تازہ تر ین

بیگم کلثوم نواز مرحومہ؟

جیب الدین اویسی ….ستلج کنارے

ماں تو ماں ہوتی ہے وہ کسی دوست کی ہو، دشمن کی ہو، امیر،غریب، شریف النفس، بستہ الف کے کسی بدمعاش کی ہو۔ ماں کسی ولی اللہ کی ہو، ماں کسی پیغمبر کی ہو۔ ماں کسی گناہ گار کی ہو۔ ماں موسیٰ ؑ کی ہو یا عیسیٰ ؑ روح اللہ کی انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ میاں نواز شریف اپنی ایک وفادار، تابعدار ، باشعور رفیقہ حیات سے محروم ہوگئے۔ مریم نواز ان کی بہن بھائیوں کو جو دعاﺅں کے خزانوں سے محروم ہوئے صبر جمیل، اجر عظیم عطا فرمائے آمین، ثم آمین۔ جب رب کریم بھی اپنے پیغمبر کو فرماتے موسیٰ ؑ کوہ طور پر آرہے ہو مگر گفتگو ذرا سنبھل کرکرنا۔ جب آپ گھر سے نکلتے تھے آپ کی ماں پیچھے سے دعائیں مانگتی تھی۔ مجھے التجا کرتی تھی اے رب کریم میرا موسیٰ ؑ بھولا بھالا ہے۔(ہرماں کے نزدیک اس کا بچہ معصوم ، بھولا بھالا ہوتاہے)۔ اس سے دوران گفتگو کوئی ایسی ویسی بات ہوجائے تو آپ نے درگزر فرمانا ہے۔ یہ اسماعیل ؑ کی ماں ہی تھی جو انتہا کے گرم موسم میں تپتی صفا مروا کی پہاڑیوں پر دوڑتی پھرتی تھی۔ اسماعیل ؑ کی ایڑیاں رگڑنے سے جو پانی نکلا۔ بے شک رب کریم کو اپنے پیغمبر کی پیاس کی شدت پر ضرور ترس آیا ہوگا۔ مگر رب نے ماں کی عظمت بھی ہمیں دکھا دی۔ بی بی حاجرہ نے پانی کو فرمایا زم زم یعنی رک جا۔حضور نبی کریم نے ارشاد فرمایااگر بی بی حاجرہ پتھروں کا حصار بناکر زم زم نہ کہتیں تو اتنا پانی آتا پورا عرب بلکہ پوری دنیا پانی میں ڈوب جاتی۔ آج اسی ماں کے الفاظ زم زم پوری دنیا میں پانی کے نام پر لاکھوں لوگ پی رہے ہیں۔ لاکھوں اسلام کے شیدائی ممتا کی محبت سے بھرپور دوڑ کو اس کی سنت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ قیامت تک اس عظیم ماں کی یہ سنت زندہ رہے گی۔ ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں مخالفت، محبت دونوں میں شدت پسندی ہے۔ ہم مخالف کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسی ایسی باتیں اپنی طرف سے گھڑ کر بیان کرتے ہیں جو اس بے چارے کی سوچ میں بھی نہ ہونگی۔ مخالف کے عقائد ، مسلک اس کے خاندان کے بارے میں بھی اپنی طرف سے افسانوی بیان کرتے رہتے ہیں۔ جسے پسند کریں اس کی ہر برائی کو اچھائی، اس کی مہر ادا پر واہ واہ کی داد تحسین پیش کرتے ہیں۔ مخالف کی ازدواجی زندگی کو خلاف شریعت، حامی کی رنگین شب و زور کو خراج تحسین۔ مجھے انتہائی دکھ ، تکلیف ہوتی ہے جب شریف خاندان کے مخالفین بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو بیمار ہی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مجھے کسی دانشور کا یہ جملہ بڑا پسند آیا۔ میں ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتی تھی جہاں اپنی بیماری کا یقین دلانے کےلئے مرنا پڑتاہے۔ مجھے بڑا افسوس ہوا جب ایک لبرل دانشور نے مجھ سے بحث کرتے ہوئے فرمایا نہ جانے بیگم کلثوم نواز مرحومہ کب کی فوت ہوچکی تھیں(نعوذ بااللہ)۔ مزید فرمایا ایڈوانس ممالک میں سالہا سال تک مردے کو زندہ رکھا جاسکتاہے۔(نعوذ بااللہ) وہ صدر متراں کی مثال دینے پر بھی بضد رہے۔ مجھے یہ بات کسی طور پر ہضم نہ ہوئی مگر وہ کوئی دلیل کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے۔ نواز شریف، مریم نواز کے بیانیے پر آپ اختلاف کریں یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔ مگرنواز شریف نے اپنی 35سالہ رفاقت، اپنی رفیقہ حیات کو زندگی و موت کی کشمکش میں دیار غیرمیں چھوڑ کر اپنے ملک واپسی کا فیصلہ کیا۔ اپنے ملک کی عدالتوں، قانون کی پاسداری کا احترام کیا۔ آپ اسے بھی نہیں سراہتے۔ مریم نواز نے اپنی جنت کو جس حال میں الوداع کیا وہ بہادری کی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ دونوں باپ بیٹی کچھ عرصہ وہاں آسانی سے رہ سکتے تھے۔ اسحاق ڈار ، الطاف حسین بھی تو برطانیہ میں عرصہ سے مقیم ہےں۔ ماں ماں ہوتی ہے۔ علقمہؓ صحابی رسول تھے۔ میرے آقا نے ان کی ماں کو ارشاد فرمایا جب تک آپ اسے دل و جان سے معاف نہیں کریں گی اسے وقت موت کلمہ نصیب ہوگا نہ ہی عذاب الٰہی سے بچ سکے گا۔ اویس قرنیؓ جنہوں نے آقا رحمت العالمین کی بالمشافہ زیارت بھی نہ کی تھی مگر میرے حضور مدنی مصطفی نے حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ کو فرمایا میرا جبہ مبارک یمن میں مقیم اویس قرنیؓ نامی میرے دوست کو پیش کرنا۔ ان کی زیارت کرنا۔(سبحان اللہ)۔ حضرت اویس قرنیؓ کی شان صرف اور صرف ان کی اپنی ماں کی فرمانبرداری کی وجہ سے تھی۔ عشق رسول سے سرشار مگر ماں کی خدمت ،تیمارداری اور ان کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے زیارت بھی نہ کرسکے۔ بیگم کلثوم نواز مرحومہ ایک حوصلہ مند، بہادر خاتون تھیں۔ وہ ایک تابعدار بیوی، شفیق ماں تھیں۔ سیاسی شعور میں بھی یکتائے روزگار تھیں۔ شریف خاندان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں میاں محمد شریف مرحوم کی وفات کے بعد میاں محمد نواز شریف کو بہتر مشورے دینے میں ان کو ملکہ حاصل تھا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں میاں ریاض حسین پیرزادہ ، کیپٹن صفدر کے فواد حسن فواد کے درمیان جو اختلاف پیدا ہوئے بیگم صاحبہ مرحومہ نے مثبت کردار ادا کیا۔ مجھے 2002ءمیں ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا جبکہ اس وقت بہاولپور میں مسلم لیگ کے بڑے بڑے لیڈران عظام ، صاحب حیثیت، صاحب استقامت رہائش پذیر تھے۔ 2000ءمیں چولستان میں قحط سالی کا سال تھا۔ بیگم کلثوم نواز مرحومہ درجنوں ٹرکوں میں ان قحط زدہ افراد کےلئے سازو سامان کے ساتھ لاہور سے روانہ ہوئیں۔ پرویز مشرف کی حکومت نے اس قافلے کے راستے میں اتنی رکاوٹیں ڈالیں کہ صبح 9بجے لاہور سے روانہ ہوکر رات ایک بجے خانقاہ شریف پہنچا۔ 2010ءکے ضمنی الیکشن میں میری فائل میں2002ءمیں الیکشن میں حصہ نہ لینا۔2008ءمیں ق لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا جیسی حقیقتیں موجود تھیں۔ ذوالفقارعلی کھوسہ، خواجہ سعد رفیق، چودھری سمیع اللہ، چودھری ممتاز ججہ مرحوم جو ناصرف مسلم لیگ کے ممبر صوبائی اسمبلی بلکہ ضلعی صدر مسلم لیگ تھے۔ یہ سب بڑے بڑے رہنما میاں شہباز شریف کو علی گیلانی کو ٹکٹ دینے پر مائل و قائل کرلیا بلکہ انہیں ٹکٹ جاری بھی ہوچکا لیکن جب میاں محمد شہباز شریف کو معلوم ہوا بیگم کلثوم نواز مرحومہ جبر و استحصال کے دور میں میری مہمان رہی تھیں۔ اسی وقت مجھے ٹکٹ دےنے کا فیصلہ کرلیا۔ اگر میں یہ کہوں کہ آج بھی دوسری مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی،میرے دوستوں کی کاوشیں شامل حال ہیں تو بیگم صاحبہ مرحومہ کی ایک رات کی میزبانی کا بھی ضرور حصہ ہے کیونکہ اگر 2010ءکے ضمنی الیکشن میں اگر مجھے ٹکٹ نہ ملتا تو شاید میں الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوجاتا۔ دعا ہے جن کی مائیں زندہ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت ، تندرستی نصیب فرمائے جن کی مائیں اس دنیا میں نہیں رہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ (کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved