم آپ اس درپیش تلخ صورتحال پر اظہار خیال کریں تو انہوں نے کمال ہوشیاری کیساتھ پی ٹی ڈی سی کی بحیثیت ادارہ تباہی کا ذمہ دار گزشتہ پندرہ سال میں ملک میں جاری امن ومان کی صورتحال پر ڈال دیا،رہے نام اللہ کا۔مطلب حکومت کی طرف سے ان کو ایسا ماحول ہی نہیں دیاگیاکہ وہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتےںاوریہ ادارہ منافع بخش بن جاتا ۔ادھر کمیٹی ارکان اور چیئرمین طلحہ محمود نے انکی اس بات کو یکسر مسترد کردیااور ان کا کہناتھاکہ ایسا نہیں ہے جوکہ آپ بیان کررہی ہیں۔اس دوران کمیٹی میں اس با ت پر بھی بحث ہوئی کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اثاثہ جات سے ڈیم بنانے کیلئے بڑی رقم حاصل کی جاسکتی ہے ،مثال کے طورپر پی ٹی ڈی سی کے صرف فیلیش مین ہوٹل روالپنڈی کے پاس 72 کنال زمین ہے ۔پھر اس کی مالیت بھی نکالی گئی تو اندازہ لگایاگیاکہ اس کی قیمت 72 ارب روپے ہوسکتی ہے۔یوں اس ادارہ کے دیگر اثاثہ جات کا بھی حساب لگایا اور کہاگیاکہ اس سے ڈیم کی آدھی رقم حاصل کی جاسکتی ہے ۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی نے ایک بڑی آفر دے کر صحافیوں سمیت اپنے ساتھی سینیٹرز ارکان کو اپنی طرف یوں متوجہ کرلیاکہ ان کاکہناتھاکہ اگر پی ٹی ڈی سی کے موٹلز اور ہوٹلز ان کو لیز پر دے دئیے جائیںتو وہ سالانہ پی ٹی ڈی سی کو سالانہ 50 کروڑ روپے منافع دیں گے۔ ان کی اس آفر سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ادارہ کتنا منافع بخش ہے لیکن جو اس پی ٹی ڈی سی کو چلارہے ہیں ،وہ صرف گیارہ لاکھ روپے سالانہ منافع دکھا کر اس ملک وقوم کو دن دیہاڑے چونا لگارہے ہیں۔اور تبدیلی بھی آچکی ہے۔ (کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں) ٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved